بجٹ، قیاس آرائیاں اوربے یقینی

تحریر : عابدحمید


وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی مشکلات بڑھ رہی ہیں۔ ناراض اراکین ایک ایک کرکے سامنے آرہے ہیں۔ کیا وہ بجٹ پاس کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے؟

یہ ایک بڑا سوال ہے۔ ان کے ساتھ مشیر خزانہ مزمل اسلم بھی تنقید کی زد میں ہیں۔سہیل آفریدی اپنے پیشروؤں کی نسبت انتظامی اور سیاسی طورپر کمزور ثابت ہوئے ہیں۔ جس طرح سے پارٹی میں ان کے خلاف گروپ بندی ہوئی اس سے قبل کسی وزیراعلیٰ کے خلاف ایسا نہیں دیکھا گیا۔محمود خان کو کمزور وزیراعلیٰ سمجھا جاتا تھا لیکن انہوں نے عاطف خان اور شہرام ترکئی جیسے بڑے ناموں کو اپنی کابینہ سے باہر کردیاتھا۔جن مشکلات کا سہیل آفریدی کوسامنا ہے ایسی ہی مشکلات علی امین گنڈاپور کے سامنے بھی تھیں لیکن انہوں نے ان کا بھر پور مقابلہ کیا اوراپنے مخالفین کو ٹف ٹائم دیا۔ بانی پی ٹی آئی اگر انہیں نہ ہٹاتے تو پارٹی میں کوئی بھی انہیں چیلنج کرنے والا نہ تھا۔ لیکن سہیل آفریدی کا معاملہ مختلف ہے۔ ایک تو پارٹی کے اندر اُن کا کوئی مضبوط گروپ نہیں، دوسرا وہ پارٹی اور حکومتی امور پر مضبوط گرفت نہیں رکھتے۔ 

ناراض اراکین جن کی تعداد 30 سے 35 بتائی جارہی ہے،نے اپنے مطالبات پیش کر دئیے ہیں، جن میں سب سے بڑا مطالبہ بانی پی ٹی آئی سے مشاورت کے بغیر بجٹ پیش نہ کرنے کا ہے۔ ناراض اراکین بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے وزیراعلیٰ کی جانب سے واضح لائحہ عمل چاہتے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ گزشتہ صوبائی بجٹ سے قبل ایسے اعتراضات اور مطالبات نہیں کئے گئے۔علی امین گنڈا پور کے دورِ وزارت میں گزشتہ بجٹ جس تیزی سے منظور کرلیاگیا اُس پر پی ٹی آئی کی قیادت خود حیران تھی، لیکن اب وہی اراکینِ اسمبلی بجٹ کو بانی پی ٹی آئی کی رہائی سے جوڑ رہے ہیں۔ایسے میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے تین ماہ کے بجٹ کی منظوری کے حوالے سے بھی قانونی ماہرین کے ساتھ مشاورت کی اطلاعات ہیں، تاہم پارٹی کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی نے ان اطلاعات کو بے بنیاد قراردیا ہے۔ان کا کہناتھا کہ ایسی کوئی تجویز زیرغور نہیں۔بہرکیف خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس جو15 جون کو ہوناتھا وہ ایک بارپھر ملتوی کردیاگیا۔ دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی بجٹ کے حوالے سے مشاورت جاری ہے۔ پارٹی میں سرپلس بجٹ پیش کرنے پر بھی اختلاف ہے۔ سہیل آفریدی بجٹ پیش کرنے سے قبل بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں جس کے لیے انہوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کررکھا ہے۔ اگرانہیں ملاقات کی اجازت مل جاتی ہے اور وہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرلیتے ہیں تو یہ ان کی بڑی کامیابی ہوگی۔ یہی اب واحد طریقہ رہ گیا ہے جس کے ذریعے وہ اپنے مخالفین کا منہ بند کرسکتے ہیں۔ فی الحال تو صورتحال ایسی ہے کہ پارٹی کے اندر نئے وزیراعلیٰ کے لیے متعدد نام سامنے آگئے ہیں۔ قیاس آرائیاں عروج پر ہیں اور بے یقینی کی فضا پیدا ہوئی ہے۔

تاہم پارٹی کے صوبائی صدر جنید اکبر کی جانب سے ایسے ناراض اراکین کے خلاف کارروائی کا اعلان کیاگیاہے جو میڈیا پر آکر پارٹی کے معاملات کو اچھال رہے ہیں۔ ان کی جانب سے گزشتہ ہفتے ایک اعلامیہ بھی جاری کیاگیا تھا تاہم اس اعلامیے نے معاملے کو ٹھنڈاکرنے کے بجائے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ علی امین گنڈاپور بھی اس اعلامیے پرکھل کرسامنے آگئے جن کا کہناتھا کہ جس قسم کے الزامات سہیل آفریدی پر لگ رہے ہیں اسی قسم کے الزامات ان پر بھی لگے تھے مگر انہوں نے کسی کے خلاف کارروائی نہیں کی تو اب ناراض اراکین کے خلاف کوئی کیسے کارروائی کرسکتا ہے۔یعنی معاملہ صرف سہیل آفریدی اور ناراض اراکین کے مابین نہیں بلکہ اب اس میں تنظیمی عہدیدار بھی کود پڑے ہیں، تاہم اس سب کے باوجود وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی وکٹ کمزور نظرآرہی ہے۔مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کو بھی اسی تناظر میں دیکھا گیا ہے۔ وفاقی وزرا سے ان کی ملاقاتوں کو بھی ان کی حکومت بچانے سے جوڑا جارہا ہے۔

