فضائلِ خلیفہ ثانی

تحریر : مولانا رضوان اللہ پشاوری


اسلامی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہیں جن کی زندگی حق و انصاف، دیانت و شجاعت اور قیادت و بصیرت کا روشن مینار بن جاتی ہے۔

 ان ہی عظیم ہستیوں میں حضرت عمر فاروقؓ کا نام نمایاں ہے، جنہیں رسول اکرمﷺ نے ’’فاروق‘‘کے لقب سے نوازا، کیونکہ آپؓ حق اور باطل کے درمیان واضح فرق کرنے والے تھے۔ آپؓ کی شخصیت عدل و انصاف، تقویٰ، جرات، سادگی اور عوامی خدمت کا ایسا حسین امتزاج تھی جس کی مثال تاریخ عالم میں کم ہی ملتی ہے۔ خلافت راشدہ کے دوسرے خلیفہ کی حیثیت سے حضرت عمرؓ نے نہ صرف اسلامی ریاست کی بنیادوں کو مضبوط کیا بلکہ ایسا نظامِ حکومت قائم کیا جس کے اثرات آج بھی دنیا کے سیاسی و انتظامی نظاموں میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ آپؓ کی زندگی ہر دور کے حکمرانوں، رہنماؤں اور عام انسانوں کیلئے مشعلِ راہ ہے۔

حضرت سیدنا عمر بن خطابؓ اپنی بہادری، پر کشش شخصیت اور اعلیٰ اوصاف کی بناء پر اہل عرب میں ایک نمایاں شخصیت تھے۔ آپؓ کی فطرت میں حیاء کا بڑا عمل دخل تھا۔ آپؓ کی ذات مبارکہ کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ نبی مکرمﷺ نے خود اللہ رب العزت کی بارگاہ میں دعا مانگی تھی ’’یااللہ! اسلام کو کسی ایک عمر سے عزت عطا فرما، عمر بن خطابؓ یا عمر بن ہشام سے‘‘، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے عمر بن خطابؓ کو عزت اسلام کی خاطر ’’مراد مصطفی ﷺ‘‘ بنا کر سرکار دو عالمﷺ کی جھولی میں ڈال دیا۔ 

آپؓ زاہد، عادل، فقیہ، سیاستدان اور مدبر ہونے کے ساتھ ساتھ گوناگوں اوصاف حمیدہ کا حسین و جمیل امتزاج تھے۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ کی وفات کے بعد 11ہجری میں مسلمانوں نے سیدنا فاروق اعظمؓ کے ہاتھ پر خلافت کی بیعت کی تھی۔ آپؓ نے خلافت کے بارگراں کو قبول کر کے تاریخ اسلام میں سنہری دور کا اضافہ کیا۔ سیدنا فاروق اعظمؓ کے عہد خلافت میں اسلامی حکومت کی حدود شام، مصر اور ایران تک پھیل گئیں۔ آپؓ نے شوریٰ کے سامنے اپنے آپ کو جواب دہ بنایا۔ بیت المال کو لوگوں کا مال سمجھا، اسلامی سلطنت کو صوبوں میں تقسیم کر کے نظم و نسق کو بہترین کیا، گورنروں پر واضح کیا کہ اگر کسی طاقتور نے کسی کمزور کو ہڑپ کرنے کی کوشش کی تو اس کی باز پرس گورنر سے ہو گی۔ تقرری سے پہلے گورنر اور عامل کے اثاثوں کی پڑتال کی جاتی، اضافہ پایا جاتا تو اسے ضبط کر کے بیت المال میں جمع کروا دیا جاتا تھا۔ زکوٰۃ، عشر، خراج ذرائع آمدن تھے۔ 

آپؓ نے زراعت کے میدان میں ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا، پیداوار میں اضافہ کرایا۔ مالیہ کی وصولی کے علاوہ جاگیرداری نظام ختم کر کے زمین کاشتکاروں میں تقسیم کر دی، آبپاشی کا باقاعدہ نظام قائم کیا۔ عدالتوں کے دروازے ہر عام و خاص کیلئے کھلے رہتے، مقدمہ دائر کرنے کی کوئی فیس ہوتی نہ وکیل کی ضرورت رہتی۔ ناپ تول، قیمتوں کا تعین، شراب نوشی کی روک تھام، انسداد بے رحمی حیوانات، راستوں اور گزرگاہوں کی حفاظت قافلوں کی سلامتی وغیرہ کے امور محکمہ پولیس کے سپرد تھے۔ باقاعدہ عسکری نظام قائم کیا گیا اور جوانوں کی تنخواہیں مقرر کی گئیں۔  چھاؤنیاں تعمیر کی گئیں اور پینشن کا نظام قائم کیا گیا۔ غیر مسلموں کو جان ومال کی حفاظت دے کر انہیں مکمل مذہبی آزادی دی گئی۔ عوام کی فلاح و بہبود اور آسائش کیلئے سڑکیں، پل اور سرائے تعمیر کرائی گئیں۔ تمام زمانہ خلافت میں خیمہ کبھی آپؓ کے پاس نہ رہا، سفر میں منزل پر پہنچ کر دھوپ یا بارش سے بچنے کیلئے کسی درخت پر کپڑا تان کر گزارہ کر لیتے۔ اپنے زمانہ خلافت میں تین عمرے کیے۔ اپنی مملکت میں ہر ایک کا خیال رکھتے تھے،حتیٰ کہ جن عورتوں کے خاوند جہاد کیلئے گئے ہوتے ان کیلئے سودا سلف خرید کر لاتے۔ 

