سیدنا الفاروقؓ فاتح اسلام
آپؓ شجاعت، فصاحت و بلاغت اور خطابت میں یکتائے زمانہ تھے
خلیفہ راشد ثانی، امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروقؓ اسلام کی وہ عظیم شخصیت ہیں کہ جن کی اسلام کیلئے روشن خدمات، جرات و بہادری، عدل و انصاف پر مبنی فیصلوں، فتوحات اور شاندار کردار اور کارناموں سے اسلام کا چہرہ روشن ہے۔ سیدنا عمرؓ بن خطاب تاریخ انسانی کا ایسا نام ہے جس کی عظمت کو اپنے ہی نہیں بیگانے بھی تسلیم کرتے ہیں۔ وہ نبی نہیں تھے مگر اللہ نے ان کی زبان حق پر وہ مضامین جاری کر دیئے جو وحی کا حصہ بن گئے۔ قبول اسلام کے بعد وہ فاروق کہلائے۔
محبوبِ خدا و مرادِ رسولﷺ
حضرت سیدنا عمر فاروقؓ وہ عظیم المرتبت شخصیت ہیں کہ جن کیلئے رسول اللہﷺ نے خصوصی طور پر دعا مانگی ۔حضرت عبد اللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے دُعا فرمائی: اے اللہ! ابو جہل بن ہشام یا عمر بن خطاب دونوں میں سے کسی ایک کے ذریعے اسلام کو غلبہ و عزت عطا فرما۔ حضرت عمرؓ اگلے دن مشرف بہ اسلام ہو گئے (جامع ترمذی: 3683)۔
آپؓ کے اسلام قبول کرنے سے نہ صرف اسلامی تاریخ میں انقلابی تبدیلی آئی بلکہ مسلمانوں کی قوت و عظمت میں بھی بے پناہ اضافہ ہوا۔ حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ سے روایت ہے کہ بے شک حضرت عمرؓ کا قبول اسلام ہمارے لئے ایک فتح تھی اور ان کی امارت ایک رحمت تھی۔ خدا کی قسم! ہم بیت اللہ میں نماز پڑھنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے یہاں تک کہ حضرت عمرؓ اسلام لائے۔ پس جب وہ اسلام لائے تو آپؓ نے مشرکین مکہ کا سامنا کیا، تب ہم نے خانہ کعبہ میں نماز پڑھی۔ (المعجم الکبیر للطبرانی: 8820)
فضائل و مناقب
حضرت عمر فاروق ؓ عشرہ مبشرہ میں شامل ہیں۔ یعنی آپؓ ان دس خوش نصیب صحابہ کرامؓ میں شامل ہیں جنہیں حضور ﷺ نے جنت کی بشارت عطا فرمائی۔ نبی اکرم ﷺ نے نہ صرف آپؓ کیلئے جنت کی بشارت دی بلکہ حشر کے دن بارگاہ ایزدی میں آپؓ کا کیا مقام و مرتبہ ہو گا، اس کے بھی احوال بیان فرمائے۔ حضرت ابی بن کعبؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: حق تعالیٰ سب سے پہلے جس شخص سے مصافحہ فرمائے گا وہ عمرؓ ہے، سب سے پہلے جس شخص پر سلام بھیجے گا اور جس کا ہاتھ پکڑ کر جنت میں داخل فرمائے گا وہ عمرؓ ہے (ابن ماجہ: 104)۔
حضرت قبیصہ بن جابرؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر فاروق ؓ سے بڑھ کر کوئی عالم نہیں دیکھا اور نہ ہی ان سے بڑھ کر کوئی کتاب اللہ کا قاری دیکھا ہے نہ ان سے بڑھ کر کوئی دین کا فقیہ دیکھا ہے ۔ آپؓ شجاعت، فصاحت و بلاغت اور خطابت میں یکتائے زمانہ افراد میں سے تھے۔ آپؓ ادبیات میں ذوق لطیف کے حامل اور شعر کے اعلیٰ نقاد تھے۔ فنون حرب اور سپہ گری میں ممتاز و منفرد تھے۔ زندگی کا اکثر و بیشتر حصہ فیضان نبوت سے سیرابی میں بسر کیا۔ فقہ اور اجتہاد میں بلند مقام رکھتے تھے۔
علمی مقام
اسلام کی آمد سے قبل عرب میں لکھنے اور پڑھنے کا کوئی خاص رواج نہ تھا۔ جب حضور نبی اکرمﷺ مبعوث ہوئے تو قبیلہ قریش میں صرف سترہ آدمی ایسے تھے جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے اور حضرت عمر فاروقؓ نے بھی اسی زمانہ میں لکھنا پڑھنا سیکھ لیا تھا۔ چنانچہ امیرالمومنین سیدنا حضرت عمر فاروقؓ کے فرامین، آپؓ کے خطوط، آپؓ کے خطبات اور توقیعات، اب تک سیرت اور تاریخ کی کتابوں میں محفوظ ہیں۔ جن سے آپؓ کی قوت تحریر، برجستگی کلام اور زور تحریر و تقریر کا ایک اندازہ ہوتا ہے۔ فصاحت و بلاغت کا یہ عالم تھا کہ آپؓ کے بہت سے مقولے عربی ضرب المثل بن گئے، جو آج بھی عربی ادب کی جان ہیں۔ اسی طرح آپؓ کو علم الانساب میں بھی ید طولیٰ اور کمال حاصل تھا۔
فتوحات اور طرز حکمرانی
