سندھ، سیاست میں ہلچل

تحریر : طلحہ ہاشمی


وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے مالی سال 27-2026ء کا3560 ارب روپے کا بجٹ صوبائی اسمبلی میں پیش کردیا ہے۔

 صوبے کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میں سات فیصد اضافہ جبکہ کم از کم اجرت 40 ہزار سے بڑھا کر 43 ہزار روپے ماہانہ مقرر کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔سید مراد علی شاہ نے کراچی میں سندھ انٹرنیشنل فنانشل سینٹربنانے کا اعلان بھی کیا اور کہا کہ فنانشل سینٹر انفراسٹرکچر فنانس، اسلامک فنانس اور کلائمیٹ فنانس کا پلیٹ فارم ہوگا۔ ڈیجیٹل سندھ ویژن کے تحت گرین ڈیٹا انفرااسٹرکچر اور اے آئی اکانومی کی بنیاد رکھنے کا بھی اعلان کیا گیا۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ سندھ میں کچرے سے ایندھن اور تجارتی مصنوعات بنانے کا ویسٹ ٹو ویلیو پروگرام متعارف کروادیا گیا ہے جبکہ چھوٹے کسانوں کیلئے خصوصی قانون سازی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔بجٹ تقریر کے دوران وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ ہاریوں کو مشینری، مالیات، انشورنس اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی دی جائے گی۔ تعلیم کے شعبے کیلئے 25.9 ارب روپے مختص کئے گئے، صحت کے شعبے کیلئے 17.4 ارب روپے اور زراعت و لائیوسٹاک کے ترقیاتی کاموں کیلئے 6.3 ارب روپے۔ وزیراعلیٰ کی تقریر کے دوران اپوزیشن کی جانب سے بجٹ نامنظور کے نعرے لگائے گئے اوراپوزیشن اراکین نے سندھ اسمبلی کے بجٹ اجلاس سے واک آؤٹ کیا۔قائد حزب اختلاف علی خورشیدی کا کہنا تھا کہ مشاورت کے بغیر بجٹ پیش کر کے سندھ حکومت جمہوری ڈکٹیٹرشپ کر رہی ہے۔

ادھرسندھ کی سیاست میں ان دنوں ایک تلاطم سانظر آرہا ہے۔متحدہ قومی موومنٹ میں اختلافات تو بہت عرصے سے ہیں لیکن اب اتنے بڑھ چکے ہیں کہ رہنماؤں نے ایک دوسرے کے خلاف سخت الفاظ استعمال کیے۔ خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے ہیں۔ مصطفی کمال جو اس وقت وفاقی وزیر بھی ہیں، نے الزام لگایا کہ خالد مقبول صدیقی کی پارٹی چیئرمین شپ کی مدت ختم ہوگئی ہے اور وہ توسیع لے کر بیٹھے ہیں، انہیں پارٹی سربراہ اس لیے نہیں بنایا تھا کہ جن سے حقوق لینا ہیں انہی سے اپنی سربراہی میں توسیع کرالیں۔پارٹی چیئرمین خالد مقبول صدیقی بھی نچلے نہ بیٹھے، کہنے لگے، ہم کسی کے جبر سے نہیں ڈرے تو اس کے غلاموں سے کیا ڈریں گے۔ انہوں نے مصطفی کمال پر استعمال ہونے کا الزام عائد کیا۔ رہنماؤں کے درمیان بیان بازی سے کارکن خاصے رنجیدہ اور کبیدہ خاطر ہیں۔ ان کی تقاریر سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ ہیں لیکن تنقید میں شائستگی عنقا ہے۔کسی سیاسی جماعت میں اختلاف نہ بری بات ہے اور نہ ہی یہ کوئی نئی بات لیکن اختلاف کو اختلاف ہی رہنا چاہیے۔ سیاست میں ایک راستہ ہمیشہ کھلا رکھا جاتا ہے، ایم کیو ایم کے رہنماؤں کو اس راستے کو استعمال کرنا چاہیے کیونکہ ایم کیو ایم کی مزید تقسیم ان کے ووٹرز یا سپورٹرز کے لیے نقصان دہ ہوگی۔

ایم کیو ایم کی لڑائی پر وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کا ردعمل بھی سامنے آگیا ہے، انہوں نے کراچی کے مسائل کا ذمہ دار ایم کیو ایم کو قرار دیا اور کہا کہ یہ شہر ایک عرصے تک ان لوگوں کے پاس رہا جنہیں کام کرنا نہیں آتا تھا اور آج یہ لوگ آپس میں لڑ رہے ہیں۔ مراد علی شاہ کی تنقید اپنی جگہ لیکن یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ کیا ساری تباہی کے ذمہ دار دوسرے ہیں، پیپلز پارٹی کا کہیں کوئی قصور نہیں ؟ شہر پر ایک نظر ڈال لیں سڑک، گٹر، تجاوزات، غیرقانونی عمارتوں کی تعمیر سمیت سب کچھ نظر آئے گا۔

