پردہ پوشی :اسلامی معاشرت کا حسین اصول

تحریر : مفتی محمد وقاص رفیع


دوسروں کی عزت و آبرو کا تحفظ اسلامی اخلاقیات کا اہم تقاضا ہے جو شخص دنیا میں کسی کے عیب چھپائے گا قیامت کے دن اللہ اس کے عیب چھپائے گا۔ (صحیح مسلم)

موجودہ دور میں ہماری اخلاقی برائیوں میں سے ایک برائی یہ بھی ہے کہ ہم لوگ ہمہ وقت دوسروں کے عیوب و نقائص اور اُن کی کمیوں اور کوتاہیوں کے ٹٹولنے کے درپے لگے رہتے ہیں۔ جوں ہی کسی کی کوئی برائی یا عیب ہمارے ہاتھ لگتا ہے ہم اسے پھیلانے میں لگ جاتے ہیں اور دوسرے کی تضحیک و استہزاء سے اپنے نفس کو سکون مہیا کرتے ہیں۔ یہ انتہائی گھٹیا اور رذیل صفت ہے جو ہمارے معاشرے میں بڑی تیزی کے ساتھ سرایت کرتی جارہی ہے۔ اسلام نے مسلمان بھائی کے عیب و نقص اور اُس کی کمی و کوتاہی کو چھپانے اور اس سے چشم پوشی کرنے کا حکم دیا ہے اور اس کو ظاہر کرنے اور اس کی پردہ دری سے شدید نفرت اور سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ 

حضورِ اقدس ﷺ کا ارشاد ہے کہ جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرتا ہے تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی پردہ پوشی فرمائے گا اور جو شخص کسی مسلمان کی پردہ دری کرتا ہے تواللہ تعالیٰ اس کی پردہ دری فرماتا ہے، یہاں تک گھر بیٹھے اُس کو ذلیل و رُسوا کر دیتا ہے۔(سنن ابن ماجہ:2546)

پردہ پوشی صفتِ الٰہی ہے نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے: اللہ عزوجل انتہائی حیاء والا اور پردہ پوش ہے، حیاء اور پردہ پوشی کو پسند کرتا ہے(صحیح ابو دائود: 4011)

اسی لئے پردہ پوشی کی متعدد فضیلت احادیث میں آئی ہے۔ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے جو بندہ دنیا میں کسی بندے کے عیب چھپائے گا قیامت کے دن اللہ اس کے عیب چھپائے گا۔ (صحیح مسلم : 6490)

اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا ’’اگر تم لوگوں (مسلمانوں) کی پوشیدہ (چھپی) باتوں کے پیچھے پڑو گے، تو تم ان میں فساد پیدا کر دو گے یا فساد کے قریب قریب کے حالات پیدا کر دوگے‘‘ (صحیح ابو دائود : 4888)۔

حضرت شعبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آکر عرض کیا کہ میری ایک بیٹی تھی جسے میں زمانۂ جاہلیت میں ایک دفعہ تو زندہ قبر میں دفن کردیا تھا، لیکن پھر مرنے سے پہلے اسے باہر نکال لیا تھا، پھر اُس نے ہمارے ساتھ اسلام کا زمانہ پایا اور مسلمان ہو گئی، پھر اُس سے ایسا گناہ سرزد ہوگیا جس پر شرعی سزاء لازم آتی ہے، اِس پر اُس نے بڑی چھری سے خود کو ذبح کرنے کی کوشش کی، ہم لوگ موقع پر پہنچ گئے اور اسے بچا لیا۔ اس کے بعد اُس نے توبہ کی اور اُس کی دینی حالت بہت اچھی ہوگئی۔ اب ایک قوم کے لوگ اس کی شادی کا پیغام دے رہے ہیں، میں اُنہیں اس کی ساری بات بتا دوں؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اللہ نے تو اس کا عیب چھپایا تھا، تم اسے ظاہر کرنا چاہتے ہو۔ اللہ کی قسم! اگر تم نے کسی کو اس لڑکی کی کوئی بات بتائی تو میں تمہیں ایسی سزا دوں گا جس سے تمام شہریوں کو عبرت ہو گی۔ اس کی شادی اس طرح کرو جس طرح ایک پاک دامن مسلمان عورت کی کی جاتی ہے۔ (کنز العمال: 8605)

حضرت بلال بن سعد اشعری رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ کو خط میں لکھا کہ دمشق کے بدمعاشوں کے نام لکھ کر میرے پاس بھیجو تو حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میرا دمشق کے بدمعاشوں سے کیا تعلق؟ اورمجھے ان کا پتہ کہاں سے چلے گا؟  اس پر ان کے بیٹے حضرت بلال نے کہا کہ میں ان کے نام لکھ دیتا ہوں اور ان کے نام لکھ کر دے دیئے۔ حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تمہیں ان کا پتہ کہاں سے چلا ہے؟ تمہیں ان کا پتہ اس وجہ سے چلا ہے کہ تم بھی ان میں سے ہو! اس لئے ان کے ناموں کی فہرست اپنے نام سے شروع کرو! اور ان کے نام حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو نہ بھیجے!(الادب المفرد:1290)

