اُردو شعرا کے تذکرے اور تذکرہ نگاری

تحریر : ڈاکٹرمہر محمد اعجاز صابر


اُردو ادبی تنقید ی سرمائے میں تذکروں کی اہمیت مسلمہ ہے۔ان تذکروں کے ذریعے اُس دور کی معاشرت اور زندگی کا نقشہ نظروں کے سامنے آنے کے ساتھ اُس زمانے کے معیار اخلاق و طرز معاشرت اور تذکرہ نگاروں کے تحقیقی و تنقیدی شعور کا اندازہ لگایا جا سکتاہے۔

ان تذکروں کے مطالعے سے اُس زمانے کے علمی و ادبی حلقوں کی مصروفیات،رقابتوں، کش مکش، وضع داریوں ،باہمی سلوک ،روابط اورپسند و ناپسند کے معیارات کی تصویر سامنے آجاتی ہے۔ یہ کہنا درست ہے کہ اُردو میں ادبی تنقید اور مباحث کا سلسلہ تذکروں کے ذریعے آگے بڑھا اوراگر یہ تذکرے سامنے نہ آتے تو اُردو زبان و ادب کا قدیم ورثہ آنکھوں سے اوجھل رہتا۔بقول ڈاکٹر معین الدین عقیل تاریخ، تحقیق اور تنقید کا باہمی امتزاج اور اشتراک ہمیں ابتداً تذکرہ نگاری میں نظر آتا ہے،جس میں تذکرہ نگاروں کا تنقیدی شعور بھی شامل ہے کہ جس کے زیر اثر وہ شعرا کا کلام منتخب کرتے رہے اور کہیں کہیں اُن کے کلام اور اُن کی شخصیت ،اُن کے ذوق و فکر کی جانب بھی اشارہ کرتے رہے۔پھر ان میں گاہے تحقیقی اور تاریخی شعور بھی نظر آتا ہے۔اُردو میں تذکرہ نگاری کی روایت فارسی سے داخل ہوئی اور یہ تذکرے نہ صرف فارسی کے تذکروں کو معیار بناکر لکھے گئے بلکہ فارسی زبان ہی میں لکھے گئے۔ ان تذکروں میں شعرا کے مختصر تعارف کے بعد اُن کے کلام پر تھوڑی بہت رائے دی جاتی تھی یا محض اُن کے کلام کا نمو نہ دے دیا جاتا تھا۔ڈاکٹر عبادت بریلوی کی رائے درست ہے کہ عام طور پر ان تذکروں میں تین چیزیں دکھائی دیتی ہیں۔اول شاعر کے مختصر حالات ، دوم اُس کے کلام پر مختصر تبصرہ اور سوم اُس کے کلام کا انتخاب۔اُردو شعرا کا پہلا باقاعدہ تذکرہ میرتقی میر کا ’’نکات الشعرا ‘‘ ہے جس میں مختلف شعراکے مختصر حالات زندگی کے ساتھ اُن کے کلام پر مختصر تبصرہ ملتا ہے۔

ڈاکٹر فرمان فتح پوری نے اپنے مقالے ’’اُردو شعرا کے تذکرے اور تذکرہ نگاری‘‘میں تذکرہ نگاری کے مفہوم، فارسی تذکروں کی قدامت، ان کی نوعیت و اہمیت، اُردو شعرا کے قدیم تذکروں، ان کی ابتدا ،تذکرہ نگاری کے محرکات، ان کی تعداد اور پرانی فہرستوں، ان سے متعلق تحقیقات، ان تذکروں کی نوعیت اور ان کی معنوی حیثیت و اہمیت سے متعارف کرانے کے ساتھ اُردو شعرا سے متعلق پہلے تذکرے سے محمد حسین آزاد کے ’’آبِ حیات‘‘ تک کے 68 تذکروں کا تلاش و جستجو کے بعد تنقیدی و تجزیاتی مطالعہ پیش کیا ہے۔مقالے کے ماخذ میں اُردو اور فارسی کی کتابوں ابطال الباطل، آثا ر البلاد، آثار الصنادید، آرائش محفل، اُردوئے معلی، ارشاد العارفین، اشعارِ نساخ(دیوان)، اندر سبھا، اندوختہ گریبان، باغ و بہار، بوستانِ سعدی، بھگت مالا، حدایق البلاغہ، دربارِ اکبری، دریائے لطافت، ذکر میر، سخن دان فارس، عبدالغفور نساخ(قلمی نسخہ)، غریب گلزار ، کاشف الحقائق اور مختلف تذکروں وغیر ہم جیسی نادر اور کلاسیکل کتابیں شامل ہیں۔مقالے کے آغاز میں تذکرہ نگاری کے مفہوم کی وضاحت کرنے کے بعد ،فارسی تذکروں کی قدامت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس سلسلے میں فارسی شعرا کے تذکروں کو زیر بحث لاتے ہوئے فارسی شعرا کے پہلے تذکرے اور اس کے بارے میں مختلف آراء کو سامنے لایا گیا ہے۔ ان مباحث کی روشنی میں مکمل شواہد اور دلائل کے ساتھ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ فارسی شعرا کا پہلا تذکرہ نور الدین محمد عوفی کا ’’لباب الالباب‘‘ ہے ،جو1617 اور 1618کے درمیانی عرصے میں تکمیل کو پہنچا۔فارسی شعرا کے اس پہلے تذکرے کے علاوہ فارسی شعرا کے34تذکروں کی فہرست نقل کرنے کے بعد فارسی تذکروں کی نوعیت و اہمیت پر ڈاکٹر عبدالستار صدیقی، عبدالوہاب قزوینی اور مظہر مصفا کی آراء کو زیر بحث لاتے ہوئے تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔

اس کے بعداُردو شعرا سے متعلق فارسی میں لکھے گئے تذکروں کے آغاز کو زیر بحث لایا گیا ہے،جن کا آغاز اٹھارہویں صدی کے وسط سے ہو ا۔ اٹھارہویں صدی کے وسط سے انیسویں صدی کے ربع اول تک اُردو شعرا کے بارے میں لکھے گئے تمام تذکرے بہ استثنائے ’’ گلشنِ ہند‘‘ اور ’’گلدستۂ اُردو‘‘ سب کے سب فارسی زبان میں تحریر کیے گئے۔ اب تک اُردو شعرا کے قدیم ترین تذکروں کے سلسلے میں بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور میرتقی میر کے ’’ نکات الشعرا‘‘ ، حمید اورنگ آبادی کے ’’ گلشنِ گفتار‘‘ ، افضل بیگ قاقشال کے ’’ تحفۃ الشعرا‘‘ ، فتح علی حسینی گردیزی کے ’’ ریختہ گویاں ‘‘ اور قیام الدین قائم کے ’’مخزن ِ نکات‘‘ کو اُردو شعرا کے قدیم تذکروں میں شمار کیا جا تا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

مشتاق احمد یوسفی…لفظوں کی مسکراہٹ

’’ہم مزاح کے عہد یوسفی میں زندہ ہیں‘‘: ڈاکٹر ظہیر فتح پوری:ابن انشا نے کہا تھا اگر مزاح کے اس دور کو کسی کے نام سے منسوب کیا جا سکتا ہے تو بلاشبہ وہ ایک ہی شخصیت ہے، جس کا نام ہے مشتاق احمد یوسفی:مشتاق احمد یوسفی کی تحریروں میں ماضی کی حسین یادوں کے ساتھ سماجی، سیاسی، تہذیبی اور ادبی کارفرمائیاں بھی موجود ہیں

پاک بھارت ٹاکراآج

آئی سی سی ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ 2026ء:انگلینڈ میں آئی سی سی ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ کی رعنائیاں عروج پر،12ٹیمیں مدمقابل:پاکستان اور بھارت کی خواتین کرکٹ ٹیموں کے درمیان اب تک مجموعی طور پر 16 انٹرنیشنل ٹی 20میچ کھیلے جا چکے،بھارت نے 13 پاکستان نے 3 میچ جیتے

ویمنزٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کی سنسنی خیز داستان

9 ٹورنامنٹس میں سے آسٹریلیا نے 6 مرتبہ، انگلینڈ، ویسٹ انڈیز اور نیوزی لینڈ نے ایک ایک مرتبہ ٹرافی اپنے نام کی

بجٹ 27-2026

بجٹ کا کل حجم 18،771 ارب روپے:بجٹ خسارہ 7،020 ارب روپے

رحم کرنے والوں پر رحمٰن کی رحمت!

’’جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا‘‘(صحیح بخاری) معاشی مشکلات میں اسلام انسان کو خود غرضی نہیں بلکہ صلہ رحمی کا درس دیتا ہے ’’بخل اور حرص سے بچو، کیونکہ یہی چیزیں تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک کر گئیں‘‘ (صحیح مسلم)’’ جو شخص اپنے بھائی کی تکلیف دور کرتا ہے، اللہ اس کی قیامت کی تکلیف دور کرے گا‘‘(صحیح مسلم)

پردہ پوشی :اسلامی معاشرت کا حسین اصول

دوسروں کی عزت و آبرو کا تحفظ اسلامی اخلاقیات کا اہم تقاضا ہے جو شخص دنیا میں کسی کے عیب چھپائے گا قیامت کے دن اللہ اس کے عیب چھپائے گا۔ (صحیح مسلم)