چین کیا سوچ رہا ہے؟
اس سوال کا جواب آسان نہیں۔ خاموش سمندر کی تہہ میں کون کون سے طوفان چھپے ہیں‘ اس کا اندازہ ساحل سے گزرنے والے کو نہیں ہو سکتا۔ امریکی اور چینی سوچ میں ایک بنیادی فرق ہے۔ امریکہ ایک ٹھاٹھیں مارتا سمندر ہے۔ چین ایک خاموش ساگر۔ امریکی قیادت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کی سوچ آنے والے چار سال کو دیکھتی ہے۔ چینی قیادت کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ پچاس برس کے تناظرمیں سوچتی ہے۔
میں چین گیا تو میرے پیشِ نظر دو سوال اہم تھے: چین پاکستان کے حوالے سے کیا سوچ رہا ہے؟ کیا وہ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں کوئی عملی کردار ادا کرنے کیلئے آمادہ ہے؟ میں نے کوشش کی کہ چند روزہ قیام میں ان سوالات کے جواب تلاش کروں۔ پاک چین تعلقات کے ضمن میں 'سی پیک‘ کی اہمیت سب سے زیادہ ہے۔ باہمی تعلقات کا ایک پہلو تو اصولی ہے۔ پاکستان چین دوستی باہمی مفادات کی جس اساس پر کھڑی ہے‘ اس میں کسی بڑی تبدیلی کا کوئی امکان نہیں۔ پاکستان میں حکومتیں تبدیل ہوں یا کوئی سیاسی طوفان آئے‘ یہ دوستی قائم رہے گی۔ تاہم واقعات گرمجوشی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس میں اضافے اور کمی کا باعث بنتے ہیں۔
سی پیک کے حوالے سے مجھے احساس ہوا کہ چین اس پر پیش رفت کے معاملے میں مطمئن نہیں۔ اسے چینیوں کی اُن جانوں کے ضیاع کا بھی افسوس ہے جو اس منصوبے کی نذر ہو گئیں۔ دہشت گردی کے چیلنج سے وہ آگاہ ہے مگر اس کا خیال ہے کہ بہتر حکمتِ عملی سے اس کے ساتھ نمٹا جا سکتا ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ بڑے مقصد کیلئے قربانیاں دینا پڑتی ہیں مگر یہ بادلِ نخواستہ دی جاتی ہیں۔ پہلی ترجیح بہرحال یہی ہونی چاہیے کہ جانوں کو بچایا جائے اور یہ ممکن ہے اگر ہم بہتر منصوبہ بندی کے ساتھ اس سے نمٹ سکیں۔ اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ چین کے اطمینان کیلئے اس منصوبے کو دہشت گردی سے محفوظ بنایا جائے اور اس کے راستے میں حائل دوسری رکاٹیں دور کی جائیں۔ ایک بڑی رکاوٹ کرپشن بھی ہے۔ ہمیں اس پر گہری نظر رکھنا ہو گی کہ یہ منصوبہ مالی اعتبار سے بھی شفاف ہو۔ پاکستانی حکومت اس بارے میں پوری کوشش کر رہی ہے جسے مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔
اس میں شبہ نہیں کہ پاکستان کی سماجی ساخت چین سے مختلف ہے۔ چین بطورِ ریاست دہشت گردی اور کرپشن سے جس طرح نمٹ سکتا ہے‘ پاکستان کیلئے ممکن نہیں۔ پاکستان ایک بند معاشرہ نہیں ہے۔ یہاں قانون کی گرفت مضبوط نہیں ہے مگر ریاست بھی اپنی قوت کو اس طرح استعمال نہیں کر سکتی ہے کہ کوئی پوچھنے والا نہ ہو۔ میڈیا بڑی حد تک آزاد ہے۔ یہاں ہر مجرم کے حمایتی موجود ہیں جو فوجداری مقدمے کو سیاسی بنا سکتے ہیں۔ یہاں مجرموں کو بآسانی عدالتوں سے ضمانت مل جاتی ہے۔ اس کے باوصف بہتری کا پورا امکان موجود ہے اور اس امکان کو دریافت کرنا اور بروئے کار لانا از بس ضروری ہے۔
چین کو پاکستان افغانستان تناؤ پر بھی تشویش ہے۔ بیجنگ میں یہ سوچ پائی جاتی ہے کہ یہ کشیدگی پاکستان کے حق میں ہے نہ افغانستان کے اور نہ ہی خطے کے۔ وہ اسے سی پیک کے حوالے سے سے بھی دیکھ رہے ہیں۔ اس منصوبے میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ اسے وسطی ایشیا تک وسعت دی جائے۔ اس کیلئے افغانستان میں امن کا ہونا ضروری ہے اور اس کے ساتھ پاک افغانستان تعلقات میں بہتری بھی لازم ہے۔ اگر یہ تناؤ اور کشیدگی باقی رہتی ہے تو پھر اس منصوبے کو پھیلانا مشکل ہو جائے گا۔ چین اس لیے چاہتا ہے کہ اس کا خاتمہ ہو اور خطہ پُرسکون ہو۔
