مشتاق احمد یوسفی…لفظوں کی مسکراہٹ
’’ہم مزاح کے عہد یوسفی میں زندہ ہیں‘‘: ڈاکٹر ظہیر فتح پوری:ابن انشا نے کہا تھا اگر مزاح کے اس دور کو کسی کے نام سے منسوب کیا جا سکتا ہے تو بلاشبہ وہ ایک ہی شخصیت ہے، جس کا نام ہے مشتاق احمد یوسفی:مشتاق احمد یوسفی کی تحریروں میں ماضی کی حسین یادوں کے ساتھ سماجی، سیاسی، تہذیبی اور ادبی کارفرمائیاں بھی موجود ہیں
بیسویں صدی کی ساتویں دہائی سے لے کر اکیسویں صدی کے موجودہ دورمیں اردو کے طنزیہ ومزاحیہ ادب میں جو مقبول نام گردش کر رہے ہیں ان میں ایک بڑا نام مشتاق احمد یوسفی کا ہے۔ وہ4ستمبر1923ء کو راجستھان کے شہر ٹونک میں پیدا ہوئے۔ آبائی وطن جے پور تھا اور اُن کے والد عبدالکریم خان یوسفی وہاں کے پہلے گریجویٹ مسلمان تھے جو بلدیہ جے پور کے چیئر مین اور بعد میں قانون ساز اسمبلی جے پورکے سپیکر بھی رہے۔مشتاق احمدیوسفی نے آگرہ یونیورسٹی سے بی اے کرنے کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ایل ایل بی اور ایم اے فلسفہ کی ڈگری حاصل کی اور 1946ء میں پی سی ایس (پراونشل سول سروسز)کے امتحان میں کامیاب ہو کر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر مقرر ہوگئے۔قیام پاکستان کے بعد یوسفی صاحب کے والدین ہجرت کر کے پاکستان آ گئے تو 1950 ء میں انہوں نے بھی بوریا بستر باندھا اور کھوکھرا پار عبور کر کے کراچی آ بسے اور بینک کی ملازمت کواپنا ذریعہ معاش بنالیا۔وہ ملک کے کئی صفِ اول کے بینکوں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے اور 1977ء میں انہیں پاکستان بینکنگ کونسل کا چیئرمین بنایا گیا۔ بینکاری نظام میں ان کی نمایاں خدمات کے اعزازمیں انہیں قائد ِ اعظم میموریل میڈل سے بھی نوازا گیا۔
مشتاق احمد یوسفی کا ادبی سفر 1955ء میں مضمون ’’صنف لاغر‘‘سے شروع ہوا، جو لاہور سے شائع ہونے والے رسالہ ’’سویرا‘‘ میں شائع ہواتھا۔ اس طرح مختلف رسالوں میں گاہے گاہے ان کے مضامین شائع ہوتے رہے۔1961ء میں مختلف انشائیوں اور مضامین کو یکجا کر کے مشتاق احمد یوسفی کا پہلا مجموعہ ’’چراغ تلے’’ کے نام سے منظر عام پر آیاجس کو خاص و عام میں خاصی مقبولیت حاصل ہوئی۔ ان کی دوسری کتاب ’’خاکم بدہن‘‘ 1970ء میں ، تیسری ’’زرگزشت‘‘ 1976ء میں ، چوتھی کتاب ’’آبِ گم‘‘ 1989ء میں اور پانچویں کتاب ’’شامِ شعر یاراں ‘‘ کے نام سے 2014ء میں منظر عام آئی۔یہ ساری کتابیں مزاحیہ چاشنی کے ساتھ اردو زبان وادب کے قارئین کو مسحور کیے ہوئے ہیں۔خاکم بدہن اور زرگزشت پر مشتاق احمد یوسفی کو آدم جی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔علاوہ ازیں انہیں ہلالِ امتیاز، ستارہ ٔامتیاز اوراکادمی ادبیات کے ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ مشتاق احمد یوسفی کی تصنیفات کی ایک خوبی یہ ہے کہ ان کتابوں کے مقدمے اتنے دلچسپ اور پراز مزاح ہیں کہ جزو ِکتاب لگتے ہیں۔ ان مقدموں میں یوسفی صاحب کتاب کی وجۂ تصنیف ہی بیان نہیں کرتے اپنے اور زمانے کے تعلق سے بڑی معنی خیز اور فکر انگیز باتیں، ہنسی ہنسی میں بیان کر جاتے ہیں۔
