آٹا سستا روٹی مہنگی، انتظامی مشینری کہاں ہے؟

تحریر : سلمان غنی


پنجاب کو پاسکو سے گندم خریداری کا فیصلہ کیوں کرنا پڑا؟

وفاق اور صوبوں کے بجٹ کی آمد آمد ہے۔ پنجاب نے تو پہلے ہی اعلان کردیا ہے کہ آ نے والے بجٹ میں مزید ٹیکس نہیں لگائے جائیں گے، لیکن وفاقی بجٹ مشکل معاشی حالات میں ایک بڑا چیلنج نظر آ رہا ہے۔ بجٹ سے پہلے ہی ایسی باتیں شروع ہو گئی ہیں کہ این ایف سی میں تبدیلی اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام بارے فیصلہ کیا جائے گا۔ یہ درست ہے کہ وفاقی بجٹ ہر حکومت کیلئے امتحان ہوتا ہے لیکن موجودہ حالات میں یہ امتحان غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ حکومت معاشی حوالے سے اپنے اشاریوں کی بنا پر کارکردگی کے دعوے کرتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ مہنگائی زدہ عوام کے حصے میں کچھ نہیں آیا۔ اگر اس بجٹ میں بھی نئے ٹیکس لگائے گئے اور ان کا براہ راست یا بالواسطہ بوجھ عوام پر پڑا تو اس سے مایوسی اور بے یقینی میں اور اضافہ ہوگا۔ اس سے حکومت کو سیاسی محاذ پر بھی ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ پیپلزپارٹی مذکورہ بجٹ سے پہلے پوری طرح الرٹ رہی اور اس نے این ایف سی اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو اپنی کمزوری سمجھتے ہوئے حکومت کو باور کرا رکھا تھا کہ اس پر کمپرومائز نہیں ہوگا اور یہی وہ بات تھی جس نے حکومت کو پریشان کر رکھا، اس لئے کہ وفاق اس وقت بڑے مالیاتی بحران سے دوچار ہے جبکہ صوبے وسائل سے مالا مال ہیں اور صوبوں نے قربانی دینے کی بجائے اپنی مالی مشکلات کا واویلہ شروع کردیا۔ اب بجٹ میں اصل بات دیکھنے کی یہی ہو گی کہ وفاقی حکومت این ایف سی کے تحت صوبوں کو ملنے والے وسائل اور اخراجات میں جو تبدیلیاں لانا چاہتی تھی کیا وہ ممکن ہو پائیں گی؟ اطلاعات یہ ہیں کہ حکومت اور پیپلزپارٹی میں مفاہمت ہو چکی ہے کہ صوبے مل کر ایک ٹریلین کے قریب مالی وسائل وفاق کو فراہم کریں گے۔ 

یوں لگتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت دبائو میں ہے یہ دبائو سیاسی بھی ہے اور معاشی بھی۔ کیاحکومت اس صورتحال میں سرخرو ہو پائے گی،بظاہر مشکل نظر آتا ہے اس لئے کہ وہ صرف اتحادیوں کو ہی جوابدہ نہیں ریاست اور عوام کو بھی جوابدہ ہے، لہٰذا مشکل حالات میں بجٹ حکومت کیلئے بڑا چیلنج ہے۔ ملکی تاریخ گواہ ہے کہ حکومتیں اپوزیشن کے دبائو سے کمزور اور ختم نہیں ہو تیں لیکن اتحادیوں کے اختلافات کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہو جاتی ہیں۔تاہم لگتا ہے کہ وزیراعظم شہبازشریف پیپلزپارٹی کی لیڈر شپ کو خوش کرتے کرتے اوروں کو ناراض کر رہے ہیں۔ خود ان کی اپنی جماعت میں بھی تحفظات ہیں۔ انہیں اس مرحلہ پر یہ سب کچھ دیکھنا ہوگا۔

دوسری جانب پنجاب جو ہمیشہ سے اپنی ضرورت کے تحت گندم کو محفوظ بنانے کے ساتھ دوسرے صوبوں کو گندم فراہم کرتا رہا ہے خود پاسکو سے گندم خریدنے کا فیصلہ کر چکا ہے۔ زرعی معیشت ہونے کے ناتے پنجاب میں دال روٹی کا مسئلہ نہیں ہوتا تھا لیکن گزشتہ چند سالوں سے گندم کے حوالے سے مشکلات پیش آ رہی ہیں۔اب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پاسکو سے ایک ملین ٹن گندم کی خریداری کا فیصلہ کیا ہے اور اعلان کیا ہے کہ سستی روٹی اور سستا آٹا یقینی بنانے کیلئے فلور ملز کو گندم 3300روپے فی من فراہم کی جائے گی۔ اس ضمن میں منعقدہ اجلاس میں دوسرے صوبوں خصوصاً خیبر پختونخوااور سندھ کو گندم کی فراہمی پر تحفظات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ بتایا گیا کہ پنجاب سے کسی صوبے کو گندم کی فراہمی روکنے کی خبریں درست نہیں۔ خیبر پختونخوا کے حوالے سے کہا گیا کہ پنجاب اپنی غذائی ضروریات پوری کرنے کے بعد خیبر پختونخواکو گندم فراہم کرے گا، مگر ابھی تک پنجاب میں گندم کی خریداری کا حکومتی ٹارگٹ پورا نہیں ہوا لہٰذا پنجاب حکومت کی پہلی ترجیح تو اپنا ٹارگٹ ہوگی۔ اطلاعات یہ ہیں کہ پنجاب تقریباً تین لاکھ ٹن سے زائد گندم خریداری کر چکا ہے لیکن ٹارگٹ ایک ملین ٹن سے زائد ہے۔ جہاں تک پنجاب میں آٹے اور گندم کے نرخوں کا سوال ہے تو ابھی تو گندم کا سیزن ہے اور کسان سے3500 روپے فی من کے حساب سے گندم کریدی گئی ہے اور مارکیٹ میں نئی گندم موجود ہے لیکن چند ماہ بعد مشکلات آسکتی ہیں۔