ایم کیو ایم رہنما فاروق ستار نے قومی اسمبلی سے خطاب میں کراچی کی حالتِ زار بیان کی اور کہا کہ 1300ارب میں سے 1100ارب اسی شہر سے ٹیکس جمع ہوتا ہے لیکن سڑکیں ہوں یا گٹر یا کوئی اور سہولت یہ شہر بربادی کی داستان سناتا ہے۔ انہوں نے پیپلز پارٹی پر تنقید کی اور کہا کہ 18سال سے صوبے میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے لیکن شہر کا کوئی پرسان ِحال نہیں۔ پیپلز پارٹی پرہونے والی تنقید پر شرجیل میمن نے جواب دیا کہ کراچی میں ترقی پیپلز پارٹی کی کوششوں کا نتیجہ ہے، ایم کیو ایم سے پہلے والا شہر بھتہ خوری، کھالوں کے لیے قتل، بوری بند لاشوں اور لسانی تعصب سے پاک تھا۔

ادھرسانحہ بلدیہ فیکٹری، جس میں ڈھائی سو سے زیادہ افراد جل کر جاں بحق گئے تھے، پر سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی آچکا ہے جس میں ٹرائل کورٹ اور سندھ ہائیکورٹ کے سزائے موت کے فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے ملزمان عبدالرحمان بھولا اور زبیر چریا کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کردیا گیا ہے۔ ادھر صوبائی وزیرمحنت سعید غنی نے آرٹس کونسل کراچی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اپنے ادارے کی کرپشن پر بات کی اور کہا کہ 20ارب سے زائد کی کرپشن ہوئی، انہیں کارروائی کرنے پر دباؤ کا بھی سامنا ہے لیکن وہ کسی دباؤ میں آئے بغیر ملزمان کو سزا دلوانا چاہتے ہیں، انہیں وزارت کی کوئی پروا نہیں، وہ عوام کے سامنے سرخرو رہنا چاہتے ہیں اور ضرورت پڑی تو اس کے لیے دس مرتبہ وزارت چھوڑے کو تیار ہیں۔ سعید غنی نے ایک اور بات بھی کی کہ 40ہزار سے کم اجرت پر مزدور کام سے انکار کردیں۔ بات یہ ہے کہ اگر اداروں میں لیبر یونینز ہوں، لیبر عدالتیں بغیربھر پور طریقے سے کام کریں تو کوئی بھی مزدور کام سے انکار کر گزرے گا، لیکن موجودہ حالات میں اسے پتہ ہے کہ اگر وہ نوکری چھوڑ دے گا تو نہ حکومت اس کے ساتھ ہوگی اور نہ کوئی ادارہ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

بڑی کامیابیاں مگر سیاسی تبدیلیوں کی بازگشت

وفاقی بجٹ پیش ہو چکا ہے اور آئندہ چند روز میں اس کی پارلیمانی منظوری بھی ہو جائے گی مگر بجٹ کے فوری بعد وفاقی دارالحکومت کے سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیوں نے جنم لینا شروع کر دیا ہے۔

پنجاب بجٹ وعدوں پر عمل ہو پائے گا؟

امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے لیے سوئٹزر لینڈ کے مقام برگن سٹاک میں کل بروز جمعہ تقریب منعقد ہو رہی ہے۔

بجٹ، قیاس آرائیاں اوربے یقینی

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی مشکلات بڑھ رہی ہیں۔ ناراض اراکین ایک ایک کرکے سامنے آرہے ہیں۔ کیا وہ بجٹ پاس کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے؟

بلوچستان، وسائل اور مسائل

بلوچستان کا مالی سال2026-27 ء کا بجٹ ایوان میں پیش کردیا گیا ہے۔بجٹ کا حجم 1134ارب روپے ہے جس میں اخراجات کا تخمینہ 1089 ارب روپے ہے۔

آزاد کشمیر انتخابات میں تاخیر کا مطالبہ

پیپلزپارٹی کی حکومت نے کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے دو مرکزی کور اراکین کے خلاف بغاوت کی کارروائی کے احکامات جاری کر دئیے ہیں۔

امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ کے اوصاف حمیدہ

حضرت سیدنا عمر فاروقؓ حد درجہ ذہین، سلیم الطبع، بالغ نظر اور صائب الرائے تھے۔