حضرت عمرؓ کا طرزِ حکمرانی، آج کی ضرورت
یومِ شہادتِ امیر المومنین ؓکے حوالے سے خصوصی تحریر
حسن اتفاق دیکھیے کہ اسلامی سال کے آغاز میں اللہ کے نام پر قربانی کی داستانیں رقم ہیں اور اسلامی سال کے آخر میں بھی قربانی کا درس موجود ہے۔تاریخ میں دو ایسے واقعات پیش آئے ہیں جن سے ہمیں معاشرتی زندگی گزارنے کی بہت ساری باتوں کا عملی درس ملتا ہے۔ پہلا واقعہ خلیفہ دوم سیدنا عمر فاروق ؓ کی شہادت جبکہ دوسرا واقعہ سیدنا امام حسین ؓ کی شہادت کا ہے۔ حضرت عمر ؓ کی زندگی کے چند ان پہلوؤں پر روشنی ڈالی جاتی ہے جن کا ہماری عملی زندگی سے بہت گہرا تعلق ہے، یہ تذکرہ اس لیے کیا جا رہا ہے تاکہ ہم بھی انہی کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کریں۔
قیامِ امن کی عملی کاوشیں
اسلام میں امن کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے آپ ؓ کے دور خلافت میں جو علاقے اسلامی سلطنت کے زیر نگیں آئے یا جو پہلے سے موجود تھے ان میں عدالتی نظام کو فعال کیا، مفتوحہ علاقوں میں بنیادی طور پر دو کام کیے جاتے وہاں کے باسیوں کو دین اسلام کی تعلیم سے آشنا کیا جاتا اور دوسرا وہاں عدالتیں قائم کر کے قیام امن اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جاتا۔ آپؓ نے قانون کے علمی ماخذ کے طور پر قرآن و سنت کے بعد قضائے صالحین کو درجہ دیا۔ اس سے ہمیں قرآن و سنت کے بعد صالحین یعنی دین کے ماہرین کے فیصلوں پر عمل کرنے کا درس ملتا ہے۔
سربراہ کا عام معیار زندگی
سربراہ کے طرز زندگی کے اثرات رعایا پر پڑتے ہیں، اگر حکمران انصاف پسند، قناعت پسند اور سادگی پسند ہو تو عوام میں ظلم و تشدد، خواہش پرستی اور فیشن پرستی جنم نہیں لیتی ۔ حضرت عمر ؓباوجودیہ کہ بہت بڑی سلطنت کے فرمانروا تھے لیکن مزاجاً سادگی اورقناعت پسندی کے خوگر تھے۔ تاریخ ایسے کئی واقعات کی شہادت دیتی ہے چنانچہ ہرمزان سلطنت اہواز کا حکمران جب قید ہو کر آیا تو اس نے دیکھا کہ آپؓ مسجد کے فرش پر لیٹے ہوئے آرام فرما رہے ہیں۔اس سے ہمیں سربراہ کے عام معیار زندگی، سادہ مزاجی اور صبر و شکر کا درس ملتا ہے۔
انسانی حقوق میں مساوات
آپ نے اسلام کی نافذ شدہ تعلیم مساوات کو مزید آگے بڑھایا چنانچہ کسی علاقے کے حاکم، گورنر بلکہ خود خلیفۃ المسلمین کو یہ اجازت نہیں تھی کہ وہ اپنے آپ کو دوسروں پر ترجیح دے جو وظیفہ بدریوں کو ملتا وہی آپؓ لیتے تھے۔ اس سے ہمیں مساوات کا درس ملتا ہے۔
حقوق نسواں کا حقیقی تصور
اسلام میں خواتین کو بہت بلند مقام حاصل ہے اور خواتین میں سب سے اہم عنصر حیا اور تقدس کا ہے۔ آپ ؓنے ان کے عزت اور حقوق کو محفوظ کرنے کیلئے حجاب کو لازمی سمجھا تو اللہ تعالیٰ نے آپؓ کی رائے کی موافقت میں قرآن کریم میں نازل فرما کر حجاب کو ضروری قراردے دیا۔ خواتین کیلئے رائے کی آزادی بھی حقوق نسواں کے ذیل میں آتی ہے چنانچہ ایک مرتبہ جب آپؓ نے دوران خطبہ خواتین کے مہنگے مہنگے حق مہر کے بارے ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا تو ایک عورت نے کہا: اے عمرؓ!آپؓ ہمارے مہروں کو کس طرح کم کرسکتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں سونے کے ڈھیر تک مہر لینے کا حق دیا ہے اور قرآن کریم سورۃ النساء کی آیت نمبر 20 بھی تلاوت کی۔ حضرت عمرؓاس پر بہت خوش ہوئے اور خاتون کو عزت بخشتے ہوئے فرمایا: مدینہ کی خواتین عمر سے زیادہ دین کی سمجھ رکھتی ہیں۔ اس سے ہمیں حجاب، آزدی اظہار رائے اور خواتین کی سماجی عزت و احترام کا درس ملتا ہے۔
مفتوحہ علاقوں کے نظم و نسق
آپؓ 22 لاکھ 51 ہزار 30 مربع میل زمین پر حکمرانی کرنے والے انصاف پرور حکمران تھے۔ اس کے باوجود آپ مفتوحہ علاقوں کی کثرت پر زور دینے کے بجائے ان کے باسیوں کی تربیت کو ترجیح دیتے۔ آپؓ نے جن علاقوں کو فتح کیا ان میں تربیتی اور تعلیمی مراکز قائم کیے، کھلی کچہریاں لگوائیں، فوری انصاف کو یقینی بنایا، عوام الناس کی شکایات کو دور کرنے کیلئے احکامات جاری کئے۔ اس سے ہمیں اپنے نظام زندگی میں نظم و نسق کا درس ملتا ہے۔
اقلیتوں سے حسن سلوک
ایسے کفار جو مسلمانوں سے نہ لڑیں اسلام ان سے حسن سلوک کی تعلیم دیتا ہے۔ حضرت عمرؓ ؓنے حمص کو حاصل کرنے کیلئے بطور سپہ سالار حضرت ابو عبیدہؓ کو مقرر فرمایا، انہوں نے اسے فتح کیا اور غیر مسلموں سے جزیہ وصول کیا لیکن جب انہیں جنگ یرموک کیلئے حمص چھوڑنا پڑا تو انہوں نے یہ کہہ کر جزیہ واپس کر دیا کہ جب ہم آپ کے جان و مال کی حفاظت کی ذمہ داری پوری نہیں کر سکتے تو ہمیں جزیہ لینے کا بھی حق نہیں۔ جب مسلمان حمص سے لوٹنے لگے تو وہاں کے غیر مسلم بھی اس عادلانہ نظام سے محروم ہونے پر رونے لگے۔
اسی طرح جب اہل ایلیا کے غیر مسلموں سے آپؓ نے معاہدہ امن کیا کہ یہ امن جو ان کو دیا جاتا ہے، ان کی جانوں، مالوں، ان کے گرجائوں اور ان کی صلیبوں، ان کے بیماروں، تندرستوں اور ان کے جملہ اہل مذاہب کیلئے ہے اور وہ یہ ہے کہ ان کے گرجا گھروں میں رہائش نہ رکھی جائے، ان کو گرایا نہ جائے، انہیں اور ان کے احاطوں کو نقصان نہ پہنچایا جائے اور نہ ہی ان پر دین کے بارے جبر کیا جائے۔اس سے ہمیں اقلیتوں سے حسن سلوک کا درس ملتا ہے۔
دیگرسماجی ورفاہی خدمات
قرآن کریم کی تعلیم کیلئے مکاتب و مدارس قائم کیے۔ قاری صاحبان اور ائمہ مساجد کی تنخواہیں مقرر فرمائیں۔ اسلامی تقویم کا آغاز ہجرت نبوی سے شروع فرمایا۔ مسجد حرام اور مسجد نبوی کی توسیع فرمائی۔ عرب و عجم کے سنگم پر مرکز علم کوفہ کو آباد فرمایا۔ دریائے نیل کو بحیرہ قلزم سے ملانے کیلئے نہر سویز کھدوائی جس کی وجہ سے نفع بخش تجارت نے فروغ پایا۔ محکمہ ڈاک قائم کیا۔ شہر کے اندرونی حالات کو درست رکھنے کیلئے محکمہ پولیس قائم کیا۔ فوج کو سرحدیں اور محاذ سپرد کیے۔ بیت المال تعمیر کرائے۔ اپاہج، معذور اور ضعیف لوگوں کے وظائف بیت المال سے مقرر فرمائے۔ مسافروں کیلئے شاہراہوں پر مسافر خانے تعمیر کرائے۔ لاوارث بچوں کے تربیتی مراکز قائم کیے۔
مورخین کے محتاط اندازے کے مطابق آپؓ کے زمانہ خلافت میں 3600 علاقے فتح ہوئے۔ 900جامع مساجد اور 4000 عام مساجد تعمیر ہوئیں۔اس سے ہمیں تعمیر وطن، خوشحالی اور ترقی، اہل علم کی قدر، مستحق افراد کی معاونت، یتیموں کی کفالت کا درس ملتا ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ اگر ہم مزاج فاروقی کو اپنائیں گے تو ہماری دنیا بھی سنور جائے گی، ترقی بھی کریں گے، ہدایت بھی عام ہو گی، ضرورت مندوں کی معاونت بھی ہو گی اور معاشرے میں انصاف بھی عام ہو گا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں مزاج فاروقی اپنانے کی توفیق دے ہمارے معاشرے کو انصاف پسند معاشرہ بنائے، آمین یارب العالمین