جہاں تک سستی روٹی کی فراہمی کی بات ہے تو زمینی حقائق یہ ہیں کہ اول تو اب سادہ روٹی 15 روپے کی مل نہیں رہی، یہ20 روپے تک جبکہ خمیری روٹی30روپے تک جا پہنچی ہے۔ حکومتی ذرائع کہتے ہیں کہ15 روپے والی روٹی کو 17 روپے تک بیچنے سے تو ہم صرف ِنظر برتتے ہیں لیکن20 روپے فی روٹی کسی طرح قبول نہیں۔  کہا جاتا ہے کہ انتظامی ذمہ داران گرانی کے خلاف کام کر رہے ہیں لیکن اس کے کوئی اثرات نظر نہیں آ رہے اور پنجاب حکومت کا غریب اور متوسط طبقہ کیلئے سستے داموں روٹی کی فراہمی کا جو اقدام تھا وہ بھی انتظامی نااہلی کے باعث نتیجہ خیز نہیں بن رہا۔ جہاں تک پاسکو سے گندم کی خریداری کی بات ہے تو یہ اقدام حکومت فوڈ سکیورٹی کو یقینی بنانے کیلئے کر رہی ہے۔ گندم پالیسی کے حوالے سے ہمیشہ پنجاب بڑا حساس رہا ہے اس لئے کہ پنجاب کی گندم پر دوسرے صوبوں کی جانب سے دبائو آتا ہے۔ تاہم حکومت پنجاب کی جانب سے پاسکو سے گندم کی خریداری میں خیبر پختونخوا کیلئے ایک پیغام ہے کہ اگر حکومت دس لاکھ ٹن گندم پاسکو سے خریدنے جا رہی ہے تو اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پنجاب کے اپنے ٹارگٹ پورے نہیں ہوئے اور حکومت آئندہ کسی قلت سے بچنے کا بندوبست کر رہی ہے۔ ویسے بھی جب حکومتوں کو خدشہ ہو کہ آنے والے دنوں میں قیمتیں بڑھ سکتی ہیں تو وہ ذخائر بڑھاتی ہیں۔

 جہاں تک پنجاب میں گندم خریداری کے ٹارگٹ پورا نہ ہونے کی بات ہے تو زرعی منڈیوں میں انتظامی مداخلت اور آزاد مارکیٹ کے درمیان توازن بڑا چیلنج ہے۔ اس تناظر میں خریداری اہداف متاثر ہوتے ہیں۔ بعض اوقات اہداف پورے نہ ہونے کا مطلب گندم کی کمی ہوتا ہے اور بعض اوقات گندم تو مارکیٹ میں موجود ہوتی ہے مگر وہ سرکار کے پاس جانے کی بجائے نجی شعبے کے پاس چلی جاتی ہے۔ پنجاب حکومت نے جن نو کمپنیوں کو گندم کی خریداری کی اجازت دے رکھی ہے ان سے بھی سوال کرنا چاہئے کہ آخر کیوں گندم کی خریداری کا ٹارگٹ پورا نہیں ہوا؟ ایک رائے یہ بھی ہے کہ گندم پالیسی میں تسلسل اور شفافیت کی کمی کسانوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا کرتی ہے جس سے خریداری متاثر ہوتی ہے اور بہت سے کسان سرکاری مراکز کی بجائے نجی خریداروں، فلور ملز اور تاجروں کو گندم فروخت کرنا مناسب سمجھتے ہیں کہ انہیں وہاں سے اس کی بہتر قیمت ملتی ہے۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

وفاقی بجٹ 27-2026

وفاقی بجٹ بالآخر کل پیش کر دیا جائے گا۔ بجٹ کی تاریخ دو مرتبہ تبدیل کی گئی کیونکہ پیپلز پارٹی کے ساتھ مذاکرات چل رہے تھے اور اس مرتبہ بجٹ میں سب سے بڑا ایشو این ایف سی فارمولا اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام تھے۔

کراچی کی داستانِ حسرت

پیپلز پارٹی نے گلگت بلتستان اسمبلی الیکشن میں میدان مار لیا۔پیپلز پارٹی گلگت بلتستان میں حکومت بنائے گی، سندھ اور بلوچستان میں پہلے ہی پیپلز پارٹی کی حکومت ہے۔

بجٹ سے پہلے سیاسی ہلچل

سہیل آفریدی کو اندرونی محاذ پر بڑا چیلنج

بلوچستان: بدامنی اوربے بسی

بلوچستان ایک بار پھر ایسے المناک واقعات کی زد میں ہے جنہوں نے صوبے بلکہ پورے ملک کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔

27جولائی کے انتخابات پُرامن ہوں گے؟

آزاد جموں و کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات 27 جولائی کو ہوں گے۔ یہ انتخابات آزاد جموں و کشمیر کے 33 اور مہاجرین مقبوضہ کشمیر مقیم پاکستان کی 12 نشستوں پر ہوں گے۔

خواتین کی مصروفیات اور وقت کی منصوبہ بندی

آج کے دور میں خواتین زندگی کے مختلف شعبوں میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ وہ نہ صرف گھر کی ذمہ داریاں نبھاتی ہیں بلکہ تعلیم، ملازمت، کاروبار اور سماجی سرگرمیوں میں بھی بھرپور حصہ لیتی ہیں۔