 حضرت شعبی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ایک گھر میں تھے۔ ان کے ساتھ حضرت جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ (اِتنے میں کسی کی ہوا خارج ہوگئی جس کی) بدبو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے محسوس کی تو فرمایا کہ میں تاکید کرتا ہوں کہ جس آدمی کی ہوا خارج ہوئی ہے وہ کھڑا ہو جائے اور جاکر وضو کرے۔ اس پر حضرت جریررضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ اے امیر المؤمنین! کیا تمام لوگ وضو نہ کر لیں؟ اِس سے مقصد بھی حاصل ہو جائے گا اور جس کی ہوا خارج ہوئی ہے اس کے عیب پر پردہ بھی پڑا رہے گا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ آپ رحم فرمائے! آپ جاہلیت میں بھی بہت اچھے سردار تھے اور اسلام میں بھی بہت اچھے سردار ہیں (کہ پردو پوشی کی کیسی اچھی اور عمدہ ترکیب آپ نے بتائی ہے) (کنز العمال:8608)

یقینابندۂ مؤمن کا ایمانی و اخلاقی یہ ہی وصف ہونا چاہئے کہ وہ دوسروں کے عیوب و نقائص کو ٹٹولے اور ان کی کمیوں و کوتاہیوں کو آشکارا کرنے کے بجائے اپنے عیوب و نقائص کو ٹٹولے اور اپنی کمیوں و کوتاہیوں کو آشکارا کرے اور اُن کی اصلاح و ہدایت کی کوشش و فکر کرے اور دوسرے لوگوں کے عیوب و نقائص پر پردہ ڈالے اور ان کی کمیوں و کوتاہیوں سے چشم پوشی برتے کہ اس سے جہاں دوسرے مسلمانوں کی پردہ پوشی ہو گی اور ان کی عزت نفس کا سامان ہوگا تو وہیں اس عمدہ اور نیک صفت کی بدولت اللہ تعالیٰ اس شخص کی بھی دنیا و  آخرت میں پردہ پوشی فرمائیں گے اور اس کی بھی عزت نفس کی حفاظت فرمائیں گے۔

مفتی محمد وقاص رفیع اسلامک ریسرچ اسکالر ’’الندوہ‘‘ ایجوکیشنل ٹرسٹ اسلام آباد ہیں

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

رحم کرنے والوں پر رحمٰن کی رحمت!

’’جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا‘‘(صحیح بخاری) معاشی مشکلات میں اسلام انسان کو خود غرضی نہیں بلکہ صلہ رحمی کا درس دیتا ہے ’’بخل اور حرص سے بچو، کیونکہ یہی چیزیں تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک کر گئیں‘‘ (صحیح مسلم)’’ جو شخص اپنے بھائی کی تکلیف دور کرتا ہے، اللہ اس کی قیامت کی تکلیف دور کرے گا‘‘(صحیح مسلم)

اسلام میں چھوٹی چھوٹی نیکیوں کی اہمیت و اجر

’’پھر جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہے وہ اس کو دیکھ لے گا‘‘(زلزال:07) سلام میں پہل کرنا، پیاسے کو پانی پلا نا، بھٹکے ہوئے کو راستہ دکھانا، خوش اخلاقی کے ساتھ پیش آنا وہ چھوٹی چھوٹی نیکیاں ہیں جن کو ہم اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں

مسائل اور ان کا حل

کریڈٹ کارڈ کا استعمال سوال :کیا کریڈٹ کارڈ کے ذریعے شاپنگ کرنا جائز ہے؟(انعام الحق ،کراچی)

وفاقی بجٹ 27-2026

وفاقی بجٹ بالآخر کل پیش کر دیا جائے گا۔ بجٹ کی تاریخ دو مرتبہ تبدیل کی گئی کیونکہ پیپلز پارٹی کے ساتھ مذاکرات چل رہے تھے اور اس مرتبہ بجٹ میں سب سے بڑا ایشو این ایف سی فارمولا اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام تھے۔

آٹا سستا روٹی مہنگی، انتظامی مشینری کہاں ہے؟

پنجاب کو پاسکو سے گندم خریداری کا فیصلہ کیوں کرنا پڑا؟

کراچی کی داستانِ حسرت

پیپلز پارٹی نے گلگت بلتستان اسمبلی الیکشن میں میدان مار لیا۔پیپلز پارٹی گلگت بلتستان میں حکومت بنائے گی، سندھ اور بلوچستان میں پہلے ہی پیپلز پارٹی کی حکومت ہے۔