آزاد کشمیر انتخابات میں تاخیر کا مطالبہ
پیپلزپارٹی کی حکومت نے کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے دو مرکزی کور اراکین کے خلاف بغاوت کی کارروائی کے احکامات جاری کر دئیے ہیں۔
محکمہ داخلہ آزادکشمیر کے مطابق بغاوت کی کارروائی کے لیے شوکت نواز میر سکنہ بینک روڈ مظفرآباد اور مہران ارشد خواجہ سکنہ ڈڈیال میرپور کو نامزد کیا گیا ہے۔دونوں ملزمان نے اپنی تقاریر، تحریری مواد، ویڈیو، آڈیوز کے ذریعے بغاوت کا ارتکاب کیا۔حکومت نے دستیاب ریکارڈ کا ضابطہ فوجداری کی دفعہ 196 کے تحت جائزہ لینے کے لیے میرپور اور مظفرآباد کے ایس ایس پیز کو ہدایات جاری کر دی ہیں۔ اس دوران جب پیپلزپارٹی کی حکومت جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کے بعد اس کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہے 14 جون کو اسلام آباد میں پیپلز پارٹی آزادکشمیر کے صدر چوہدری محمد یاسین نے سینئر پارٹی رہنماؤں اور کابینہ اراکین کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ مہاجرین مقبوضہ جموں و کشمیر مقیم پاکستان کی بارہ نشستوں کے تنازع کے باعث 27 جولائی کو ہونے والے انتخابات مؤخر کئے جائیں۔پارٹی کی کور کمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چوہدری محمد یاسین نے کہا کہ موجودہ حالات میں ریاست کو بچانا سب سے بڑی ترجیح ہے، الیکشن کمیشن انتخابی شیڈول واپس لے۔ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں دشمن قوتیں خصوصاً بھارت صورتحال سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
چوہدری محمد یاسین نے اس بات پر زور دیا کہ مسائل کا حل مذاکرات، سیاسی اتفاقِ رائے اور جمہوری عمل میں مضمر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست اس وقت سنگین مشکلات اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے اور علاقے میں اشیائے خور و نوش کی بھی قلت پیدا ہو رہی ہے۔پریس کانفرنس میں چوہدری محمد یاسین کے علاوہ سابق صدر اور وزیراعظم سردار یعقوب خان،سیکرٹری اطلاعات جاوید ایوب، سینئر وزیر میاں وحید اور دیگر رہنما موجود تھے۔اس موقع پر سینئر وزیر میاں وحید کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں ریاست کو بچانا سب سے اہم ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ تمام فریقین فوری مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کریں،حالات کو مزید خراب نہیں ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات کے باوجود ریاستی مفاد کو مقدم رکھا جائے، تمام سیاسی جماعتیں اور عوام ایک ہی مقصد کے لیے متحد ہیں کہ موجودہ بحران کا حل صرف مذاکرات، افہام و تفہیم اور مشاورت میں ہے۔ تمام فریقین بیٹھ کر مسئلے کا قابلِ قبول حل نکالیں اورانتخابات مؤخر ہونے چاہئیں۔
تاہم مسلم لیگ (ن)نے پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی جانب سے انتخابات ملتوی کئے جانے کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئین اور قانون کی رو سے موجودہ اسمبلی کی مدت تین اگست کو مکمل ہو جائے گی اور الیکشن کمیشن کے شیڈول کے مطابق 27 جولائی سے انتخابات کو مزید آگے بڑھانے کی گنجائش نہیں۔ مسلم لیگ (ن)آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر کا کہنا تھا کہ جنگوں کے دوران بھی انتخابات کا انعقاد ہوتا ہے، اگر انتخابات ملتوی کیے گئے تو یہ خطے میں جمہوریت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو گا۔آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن کی جانب سے بھی ایک بیان میں کہا گیا کہ آزاد جموں و کشمیر عبوری آئین 1974 کے آرٹیکل(4) 22 کے تحت قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات اسمبلی کی آئینی مدت کے اختتام سے قبل 60 روز کے اندر منعقد ہونا لازمی ہیں۔
تجزیہ نگاروں کے مطابق کا لعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے 35 مطالبات میں سے 28 تسلیم کرلیے گئے اور مہاجرین مقبوضہ جموں وکشمیر مقیم پاکستان کی 12 نشستوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کمیٹی کے مطالبات کی فہرست میں 35 ویں نمبر سے اچانک پہلے نمبر پر آ گیا۔ آزاد جموں و کشمیر کے سیاسی حلقوں میں یہ سمجھا جارہا ہے کہ اس کے پیچھے مخصوص سیاسی عزائم ہو سکتے ہیں اور حکمران جماعت کالعدم ایکشن کمیٹی کے احتجاج کو جواز بنانا چاہتی ہے کہ علاقے میں انتخابات کے لیے حالات ساز گار نہیں۔ اس طرح الیکشن ملتوی ہونے سے اسے مزید ایک سال تک اقتدار کو طول دینے کا موقع مل سکتا ہے۔لیکن کا لعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے راولاکوٹ احتجاج کے دوران حکومت مظفرآباد سے اچانک غائب ہوگئی اور کشمیر ہاؤس اسلام آباد میں ڈیرے ڈال دیے۔ کا لعدم جماعت کی طرف سے ہڑتال، احتجاجی مارچ اور شٹر ڈاؤن کے اعلان کے بعد حکومت کو دارالحکومت مظفرآباد میں ہوناچاہیے تھا لیکن حکومت اس کوشش میں ہے کہ اس بے چینی کی وجہ سے الیکشن چند ماہ آگے ہو جائیں۔ پیپلزپارٹی کو شاید اس کا بھی احساس ہے کہ اسے مقبوضہ جموں و کشمیر کے مہاجرین کی بارہ نشستوں میں سے صرف ایک کراچی کی نشست مل سکتی ہے، پنجاب میں مہاجرین مقبوضہ جموں و کشمیر کی10 نشستوں میں سے کوئی نشست جیتنا پیپلز پارٹی کے لیے مشکل ہو گا۔شایدیہی وجہ ہے کہ وہ بھی مہاجرین کی نشستوں کے خاتمے کے حق میں ہے۔
بعض سیاسی حلقوں کا تو یہ بھی خیال ہے کہ گلگت بلتستان میں پیپلزپارٹی کی جیت کے بعد آزاد جموں و کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کو اکثریت حاصل ہو سکتی ہے۔ آزاد جموں و کشمیر کے موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے (ن) لیگ کی طرف عوام کا جھکاؤ بڑھتا ہوا معلوم ہوتاہے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وفاق اور پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہے۔ ماضی میں آزاد جموں و کشمیر کے رائے دہندگان اسلام آباد میں بر سر اقتدار جماعتوں کے امیدواروں کو ووٹ دے کر اسمبلی میں پہنچانے کا ریکارڈ رکھتے ہیں۔ شاید آنے والے انتخابات میں پیپلزپارٹی کو مقتدرہ کی جانب سے بھی ویسی حمایت نہ مل سکے جو نو مبر 2025ء میں چوہدری انوار الحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے بعد پیپلز پارٹی کا وزیر اعظم بنا کر دی گئی تھی۔