پنجاب بجٹ وعدوں پر عمل ہو پائے گا؟
امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے لیے سوئٹزر لینڈ کے مقام برگن سٹاک میں کل بروز جمعہ تقریب منعقد ہو رہی ہے۔
مذکورہ تقریب کی میزبانی پاکستان کر رہا ہے اور دنیا کی نظر یں اسی جانب ہیں۔ سفارتی محاذ پر ہونے والی اس بڑی پیش رفت پر جہاں دنیاپاکستان کے کردار کو سراہتی نظر آ رہی ہے وہیں ملکی سطح پر بھی سیاسی اور عوامی حلقے شاداں و فرحاں ہیں۔ وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کے نتیجے میں آنے والے معاشی استحکام کے ثمرات پاکستان تک پہنچیں گے۔ خدا کرے ایسا ہی ہو۔بہرکیف قومی سیاست میں یہ ایک خوش آئند امر ہے کہ سیاسی قیادت نے پاکستان کے اس کردار پر نہ صرف اطمینان کا اظہار کیا ہے بلکہ اس ضمن میں حکومت اور ریاست کی حکمت عملی اورکوششوں کی بھر پور تعریف کی ہے۔ ادھرمنگل کے روز وزیر داخلہ محسن نقوی جماعت اسلامی کے ہیڈ کوارٹر منصورہ گئے جہاں انہوں نے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن سے ملاقات کی۔ تقریباً ایک گھنٹہ کی اس ملاقات میں وزیر داخلہ نے امیر جماعت اسلامی کو امریکہ ایران مفاہمتی عمل میں وزیراعظم شہبازشریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کوششوں سے آگاہ کیا۔ ملاقات میں ایران پر ہونے والی جارحیت، اس کے اثرات اور بعد ازاں اس کی لیڈر شپ کے ذمہ دارانہ کردار پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ مذکورہ ملاقات کو اس حوالے سے خوش آئند قرار دیا جا سکتا ہے کہ حکومت اہم قومی ایشوز پر سیاسی قیادتوں کو اعتماد میں لینے کی روش اختیار کرے تو اس سے ملکی مفادات کے حوالے سے سیاسی محاذ پر ساز گار فضا بن سکتی ہے جو ملک کو سیاسی استحکام سے ہمکنار کر سکے گی۔ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی حوالے سے خود انحصاری کی منزل پر نہیں پہنچا جا سکتا۔
ریاستی معاملات میں بجٹ کسی بھی حکومت کیلئے آمدنی اور اخراجات کی تفصیل ہی نہیں ایک سنجیدہ اور اہم پالیسی دستاویز ہوتا ہے جن کے ذریعہ حکومت اپنی معاشی ترجیحات کے تعین کے ساتھ ترقیاتی منصوبوں اور عوامی فلاحی اہداف کا تعین کرتی ہے۔ اپوزیشن کا فرض ہوتا ہے کہ وہ بجٹ کا جائزہ لیتے ہوئے اس حوالے سے اپنا نقطہ نظر پیش کرے اور جن حکومتی اہداف یا ترقیاتی سکیموں پر اس کے تحفظات ہوں ان پر اپنی تجاویز پیش کرے۔ مگر ہمارے ہاں اس حوالے سے کوئی عمدہ روایات نہیں پائی جاتی۔ ہر اپوزیشن بجٹ کو ’’ اعداد و شمار کا گورکھ دھندہ‘‘ قرار دیتی ہے اور’’ عوام دشمن ‘‘قرار دے کر اسے یکسر مسترد کردیتی ہے، جس سے وہ اپنی پارلیمانی و سیاسی ذمہ داریوں سے بھی انحراف کی مرتکب ہوتی ہے۔ پنجاب میں بھی اپوزیشن نے قومی اسمبلی کی طرز پر احتجاج کا آپشن استعمال کیا، نعرے بازی کی اور روایتی ہنگامہ کے ذریعہ بجٹ جیسی سنجیدہ دستاویز میں عدم دلچسپی ظاہر کی۔ جہاں تک پنجاب کے بجٹ کا سوال ہے تو پنجاب کا ترقیاتی بجٹ 1450سے کم کرکے 752ارب کر دیا گیا ہے۔ پنجاب نے اپنے ترقیاتی بجٹ کا بڑا حصہ وفاق کے اخراجات کے مد میں رضاکار دے دیا ہے،مگر اس کے اثرات مختلف شعبہ جات اور جاری ترقیاتی سکیموں اور دیگر معاملات پر پڑیں گے۔ پنجاب حکومت نے وفاقی حکومت کی پیروی میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں تو سات فیصد کا اضافہ کیا لیکن یہاں پنشنرز کی پنشن میں سات فیصد کی بجائے ساڑھے تین فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے جس پر عام رائے یہ ہے کہ اچھا ہوتا کہ تنخواہ دار طبقات کی طرز پر پنشنرز کی پنشن میں بھی وفاق کے مساوی اضافہ کیا جاتا۔
