پاکستان کا ایٹمی سفر!

تحریر : ملک احسن اعوان


گرمیوں کا موسم اور شام کا وقت تھا۔ آسمان پر ہلکی سرخی پھیلی ہوئی تھی۔ گھر کے صحن میں ارحم اور ارسل اپنے تایا ابو کے ساتھ بیٹھے تھے۔ دونوں کے ہاتھوں میں اسکول کی کاپیاں تھیں۔

 ارحم نے کہا:تایا ابو! کل ہمارے اسکول میں یوم تکبیر کے حوالے سے مقابلہ ہے، اور سر نے ہمیں اس کی تاریخ اور اہمیت لکھ کر لانے کا کہا ہے ۔  ارسل بولا اور یہ بھی بتائیں کہ کن لوگوں نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے میں اہم کردار ادا کیا؟ 

تایا ابو نے مسکرا کر دونوں بچوں کی طرف دیکھا   اور گہری سانس لے کر بولے کہ آج تم دونوں نے بہت اہم سوال پوچھا ہے۔ یوم تکبیر صرف ایک تاریخ نہیں بلکہ پاکستان کی خودداری ، عزم اور قربانی کی ایک داستان ہے۔دونوں بچے ہمہ تن گوش ہو گئے ۔ 

تایا ابو نے کہا یہ کہانی دراصل 1971 ء کے بعد شروع ہوتی ہے ، جب پاکستان کو ایک بڑا دھچکا لگا۔ اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے یہ فیصلہ کیا کہ ہمیں اپنے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانا ہو گا۔ انھوں نے سائنسدانوں کو جمع کیا اورایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی۔

ارحم نے حیرت سے پوچھا: کیا اس وقت ہی ایٹم بم بنانے کا سوچ لیا گیا تھا؟۔تایا ابو نے جواب دیا، ہاں بیٹا! بھٹو صاحب نے کہا تھا کہ ہم مشکل سے مشکل حالات برداشت کر لیں گے لیکن اپنی سلامتی پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ ارسل نے سوال کیا، پھر آگے کیا ہوا؟ کیا فوراً بم بن گیا؟

تایا ابو بولے، نہیں، یہ کوئی آسان کام نہیں تھا۔ اس کیلئے سالوں کی محنت، تحقیق اور خفیہ منصوبہ بندی کی ضرورت تھی۔ اسی دوران ایک اہم شخصیت ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی صورت میں سامنے آئی۔ارحم نے کہا یہ وہی ہیں جنھیں محسن پاکستان کہتے ہیں؟ 

تایا ابو نے فخر سے کہا بالکل، ڈاکٹر عبدالقدیر خان بیرونِ ملک کام کر رہے تھے۔ انھوں نے ایٹمی ٹیکنالوجی سیکھی اور پھر سب کچھ چھوڑ کر پاکستان آ گئے۔ یہاں آکر انھوں نے کہوٹہ میں لیبارٹری قائم کی اور یورینیم افزودگی کا مشکل مرحلہ کامیابی سے مکمل کیا۔وہ اکیلے نہیں تھے، ان کے ساتھ اور بھی سائنسدان تھے ، جیسے ڈاکٹر ثمر مبارک مند ، جنھوں نے دھماکوں کے عملی نفاذ میں اہم کردار ادا کیا۔ 

ارحم نے نوٹ بک پر لکھتے ہوئے پوچھا اور کون کون شامل تھا؟ تایا بو نے کہا، ڈاکٹر عشرت حسین عثمانی بھی ایک اہم سائنسدان تھے جنھوں نے پاکستان اٹامک انرجی کمیشن میں کام کیا اور تحقیق کو آگے بڑھایا۔ارسل نے تجسس سے پوچھا دھماکے کب اور کیوں کیے گئے؟۔ تایا ابو نے جواب دیا کہ یہ بات11 اور 13 مئی 1998ء کی ہے، جب بھارت نے ایٹمی دھماکے کیے۔حالاں کہ اس سے قبل بھی بھارت نے 18 مئی 1974ء کو ایٹمی دھماکے کیے تھے ۔ اس کے بعد پاکستان کیلئے ضروری ہوگیا کہ وہ اپنی دفاعی صلاحیت کا اظہار کرے۔ 

تایا ابو نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ پھر وہ تاریخی دن (28 مئی 1998ء )آیاجب پاکستان نے بلوچستان کے علاقے چاغی میں پہاڑوں کے اندر ایٹمی دھماکے کیے۔ جیسے ہی یہ خبر آئی، پورے ملک میں اللہ اکبر کی صدائیں گونج اٹھیں۔ اسی لیے اس دن کو ’’یوم تکبیر‘‘ کہا جاتا ہے۔ 

ارحم نے خوشی سے کہا یعنی یہ صرف ایک سائنسی کامیابی نہیں تھی، بلکہ ایک قومی جذبہ بھی تھا ۔تایا ابو نے کہابالکل درست، یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم ایک خود دار قوم ہیں جو اپنے دفاع کیلئے ہر حد تک جاسکتی ہے۔ 

ارسل نے کہا تو یوم تکبیر کی اصل اہمیت کیا ہے؟۔ تایا ابو نے جواب دیاکہ اس کی اہمیت یہ ہے کہ یہ ہمیں اتحاد، خود داری اور محنت کا درس دیتا ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ اگر ہم متحد ہوں تو کوئی بھی مشکل ہمیں روک نہیں سکتی۔ارحم نے پوچھا اور افادیت؟۔ افادیت یہ ہے کہ اس دن کے بعد پاکستان کا دفاع مضبوط ہوگیا۔ اب دشمن ہمیں آسانی سے نقصان پہنچانے کا سوچ نہیں سکتا، تایا ابو نے سمجھایا۔ 

ارحم نے مسکرا کر کہا تو یہ ہماری حفاظت کا دن بھی ہے؟۔تایاا بو نے کہا بالکل، اور یہ دن ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ ہمیں صرف ہتھیاروں میں نہیں بلکہ علم، تحقیق اور ٹیکنالوجی میں بھی آگے بڑھنا ہے۔ 

کچھ دیر خاموشی رہی، پھر ارسل نے آہستہ سے کہا تایا ابو! کیا ہم بھی اپنے ملک کیلئے کچھ کرسکتے ہیں؟۔تایا ابو نے محبت سے دونوں کے سروں پر ہاتھ رکھا،کیوں نہیں! تم دونوں محنت کرو، علم حاصل کرو، سچے اور ایماندار بنو۔یہی اصل خدمت ہے۔

ارحم نے پرجوش انداز میں کہا میں بڑا ہوکر سائنسدان بنوں گا۔ارسل نے بھی ہنستے ہوئے کہا اور میں بھی۔تایا ابو مسکرا دیے، بس یہی جذبہ چاہیے، یہی یوم تکبیر کا اصل پیغام ہے۔ 

رات گہری ہوچکی تھی۔ ارحم نے اپنی کاپی بند کی اور کہا تایا ابو، آج ہمیں ایسا لگ رہا ہے جیسے ہم نے پوری تاریخ اپنی آنکھوں سے دیکھ لی ہو۔ارسل نے کہا اب ہم یہ سب اپنے دوستوں کو بھی بتائیں گے۔ تایا ابو نے کہا یہی تو اصل مقصد ہے۔ پھر انھوں نے دعا کی کہ اے اللہ ، ہمارے ملک کو ہمیشہ سلامت رکھنا، اور ہمیں ان عظیم لوگوں کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق دینا جنھوں نے اسے مضبوط بنایا۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

اقتدار کے ایوانوں میں بلیو پاسپورٹ کے چرچے

پاسپورٹ صرف ایک سفری دستاویز نہیں بلکہ ریاست کی خود مختاری، قومی شناخت اور بین الاقوامی تعلقات کی علامت ہوتا ہے۔پاکستان اپنے شہریوں کو تین طرح کے پاسپورٹ جاری کرتا ہے تاکہ بیرون ملک سفر، تعلیم، تجارت، ملازمت، سیاحت، علاج اور سرکاری فرائض کی ادائیگی کیلئے شناخت ثابت کی جا سکے۔

مولانا فضل الرحمن کا متناز ع بیان

(ن )لیگ کی لیڈر شپ کیلئے بڑا امتحان۔ ۔کیوں؟

عوام کیلئے دو وقت کی روٹی بھی مشکل

سیاست کا بھی عجیب رنگ ہے، ساتھ چلنے والے کب مخالف ہوجائیں پتا ہی نہیں چلتا۔ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی سیاست بھی کچھ ایسی ہی نظر آرہی ہے۔

خیبر پختونخوا،حکومتی ترجیحات پر سوالات

خیبرپختونخوا میں آئے روز نیا ہنگامہ برپا ہوتا ہے، کبھی بجٹ کو پیش کرنے اورمنظورکرنے یا نہ کرنے پر تو کبھی اراکین ِاسمبلی کو بلیو پاسپورٹ دینے اور صحافیوں پر جرمانوں اور سزاؤں کے نئے قانون پر۔

بلوچستان میں دیرپا امن کا راستہ

دہشت گردی سے متاثر بلوچستان ایسی کیفیت میں ہے جہاں خوف ہردن شہریوں کا استقبال کرتا ہے۔ہر دن کسی نئے واقعے، کسی نئے احتجاج، کسی نئے آپریشن اور کسی نئے تنازعے کی خبر لے کر آتا ہے۔

آزاد کشمیر، انتخابی مہم عروج پر

آزاد کشمیر میں 27 جولائی کو ہونے والے انتخابات میں دس دن رہ گئے ہیں۔ یہ انتخابات ایسے ماحول میں ہو رہے ہیں جہاں ایک طرف کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی راولاکوٹ میں دھرنا دیئے بیٹھی ہے تو دوسری جانب تحریک انصاف الیکشن کا بائیکاٹ کئے ہوئے ہے۔