مشتاق احمد یوسفی کی تحریروں میں انشائیے ، خاکے ، آپ بیتی اور پیروڈی سب کچھ شامل ہے اور ان سب میں طنزومزاح کی وہ پُرلطف روانی موجود ہے جسے پڑھ کر اردو زبان کے مزاحیہ ادب کا ہر قاری مشتاق احمد یوسفی کاگرویدہ نظر آتاہے۔ انہوں نے ہجرت کی کربناکیوں کو اپنے تخلیقی شعور کے ذریعے طنزیہ ومزاحیہ ادب کا حصہ بنادیامگر ان کی تخلیقات میں سماج کی بدلتی قدروں اورماضی کی یادوں کا ایسا منظرنامہ بھی موجود ہے جس کی روشنی میں ہم ایک مہاجر کی زندگی اور اس کے ذہنی وفکری شعور کو بہ آسانی سمجھ سکتے ہیں۔ ان کی نگارشات کا بغور مطالعہ کیا جائے تو ان کی تحریروں میں جابجا ان کے آبائی وطن کی جھلکیاں کسی نہ کسی صورت میں نظر آتی ہیں۔ یوسفی صاحب کی ظرافت نگاری کا جائزہ لیا جائے تو ان کے ہاں مزاح نگاری کے ساتھ ساتھ طنزیہ تحریر یں بھی وافر مقدار میں موجود ہیں جن میں انہوں نے سیاست ، سماج اورادب میں پیدا ہونے والی کج رویوں اورخامیوں پر طنزکیاہے۔ ان کی طنزنگاری میں ہمدردی کا جذبہ شامل ہے اور وہ سماج کی ان بے راہ رویوں کی بڑی سنجیدگی کے ساتھ پیش کرتے ہیں جن سے انسانی سماج ہر روز نبردآزما ہوتا رہتا ہے۔
’’آب گم‘‘ میں شامل مضمون ’’سکول ماسٹر کا خواب‘‘ ایک ایسا ہی طنزیہ مضمون ہے جس میں انہوں نے سماج کی ان سچائیوں کو مختلف کرداروں کے ذریعے بے نقاب کیا ہے اور قارئین کو یہ سوچنے کے لیے مجبو رکیا ہے کہ سماج میں بے دھڑک جاری اس رشوت خوری کے لیے کون ذمہ دار ہے، ہمارا معاشرتی نظام یا انسانی ضرورت؟ وہ مکالماتی انداز میں لکھتے ہیں: ’’ماسٹر نجم الدین برسوں سے چیتھڑے لٹکائے ظالم سماج کو کوستے پھرتے ہیں۔ انہیں ساڑھے چارسو روپے کھلائے ، جب جا کے بھانجے کے میٹرک کے نمبر بڑھے۔ اور رحیم بخش کو چوان سے مسکین کون ہوگا؟ ظلم ظالم اور مظلوم دونوں کو خراب کرتا ہے۔ ظلم کا پہیہ جب اپنا چکر پورا کر لیتاہے اورمظلوم کی باری آتی ہے تو وہ بھی وہی کچھ کر تاجو اس کے ساتھ کیا گیا تھا۔ اژدھا سالم نگلتا ہے۔ شارک دانتوں سے خون کر کے کھاتی ہے۔ شیر ڈاکٹروں کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق اچھی طرح چبا چبا کر کھاتاہے۔ بلی، چھپکلی ، مکڑی اور مچھر حسب مقدور خون کی چسکی لگاتے ہیں۔ بھائی میرے بخشتا کوئی نہیں۔ وہ یہاں تک پہنچے تھے کہ معاً انہیں انکم ٹیکس کے ڈبل بہی کھاتے یاد آگئے اور وہ بے ساختہ مسکرادیے۔ بھائی میرے بخشتا کوئی نہیں سب ایک دوسرے کے رزق ہیں۔ بڑے جتن سے ایک دوسرے کو چیرتے پھاڑتے ہیں تب نظر آتی ہے اک لقمۂ تر کی صورت۔‘‘
