امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ کے اوصاف حمیدہ
حضرت سیدنا عمر فاروقؓ حد درجہ ذہین، سلیم الطبع، بالغ نظر اور صائب الرائے تھے۔
قرآن پاک کے متعدد احکامات آپؓ کی رائے کے مطابق نازل ہوئے مثلاً اذان کا طریقہ، عورتوں کیلئے پردہ کا حکم اور شراب کی حرمت۔ آپؓ شجاعت، فصاحت و بلاغت اور خطابت میں یکتائے زمانہ افراد میں سے تھے۔ آپؓ نے اپنی زندگی کا اکثر و بیشتر حصہ فیضان نبوتﷺ سے سیرابی میں بسر کیا مگر محتاط مزاج کی بنا پر احادیث کی روایت بہت کم فرماتے۔ فقہ اور اجتہاد میں بلند مقام رکھتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن عمر، حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت عبداللہ بن مسعود (رضوان اللہ عنہم) جن تک آئمہ فقہ کے سلاسل جاکر ملتے ہیں، آپؓ کے تربیت یافتہ تھے۔
آپؓ کے تفقہ کی صداقت کی گواہی اس مشہور واقعہ سے ملتی ہے کہ ایک یہودی اور منافق میں کسی بارے میں تنازعہ ہوا۔ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے فیصلہ کروایا۔ رسول کریمﷺ نے بیانات کے بعد فیصلہ یہودی کے حق میں دیا۔ وہ منافق حضرت سیدنا عمر فاروقؓ کے پاس آیا کہ آپؓ فیصلہ فرما دیں مگر جب آپؓ کو معلوم ہوا کہ حضور نبی کریمﷺ مقدمہ کا فیصلہ فرما چکے ہیں اور اب منافق مجھ سے فیصلہ چاہتا ہے تو تلوار اٹھا کر منافق کا سرقلم کر دیا۔ قرآن کریم نے سورۃ النساء میں اس فیصلہ کی توثیق کی اور مستقل طور پر یہ اصول طے پایا کہ نبی کریمﷺ کے فیصلہ کو آخری حیثیت حاصل ہے اور جو اس فیصلہ کو درست تسلیم نہ کرے وہ مومن نہیں ہے۔ (تاریخ اسلام)