بجٹ 27-2026

تحریر : میگزین رپورٹ


بجٹ کا کل حجم 18،771 ارب روپے:بجٹ خسارہ 7،020 ارب روپے

  وفاقی حکومت نے مالی سال 2026-27 ء کا بجٹ ایسے وقت میں پیش کیا ہے جب پاکستان کی معیشت گزشتہ چند برسوں کے شدید مالی دباؤ ،افراطِ زر کی بلندشرح،برآمدات کے مسائل، قرضوں اور رواں برس کے دوسرے مہینے سے امریکہ ایران  کشیدگی کی وجہ سے توانائی کی عالمی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ برداشت کررہی ہے اور عام آدمی کی معیشت پر اس کے  گہرے اثرات مرتب ہو ئے ہیں۔ اقتصادی سروے 2025-26ء کے مطابق مالی سال 2025-26ء میں غربت کی شرح 28.9فیصد تک پہنچ گئی، گزشتہ مالی سال میں یہ 27فیصد کے قریب تھی جبکہ بیروزگاری کی شرح 7.1فیصد پر پہنچ گئی جو گزشتہ مالی سال میں یہ 6.3 فیصد تھی۔ اس صورتحال میں حکومت کی جانب سے مالی سال2026-27ء میں استحکام کے مرحلے میں داخل ہو نے کا عزم قابلِ غور ہے۔ بجٹ تقریر میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگ زیب نے کہا کہ حکومت کا بنیادی مقصد معاشی استحکام کو پائیدار ترقی میں تبدیل کرنا، سرمایہ کاری کو فروغ دینا، نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنا اور ڈیجیٹل و جدید معیشت کی بنیاد مضبوط کرنا ہے۔وفاقی وزیر خزانہ نے اپنی تقریر میں اس بات پر زور دیا کہ حکومت نے گزشتہ برسوں میں مشکل مگر ضروری معاشی فیصلے کیے جن کے نتیجے میں مہنگائی قابو میں آئی، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری آئی اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کا اعتماد بحال ہوا۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ عالمی ریٹنگ ایجنسیوں کی جانب سے پاکستان کے معاشی منظرنامے میں بہتری کے اشاریے اسی اعتماد کی عکاسی کرتے ہیں۔

بجٹ کے اہم ترین اہداف میں نجی شعبے کی قیادت میں معاشی نمو کو فروغ دینا شامل ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ کاروباری سرگرمیوں میں اضافے، کارپوریٹ سیکٹر کی توسیع اور صنعتی پیداوار میں بہتری کے ذریعے روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جائیں گے۔ اسی مقصد کے لیے سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے اور کاروبار کرنے کی لاگت کم کرنے پر زور دیا گیا ہے۔وفاقی وزیر خزانہ کی بجٹ تقریر میں برآمدات کے فروغ پر بھی خصوصی زوردیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ درآمدی متبادل صنعتوں اور برآمدی شعبوں کی حوصلہ افزائی کے لیے ٹیرف اور تجارتی پالیسی میں اصلاحات کی جا رہی ہیں تاکہ پاکستانی مصنوعات عالمی منڈیوں میں زیادہ مسابقتی بن سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ خصوصی اقتصادی اور ٹیکنالوجی زونز کے ذریعے غیر ملکی سرمایہ کاری لانے کی کوششیں بھی کی جائیں گی۔