مشتاق احمد یوسفی کی ان تحریروں نے معاشرے کی ان سچائیوں کو اجاگر کر دیا جو ہمارے معاشرے کو کسی نہ کسی طرح سے آلودہ کیے ہوئے ہیں۔ انہوں نے اپنے موضوعات کے لیے ہمیشہ انسانی زندگی کے روز مرہ کی معمولات اوران سے متعلق چیزوں سے کام لیا ہے۔ ان کی تحریروں میں پطرس بخاری کی طرح’’ کتے‘‘ کا اور رشید احمد صدیقی کی طرح’’ چارپائی‘‘ کا بھی ذکر ہے مگر یہ دونوں مضامین پطرس بخاری کے ’’کتے‘‘ اور رشید احمد صدیقی کی ’’ چارپائی‘‘ سے کچھ مماثلت رکھتے ہوئے بھی ان سے بہت مختلف ہیں۔ پطرس بخاری اپنے مضمون ’’کتے‘‘ میں کتوں سے ڈرتے ہیں اس کے برعکس مشتاق احمد یوسفی نے کتے کو پالا ہے اوراسے بہت عزیز رکھتے ہیں۔ اسی طرح جہاں رشید احمد صدیقی کی چارپائی میں بیسویں صدی کے ابتدائی دور کے سماجی سیاسی اور تہذیبی منظر نامے دکھائی دیتے ہیں اس کے برعکس مشتاق احمدیوسفی کی چارپائی پر بیسویں صدی کے نصف میں بدلتے ہوئے کلچر کی عکاسی کی گئی ہے۔ چارپائی اورکلچر ، ان کا یہ اقتباس ملاحظہ کریں: ’’یہ وہی چارپائی ہے جس کی سیڑھی بنا کر سگھڑ بیویاں مکڑی کے جالے اورچلبلے لڑکے چڑیوں کے گھونسلے اتارتے ہیں۔ اسی چارپائی کو وقت ضرورت پیٹیوں سے باندھ کر اسٹریچر بنالیتے ہیں…اسی طرح جب مریض کھاٹ سے لگ جائے تو تیمار دار مؤخرالذکر کے وسط میں بڑا سا سوراخ کرکے اول الذکر کی مشکل آسان کر دیتے ہیں اور جب ساون میں کالی گھٹائیں اٹھتی ہیں توادوان کھول کر لڑکیاں دروازے کی چوکھٹ اور والدین چارپائیوں میں جھولتے ہیں۔اسی پر نومولود بچے غائوں غائوں کرتے اورچندھیاتی ہوئی آنکھیں کھول کر اپنے والدین کو دیکھتے ہیں اور روتے ہیں اور اسی پر دیکھتے ہی دیکھتے اپنے پیاروں کی آنکھیں بند ہوجاتی ہیں۔‘‘ اس مضمون میں انہوں نے جہاں چارپائی سے لیے جانے والے مختلف کاموں کا ذکر کیا ہے وہیں انہوں نے چارپائی کی مختلف قسمیں اوران کے نام بھی گنوائیں ہیں۔
مشتاق احمد یوسفی کی مزاح نگاری کی یہ سب سے بڑی خصوصیت ہے کہ وہ اپنی ظریفانہ تحریروں میں بڑی معصومیت اورسنجیدگی کے ساتھ اپنی بات کہہ جاتے ہیں۔ انہوں نے چارپائی کے استعارے میں جس طرح اس کی تہذیبی خصوصیت کا ذکر کیا اسی طرح بدلتے ہوئے سماجی دھارے کی بات کہی ہے۔ اس کے متعلق انہوں نے اشارے اشارے میں کہہ دیا تھا کہ یہ مضمون اس تہذیب کا قصیدہ نہیں ’’مرثیہ ‘‘ ہے۔ یوسفی نے اپنی تحریروں کو پُر لطف اور دلچسپ بنانے کے لیے ہر طرح کے حربے کو استعمال کیا۔ ان کی تحریروں میں تاریخ ، فلسفہ، تلمیحات، کردار نگاری ، منظر نگاری، مکالمہ نگاری، اشعار کے برمحل استعمال کے ساتھ ساتھ پیروڈی کی بھی مختلف قسمیں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ خاص طور سے انہوں نے جوا لفاظ اور اشعار کی پیروڈی کی ہے وہ تو انتہائی قابلِ داد ہے۔ مشتاق احمد یوسفی کے گہرے سماجی شعور کو دیکھتے ہوئے مجنوں گورکھپوری نے اپنے ایک مضمون میں ان کے متعلق کہاتھا کہ ’’یوسفی کی تحریروں کی ایک ممتاز خصوصیت یہ بھی ہے کہ باوجود اس کے کہ ان کا تعلق زندگی کے عام حالات وواقعات سے ہوتاہے، وہ کبھی سبک یا سستی نہیں ہو پاتیں۔
