کراچی کی داستانِ حسرت
پیپلز پارٹی نے گلگت بلتستان اسمبلی الیکشن میں میدان مار لیا۔پیپلز پارٹی گلگت بلتستان میں حکومت بنائے گی، سندھ اور بلوچستان میں پہلے ہی پیپلز پارٹی کی حکومت ہے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے گلگت بلتستان میں بھر پور انتخابی مہم چلائی۔ چند روز قبل صدر زرداری سے وزیراعظم شہباز شریف کی ملاقات ہوئی اس موقع پر وزیراعظم نے بھی کہا کہ بلاول بھٹو نے مسلم لیگ (ن) سے بہتر انتخابی مہم چلائی جس پر صدرمملکت مسکرائے اور کہا کہ آخر بیٹا کس کا ہے۔لیکن ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ جی بی الیکشن میں (ن) لیگ کے جلسے میں سوال کیا گیا کہ عوام جی بی کو کراچی بنانا چاہتے یا لاہور، تو مجمعے سے آواز آئی لاہور۔بظاہر یہ ایک جملہ ہے لیکن سندھ کے عوام کے لیے کسی تازیانے سے کم نہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کراچی سمیت پورا صوبہ سندھ مختلف مسائل کا شکار ہے۔ حکومت انہیں اپنے طور پر حل کرنے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے لیکن نتائج سامنے نہیں آرہے۔ قومی میڈیا پر کراچی کے حوالے سے چلنے والی ایک رپورٹ کا سوشل میڈیا پر بہت چرچا ہے جس میں کراچی کے مختلف منصوبوں، ان منصوبوں میں کرپشن اور شہر کی زبوں حالی کا ذکر ہے۔ییلو لائن منصوبہ 21کلومیٹر کے قریب ہے جس پر ابھی تک صرف 20فیصد کام مکمل ہوا ہے اور اربوں روپے کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے۔ کرپشن کہیں یا بے قاعدگی سے رقم کا اجرا، نقصان تو ہر صورت سندھ کا ہی ہے۔ چند لوگ ملوث ہوتے ہیں لیکن خمیازہ سب کو بھگتنا پڑتا ہے۔حکومت کو اس مبینہ کرپشن میں ملوث کسی فرد کو نہیں چھوڑنا چاہیے۔ کراچی کے یونیورسٹی روڈ کی بات کی جائے، کے فورواٹر پائپ لائن یا پھر شہر کو سیف سٹی بنانے کے لیے کیمروں کی تنصیب، ہر منصوبے میں کوئی نہ کوئی داستان چھپی ہے۔
یونیورسٹی روڈ تو اعلیٰ ترین مثال ہے۔ بہت پرانی بات نہیں جب کروڑ وں روپے کی لاگت سے اس سڑک کو تعمیر کیا گیا اور وزیراعلیٰ سندھ نے اس کا افتتاح کیا۔ انہوں نے سڑک کو سٹیٹ آف دی آرٹ قرار دیا تھا مگر کچھ ہی عرصہ گزرا کہ سڑک جگہ جگہ سے بیٹھنا شروع ہوگئی، بارش نے تو اس سڑک کا حلیہ ہی بگاڑ کر رکھ دیا پھر اچانک حکومت نے ریڈلائن بنانے کا اعلان کردیا، یہ منصوبہ کب مکمل ہوگا اس بارے میں نہ ہم کچھ جانتے ہیں اور شاید نہ ہی حکومت۔ اہم بات یہ ہے کہ ریڈ لائن بنانے سے پہلے جو سڑک بنائی گئی اور تباہ ہوئی کیا اس کی کوئی تحقیقات ہوئیں؟ اسی طرح ڈیڑھ دو سال پہلے کی بات ہے جب ایک بار پھر نوتعمیر شدہ تین ہٹی تا گرومندر سڑک بارش میں بہہ گئی تو چھ ماہ میں ذمہ داروں سے نمٹنے کا اعلان کیا گیا، لیکن اس کے بعد کیا ہوا آج تک نہیں پتا چل سکا البتہ مہینوں خراب رہنے کے بعد یہ سڑک اب پھر تعمیر کی جارہی ہے۔ میئر کراچی نے اس سڑک کو 60دن میں تعمیر کرنے کا اعلان کیا تھالیکن کئی ماہ ہوچکے ہیں اور یہ سڑک ابھی تک ادھوری ہے۔
