توبہ

تحریر : دانیال حسن چغتائی


عامر انتہائی شریر لڑکا تھا۔ ہر وقت شرارتیں کرتا، دوسروں کو ستانے میں اُسے بڑا مزہ آتا تھا۔

 اپنی جماعت میں اس کا شمار نالائق لڑکوں میں ہوتا تھا۔ 

اسی کلاس میں ایک لڑکا سہیل تھا جو بے حد ذہین تھا اور ہر سال اوّل آتا تھا۔ سہیل اکثر عامر کو سمجھاتا لیکن عامر اسے جھڑک دیا کرتا اور کہتا تم اپنے کام سے کام رکھو، میرے معاملے میں دخل نہ دو۔

 عامر اکثر اسکول سے غائب رہتا تھا۔ اس کا پسندیدہ مشغلہ غلیل سے چڑیوں کا شکار کرنا تھا۔ چڑیوں کو تڑپتا دیکھ کر عامر بہت خوش ہوتا تھا۔

ایک دن عامر وقفہ میں اسکول سے بھاگنے ہی والا تھا کہ سہیل نے اس کا ہاتھ پکڑ کر روک لیا اور کہا تم اسکول سے کیوں بھاگتے ہو۔

 عامر اس کی بات کاٹ کر بولا تم میرے کیا باپ ہو جو ہر وقت نصیحتیں کرتے رہتے ہو۔ یہ کہتے ہوئے اس نے اپنا ہاتھ جھٹکے سے چھڑایا اور اسکول کی پچھلی دیوار سے کود گیا۔ ادھر ایک باغ تھا جہاں عامر چڑیوں کا شکار کرتا تھا۔ 

آج بھی وہ اپنے اسی مشغلے کی تیاری کر رہا تھا۔ اتفاق سے کچھ دیر کے بعد سہیل کا وہاں سے گزر ہوا، اس کے ہاتھ میں اسکول کی ایک دو کتابیں تھیں اور وہ پڑھنے کی غرض سے باغ میں آیا تھا۔ اس نے جب عامر کو دیکھا تو کہا کیا آج بھی تم معصوم چڑیوں کا شکار کرو گے؟

 عامر نے جواب دیا ہاں کیوں؟ کیا تم مجھے روک سکتے ہو ؟ سہیل نے اسے سمجھایا کہ ننھے پرندوں کو ستانا بہت بڑا گناہ ہے لیکن عامر نے ایک نہ سنی بلکہ سہیل کو ہی باغ سے باہر نکال دیا۔ اور خود شکار کیلئے چڑیوں کو دیکھنے لگا۔ 

عامر ایک جگہ کھڑا چاروں طرف نظریں گھما رہا تھا کہ اسے ایک رنگ برنگی چڑیا نظر آئی۔ عامر نشانہ لگانے لگا، جیسے ہی اس نے پتھر مارا، چڑیا پھر سے اڑ گئی اور دوسرے درخت پر جا بیٹھی۔ عامر فوراً وہاں پہنچا اور غلیل سے دوسرا نشانہ لگایا، اس بار بھی چڑیا دوسرے درخت پر بیٹھ گئی۔ دو نشانے خطا دیکھ کر عامر کو بہت غصہ آیا۔ 

درخت کے قریب پہنچ کر اس نے اندھا دھند غلیل سے پتھر مارنے شروع کر دیئے۔ اتفاق سے ایک پتھر شہد کی مکھیوں کے چھتے پر لگا اور انہوں نے عامر پر حملہ کر دیا۔ حملہ اتنا شدید تھا کہ وہ بھاگ بھی نہ سکا۔ دوسرے دن وہ اسپتال میں تھا۔ اس کا منہ بری طرح سوجا ہوا تھا۔ شہد کی مکھیوں نے بڑی بے دردی سے کاٹا تھا۔ 

عامر کو جب ہوش آیا تو اسے سہیل کی وہ بات یاد آ رہی تھی کہ معصوم پرندوں کو ستانا بہت بڑا گناہ ہے۔ لیکن شہد کی مکھیوں کے حملے کے بعد اس نے اپنے برے فعل سے توبہ کر لی تھی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

کامن ویلتھ گیمز 2026:گلاسکو کے میدانوں میں عالمی چیمپئنز کا امتحان

دنیا بھر سے 3ہزار کھلاڑی 10 مختلف کھیلوں کی 215 کیٹیگریز میں میڈلز کیلئے مد مقابل

بادل لوٹ آئے

پہاڑی وادی شیرانوالا میں سردیوں کا موسم اپنے عروج پر تھا، اس بار بادل جیسے اس خوبصورت زمین کو بھول چکے تھے۔

شعرکہانی

ایک چھوٹے سے گائوں میں ایک لڑکا رہتا تھا، اس کا نام ابرار تھا۔ وہ غریب کسان کا بیٹا تھا، مگر دل میں بڑے خواب رکھتا تھا۔ اس کی آنکھوں میں چمک تھی، جیسے اس کے اندر کوئی روشنی بھڑک رہی ہو۔

طرزِ گفتار

زمیں کے تارو! ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں اس میں بے شمار اچھائیوں کے ساتھ لاتعداد برائیاں بھی موجود ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے زمین پر ہر چیز کو جوڑا پیدا فرمایا ہے۔

آڑو: صحت بخش اور لذیذ پھل

گرمیوں کا موسم اپنے ساتھ بہت سے مزیدار پھل لاتا ہے، جن میں آڑو ایک نہایت مقبول اور خوش ذائقہ پھل ہے۔

کالے بادل آئیں گے

کالے بادل آئیں گےآ کر مینہ برسائیں گے