ان کی تحریریں اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ ان کا خالق زندگی کی اصلیت اوراس کے راز کو اچھی طرح جانتا اور سمجھتا ہے۔‘‘ مشتاق احمد یوسفی کی تحریروں میں ماضی کی حسین یادوں کے ساتھ سماجی، سیاسی، تہذیبی اور ادبی کارفرمائیاں بھی موجود ہیں جسے انہوں نے اپنی تخلیقی صلاحیت اور فنکاری سے اردو زبان کے طنزیہ ومزاحیہ ادب کا حصہ بنا دیا۔ ان کی ان ادبی کاوشوں کو مقبول بنانے میں ان کے رنگا رنگ موضوعات کے ساتھ ان کے دلکش اندازِبیان، شوخ اور شگفتہ طرزِ ادا کا بھی ہاتھ ہے۔ اس بنا پر یہ کہا جاسکتاہے کہ مشتاق احمد یوسفی کی طنزومزاح نگاری میں ادبی لطافت کی چاشنی کے ساتھ معیاری رنگ وآہنگ بھی شامل ہے۔اردو ادب کے چوٹی کے فنکار ابن انشاکا یہ قول مشتاق احمد یوسفی کے ادبی مرتبے کو اور واضح کردیتا ہے کہ اگر مزاح کے اس دور کو کسی کے نام سے منسوب کیا جا سکتا ہے تو بلاشبہ وہ ایک ہی شخصیت ہے، جس کا نام ہے، مشتاق احمد یوسفی۔اورممتاز نقاد اور محقق ڈاکٹر ظہیر فتح پوری نے یہی بات اس طرح کہی تھی کہ ’’ہم مزاح کے عہدِ یوسفی میں زندہ ہیں‘‘۔ لطافت اورمزاح نگاری کی سلطنت پر برسوں راج کرنے والے مشتاق احمد یوسفی 20 جون 2018ء کو کراچی میں انتقال کر گئے۔
طرزِ یوسفی … منفرد جملے
٭ غرض مند صرف آئینہ کو منہ چڑا اسکتا ہے۔
٭ جس بات کو کہنے والے اور سننے والے دونوں ہی جھوٹ سمجھیں اس کا گناہ نہیں ہوتا۔
٭ اس کا کیا علاج کہ انسان کو موت ہمیشہ قبل از وقت اور شادی بعد از وقت معلوم ہوتی ہے۔
٭انہوں نے اپنی ذات ہی کو انجمن خیال کیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مستقل اپنی ہی صحبت نے ان کو خراب کر دیا۔
٭خیر مصائب تو مرد بھی جیسے تیسے برداشت کر لیتے ہیں مگر عور تیں اس لحاظ سے قابل ِستائش ہیں کہ انہیں مصائب کے علاوہ مردوں کو بھی برداشت کرنا پڑتا ہے۔
٭ بیمار کو مشورہ دینا ہر تندرست آدمی اپنا خوشگوار فرض سمجھتا ہے اور انصاف کی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں ننانوے فیصدی لوگ ایک دوسرے کو مشورہ کے علاوہ اور دے بھی کیا سکتے ہیں۔
٭ جدید سائنس نے اس قدر ترقی کرلی ہے کہ دماغ کے علاوہ جسم کا ہر حصہ حسب منشا گھٹایا بڑھایا جاسکتا ہے۔
٭بلی چو ہے پکڑ سکتی ہے یا نہیں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ سیاہ ہے یا سفید ۔
٭ میں دماغی صحت کے لئے یہ ضروری سمجھتا ہوں کہ انسان کو پابندی سے صحیح غذا اور غلط مشورہ ملتا رہے۔