حضرت عمر فاروق ؓایک عظیم شخصیت کے مالک تھے ۔ایک ایسی ہستی جو قیامت تک نہیں آ سکتی، ایسی شخصیت جس کے خلق کی کرنیں گھٹا ٹوپ اندھیروں کو اجالوں میں تبدیل کر دیتی ہیں۔ ایسی عظیم ہستی کی زندگی سادگی کا مجسمہ تھی۔ ہر لحاظ اور ہر پہلو سے سادہ رہائش، خوراک، لباس، عادات و اطوار،سب سادہ تھے، گویا آپؓ سادگی کا ایک مرقع بھی تھے۔ 

تصویر کا ایک رخ تو یہ تھا کہ صبح و شام قیصر و کسریٰ کے درباروں سے سفیر چلے آتے تھے۔ نصف دنیا پر ان کی بھیجی ہوئی افواج حملہ کر رہی تھیں۔ بڑے بڑے فاتح آپؓ کے زیر کمان سرگرم عمل تھے اور دوسرارخ یہ تھا کہ بدن پر کئی کئی پیوند لگا کر تہ پہنا ہے، سر پر معمولی عمامہ اور ہاتھ میں کوڑا تھامے جنگل میں بیت المال کے گمشدہ اونٹ کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ کبھی کندھے پر مشک لٹکائے تیزی سے بیوہ کے گھر کی طرف جارہے ہیں۔ کام کام کرتے کرتے جہاں تھک جاتے فرش خاک کو بستر بنا کر لیٹ جاتے۔ بیت المال سے اس قدر رقم لیتے جس سے بمشکل گزارہ ہوتا تھا۔ آپؓ کے گھر کا روزانہ کا خرچ صرف دو درہم تھا۔ ایک روز کچھ لوگ آپؓ سے ملنے آئے، انھیں ملاقات کیلئے انتظار کرنا پڑا۔ معلوم ہوا کہ امیر المومنین کا لباس ایک ہے وہ دھو کر خشک ہونے کیلئے پھیلایا گیا ہے، سوکھے گا تو پہن کر باہر آئیں گے۔

زمین پر موجود انسانوں کے علاوہ اگر آپؓ نے ہوا کو حکم دیا تو اس نے مانا، قبرستان میں مردوں کو مخاطب کیا تو انہوں نے جواب دیا، دریا کو خط لکھا تو اس نے عمل کیا، اگر کہیں سے آگ نکلی جو لوگوں کو نقصان پہنچا رہی تھی تو اس کو اندر دھکیلنے کیلئے اپنی چادر بھیجی، زلزلے کی وجہ سے زمین ہلی تو اسے کوڑا رسید کیا، بارش کو دعا کے ذریعے بلایا تو پوری خوشی اور آب وتاب کے ساتھ بارش برسی۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ کے اوصاف حمیدہ

حضرت سیدنا عمر فاروقؓ حد درجہ ذہین، سلیم الطبع، بالغ نظر اور صائب الرائے تھے۔

مُرادِ رَسُول، خَلیفَہ ثَانی،فاتح اِسلام سیدنا فاروق اعظم ؓ

یکم محرم الحرام، یومِ شہادت عمر الفاروق ؓ :آپؓ کی ساری زندگی جہاد اور حق و باطل میں فرق و امتیاز سے عبارت رہی:آپ ؓ کا دور خلافت پونے11 سال پر محیط ایک ایسا زریں اور بے مثال عہد ہے جس نے سیاستِ عالم اور جہانبانی کو نئے اصول دیے

حضرت عمرؓ کا طرزِ حکمرانی، آج کی ضرورت

یومِ شہادتِ امیر المومنین ؓکے حوالے سے خصوصی تحریر

سیدنا الفاروقؓ فاتح اسلام

آپؓ شجاعت، فصاحت و بلاغت اور خطابت میں یکتائے زمانہ تھے

مشتاق احمد یوسفی…لفظوں کی مسکراہٹ

’’ہم مزاح کے عہد یوسفی میں زندہ ہیں‘‘: ڈاکٹر ظہیر فتح پوری:ابن انشا نے کہا تھا اگر مزاح کے اس دور کو کسی کے نام سے منسوب کیا جا سکتا ہے تو بلاشبہ وہ ایک ہی شخصیت ہے، جس کا نام ہے مشتاق احمد یوسفی:مشتاق احمد یوسفی کی تحریروں میں ماضی کی حسین یادوں کے ساتھ سماجی، سیاسی، تہذیبی اور ادبی کارفرمائیاں بھی موجود ہیں

اُردو شعرا کے تذکرے اور تذکرہ نگاری

اُردو ادبی تنقید ی سرمائے میں تذکروں کی اہمیت مسلمہ ہے۔ان تذکروں کے ذریعے اُس دور کی معاشرت اور زندگی کا نقشہ نظروں کے سامنے آنے کے ساتھ اُس زمانے کے معیار اخلاق و طرز معاشرت اور تذکرہ نگاروں کے تحقیقی و تنقیدی شعور کا اندازہ لگایا جا سکتاہے۔