پاک بھارت ٹاکراآج
آئی سی سی ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ 2026ء:انگلینڈ میں آئی سی سی ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ کی رعنائیاں عروج پر،12ٹیمیں مدمقابل:پاکستان اور بھارت کی خواتین کرکٹ ٹیموں کے درمیان اب تک مجموعی طور پر 16 انٹرنیشنل ٹی 20میچ کھیلے جا چکے،بھارت نے 13 پاکستان نے 3 میچ جیتے
آئی سی سی ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ کے دسویں ایڈیشن کا انگلینڈ اور ویلز کی سرزمین پر 12 جون سے شاندار آغاز ہو چکا ہے۔ انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کی میزبانی میں کھیلا جانے والا یہ عالمی میلہ 5 جولائی تک جاری رہے گا، جس میں دنیا بھر سے آئی بہترین خواتین ٹیمیں مدمقابل ہیں۔ یاد رہے کہ انگلینڈ کو اس سے قبل اس ٹورنامنٹ کے پہلے ایڈیشن کی میزبانی کا اعزاز بھی حاصل ہوا تھا۔ اس مرتبہ ورلڈ کپ کو مزید سنسنی خیز اور وسیع بنانے کیلئے شریک ٹیموں کی تعداد10 سے بڑھا کر12کر دی گئی ہے، جو انگلینڈ کے7 مختلف مقامات پر مجموعی طور پر 33 میچز میں ایک دوسرے کے خلاف تگڑے مقابلے کریں گی۔
اس بار نیوزی لینڈ کی ٹیم بطور دفاعی چیمپئن میدان میں اتری ہے، جس نے 2024ء کے نویں ایڈیشن میں شاندار کارکردگی دکھا کر ٹرافی اپنے نام کی تھی۔
ٹورنامنٹ کا حصہ بننے والی12 ٹیموں کا انتخاب ایک جامع طریقہ کار کے تحت کیا گیا ہے، جس میں میزبان ملک کے علاوہ گزشتہ ایڈیشن کی بہترین 5 ٹیمیں، آئی سی سی ویمنز ٹی 20 رینکنگ میں شامل 2 ٹاپ ٹیمیں اور کوالیفائر ٹورنامنٹس کے ذریعے آنے والی 4دیگر ٹیمیں شامل ہیں۔ اس بار ٹورنامنٹ کی سب سے خاص بات نیدرلینڈز کی ٹیم ہے، جس نے تاریخ میں پہلی مرتبہ ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ کیلئے کوالیفائی کر کے دنیائے کرکٹ میں سب کو حیران کر دیا ہے۔ ٹورنامنٹ کے باقاعدہ آغاز کے ساتھ ہی دنیا بھر کے کرکٹ شائقین کی نظریں اب انگلینڈ کے میدانوں پر جم گئی ہیں، جہاں خواتین کرکٹرز کی فارم، جذبہ اور سنسنی خیز مقابلے عروج پر پہنچ چکے ہیں۔
خواتین کرکٹ کی اس عالمی جنگ کا سب سے بڑا اور دلچسپ معرکہ آج دنیائے کرکٹ کے دو سب سے بڑے روایتی حریفوں کے درمیان ہو گا، پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم کپتان فاطمہ ثناء کی قیادت میں ویمنز ٹی 20 ورلڈکپ میں اپنا پہلا میچ برمنگھم کے میدان ایجبسٹن میں روایتی حریف بھارت کے خلاف کھیلے گی۔ جس کے بعدگرین شرٹس کا دوسرا معرکہ 17 جون کو اسی وینیو(ایجبسٹن، برمنگھم)پر جنوبی افریقہ کے خلاف ہوگا، جبکہ پاکستان کا تیسرا میچ 20 جون کو سائوتھمپٹن کے ہیمپشائر باؤل میں بنگلہ دیش کے خلاف شیڈول ہے۔ چوتھے میچ میں پاکستانی ٹیم 23 جون کو لیڈز کے ہیڈنگلے گرائونڈ میں آسٹریلیا کے مدمقابل آئے گی اور اپنے آخری گروپ میچ میں گرین شرٹس 27 جون کو برسٹل کائونٹی گرائونڈ میں نیدر لینڈز کا سامنا کریں گی۔