یہ بالکل درست ہے کہ حکومت منصوبے بناتی ہے، پیسہ بھی دیتی ہے لیکن نتیجہ سامنے نہیں آتا، اس کا ذمہ دار کوئی بھی ہو سوال جواب تو میئر اور وزیراعلیٰ سے کیا جائے گا۔ پاکستان میں کرپشن کوئی نئی بات نہیں، دنیا بھر میں کرپشن ہوتی ہے، ٹھیکیدار ہوں یا انجینئر سب مال بناتے ہیں لیکن جو پکڑا جائے حکومتیں اسے نشانِ عبرت بنادیتی ہے۔ وزیراعلیٰ کی انسپکشن کمیٹی موجود ہے، بہتر کام کر رہی ہے لیکن حکومت کو چاہیے کہ منصوبوں کی نگرانی کا ایسا نظام بنائے کہ گڑبڑ شروع ہوتے ہی فوری پتا چل جائے اور اس کا سدباب کرلیا جائے۔ادھرامیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی کی جیت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ایک بار پھر فارم 47کام آیا۔ بقول ان کے پیپلز پارٹی کا کراچی سے پیٹ نہیں بھر رہا تھا اس لیے گلگت بلتستان بھی اسے دے دیا گیا، یہ جماعت کراچی کا عوامی مینڈیٹ تسلیم کرنے کو تیار نہیں اور میئرشپ پر قبضہ کیا،شہر کے حوالے سے صوبائی حکومت متعصب ہے، یہ لوگ شہر سے وصول کردہ ٹیکس کا پانچ فیصد بھی اسی شہر پر خرچ کرنے کو تیار نہیں۔دوسری جانب متحدہ قومی موومنٹ نے شیڈو بجٹ پیش کیا اور اپنے مطالبات بھی سامنے رکھ دیے کہ کراچی کو نیشنل فنانس کمیشن سے براہ راست فنڈ دیا جائے، پٹرول سے لیوی ختم کریں،بڑے سرمایہ کاروں پر ہاتھ ڈالا جائے، ان سے ٹیکس وصولی بڑھائیں اور متوسط طبقے اور تنخوہ داروں پر ٹیکس کی شرح کم کی جائے۔
شہر میں بدترین ٹریفک جام پر بھی ایم کیو ایم برہم ہے۔ایم کیو ایم کے اراکین اسمبلی کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت اور کٹھ پتلی انتظامیہ شہر کی تباہی کی ذمہ دار ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سرکاری سرپرستی میں پتھارے قائم ہیں جو مقامی حکومت کا ذریعہ معاش بن چکے ہیں۔ ٹھیلے والوں نے لاؤڈ سپیکر لگا رکھے ہیں اور انہیں روکنے والا کوئی نہیں۔ اگر صورتحال بہتر نہ ہوئی تو سڑکوں پر احتجاج ہوگا۔ ادھرکندھ کوٹ سے خبر ہے کہ کچے میں آپریشن کے دوران پولیس کو ایک بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ مبینہ پولیس مقابلے میں بدنام زمانہ ڈاکو ملگزارعرف ملھو بھلکانی مارا گیا۔ جس پر 70سے زائد مقدمات درج تھے۔ادھر جیکب آباد میں ایک وڈیرے نے نجی عدالت قائم کرلی ہے۔اندرون سندھ ایسی نجی عدالتوں اور جرگوں کے واقعات کوئی نئی بات نہیں اور عوام کو خود ساختہ عدالتیں چلانے والے وڈیروں کے خلاف کارروائی کا انتظار ہے۔ لیکن کیا کوئی کارروائی ہوگی؟