ویمنزٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کی سنسنی خیز داستان

تحریر : روزنامہ دنیا


9 ٹورنامنٹس میں سے آسٹریلیا نے 6 مرتبہ، انگلینڈ، ویسٹ انڈیز اور نیوزی لینڈ نے ایک ایک مرتبہ ٹرافی اپنے نام کی

خواتین کرکٹ کا سب سے بڑا میلہ یعنی ’آئی سی سی ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ‘‘اب تک اپنے 9ایڈیشنز مکمل کر چکا ہے۔ تقریباً دو دہائیوں پر محیط اس سفر میں دنیا نے روایتی حریفوں کے ٹکرائو، نئے ستاروں کا عروج اور کرکٹ کے میدانوں پر آسٹریلیا کی حکمرانی دیکھی ہے۔ آئیے اس ٹورنامنٹ کی تاریخ کے تمام ابواب پر نظر ڈالتے ہیں۔

2009ء:پہلا ایڈیشن۔فاتح: انگلینڈ ، رنر اپ: نیوزی لینڈ

پہلے ٹی 20ورلڈ کپ کی میزبانی انگلینڈ نے کی، جس میں8 ٹیموں نے حصہ لیا۔ لارڈز کے میدان پر کھیلے گئے فائنل میں انگلینڈ نے نیوزی لینڈ کا 87 رنز کا آسان ہدف 17 اوورز میں حاصل کر کے پہلا ورلڈ کپ اپنے نام کیا۔ نیوزی لینڈ کی ایمی واٹکنز سب سے زیادہ رنز بنانے والی جبکہ انگلینڈ کی ہولی کولون سب سے زیادہ وکٹیں لینے والی بولر رہیں۔ کلیئر ٹیلر کو’’پلیئر آف دی ٹورنامنٹ‘‘ قرار دیا گیا۔

2010ء:دوسرا ایڈیشن۔فاتح: آسٹریلیا،رنر اپ: نیوزی لینڈ

ویسٹ انڈیز میں کھیلے گئے دوسرے ایڈیشن سے خواتین کی کرکٹ پر آسٹریلیا کی بالادستی کا آغاز ہوا۔ فائنل میں آسٹریلیا نے نیوزی لینڈ کو ایک انتہائی سنسنی خیز مقابلے کے بعد محض 3 رنز سے شکست دے کر اپنا پہلا ٹائٹل جیتا۔ نکولا برائن کو ٹورنامنٹ کی بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

2012ء:تیسرا ایڈیشن۔ فاتح: آسٹریلیا،رنر اپ: انگلینڈ

سری لنکا میں کھیلے گئے تیسرے ایڈیشن کے فائنل میں روایتی حریف آسٹریلیا اور انگلینڈمدمقابل آئے۔ آسٹریلیا نے آخری گیند تک جانے والے اعصاب شکن معرکے میں انگلینڈ کو 4 رنز سے ہرا کر اپنے اعزاز کا دفاع کیا۔ انگلینڈ کی شارلٹ ایڈورڈز ٹورنامنٹ کی بہترین کھلاڑی اور ٹاپ سکورر رہیں۔

2014ء:چوتھا ایڈیشن۔فاتح: آسٹریلیا،رنر اپ: انگلینڈ

بنگلہ دیش میں منعقدہ اس ٹورنامنٹ میں ٹیموں کی تعداد بڑھا کر 10 کی گئی، جہاں آئرلینڈ اور بنگلہ دیش نے ڈیبیو کیا۔ ایک بار پھر فائنل آسٹریلیا اور انگلینڈ کے درمیان ہوا۔آسٹریلیا نے  106 رنز کا ہدف صرف 15 اوور میں حاصل کر کے لگاتار تیسری بار ورلڈ کپ جیتنے کا اعزاز حاصل کیا۔ 

2016ء:پانچواں ایڈیشن۔فاتح: ویسٹ انڈیز۔رنر اپ: آسٹریلیا

بھارت میں کھیلے گئے اس ٹورنامنٹ میں  ویسٹ انڈیز نے آسٹریلیا کی اجارہ داری کو توڑا۔ کولکتہ میں کھیلے گئے فائنل میں آسٹریلیا کے 148 رنز کے جواب میں ویسٹ انڈیز کی 18 سالہ ہیلی میتھیوز اور کپتان اسٹیفنی ٹیلر نے 120 رنز کی تاریخی اوپننگ پارٹنرشپ قائم کی اور ویسٹ انڈیز کو پہلی بار عالمی چیمپئن بنا دیا۔ یہ ویسٹ انڈیز کیلئے اس لیے بھی یادگار دن تھا کیونکہ اسی شام ان کی مردوں کی ٹیم نے بھی ٹی 20 ورلڈ کپ جیتا تھا۔

