"RKC" (space) message & send to 7575

ایک جنگ جو سب کچھ بدل گئی

آج کل پارلیمنٹ میں خوب رونق لگی ہوئی ہے۔ بجٹ کا موسم ہے۔ بجٹ عوام کیلئے جتنی بھی بُری خبریں لے کر آئے‘ ارکانِ اسمبلی کیلئے یہ بہترین موسم ہوتا ہے جب وہ اپنے پورے سال کے گلے شکوے اور کام کاج نہ ہونے کا حساب چکا لیتے ہیں۔ ہر سال بجٹ سے تین ماہ پہلے ہی کورم کا مسئلہ پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ 340 ارکانِ اسمبلی میں سے 84 ارکان بھی ایوان میں نہیں آتے‘ جس پر روز کورم ٹوٹ جاتا اور ایوان کی کارروائی رک جاتی ہے۔ پھر وہ اپنی شرائط پر ایوان میں آتے اور پورے سال کیلئے ترقیاتی فنڈز کی صورت میں بندوبست کر لیتے ہیں۔ ویسے کورم پورا نہ ہونے کی خبریں وزیراعظم کی سیاسی طاقت پر بھی سوال کھڑا کر دیتی ہیں کہ ان کی پارٹی ایوان کو چلانے میں سنجیدہ نہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ارکانِ اسمبلی کے ایوان میں نہ آنے کی وجہ وزیراعظم اور ان کے وزرا بھی بنتے ہیں‘ جو خود ایوان کی کارروائی میں شریک نہیں ہوتے۔ کہا جاتا ہے کہ وزیراعظم اس لیے ایوان میں نہیں آتے کہ ارکانِ اسمبلی اپنے اپنے کاموں اور بیورو کریسی سے متعلق شکایات لے کر بیٹھ جاتے ہیں۔ پھر وزیراعظم کو ہر اُس رکن سے ملنا پڑتا ہے جو اُن کی نشست تک پہنچ جاتا ہے۔ اب اندازہ کریں کہ کسی دن (جو آج تک ہوا نہیں) 340 ارکان ایوان میں موجود ہوں اور سب وزیراعظم کو سلام کرنے چلے جائیں تو وزیراعظم کتنے لوگوں سے بار بار اپنی نشست سے اُٹھ کر مل سکتا ہے؟ شاید یوسف رضا گیلانی واحد وزیراعظم تھے جو روزانہ ایوان میں شریک ہوتے تھے‘ ارکانِ اسمبلی سے اٹھ کر ملتے بھی تھے اور ان کے ترقیاتی فنڈز اور دیگر کام بھی کراتے تھے۔ اس پر تو پیپلز پارٹی کے ایم این ایز باقاعدہ ناراض رہتے تھے کہ وزیراعظم تو ان کی پارٹی سے ہیں لیکن زیادہ خیال مسلم لیگ (ن) کے ایم این ایز کا رکھتے ہیں۔ شاید یہی وجہ تھی کہ جب عمران خان کے دور میں انہوں نے اسلام آباد کی سینیٹ نشست پر وزیرِ خزانہ حفیظ شیخ کو حیران کن شکست دی تو کسی کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ حکومت کیسے سینیٹ اور قومی اسمبلی میں اکثریت کے باوجود سینیٹ کی یہ اہم نشست ہار گئی۔ یہ کسی بھی حکومت کیلئے شرمندگی بلکہ شکست سمجھی جاتی ہے اور جمہوری ملکوں میں ایسی صورتحال میں وزیراعظم مستعفی ہو جاتا ہے کیونکہ وہ پارلیمنٹ کا اعتماد کھو چکا ہوتا ہے۔ شاید اسی بات کو ذہن میں رکھ کر عمران خان نے اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لیا تھا کیونکہ اس شکست سے ان کی پارلیمانی اکثریت پر سوالات اُٹھ گئے تھے۔ اگرچہ اعتماد کا ووٹ مل گیا لیکن ایک ڈینٹ ضرور پڑ گیا تھا۔ خیر گیلانی صاحب کے بعد کسی وزیراعظم نے ایوان کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور نہ ہی ارکان کو وہ عزت دی جس کے وہ حقدار تھے۔ بیورو کریسی نے سب کو اس سوچ پر لگا دیا کہ ایوان کے اجلاس میں وزیراعظم کا کیا کام ہے۔ بس وزیراعظم بن گئے ہیں تو دنیا بھر کے دورے کریں۔ نواز شریف صاحب نے بھی یہی کیا اور بعد کے وزیراعظم بھی یہی کرتے رہے۔ اب شہباز شریف نے تو سب کا ریکارڈ توڑ دیا۔ نواز شریف اگر آٹھ ماہ تک پارلیمنٹ نہیں گئے تو عمران خان چھ ماہ تک نہیں گئے‘ لیکن شہباز شریف سب پر سبقت لے گئے۔ تقریباً ایک سال بعد انہیں بجٹ والے دن دیکھا گیا‘ وہ بھی شاید اس لیے کہ اس دن چھٹی کرنا ممکن نہیں تھا ورنہ شاید وہ کر گزرتے۔
شہباز شریف صاحب جب بجٹ سے اگلے روز بھی ایوان تشریف لائے تو سب حیران ہوئے کہ اللہ خیر کرے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ انہیں امریکہ ایران معاہدے پر تقریر کرنی اور پوری دنیا کو مبارکباد دینی تھی۔ واقعی یہ بہت بڑا کام ہوا اور پوری دنیا اس وقت پاکستان کی تعریف کر رہی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی تعریفیں کی جا رہی ہیں۔ ایک بات ضرور ہے کہ بھارت میں اس وقت ماتم کی سی فضا ہے حالانکہ جنگ رکنے سے زیادہ فائدہ بھارت کو ہوا اور اب معاہدے سے بھی بھارت ہی کو فائدہ ہونے والا ہے کیونکہ اس کی توانائی کی ضروریات دنیا کے اکثر ممالک سے زیادہ ہیں اور سب سے بڑھ کر اس کی معاشی ترقی پر اس کا براہِ راست اثر پڑا ہے۔ بھارت میں تو پٹرول اور ڈیزل کی قلت کے باعث پٹرول پمپس پر باقاعدہ ہنگامے ہونے لگے تھے۔ لیکن اس کے باوجود پاکستان کی کوششوں کی تعریف کرنے کے بجائے بھارت پاکستان کا سخت ترین ناقد بن کر سامنے آیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ دنیا کے 100 سے زائد ممالک نے پاکستان کے ثالثی کے کردار کو سراہا ہے لیکن تین ممالک ایسے ہیں جنہوں نے اس کردار کی تعریف نہیں کی۔ ایک اسرائیل‘ دوسرا بھارت اور تیسرا مشرقِ وسطیٰ کا ایک ملک ہے۔ اگرچہ بھارت میں بھی کچھ سمجھدار لوگوں اور میڈیا شخصیات نے پاکستان کی تعریف کی ہے۔ ایک بڑے نیوز اینکر نے تو یہاں تک کہا کہ ہمیں تو بتایا گیا تھا کہ ہم نے پاکستان کو دنیا بھر میں تنہا کر دیا ہے لیکن اب حالت یہ ہے کہ دنیا اپنے بڑے بڑے جھگڑے اسلام آباد میں طے کروا رہی ہے جبکہ مودی صاحب‘ جنہیں وشوا گرو کا لقب دیا گیا تھا‘ گھر بیٹھے ٹی وی پر پاکستان کو دیکھ رہے ہیں۔
