ماہ محرم الحرام اور اتحادِ امت

تحریر : صاحبزادہ ذیشان کلیم معصومی


کائنات کا نظامِ وقت الٰہی حکمتوں کا ایک ایسا سرمدی تسلسل ہے جہاں دن، رات اور مہینے محض ہندسوں کا ہیر پھیر نہیں بلکہ اپنے دامن میں تجلیات ربانی، عبرت و موعظت اور حیاتِ نو کے لازوال ابواب سمیٹے ہوئے ہیں۔ جب ہجری سال کا ہلال اپنی پہلی شرمیلی نمائش کے ساتھ آسمانِ دنیا پر نمودار ہوتا ہے، تو وہ کائنات کو محرم الحرام کا پیغام دیتا ہے۔

 ایک ایسا مکرّم مہینہ جو صرف اسلامی تقویم کا نقطہ آغاز ہی نہیں، بلکہ تقدس، عدل، ایثار اور حریتِ فکر کی ایک پوری کائنات کا امین ہے۔ یہ ماہِ منور جہاں اسلام کی شوکت رفتہ، تاریخِ انبیاء کی الٰہیاتی فتوحات اور نصرتِ باری تعالیٰ کا گواہ ہے، وہاں یہ عزمِ فاروقی کی سرخی اور رفقائے حسینی کے خونِ پاک سے مزین ایک ایسا گلدستہ بھی ہے جس کی خوشبو چودہ صدیوں سے سسکتی ہوئی انسانیت کو جراتِ رندانہ کا حوصلہ دے رہی ہے۔

معتبر روایات اور استنادِ شریعت کے زاویے سے اس مہینے کی فضیلت کسی انسانی فکر کی مرہونِ منت نہیں بلکہ اذنِ الٰہی سے مبرہن ہے۔ قرآن مجید نے کائنات کی تخلیق کے پہلے دن سے ہی جن چار مہینوں کو خصوصی حرمت کا تاج پہنایا، ان میں محرم الحرام کو ایک ممتاز انفرادیت حاصل ہے۔ احادیث مبارکہ کے مستند اور روشن مصادر میں اس مہینے کی نسبت براہِ راست باری تعالیٰ کی طرف کرتے ہوئے اسے ’’شہرُ اللہ‘‘ یعنی اللہ کا مہینہ قرار دیا گیا اور رمضان المبارک کے بعد اس کے روزوں کو سب سے افضل ٹھہرایا گیا، جو اس کی غایت درجہ برکت اور روحانی پاکیزگی پر دلالت کرتا ہے۔ 

تاریخ کے جھروکوں میں جھانکیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہجری کیلنڈر کی ابتدا امیر المؤمنین سیدنا عمر فاروق ؓ کی فکری بصیرت کا وہ شاہکار تھی جس نے واقعہ ہجرت کو اساس اور نکتہ آغاز مان کر حق اور باطل کے درمیان ایک حتمی لکیر کھینچ دی، اور حج کی ادائیگی سے فراغت کے بعد انسانوں کی اپنے گھروں کو واپسی کے فطری سفر کو نئے سال کے آغاز سے جوڑ دیا۔

دسویں محرم الحرام یعنی یومِ عاشورا کی اہمیت کائناتی تاریخ کے ماتھے کا جھومر ہے۔ یہ وہ الہامی دن ہے جس میں سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کو فرعون کے استبداد سے نجات ملی، کشتیِ نوح نے پہاڑ پر لنگر انداز ہو کر طوفان کے تھمنے کا مژدہ سنایا اور متعدد انبیائے کرام کی دعاؤں کو بارگاہِ الٰہی میں شرفِ قبولیت حاصل ہوا۔ اسلام نے اس دن کو شکرانے اور عبادت کے روزے سے منور کیا، جہاں نویں اور دسویں محرم کا روزہ یہود کی مشابہت سے بچتے ہوئے روح کی بالیدگی کا ذریعہ بنتا ہے، اور اہل و عیال پر کھانے پینے میں وسعت و سخاوت پورے سال کے رزق میں برکت کی نوید بن کر آتی ہے۔