پاک بھارت ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل ٹاکرے
پاکستان اور بھارت کی خواتین کرکٹ ٹیموں کے درمیان اب تک مجموعی طور پر 16 انٹرنیشنل ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے جا چکے ہیں، جن میں بھارتی ٹیم کا پلڑا بھاری رہا ہے۔ ان 16 مقابلوں میں سے بھارتی خواتین ٹیم نے 13 میچوں میں فتح حاصل کی، جبکہ پاکستان کی ٹیم صرف 3 میچ جیتنے میں کامیاب ہو سکی۔خواتین ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کی تاریخ میں روایتی حریف پاکستان اور بھارت اب تک عالمی کپ کے8 مقابلوں میں ایک دوسرے کے سامنے آئی ہیں، جن میں سے 6 میچوں میں بھارتی ٹیم نے فتح سمیٹی جبکہ پاکستانی ٹیم2 میچ اپنے نام کرنے میں کامیاب ہو سکی۔دونوں ٹیموں کے درمیان اب تک کا سب سے بڑا مجموعی سکور 3 وکٹوں کے نقصان پر 151 رنز ہے، جو بھارت نے کیپ ٹائون میں کھیلے گئے 2023ء کے ورلڈ کپ میں بنایا تھا۔سب سے کم ترین سکورپاکستان کا صرف 63 رنز ہے،جو پاکستانی ٹیم نے ویمنز ایشیا کپ کے دوران بنایا تھا۔
سب سے زیادہ رنز بنانے والی ٹاپ 5 بیٹرز
خواتین کرکٹ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والے ٹی ٹونٹی مقابلوں میں سب سے زیادہ رنز بنانے والی کھلاڑیوں کی فہرست میں پہلے نمبر پر بھارت کی سابق کپتان متھالی راج ہیں، جو ریٹائرمنٹ کے باوجود سب سے زیادہ رنز بنانے والی کھلاڑی ہیں۔ دوسرے نمبر پر پاکستان کی سابق کپتان بسمہ معروف ہیں، جو گزشتہ سال اپنے 17 سالہ شاندار کیریئر کے بعد ریٹائر ہوئیں۔ تیسرے نمبر پر بھارتی کھلاڑی سمرتی مندھانا ہیں، جنہوں نے پاکستان کیخلاف 10 میچوں میں 239 رنز بنائے ہیں۔ چوتھی پوزیشن پر پاکستان کی آل رائونڈر ندا ڈار موجود ہیں، جنہوں نے بھارت کیخلاف 194 رنز بنائے ہیں۔
پاک بھارت ٹاپ 5بولرز
پاکستانی اور بھارتی ویمنز کرکٹ ٹیموں کے درمیان ہونے والے مقابلوں میں بہترین بائولنگ کا مظاہرہ کرنے والی کھلاڑیوں کی فہرست میں پہلے نمبر پر بھارت کی لیفٹ آرم سپنر ایکتا بشتراج ہیں، جنہوں نے صرف 5 میچوں میں 10 وکٹیں حاصل کیں۔دوسرے نمبر پر پاکستان کی مایہ ناز آل رائونڈر ندا ڈار ہیں جنہوں نے بھارت کیخلاف 12 اننگز میں 10 وکٹیں حاصل کر کے گرین شرٹس کیلئے سب سے زیادہ وکٹیں لینے کا اعزاز پایا۔ تیسری پوزیشن پر پاکستان کی سابق کپتان ثنا میر براجمان ہیں۔چوتھے نمبر پر بھارت کی دپتی شرما ہیں، جو ون ڈے ورلڈ کپ میں’پلیئر آف دی ٹورنامنٹ‘بھی رہ چکی ہیں اور انہوں نے مڈل اوورز میں ہمیشہ اہم وکٹیں لے کر اپنی ٹیم کی پوزیشن کو مضبوط کیا۔ پانچویں نمبر پر بھارت کی لیگ سپنر پرینکا رائے ہیں، جنہوں نے پاکستان کیخلاف صرف 2 میچ کھیلے لیکن 8 اہم وکٹیں حاصل کر کے گہرا اثر چھوڑا۔