 بجٹ پاس کرنا اب صرف ایک قانونی عمل نہیں رہا بلکہ یہ سہیل آفریدی کی سیاسی بصیرت اور طاقت کا امتحان بھی بن گیا ہے۔ اگروہ اس امتحان میں کامیاب ہوگئے تو اپنی پوزیشن بحال کرسکتے ہیں ورنہ یہ ان کے سیاسی کیریئر کے لیے بڑا دھچکا ہوسکتا ہے۔ فی الحال تمام نظریں عدالت اور اڈیالہ جیل پر لگی ہوئی ہیں جہاں سے کوئی بھی فیصلہ کن اشارہ مل سکتا ہے۔ مگرپی ٹی آئی کو یہ سوچنا ہو گا کہ سہیل آفریدی کو ہٹا دیاگیا تو اُن کی جگہ کون سنبھالے گا اور اگر ان کا جانشین بھی ان کی توقعات پر پورا نہ اُتر سکے تو کیاہوگا؟کیااس کے بعد ایک اور وزیراعلیٰ کو اس طرح سے ہٹایاجائے گا؟ایسا ممکن نہیں،یہ معاملہ کہیں نہ کہیں جاکر تورکے گا۔بہرحال پی ٹی آئی کو اپنی حکمت عملی میں تبدیلی لانی چاہیے۔مرکزی اور صوبائی قیادت کو اپنی طاقت یکجا کرنی ہوگی اور نئے سرے سے قانونی اور آئینی طریقے سے بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے منصوبہ بندی کرنی ہوگی۔

 پی ٹی آئی کے پاس نامور وکلا بڑی تعداد میں موجود ہیں، یہ دیکھنا ضروری ہے کہ وہ کون سی وجوہات ہیں جن کی بنا پر بانی پی ٹی آئی کے کیسز مؤثر طریقے سے نہیں لڑے جارہے۔ پی ٹی آئی کو سوشل میڈیا کے اثرورسوخ سے بھی نکلنا ہوگا خاص کر ان انفلوئنسرز کے اثر سے جو بیرون ملک بیٹھے ہیں۔ ان میں سے بیشتر حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں۔ انہی سوشل میڈیا انفلوئنسرز کی جانب سے بجٹ کی منظوری کو بانی پی ٹی آئی کی رہائی سے جوڑنے کیلئے دباؤ ڈالا جارہا ہے۔ پی ٹی آئی کا سوشل میڈیااپنی جماعت کی جڑیں کھوکھلی کررہا ہے تاہم اسی سوشل میڈیا کے خوف سے پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی پارٹی پالیسی سے ہٹنے کو تیار نہیں ہوتے۔ مجموعی طورپر دیکھاجائے تو اس سے پارٹی کو فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہورہا ہے۔ 

 خیبرپختونخوا میں امن وامان کی صورتحال مزید بگڑتی جارہی ہے لیکن وزیراعلیٰ اتنے محاذوں پر مصروف ہیں کہ وہ اس صوبے کے سبھی اہم ایشوز پر توجہ نہیں دے پارہے۔ امن وامان کی بحالی کے لیے بلائی گئی آل پارٹیز کانفرنس اور اس کے اعلامیے کو بھی کئی ماہ گزرگئے ہیں۔ اس پر عملدرآمد تو درکنا دوبارہ صوبائی حکومت نے اس حوالے سے بات ہی نہیں کی۔ صوبائی حکومت بجلی کے بقایاجات سمیت دیگر مدات میں وفاق کے ذمے واجب الادا رقوم بھی وصول نہیں کر سکی۔حکومت کو امن وامان کی بحالی کے ساتھ اس صوبے کی تعمیر وترقی کو بھی دیکھنا ہوگا۔اگرچہ پشاورمیں چند بڑے منصوبے شروع کئے گئے ہیں تاہم ان تمام ترقیاتی منصوبوں کے لیے ضروری ہے کہ انہیں باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت شروع کیاجائے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

بڑی کامیابیاں مگر سیاسی تبدیلیوں کی بازگشت

وفاقی بجٹ پیش ہو چکا ہے اور آئندہ چند روز میں اس کی پارلیمانی منظوری بھی ہو جائے گی مگر بجٹ کے فوری بعد وفاقی دارالحکومت کے سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیوں نے جنم لینا شروع کر دیا ہے۔

پنجاب بجٹ وعدوں پر عمل ہو پائے گا؟

امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے لیے سوئٹزر لینڈ کے مقام برگن سٹاک میں کل بروز جمعہ تقریب منعقد ہو رہی ہے۔

سندھ، سیاست میں ہلچل

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے مالی سال 27-2026ء کا3560 ارب روپے کا بجٹ صوبائی اسمبلی میں پیش کردیا ہے۔

بلوچستان، وسائل اور مسائل

بلوچستان کا مالی سال2026-27 ء کا بجٹ ایوان میں پیش کردیا گیا ہے۔بجٹ کا حجم 1134ارب روپے ہے جس میں اخراجات کا تخمینہ 1089 ارب روپے ہے۔

آزاد کشمیر انتخابات میں تاخیر کا مطالبہ

پیپلزپارٹی کی حکومت نے کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے دو مرکزی کور اراکین کے خلاف بغاوت کی کارروائی کے احکامات جاری کر دئیے ہیں۔

امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ کے اوصاف حمیدہ

حضرت سیدنا عمر فاروقؓ حد درجہ ذہین، سلیم الطبع، بالغ نظر اور صائب الرائے تھے۔