تاریخ اسلام کے افق پر یہ مہینہ دو ایسے عظیم الشان واقعات کا امین ہے جو دلوں کو دہلا دینے کے ساتھ ساتھ ایمان کو جلا بخشتے ہیں۔ یکم محرم الحرام کو مرادِ رسول، ثانیِ خلیفہ راشد، سیدنا عمر بن خطاب ؓ نے اپنی عدل پرور خلافت کی بساط کو شہادت کے سرخ جوڑے میں سمیٹ کر روضہ رسولﷺ میں ابدی آرام پایا، جو اسلامی نظامِ عدل کی استقامت کا استعارہ بنا۔ اسی ماہ کی دسویں تاریخ کو میدانِ کربلا میں نواسہ رسول، جگر گوشہ فاطمہ، سید الشہداء حضرت امام حسین ؓ نے اپنے 72 نفوسِ قدسیہ کے ساتھ ملوکیت اور ظلم کے خلاف جرات و صبوری کی وہ لازوال داستان رقم کی جس نے ہمیشہ کیلئے اخلاقی اصولوں اور اعلیٰ اقدار کو استحکام بخشا۔ حالت سجدہ میں امامِ عالی مقامؓ کا آخری سانس تا قیامت انسانیت کو یہ درس دے گیا کہ سر کٹایا تو جا سکتا ہے مگر باطل کے سامنے جھکایا نہیں جا سکتا۔

دیانت علمی اور فکری راستی کا ناگزیر تقاضا ہے کہ ہم اس مہینے کو صوفیاء اور اسلافِ صالحین کے بتائے ہوئے راستے پر گزاریں، جہاں کثرتِ استغفار، درود شریف کا ورد، شہدائے کربلا اور تمام اکابرین اسلام کیلئے ایصالِ ثواب اور ان کے ایمان افروز احوالِ زندگی کا تذکرہ ہمارے شب و روز کا حصہ ہو۔ آج کے دور کا سب سے بڑا تقاضا بین المسالک ہم آہنگی، اتحادِ امت اور باہمی رواداری ہے، تاکہ تمام مکاتب فکر مل کر اس ماہ کی اصل روح یعنی امن، بھائی چارہ اور ظلم کے خلاف یکجہتی کے پیغام کو عام کریں۔ محرم الحرام محض ایک تاریخی یادگار نہیں، بلکہ ایک ابدی درسگاہ ہے جو ہمیں عزمِ فاروقی سے جینا اور جذبہ حسینی سے حق کی خاطر مٹنا سکھاتی ہے۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

عظمت محرم اور درسِ صبر و استقامت

’’رمضان کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینے محرم میں ہیں‘‘ (صحیح مسلم) عاشورا کے روزہ سے گزشتہ ایک سال کے (صغیرہ) گناہوں کا کفارہ ہو جاتا ہے(صحیح مسلم)یہ مہینہ اُمت کو وقت کی قدر، قربانی کی عظمت اور حق کیلئے استقامت کی تعلیم دیتا ہے

محبت ِ اہل بیت:ایمان کی روح، دل کا سکون

جس نے فاطمہؓ کو خفا کیا، اس نے مجھے خفا کیا(حدیث مبارکہ) رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’حسینؓ مجھ سے ہے اور میں حسینؓ سے ہوں‘‘ (جامع ترمذی)

اختلاف نہیں، اتحاد: اسلام کا پیغام

’’تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور تفرقے میں نہ پڑو‘‘ (آل عمران)

اسلامی سالِ نو ماضی کا جائزہ، مستقبل کا عزم

یہ مہینہ ہمیں انفرادی اصلاح کے ساتھ ساتھ اجتماعی فلاح کا پیغام بھی دیتا ہے

مسائل اور ان کا حل

تاحیات رہنے کی شرط پرمکان وقف کرنا سوال : میں اپنا ذاتی مکان ایک مدرسہ کووقف کرنا چاہتا ہوں۔ میری شرط یہ ہے کہ جب تک میں حیات ہوں میں اسی میں رہوں گا اور اسی طرح جب تک میراسب سے چھوٹا بیٹا جاوید شاہ حیات ہے وہ بھی اس میں رہے گا۔

بڑی کامیابیاں مگر سیاسی تبدیلیوں کی بازگشت

وفاقی بجٹ پیش ہو چکا ہے اور آئندہ چند روز میں اس کی پارلیمانی منظوری بھی ہو جائے گی مگر بجٹ کے فوری بعد وفاقی دارالحکومت کے سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیوں نے جنم لینا شروع کر دیا ہے۔