بھارتی حکومت نے گزشتہ دس برسوں میں پاکستان کے حوالے سے جو پالیسی اختیار کی اس کا بی جے پی کو انتخابی فائدہ تو کسی حد تک ضرور ہوا اور وہ بہار اور مغربی بنگال جیسی ریاستوں میں بھی انتخابات جیتنے میں کامیاب رہی لیکن عالمی سطح پر بھارت کو شدید شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بلکہ اگلے روز تو عمان کے سمندروں میں امریکہ کی طرف سے ایک بھارتی جہاز کو نشانہ بھی بنایا گیا جس میں تین بھارتی اہلکار ہلاک ہوئے۔ اس پر بھارت میں بڑا شور مچا کہ مودی تو کہتے تھے کہ ٹرمپ میرا دوست ہے‘ یہ کیسا دوست ہے جس کے دور میں ہمارے لوگ مارے گئے۔ اس سارے واقعے میں اصل المیہ یہ تھا کہ ایک بھارتی شہری‘ جو غزہ پر اسرائیلی حملوں کا بہت بڑا حامی تھا اور روزانہ نسل کشی کے حق میں ٹویٹس کرتا تھا‘ اس کا بائیس سالہ بیٹا بھی مرنے والوں میں شامل تھا۔ جو شخص دوسروں کے بچوں کے مرنے پر خوش ہوتا تھا بدقسمتی سے اس کا اپنا بیٹا بھی اس حملے میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ سوشل میڈیا پر اس بدنصیب باپ کی وہ ٹویٹس‘ جو اُس نے غزہ میں نسل کشی کے حق میں کی تھیں‘ اور بعد ازاں اپنے بیٹے کی تلاش سے متعلق اس کی پوسٹوں کے سکرین شاٹس پر بہت تبصرے ہوئے۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ بیٹا کسی کا بھی ہو اس کی موت ایک ناقابلِ برداشت صدمہ ہوتی ہے۔ بات یہاں ختم نہیں ہوئی۔ بھارت پر دباؤ بڑھا کہ وہ اس حملے کے بعد امریکہ کی سخت مذمت کرے۔ اس سے پہلے کہ بھارت زبانی کلامی کچھ کرتا‘ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کو فون کر کے سخت لہجے میں خبردار کیا کہ آئندہ بھارتی جہازوں کو امریکہ کی جانب سے ایران اور دیگر مقامات پر عائد بحری ناکہ بندی کا احترام کرنا ہو گا۔ (یہ معاہدے سے دو دن پہلے کی بات ہے)۔ مارکو روبیو کے بقول بھارتی جہاز ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کر رہا تھا جس وجہ سے اس پر میزائل حملہ کیا گیا اور تین بھارتی اہلکار مارے گئے۔ اس پر ششی تھرور بھی حیران رہ گئے اور انہوں نے ٹویٹ کیا کہ امریکی الٹا ہمیں ہی ڈانٹ رہے ہیں۔ بھارتیوں کو یقین نہیں آ رہا کہ ان کے ساتھ اس ایک سال میں کیا سے کیا ہو گیا ہے۔ بھارتی عوام ماننے کو تیار نہیں کہ ان کے وشوا گرو مودی کو دنیا اب وہ اہمیت نہیں دے رہی جو پہلے دی جاتی تھی۔
جب آپ کسی کو محض اقتدار اور ووٹوں کی خاطر بانس پر بہت اونچا چڑھا دیتے ہیں تو پھر نیچے اترتے وقت تکلیف بھی اتنی ہی زیادہ ہوتی ہے۔ بھارتی عوام اس وقت اسی تکلیف سے گزر رہے ہیں کہ پاکستان‘ جسے وہ کسی قابل نہیں سمجھتے تھے‘ آج دنیا بھر میں عزت کما رہا ہے اور اس کی سفارتکاری کی تعریف کی جا رہی ہے۔ مودی کا پاکستان پر جنگ مسلط کرنے کا فیصلہ بھارت کو بہت بھاری پڑا ہے۔ اُس ایک جنگ نے بہت کچھ بدل کر رکھ دیا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں