بجٹ پیش ہونے کے بعد قومی اسمبلی اور سینیٹ کی فنانس کمیٹیوں کے اجلاس شروع ہوئے تاکہ پارلیمانی کمیٹیوں کے ارکان منظوری سے پہلے اس کا جائزہ لے سکیں۔ اگر بجٹ میں کوئی خامی رہ گئی ہو یا کہیں کوئی زیادتی ہو رہی ہو تو اسے پوائنٹ آؤٹ کیا جائے اور بجٹ دستاویزات سے ہٹایا جائے۔ اتفاق کی بات کہ سینیٹ اور قومی اسمبلی کی فنانس کمیٹیوں کے چیئرمین اس وقت پیپلز پارٹی کے دو سابق وزرا ہیں۔ سینیٹ کمیٹی کے سربراہ سلیم مانڈوی والا جبکہ قومی اسمبلی کی کمیٹی کے چیئرمین نوید قمر ہیں۔ دونوں انتہائی سمجھدار اور قابل پارلیمنٹرین سمجھے جاتے ہیں اور بلاشبہ دونوں اس ذمہ داری کو بخوبی نبھا رہے ہیں۔ میں اکثر ان کمیٹیوں کے اجلاس میں جاتا رہتا ہوں لہٰذا ان کے کام کا کچھ اندازہ ہے۔ ان کمیٹیوں کے ارکان بھی اہم اور قابل لوگ ہیں اور ہر جماعت نے چن کر انہیں یہاں بھیجا ہے۔
نئے بجٹ میں سوشل میڈیا انفلوئنسرز‘ وِی لاگرز یا انٹرنیٹ کے ذریعے ڈالر کمانے والوں پر ٹیکس کی شرح پانچ فیصد کر دی گئی ہے۔ سب کہیں گے کہ اگر یہ لوگ لاکھوں ڈالر کما رہے ہیں تو پانچ فیصد ٹیکس دینے میں کیا مسئلہ ہے؟ جب یہ معاملہ سینیٹ کی فنانس کمیٹی میں آیا تو سلیم مانڈوی والا نے وہاں موجود صحافیوں سے پوچھا کہ کسی کو اعتراض ہے؟ وہاں اخبار کے دو رپورٹرز نے کہا کہ انہیں اعتراض نہیں‘ آپ پانچ فیصد ٹیکس لگا دیں‘ اور یوں انہوں نے منظوری دے دی۔ میں اُس دن اجلاس میں موجود نہیں تھا۔ اگلے دن پھر اجلاس تھا تو میں بھی گیا۔ سلیم مانڈوی والا صاحب مجھے یہ بات بتانے لگے تو میں نے کہا کہ آپ کو اس ٹیکس میں اضافے کو مسترد کرنا چاہیے تھا۔ کہنے لگے: آپ کے دو تین صحافی تو کہہ رہے تھے کہ اسے ختم نہ کریں‘ اس لیے ہم نے منظور کر لیا۔ میں نے کہا: سر جی! پہلے آپ کتنی پالیسیاں صحافیوں کے کہنے پر بناتے ہیں کہ اب ٹیکس بھی صحافیوں سے پوچھ کر بڑھا دیا ہے؟ دوسری بات یہ ہے کہ یہاں جو رپورٹر آتے ہیں وہ اکثر اخباری یا ٹی وی کے نامہ نگار ہوتے ہیں‘ ان میں سے کوئی بھی وی لاگر یا سوشل میڈیا انفلوئنسر نہیں۔ ان کی بلا سے آپ سو فیصد ٹیکس لگا دیں‘ انہیں کیا فرق پڑنا ہے؟ آپ کو خود دیکھنا چاہیے کہ آیا یہ ٹیکس جائز ہے یا نہیں۔ پہلے شاید ایک فیصد ٹیکس ملک میں آنے والے ان ڈالروں پر کٹ رہا تھا‘ وہی رہنے دیں۔ میں نے کہا: عجیب بات ہے کہ جو پاکستانی اپنی محنت سے سوشل میڈیا پر ڈالر کما کر پاکستان لا رہے ہیں ان پر یہ ٹیکس لگ رہا ہے لیکن دوسری طرف حکومت اربوں ڈالر قرض لے کر آتی ہے اور ان ممالک کو چار سے چھ فیصد تک سود دیتی ہے۔ ابھی ایک نجی بینک سے آٹھ سو ملین ڈالر کا قرض ساڑھے آٹھ فیصد سود پر لیا گیا ہے۔ چین‘ سعودی عرب‘ متحدہ عرب امارات اور آئی ایم ایف سے بھی گزشتہ برسوں میں اربوں ڈالر قرض لیے گئے ہیں اور ان قرضوں کی شرحِ سود چار سے آٹھ فیصد تک رہی ہے۔ اس سے پہلے پی ٹی آئی حکومت کے دور میں ''ہاٹ منی‘‘ کا تصور دیا گیا تھا جس کے تحت بیرونِ ملک پاکستانیوں کو سٹیٹ بینک کے پاس ڈالر ڈپازٹ رکھنے پر بھاری سود ادا کیا گیا تھا۔ اکثر اوورسیز پاکستانیوں نے اس سکیم سے بڑا منافع کمایا۔ اب بھی روشن ڈیجیٹل پاکستان سکیم کے تحت منافع دیا جا رہا ہے‘ لیکن وہ ہزاروں پاکستانی جو لاکھوں ڈالرز ملک میں لا رہے ہیں‘ اور اس میں حکومت کا کوئی بھی کردار نہیں‘ ان پر اُلٹا پانچ فیصد ٹیکس لگا دیا گیا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ان پاکستانیوں کو اپنے ڈالرز‘ ڈالر اکاؤنٹس میں رکھنے کی اجازت بھی نہیں۔ جو بھی پیسہ باہر سے آتا ہے‘ اسے پاکستانی روپوں میں تبدیل کرکے متعلقہ شخص کے اکاؤنٹ میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔
ایک اور مزے کی بات سنیں۔ اکثر بینکوں کے پاس جب کسی وی لاگر یا انفلوئنسر کے ڈالر آتے ہیں تو وہ بینک عموماً سٹیٹ بینک کے مقررہ ریٹ سے دو سے تین روپے کم ریٹ لگاتا ہے۔ یوں بینک ان ڈالروں پر اچھا خاصا منافع خود کما لیتا ہے۔ بعد ازاں وہی ڈالر حکومت کو قرض دے کر اس پر آٹھ فیصد تک سود وصول کیا جاتا ہے۔ اب اگر سوشل میڈیا انفلوئنسر یا وی لاگر کو خود ڈالر درکار ہوں تو وہ اپنے اکاؤنٹ سے روپے نکال کر منی ایکسچینج ڈیلر کے پاس جائے گا‘ جو اسے بینک ریٹ کے بجائے مارکیٹ ریٹ پر دو تین روپے زیادہ میں ڈالر فروخت کرتا ہے۔ یوں وہ اپنا ڈالربینک کو سستابیچ کر منی ایکسچینج والے سے مہنگا خریدتا ہے۔ اس پورے چکر میں اس کے آٹھ سے دس روپے فی ڈالر کٹ جاتے ہیں۔ بجائے اس کے کہ آپ اس کے شکر گزار ہوں کہ وہ آپ کو مفت ڈالر لا کر دے رہا ہے‘ الٹا آپ اس کی آمدن پر پانچ فیصد ٹیکس لگا رہے ہیں۔ یہ کیسی سوچ ہے کہ ڈالر مفت نہیں بلکہ سود پر قرض لے کر ملک میں لائیں گے؟ میری اس گفتگو کے باوجود فنانس کمیٹی نے اس تجویز کو منظور کر دیا کہ ٹیکس لیا جائے گا۔
اب ایک اور بات سنیں۔ پچھلے سال قاسم اور موسیٰ گیلانی مہم چلا رہے تھے کہ سمارٹ فون پر ٹیکس کم کیا جائے۔ یہ معاملہ بھی فنانس کمیٹی میں آیا‘ جہاں ایف بی آر کے افسران موجود تھے۔ چیئرمین ایف بی آر کو ذہین اور حاضر جواب افسر سمجھا جاتا ہے۔ بعض اوقات لگتا ہے کہ ان کے پاس ہر سوال کا جواب موجود ہوتا ہے‘ لہٰذا وہ ہنستے ہنستے اور مذاق مذاق میں اپنی بات منوا جاتے ہیں۔ وہ اس ٹیکس کے بڑے حامی تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو شخص چار لاکھ روپے کا فون خرید سکتا ہے‘ وہ ڈیڑھ سے دو لاکھ روپے ٹیکس بھی دے سکتا ہے۔ اجلاس سے باہر نکلے تو میرے ساتھ گپ شپ ہونے لگی۔ میں نے کہا: آپ کو علم ہے کہ اس ٹیکس کی وجہ سے نوجوان نسل کتنی پیچھے رہ جائے گی؟ آپ چند ارب روپے ٹیکس تو اکٹھا کر لیں گے لیکن پاکستانی جدید دنیا کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے۔ 2018ء میں ڈالر سو روپے کے قریب تھا۔ ایک ہزار ڈالر والا سمارٹ فون ایک لاکھ دس ہزار یا ایک لاکھ بیس ہزار میں مل جاتا تھا۔ اب ڈالر 280روپے کا ہے۔ اوپر سے حکومت نے امپورٹڈ فون پر ٹیکس لگا دیا‘ جو ڈیڑھ سے دو لاکھ روپے تک ہے۔ مطلب یہ کہ ایک جدید فون اب پانچ سے چھ لاکھ روپے تک جا پہنچا ہے۔ اب دنیا سمٹ کر سمارٹ فون میں آ گئی ہے۔ اسی فون کے ذریعے آپ نے سب کچھ سیکھنا اور آگے بڑھنا ہے۔ اب فون عیاشی نہیں رہا۔ بھارت میں متوسط طبقے کے تقریباً ہر فرد کے پاس سمارٹ فون موجود ہے۔ ایک تو وہاں ڈالر 72 روپے کا ہے (اب شاید 95 روپے کے قریب ہے)‘ یوں انہیں آئی فون ایک لاکھ روپے سے بھی کم میں پڑتا ہے جبکہ ہمیں تقریباً تین لاکھ روپے کا‘ جبکہ ٹیکس ملا کر پانچ لاکھ روپے کا۔ اب جبکہ آئی فون بھارت میں بن رہے ہیں‘ پچھلے سال 70فیصد آئی فون بھارت میں تیار ہوئے۔ آپ نے اپنے نوجوانوں کو بھارت کے مقابلے میں لانے کے بجائے الٹا یہ فون ان کی پہنچ سے باہر کر دیا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت سوا لاکھ بھارتی نوجوان امریکی ٹیک کمپنیوں میں کام کر رہے ہیں جبکہ پاکستان کے صرف دس ہزار۔ آپ چند ارب ٹیکس کما لیں لیکن بھارت نے اپنے نوجوانوں کے ذریعے پوری دنیا کی ٹیک مارکیٹ پر قبضہ جما رکھا ہے۔ آپ سمارٹ فون پر ٹیکس لگا کر اسے مزید مہنگا کر دیں اور بھارت سمارٹ فونز کی فیکٹریاں لگا کر انہیں ایک لاکھ روپے سے بھی کم میں فراہم کر رہا ہے۔ آپ اپنے نوجوانوں کو خود ٹیکنالوجی کی دوڑ میں پسماندہ کر رہے ہیں کیونکہ وہ مہنگے فون خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ میرا اپنا فون تین سال پرانا ہے‘ میں بھی اب نیا فون نہیں خرید سکتا کیونکہ دو لاکھ روپے ٹیکس کہاں سے لائیں؟ راشد لنگڑیال حیران ہو کر بولے: آپ کی باتیں مجھے تو سمجھ آ رہی ہیں‘ آپ کسی دن ہمارے افسران کو بھی یہی باتیں سمجھائیں۔ چھ ماہ سے اوپر گزر گئے لیکن وہ دن کبھی نہیں آیا کہ ہم ایف بی آر کے افسران کو سمجھا پاتے کہ اپنے نوجوانوں کو اس جدید دنیا میں چند ارب روپوں کی خاطر کنویں کا مینڈک نہ بنائیں۔