آپؓ کے دور خلافت میں مسلمانوں کو بے مثال فتوحات اور کامیابیاں نصیب ہوئیں۔ آپؓ نے قیصر و کسریٰ کو پیوند خاک کر کے اسلام کی عظمت کا پرچم لہرانے کے علاوہ شام، مصر، عراق، جزیرہ، خوزستان، عجم، آرمینہ، آذر بائیجان، فارس، کرمان، خراسان اور مکران (بلوچستان) فتح کئے۔ آپؓ کے دور خلافت میں 3600 علاقے فتح ہوئے، 900جامع مساجد اور 4 ہزار مساجد تعمیر ہوئیں۔ حضرت سیدنا عمر فاروقؓ نے اپنے دور خلافت میں بیت المال اور عدالتیں قائم کیں، عدالتوں کے قاضی مقرر کئے۔ آپؓ نے سن ہجری تاریخ کا اجراء کیا جو آج تک جاری ہے۔ مردم شماری کرائی، نہریں کھدوائیں، شہر آباد کروائے، دریا کی پیداوار پر محصول لگایا اور محصول مقرر کئے، حربی تاجروں کو ملک میں آنے اور تجارت کرنے کی اجازت دی۔ جیل خانہ قائم کیا، راتوں کو گشت کرکے رعایا کا حال دریافت کرنے کا طریقہ نکالا۔
پولیس کا محکمہ قائم کیا۔ جابجا فوجی چھاؤنیاں قائم کیں، تنخواہیں مقرر کیں، پرچہ نویس مقرر کئے۔ مکہ معظمہ سے مدینہ منورہ تک مسافروں کیلئے مکانات تعمیر کروائے۔ گمشدہ بچوں کی پرورش کیلئے روزینے مقرر کئے۔ مختلف شہروں میں مہمان خانے تعمیر کروائے۔ مکاتب و مدارس قائم فرمائے۔ معلمین اور مدرسین کے مشاہرے مقرر کئے۔ تجارت کے گھوڑوں پر زکوٰۃ مقرر کی۔ وقف کا طریقہ ایجاد کیا، مساجد کے آئمہ کرام اور موذنوں کی تنخواہیں مقرر کیں، مساجد میں راتوں کو روشنی کا انتظام کیا۔(تاریخ اسلام، بشیر احمد تمنا، ص 133)
شہادت کی بشارت
حضرت سیدنا عمر فاروق ؓ کی شہادت کی بشارت حضور نبی مکرمﷺ نے خود دی۔ حضرت انس بن مالکؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک روز نبی کریمﷺ کوہ احد پر تشریف لے گئے۔ آپﷺ کے ساتھ حضرت ابوبکر صدیق ؓ، حضرت عمر فاروق ؓ اورعثمان غنیؓ تھے۔ ان کی موجودگی کی وجہ سے پہاڑ وجد میں آ گیا۔ آپﷺ نے اس پر اپنا قدم مبارک مارا اور فرمایا: ’’اے احد! ٹھہر جا۔ تیرے اوپر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہیدوں کے سوا اور کوئی نہیں‘‘ (صحیح بخاری، کتاب فضائل صحابۃ: 3483)
شہادت و تدفین
26 ذوالحجہ 23ھ کو آپؓ پر قاتلانہ حملہ ہوا۔ آپؓ شدید زخمی ہوگئے اور چار دن تک موت و حیات کی کشمکش میں رہے۔ آخری وقت پر آپؓ نے اپنے بیٹے حضرت عبداللہؓ سے کہا کہ حضرت عائشہ صدیقہؓ کے پاس جاؤ اور ان سے کہوکہ عمر بن خطابؓ آپؓ سے اجازت مانگتا ہے کہ اسے اپنے دونوں دوستوں کے پاس قبر کی جگہ مل جائے۔ حضرت اُم المومنینؓ نے فرمایا میں نے وہ جگہ اپنی قبر کیلئے رکھی ہوئی تھی مگر آ ج میں عمرؓ کو خود پر ترجیح دیتی ہوں کہ انہیں اس جگہ پر دفن کیا جائے۔
شانِ عمر ؓ میں حدیث نبویﷺ
حضورﷺ نے فرمایا: ’’اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمرؓ ہوتا‘‘ (جامع ترمذی)۔
حضرت سعد بن ابی وقاصؓ سے روایت ہے، حضورﷺ نے ارشاد فرمایا : اے عمرابن خطاب قسم ہے اس ذات پاک کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے جب تم کو شیطان کسی راستہ پر چلتے ہوئے دیکھتا ہے تو وہ اس راستہ کو چھوڑ کر دوسرے راستہ کو اختیار کر لیتا ہے۔ (بخاری ومسلم)
نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عمر فاروقؓ کی زبان اور ان کے دل پر حق کو جاری و قائم کر دیا ہے۔ (ترمذی)
ایک روز رحمت دو عالم ﷺ گھر سے مسجد کی طرف تشریف لے گئے اور آپﷺ کے ہمراہ دائیں بائیں ابو بکر ؓوعمرؓ بھی تھے اور آپﷺ ان دونوں کے ہاتھ پکڑے ہوئے تھے اسی حالت میں آپﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے روز ہم اسی طرح اٹھیں گے۔ (ترمذی)
حضورﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ہر نبی کے دو وزیر آسمان والوں میں سے ہوتے ہیں اور دو وزیر زمین والوں میں سے ہوتے ہیں۔ میرے دو وزیر آسمان والوں میں سے جبرائیل ؑاور میکائل ؑ ہیں اور زمین والوں میں سے دو وزیر ابو بکرؓ و عمرؓ ہیں۔ (ترمذی)