مجھے یہ احساس ہوا کہ پاکستان کا نقطۂ نظر چینی حکام پر پوری طرح سے واضح نہیں۔ یہ بات کہ اس تناؤ میں پاکستان کا کوئی کردار نہیں‘ ہم ان کو سمجھا نہیں پائے۔ چین اس بات کو اصولی سطح پر مانتا ہے کہ ایک ملک کی سرزمین کو دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونا چاہیے لیکن افغانستان کی سرزمین جس طرح سے پاکستان میں بدامنی کیلئے استعمال ہو رہی ہے یہ بات شاید اس شدت کے ساتھ اسے بتائی یا سمجھائی نہیں جا سکی جس کا یہ معاملہ تقاضا کرتا ہے۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ یہ یکطرفہ معاملہ ہے۔ پاکستان کی طرف سے کوئی ایسا اقدام نہیں کیا گیا تھا جو طالبان کیلئے باعثِ شکایت ہوتا۔ شکایت تو پاکستان کو ہے۔ اس کا ازالہ ہونا چاہیے۔ چین اس میں کردار ادا کر سکتا ہے۔
جہاں تک مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کا تعلق ہے تو اسے ایک متبادل سکیورٹی سسٹم کی ضرورت ہے۔ موجودہ نظام جو امریکہ کی قیادت میں قائم ہوا تھا‘ وہ ناکام ہو چکا۔ خلیجی ریاستوں کو اس کا ادراک ہو چکا کہ ان کی سرزمین پر موجود امریکی اڈے ان کے کسی کام کے نہیں۔ ان پر اتنے وسائل برباد کرنے کا کوئی جواز نہیں۔ اب ایک خلا ہے جو نمایاں ہو رہا ہے۔ ان ریاستوں کو سلامتی کے ایک متبادل نظام کی ضرورت ہے۔ سعودی عرب نے سب سے پہلے اس کا ادراک کرتے ہوئے پاکستان سے دفاعی معاہدہ کر لیا ہے۔ باقی ریاستیں بھی مجبور ہیں کہ اس پر سوچیں۔ چین ایک متبادل بن سکتا ہے مگر میرا تاثر ہے کہ چین اس وقت بین الاقوامی سیاست میں کوئی عملی کردار ادا کرنے کیلئے تیار نہیں۔ وہ صورتِ حال کا جائزہ لے رہا ہے لیکن اپنی مداخلت کو صرف سفارتی سطح تک محدود رکھنا چاہتا ہے۔ اس لیے سرِ دست یہ دکھائی نہیں دیتا کہ وہ اس خطے میں کوئی متحرک یا عملی کردار ادا کرے۔ یہ چین کی اس سوچ کا تسلسل ہے جو اس نے برسوں سے اپنا رکھی ہے۔ اس کا پہلا ہدف خود کو معاشی اور دفاعی طور پر ایک ایسے مقام تک پہنچانا ہے جہاں وہ ناقابلِ تسخیر دکھائی دے‘ اس کے بعد ہی اس کا کوئی امکان پیدا ہو گا کہ وہ عملی قدم اٹھائے۔ اس لیے مشرقِ وسطیٰ کے سکیورٹی پیراڈائم میں فی الحال اس کا کوئی کردار دکھائی نہیں دیتا۔
پاکستان کو ان حالات میں ایک نئی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ اسے دیکھنا ہے کہ مستقبل قریب میں کیا وہ اپنے اس عالمی کردار کو معاشی استحکام کے بغیر نبھا سکے گا جو وہ اس وقت ادا کر رہا ہے؟ چین کا مشورہ یہ ہے کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ تعلقات اور اپنی تعمیر کو اپنی پہلی ترجیح بنائے۔ میرا خیال ہے اس رائے میں وزن ہے۔ پاکستان نے ایران اور امریکہ کو ایک مقام تک پہنچا دیا جہاں ایک معاہدہ ہو گیا۔ پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر سراہا گیا اور اس میں کیا شبہ ہے کہ اس سے پاکستان کو بہت فائدہ پہنچا۔ اب ہمیں اگلے مرحلے میں داخل ہونا ہے اور وہ ہے معاشی و سیاسی استحکام۔ چین استحکام کے اس سفر میں ایک اچھا ہم سفر ہو سکتا ہے۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ سی پیک پر ایک علاقائی سوچ کے ساتھ چین سے مذاکرات کیے جائیں۔ ہمیں چین سے سیکھنا ہے کہ صبر کے ساتھ کیسے سازگار وقت کا انتظار کرنا چاہیے۔ چین بھی ہم سے یہی توقع رکھتا ہے۔ ہمیں آنے والے حالات کو سمجھتے ہوئے ایک پالیسی بنانی ہے اور اس میں اس سوال کی بڑی اہمیت ہے کہ چین کیا سوچ رہا ہے۔ اسی سے ہم سوچ اور عمل کے ایک نئے دور میں داخل ہوں گے۔ معاہدے کے بعد جشن کا دور تمام ہوا۔ اب ہمیں زمینی حقائق کا سامنا کرنا ہے۔ سب سے بڑی حقیقت معاشی عدم استحکام ہے۔ اسی کی کوکھ سے سیاسی عدم استحکام جنم لے سکتا ہے جس کے بارے میں سرگوشیاں کی جا رہی ہیں۔