2018ء:چھٹا ایڈیشن۔فاتح: آسٹریلیا۔رنر اپ: انگلینڈ

یہ سال خواتین کی کرکٹ کیلئے ایک سنگ میل تھا کیونکہ پہلی بار یہ ٹورنامنٹ مردوں کے شیڈول سے الگ، بالکل آزادانہ طور پر ویسٹ انڈیز میں کھیلا گیا۔ اس ٹورنامنٹ میں بھارت کی ہرمن پریت کور نے نیوزی لینڈ کے خلاف شاندار سنچری سکور کی۔ فائنل میں آسٹریلیا نے انگلینڈ کو 8 وکٹوں سے عبرتناک شکست دے کر چوتھی بار ٹرافی اٹھا ئی۔ الیسا ہیلی کو بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

2020ء:ساتواں ایڈیشن۔فاتح: آسٹریلیا۔رنر اپ: بھارت

آسٹریلیا میں کھیلے گئے اس ورلڈ کپ کا فائنل تاریخ کا حصہ بن گیا۔ میلبورن کرکٹ گرائونڈ پر ریکارڈ 86,174 تماشائیوں کے سامنے آسٹریلیا اور بھارت کا فائنل ہوا۔ آسٹریلیا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 184 رنز بنائے اور بھارتی ٹیم کو 99 رنز پر ڈھیر کر کے پانچویں بار ٹائٹل اپنے نام کیا۔

2023ء:آٹھواں ایڈیشن۔فاتح: آسٹریلیا۔رنر اپ: جنوبی افریقہ

جنوبی افریقہ نے پہلی بار میزبان کے طور پر فائنل میں جگہ بنائی۔ اس ٹورنامنٹ میں پاکستان کی منیبہ علی نے آئرلینڈ کے خلاف 102 رنز بنا کر ٹی 20 انٹرنیشنل میں سنچری بنانے والی پہلی پاکستانی خاتون کرکٹر کا اعزاز حاصل کیا۔ فائنل میں آسٹریلیا نے 156 رنز بنائے جس کے جواب میں جنوبی افریقہ کی ٹیم 137 رنز بنا سکی اور یوں آسٹریلیا نے چھٹی بار ورلڈ کپ جیت لیا۔ عیشلے گارڈنر ’’پلیئر آف دی ٹورنامنٹ‘‘ بنیں۔

2024ء:نواں ایڈیشن۔فاتح: نیوزی لینڈ۔رنر اپ: جنوبی افریقہ

خواتین کے ٹی 20 ورلڈ کپ کا یہ ایڈیشن تاریخ ساز ثابت ہوا کیونکہ پہلی بار فائنل میں آسٹریلیا تھا نہ انگلینڈ۔ آسٹریلیا کو جنوبی افریقہ نے سیمی فائنل میں شکست دی جبکہ انگلینڈ گروپ سٹیج میں ہی باہر ہو گیا۔ نیوزی لینڈ نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے فائنل میں جنوبی افریقہ کو 32 رنز سے شکست دی اور اپنا پہلا آئی سی سی ٹائٹل جیتا۔ امیلیا کیر کو  آل رائونڈ کارکردگی پرٹورنامنٹ کی بہترین کھلاڑی اور بالر کا ایوارڈ ملا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

ابنِ صفی اُردو کے عظیم جاسوسی ناول نگار

46ویں برسی: ان کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ زبان کے معیار،دلکشی اور چاشنی کو برقراررکھا: ابن صفی کے ناولوں میں ایک مشن یا مقصد موجود ہے، اس لیے انہیں محض تفریحی ادب نہیں کہا جاسکتا‘ ان میں فکری و ذہنی تربیت بھی پوری طرح موجود ہوتی ہے: اردو زبان میں ابن صفی سے زیادہ کسی ادیب کو نہیں پڑھا گیا‘ انہوں نے ادب کو خواص سے نکال کر عوام تک پہنچا یاجو ان کے آنے والے ناول کا بے چینی سے انتظاربھی کرتے تھے

جدید اُردو شاعری کی عصری معنویت

جدیدیت اور ترقی پسند تحریک عالمی ادبیات میں رو نما ہونے والی دو اہم تحریکات تھیں۔ اردو ادب پر ان دونوں تحریکات کے گہرے اثرات مرتسم ہوئے۔

فیفا ورلڈ کپ کا تاج کس کے سر سجے گا؟

فائنل معرکہ میں دفاعی چیمپئن ارجنٹائن اور سابق چیمپئن سپین مد مقابل ہونگے

اچھی عادات!

اے بی سی پبلک سکول اپنے نظم و ضبط اور اعلیٰ روایات کی وجہ سے بہت مشہور تھا۔ والدین کی خواہش ہوتی تھی کہ ان کے بچوں کو اسی سکول میں داخلہ ملے۔

بیٹی

سب کی میں دُلاری ہوں،امّاں ابّا کی پیاری ہوں

افسوس نہ کیجئے!

امریکہ کے ایک نفسیاتی ڈاکٹر نے کہا ہے کہ آدمی سب سے زیادہ جس چیز میں اپنا وقت برباد کرتا ہے وہ افسوس ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ بیشتر لوگ ماضی کی تلخ یادوں میں گھرے رہتے ہیں۔