پنجاب کے بجٹ میں روایتی ترقیاتی اخراجات کے ساتھ ڈیجیٹل گورننس اور جدید معیشت کے تقاضوں کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے جو ایک خوش آئند عمل ہے۔ حکومت کے مطابق بجٹ میں نئے ٹیکس عائد کئے بغیر ترقیاتی عمل اور عوامی سہولتوں میں اضافہ ممکن بنایا جائے گا۔ بجٹ میں حکومت نے انسانی وسائل، ٹیکنالوجی، ہنر مندی اور ڈیجیٹل معیشت پر بھی توجہ دی ہے۔ بجٹ میں پنجاب کے اہم شہروں میں شہری سہولتوں کی فراہمی کے لیے خطیر رقم رکھی گئی ہے۔ فیصل آباداورگوجرانوالہ میں ماس ٹرانزٹ منصوبے، تحصیل سطح تک الیکٹرک بسوں کی فراہمی،یہ منصوبے نہ صرف شہری زندگی کو بہتر بنانے میں مدد گار ثابت ہو ۔ زرعی شعبہ پنجاب میں نہایت اہمیت کا حامل ہے اس کیلئے کسان کارڈ، گرین ٹریکٹرز پروگرام، نہری نظام کی ترقی اور آبپاشی کے منصوبوں کیلئے خطیر رقم مختص کرنا خوش آئند ہے۔ جدید زرعی مشینری اور پانی کی فراہمی پر حکومتی پیداوار بڑھانے سے دیہی معیشت کو بھی تقویت ملے گی۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نوجوانوں کے مسائل بارے سنجیدگی ظاہر کرتی نظر آتی ہے لیکن نوجوانوں کو قومی ترقی کا حصہ بنانے کیلئے انہیں معیاری تعلیم اور ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے اور ان کیلئے روزگار کی فراہمی کا عمل بھی ناگزیر ہے۔ حکومت کونوجوانوں کی فلاح اور ترقی پر مزید اخراجات کی گنجائش پیدا کرنی چاہئے۔
کامیاب بجٹ وہی ہوتا ہے جو صرف اعداد و شمار تک محدود نہ رہے بلکہ اس پر مؤثر عمل درآمد بھی نظر آئے۔ اس لئے بجٹ کو پارلیمانی جمہوریت کا ایک بنیادی اور نہایت سنجیدہ عمل سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس کے اثرات پورا سال ملکی معیشت اور عوامی زندگی پر مرتب ہوتے ہیں اور عوامی ریلیف، سرمایہ کاری میں اضافہ اور کاروباری سرگرمیاں بجٹ کی کامیابی کا اصل پیمانہ ہوتی ہیں جو معاشی استحکام کا ذریعہ بنتی ہیں۔پنجاب کے بجٹ میں تعلیم اور صحت کے شعبہ جات کو ترجیح دی گئی ہے لیکن مجموعی ترقیاتی بجٹ میں 40فیصد تک کی کمی کا اثر ان شعبوں پر بھی پڑے گا۔ صحت کے ترقیاتی بجٹ میں کمی اورتعلیم کے شعبہ میں مطلوبہ فنڈز کی عدم فراہمی اچھا تاثر نہیں دیتی۔پنجاب میں بڑے منصوبوں کو جاری رکھا گیا ہے تاہم ان کی تکمیل کیلئے وسائل کی فراہمی کسی چیلنج سے کم نہیں ہو گی اور بڑا سوال یہی نظر آتا ہے کہ کیا وسائل کی کمی کے باوجود منصوبوں کی تکمیل کی شرح اور معیار برقرار رکھا جا سکے گا؟ اور اگر گزشتہ سال کی طرح فنڈز خرچ نہ ہوئے اور پنجاب حکومت صوبہ بھر میں ترقیاتی عمل میں اپنا بھرپور کردار ادا نہ کر پائی تو یہ بجٹ حکومتی مجموعی کارکردگی کو متاثر کرے گا۔ اب تک دیکھا جائے تو پنجاب حکومت عوام کیلئے کچھ کرنے کا عزم ظاہر کرتی ہے لیکن آنے والے مالی سال کے دوران مالی وسائل اور ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے چیلنجز درپیش ہوسکتے ہیں۔ مالی سال 2026-27ء میں حکومت کی کامیابی کا انحصار انتظامی صلاحیتوں اور اضافی محصولات کی وصولی پر ہوگا۔