ڈیجیٹل معیشت جدید دور میں معیشت کا ایک اہم ستون ہے۔ حکومت نے ڈیجیٹل ادائیگیوں، کیش لیس اکانومی اور ٹیکنالوجی پر مبنی بزنسز کے فروغ کو قومی ترجیح قرار دیا۔ بجٹ تقریر کے مطابق ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور حکومت اس رجحان کو مزید تیز کرنا چاہتی ہے تاکہ معیشت کی دستاویزی شکل مضبوط ہو اور ٹیکس نیٹ میں اضافہ ہو۔ٹیکس اصلاحات بھی بجٹ کا ایک بنیادی ہدف ہیں۔ حکومت نے ٹیکس نظام میں مصنوعی ذہانت (AI)، مشین لرننگ اور جدید ڈیجیٹل نگرانی کے نظام متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے تاکہ ٹیکس چوری کی روک تھام، محصولات میں اضافہ اور کاروباری طبقے کو غیر ضروری ہراسانی سے بچایا جا سکے۔ حکومت کے مطابق ٹیکس نظام کو شفاف، خودکار اور سہل بنایا جا رہا ہے۔توانائی کے شعبے میں حکومت نے گردشی قرضے میں کمی اور بجلی کے نظام کی اصلاح کو اہم کامیابی قرار دیا۔ بجٹ تقریر میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی تنظیمِ نو، نجکاری اور انتظامی اصلاحات کے ذریعے توانائی کے شعبے کو مالی طور پر پائیدار بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

نوجوانوں کی ترقی کو بھی بجٹ کا نمایاں حصہ قرار دیا گیا۔ وزیر اعظم یوتھ پروگرام، سکلز ڈویلپمنٹ سکیموں، کاروباری قرضوں اور زرعی قرضوں کے ذریعے لاکھوں نوجوانوں کو ہنر، روزگار اور کاروبار کے مواقع فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ نوجوان آبادی کو معاشی ترقی کا محرک بنایا جائے گا۔ زراعت کے شعبے میں جدید سٹوریج سہولیات، زرعی فنانسنگ اور ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینے پر زور دیا گیا ہے تاکہ پیداوار میں اضافہ اور غذائی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ اسی طرح الیکٹرک گاڑیوں، توانائی کی بچت اور جدید صنعتی ٹیکنالوجیز کے فروغ کو بھی مستقبل کی معیشت کے لیے اہم قرار دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اس مالی سال میں لارج اسکیل مینوفیکچرنگ کی شرح نمو 6.1 فیصد رہی، خدمات شعبے میں 4.1 فیصد شرح نمو سامنے آئی۔ان کا کہنا تھا کہ ہماری معیشت کا حجم 452 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے جو نیا سنگ میل ہے۔ فی کس آمدنی 1751 ڈالر سے بڑھ کر 1901 ڈالر ہوگئی۔انہوں نے کہا کہ پچھلے دو سالوں میں پالیسی ریٹ میں تاریخی کمی واقع ہوئی، زرمبادلہ ذخائرتین سال قبل 4 ارب ڈالر تھے۔ زرمبادلہ ذخائر بڑھ کر 17 ارب ڈالر سے زائد ہوچکے۔ زرمبادلہ ذخائر تین مہینوں کی درآمدات کیلئے کافی ہیں۔ ترسیلات زر پچھلے مالی سال 38 ارب ڈالر تھے، اس مالی سال کے پہلے 11 ماہ میں ترسیلات زر کا حجم 38 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ سال بھر کی ترسیلات زر 41 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گے۔

مجموعی طور پر بجٹ 2026-27 ء یہ تاثر دیتا ہے کہ ملکی معیشت بحران سے نکل کر استحکام کی طرف بڑھ رہی ہے اور اب حکومت کی توجہ معاشی نمو، سرمایہ کاری، برآمدات، ڈیجیٹلائزیشن، ٹیکس اصلاحات، توانائی کے شعبے کی بہتری اور نوجوانوں کے لیے مواقع پیدا کرنے پر ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ اقدامات ملک کو پائیدار اور جامع اقتصادی ترقی کی راہ پر گامزن کریں گے، تاہم ان اہداف کے حصول کا انحصار پالیسیوں کے مؤثر نفاذ اور سیاسی و معاشی استحکام کے تسلسل پر ہوگا۔

کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار 700 روپے

وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت میں 10 فیصد اضافے کا اعلان کر دیا۔بجٹ تقریر کے مطابق موجودہ 37 ہزار روپے ماہانہ کم از کم اجرت میں اضافہ کیا جائے گا جس کے بعد کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار 700 روپے ہو جائے گی۔حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے کم آمدن والے طبقے کو ریلیف ملے گا اور مہنگائی کے اثرات کم کرنے میں مدد ملے گی۔وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ وزیراعظم نے تنخواہ دار طبقے پر بوجھ کم کرنے کا اپنا وعدہ پورا کر دیا ہے۔بجٹ تقریر کے دوران انہوں نے اعلان کیا کہ حکومت نے تنخواہ دار طبقے پر عائد سرچارج ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم سرکاری اور نجی شعبے کے ملازمین کو درپیش مشکلات سے بخوبی آگاہ ہیں اور ان کے لیے مزید آسانیاں پیدا کی جا رہی ہیں۔

بجلی محفوظ کرنے پر سرمایہ کاری

بجلی کی ترسیلی صلاحیت بڑھانے کے لیے سٹیٹکام اور بیٹری سٹوریج جیسے جدید نظاموں میں سرمایہ کاری کے لیے بالترتیب 10.2 ارب اورتین ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔صنعتی ترقی کی رفتار تیز کرنے کے لیے خصوصی اقتصادی زونز میں بجلی فراہمی کو ترجیح دی جائے گی۔ صاف اور قابلِ تجدید توانائی کے  منصوبوں کے لیے واپڈا کو 50.2 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں۔ 

دکانداروں پر فکسڈ ٹیکس

بجٹ میں چھوٹے دکانداروں کیلئے فکسڈ ٹیکس سسٹم متعارف کرانے کی تجویز ہے۔ اس سسٹم میں وہ دکاندار آسکتے ہیں جن کی سالانہ فروخت 20 کروڑ روپے سے کم ہے۔ چھوٹے دکارندار اپنی سالانہ سیلز کا ایک فیصد ٹیکس ادا کریں گے۔ اس ٹیکس میں دکاندار اپنا ودہولڈنگ ٹیکس ایڈجسٹ کراسکیں گے۔ چھوٹے دکاندار کوگوشوارے جمع کراتے وقت کم ازکم 25 ہزار روپے جمع کرانے ہوں گے۔ ان کا روٹین میں کوئی آڈٹ نہیں ہوگا اور انہیں خریداری پر ودہولڈنگ کی ذمہ د اری نہیں ہوگی اور پی او ایس مشین رکھنے سے استثنیٰ ہوگا۔

 تنخواہ دار افراد کو ریلیف 

 بجٹ میں آمدنی کے 4 سلیبز کے تنخواہ دار افراد کو ریلیف کی تجویز ہے۔22 سے 32 لاکھ روپے سالانہ آمدنی پر ٹیکس کی شرح 20 فیصد کرنے کی تجویز۔ 32 سے 41 لاکھ تک آمدنی پرٹیکس کی شرح 25 فیصد کرنے کی تجویز۔41 سے56 لاکھ روپے سا لانہ تنخواہ پرانکم ٹیکس کی شرح 29 فیصد کرنے کی تجویز۔56 سے70 لاکھ روپے سالانہ تنخواہ پرانکم ٹیکس کی شرح 32 فیصد کرنے کی تجویز۔ تنخواہ دارطبقے پرعائد 9 فیصد سرچارج کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

سستے گھروں کی تعمیر

بجٹ میں دیرپا شہری ترقی اور ہاوسنگ شعبے کے لیے 54 ارب60کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس رقم سے وفاقی اور صوبائی سطح پر ایک لاکھ50ہزار سستے رہائشی یونٹس تعمیر کیے جائیں گے جبکہ 10بڑے شہروں کیلئے ڈیجیٹل ماسٹر پلانز تیار کیے جائیں گے۔

آبی وسائل پر سرمایہ کاری

پاکستان کو پانی کے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے جیسے سٹوریج کی کم ہوتی ہوئی صلاحیت۔ گزشتہ سال سیلاب سے ملکی معیشت کو 822 ارب روپے کا نقصان پہنچا۔ بجٹ میں 43 آبی منصوبوں کے لیے103ارب 10کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

 ودہولڈنگ ٹیکس میں کمی

بجٹ میں جائیدادمنتقلی پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس میں کمی کی تجویز ہے۔ فائلرز کیلئے جائیداد خریداری پر ودہولڈنگ ٹیکس 2.5 فیصد سے کم کرکے1.25 فیصد کرنے کی تجویز۔ فائلرز کیلئے جائیداد کی فروخت پرودہولڈنگ ٹیکس 5.5 سے کم کرکے2.75 فیصد کرنے کی تجویز۔

مالی سال 27-2026ء ٹیکس محصولات کا ہدف

مالی سال 2026-27ء میں ایف بی آر کے محصولات کا تخمینہ15264 ارب روپے ہے جو کہ رواں مالی سال سے17.6 فیصد زیادہ ہے۔ وفاقی محصولات میں صوبوں کا حصہ8848 ارب روپے ہو گا۔وفاقی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 18 ہزار 771 ارب روپے لگایا گیا ہے۔وفاقی نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 5336 ارب روپے ہو گا۔ وفاقی حکومت کی خالص آمدنی 11751 ارب روپے ہوگی۔ وفاقی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 18 ہزار  771 ارب روپے ہے جس میں سے 8054 ارب روپے قرضوں کے سود کی ادائیگی کے لیے مختص ہوں گے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

رحم کرنے والوں پر رحمٰن کی رحمت!

’’جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا‘‘(صحیح بخاری) معاشی مشکلات میں اسلام انسان کو خود غرضی نہیں بلکہ صلہ رحمی کا درس دیتا ہے ’’بخل اور حرص سے بچو، کیونکہ یہی چیزیں تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک کر گئیں‘‘ (صحیح مسلم)’’ جو شخص اپنے بھائی کی تکلیف دور کرتا ہے، اللہ اس کی قیامت کی تکلیف دور کرے گا‘‘(صحیح مسلم)

پردہ پوشی :اسلامی معاشرت کا حسین اصول

دوسروں کی عزت و آبرو کا تحفظ اسلامی اخلاقیات کا اہم تقاضا ہے جو شخص دنیا میں کسی کے عیب چھپائے گا قیامت کے دن اللہ اس کے عیب چھپائے گا۔ (صحیح مسلم)

اسلام میں چھوٹی چھوٹی نیکیوں کی اہمیت و اجر

’’پھر جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہے وہ اس کو دیکھ لے گا‘‘(زلزال:07) سلام میں پہل کرنا، پیاسے کو پانی پلا نا، بھٹکے ہوئے کو راستہ دکھانا، خوش اخلاقی کے ساتھ پیش آنا وہ چھوٹی چھوٹی نیکیاں ہیں جن کو ہم اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں

مسائل اور ان کا حل

کریڈٹ کارڈ کا استعمال سوال :کیا کریڈٹ کارڈ کے ذریعے شاپنگ کرنا جائز ہے؟(انعام الحق ،کراچی)

وفاقی بجٹ 27-2026

وفاقی بجٹ بالآخر کل پیش کر دیا جائے گا۔ بجٹ کی تاریخ دو مرتبہ تبدیل کی گئی کیونکہ پیپلز پارٹی کے ساتھ مذاکرات چل رہے تھے اور اس مرتبہ بجٹ میں سب سے بڑا ایشو این ایف سی فارمولا اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام تھے۔

آٹا سستا روٹی مہنگی، انتظامی مشینری کہاں ہے؟

پنجاب کو پاسکو سے گندم خریداری کا فیصلہ کیوں کرنا پڑا؟