"KMK" (space) message & send to 7575

اختیار سے تھانیداری تک

پاکستان میں جو شخص بھی صاحبِ اختیار ہے وہ بادشاہ ہے اور اپنے اختیار کو قاعدے کے بجائے ذاتی پسند ناپسند کی بنیاد پر بروئے کار لاتا ہے۔ یہ اب اس کی صوابدید پر ہے کہ وہ اپنے اختیار کو کس طرح استعمال کرتا ہے۔ اختیار کو استعمال کرنے کے بنیادی طور پر دو ہی طریقے ہیں ایک یہ ہے کہ صاحبِ اختیار اپنے اس اختیار کو مخلوق کی بھلائی کیلئے‘ لوگوں کی آسانی کیلئے‘ سہولت کیلئے اور ان کو آسائش دینے کیلئے استعمال کرے۔ اختیار کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ وہ کام کو روک کر‘ اس پر اعتراض لگا کر‘ اس پر سرخ پین سے نشان لگا کر‘ اس کو داخلِ دفتر کر کے اپنے اختیار کا مظاہرہ کرے۔ اگر ان کے اختیار میں کسی بندے کو سہولت دینے کا‘ آسانی فراہم کرنے کا‘ فائدہ دینے کے ساتھ ساتھ اس کو روکنے کا اختیار بھی ہے تو وہ اپنے اختیار کو منفی طریقے سے استعمال کرنے کو ترجیح دیں گے۔ ایسے لوگوں کا خیال ہے کہ کسی کا کام کر دینا تو کوئی اختیار نہ ہوا‘ حق پر ہونے کے باوجود محض اپنی طاقت کے مظاہرے کی خاطر کام روک کر‘ بندے کو تنگ کر کے‘ اس کیلئے مشکل پیدا کر کے جو خوشی ہوتی ہے عام آدمی کیلئے اس کا اندازہ لگانا ممکن ہی نہیں۔
دنیا جہان میں چیزیں آسانیوں کی طرف جا رہی ہیں۔ حکومتیں‘ ادارے اور محکمے اجتماعی یا انفرادی حوالوں سے لوگوں کی سہولت فراہم کرنے کیلئے کام کر رہے ہیں۔ ہر آنے والا دن مخلوقِ خدا کیلئے کسی نہ کسی آسانی‘ کسی سہولت اور کسی بہتری کا پیغام لے کر طلوع ہوتا ہے لیکن ہمارے یہاں کا باوا آدم ہی نرالا ہے۔ ماضی کی اچھی بھلی چیزیں اب خرابی کی طرف گامزن ہیں۔ اختیار کا استعمال منفی سمت میں چل رہا ہے۔ کافی عرصہ ہوا میں نے ایک کالم میں لکھا تھا کہ اس قوم میں سب کو تھانیدار بننے کا شوق ہے۔ دراصل تھانیدار کسی عہدے کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ایک رویے کا‘ ایک خواہش اور ایک ذہنیت کا نام ہے۔ یہ طاقت کو اس کی بدترین شکل میں استعمال کرنے کا استعارہ ہے ہمارے یہاں المیہ یہ ہے کہ تھانے دار تو خیر سے تھانے دار ہی ہے ادھر ایس پی بھی تھانیدار بننا چاہتا ہے۔ ڈی آئی جی کی خواہش ہے کہ وہ تھانیدار بن جائے‘ حتیٰ کہ آئی جی بھی دراصل تھانیدار بننا چاہتا ہے۔ وزیراعظم تھانیدار بننا چاہتا ہے‘ صدرِ مملکت تھانیدار بننا چاہتا ہے۔ بندہ کیا کہے‘ جج حضرات بھی تھانیدار بننا چاہتے ہیں۔ انصاف فراہم کرنا ان کی بنیادی ذمہ داری ہے لیکن ماضی میں کئی چیف جسٹس ایسے گزرے ہیں جن کو لوگوں کی تحقیر کر کے‘ افسروں کو ذلیل کر کے اور باعزت لوگوں کی بے عزتی کر کے مزہ آتا تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ طاقت کا استعمال یہی ہے کہ عدالت میں کسی بڑے افسر کو ڈرایا جائے‘ کسی پھنے خان کو ذلیل کیا جائے‘ کسی تگڑے بندے کی عدالت میں ڈانٹ ڈپٹ کی جائے‘ کسی کی پیٹی اتارنے کی دھمکی دی جائے اور کسی کو اندر کرنے کا ڈراوا دیا جائے۔ کسی بھی شخص کا یہ رویہ تھانیدار بننے کے شوقین ہونے کی نشاندہی کرتا ہے۔ میں عام طور پر کالم کو ذاتی سہولت یا تنگی ہر دو صورت میں کس طرح بھی استعمال کرنے کا قائل نہیں ہوں لیکن جب میں ایک عام شہری کے طور پر اس اجتماعی تکلیف کا شکار ہوتا ہوں جس سے مخلوقِ خدا گزر رہی ہے تو اس پر لکھنا اپنی ذات کے استعارے کے ساتھ اجتماعی طور پر ساری کمیونٹی‘ پوری سوسائٹی ‘ عام شہریوں اور متاثر ہونے والے سینکڑوں ہزاروں لوگوں کی نمائندگی کے طور پر لکھنا ہے۔
جب آپ ملتان ایئرپورٹ کی طرف جا رہے ہوں تو ایئرپورٹ سے تقریباً ایک ڈیڑھ کلو میٹر پہلے ایک دو رویہ سڑک تھی جس پر ایک سائیڈ سے ٹریفک جاتی تھی اور دوسری سائیڈ سے آتی تھی۔ جب سے نیا ایئرپورٹ بنا ہے یہ ٹریفک اسی طرح چل رہی تھی لیکن شہر سے ایئرپورٹ کی جانب جانے والا راستہ اچانک اور بلاوجہ گزشتہ کچھ ماہ سے بند کر دیا گیا ہے۔ اس بندش کے پیچھے کئی کہانیاں ہیں اور سینہ بہ سینہ چلنے والی افواہیں ہیں۔ مجھے نہ کہانیوں سے غرض ہے نہ افواہوں سے کچھ سروکار ہے مجھے تو اس بات سے غرض ہے کہ اس دو رویہ سڑک میں سے شہر سے ایئرپورٹ جانے والی سڑک کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے‘ اب ایئرپورٹ جانے کیلئے بھی آپ کو وہی راستہ استعمال کرنا ہے جو کبھی صرف واپس آنے والوں کیلئے مخصوص تھا۔ اب جو سڑک جانے کیلئے ہے وہی سڑک آنے کیلئے بھی استعمال ہو رہی ہے۔
ایئرپورٹ پر جب بیک وقت دو یا تین انٹرنیشنل فلائٹس آ جائیں تو عجب گھڑمس مچ جاتا ہے۔ ہمارا چیکنگ کا نظام خیر سے نہایت فرسودہ اور متروک قسم کا ہے جو دنیا بھر میں اور کہیں نہیں پایا جاتا۔ داخلی گیٹ پر شناختی کارڈ چیک کیا جاتا ہے۔ کسی حاجی کو لینے کیلئے اگر ڈیرہ غازی خان‘ مظفر گڑھ یا تونسہ وغیرہ سے کسی ویگن میں دس بارہ لوگ آ جائیں تو ان سب کو پہلے تو ویگن سے اتارا جاتا ہے پھر پوری ویگن کی تلاشی لی جاتی ہے اور اس دوران پیچھے سے آنے والی ساری ٹریفک رک جاتی ہے۔ بعض اوقات منتظر لوگوں کی ایئرپورٹ میں داخل ہونے والی گاڑیوں کی اتنی لمبی قطار لگ جاتی ہے کہ ایئرپورٹ سے باہر نکلنے والا دروازہ عملی طور پر بند ہو جاتا ہے اور وہاں سے گاڑیوں کو باہر نکلنے کا راستہ نہیں ملتا۔ جبکہ جو سڑک عام لوگوں کیلئے ممنوع کی گئی ہے وہ بالکل خالی اور سنسان پڑی ہوتی ہے جس پر نہ چرند‘ نہ پرند‘ نہ انسان‘ نہ حیوان اور نہ ہی کوئی گاڑی ہوتی ہے۔ سڑک بالکل صاف اور خالی پڑی ہوتی ہے لیکن کوئی عام آدمی ادھر نہیں جا سکتا۔ ہاں خاص علاقے کے رہائشیوں کی بات الگ ہے۔
یہ مسافر کم و بیش آدھی دنیا گھوم چکا ہے اس میں نائن الیون سے پہلے اور بعد ہر دوطرح کے سفر شامل ہیں۔ لیکن دنیا جہاں بلکہ پاکستان کے دیگر بین الاقوامی ایئرپورٹس پر سکیورٹی کے نام پر مسافروں کو اس طرح خوار نہیں کیا جاتا جیسا کہ صرف ملتان میں کیا جا رہا ہے۔ پاکستان کے تقریباً تمام ایئرپورٹس پر مسافروں کو اتارنے کیلئے ڈراپ لین موجود ہوتی ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ جو لوگ صرف کسی مسافر کو رخصت کرنے آئے ہوں‘ وہ گاڑی روک کر مسافر کو اتاریں اور فوراً روانہ ہو جائیں‘ یوں پارکنگ استعمال کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ملتان ایئرپورٹ پر بھی یہ سہولت برسوں سے موجود تھی اور جو شخص صرف مسافر کو اتارنا چاہتا ہو‘ اس کیلئے طریقہ نہایت آسان تھا: گاڑی روکی‘ مسافر اترا اور گاڑی آگے بڑھ گئی۔ دنیا بھر کے ہوائی اڈوں پر یہی نظام رائج ہے۔ مگر ملتان میں صورتحال مختلف ہے۔ یہاں متعلقہ حکام نے ڈراپ لین ہی سرے سے بند کر دی ہے۔ گزشتہ چار سے پانچ ماہ سے یہی صورتحال ہے کہ اب ہر شخص کو گاڑی پارکنگ میں کھڑی کرنی پڑتی ہے‘ پھر ٹرالی کے ساتھ کافی فاصلہ طے کرتے ہوئے ڈیپارچر لاؤنج تک جانا پڑتا ہے۔ اس فیصلے نے عام مسافروں کے ساتھ معذور افراد کیلئے بھی مشکلات بڑھا دی ہیں۔ اگر اس پابندی کی وجہ سکیورٹی ہے تو پھر یہی اصول ملک کے تمام ایئرپورٹس پر لاگو ہونا چاہیے کیونکہ سکیورٹی کے حالات مجموعی طور پر کم و بیش یکساں ہیں۔ بلکہ جنوبی پنجاب اور خصوصاً ملتان نسبتاً پُرامن علاقہ ہے۔ ڈراپ لین کے حوالے سے باقاعدہ ایس او پیز بھی موجود ہیں جن میں ڈراپ لین کی سہولت باقاعدہ موجود ہے تاہم بدقسمتی سے ہمارے ہاں اختیار بعد ازاں بادشاہ معظم اور تھانیداری کا روپ دھار لیتا ہے۔ ملتان میں بھی یہ یہی ہوا ہے‘ جہاں سہولت پر اختیار اور قواعد پر تھانے داری غالب آ گئی ہے مگر اکیلے ملتان ایئرپورٹ کو کیا روئیں ؟ ادھر ہر طرف یہی حال ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں