ذرا مسکرائیے
باپ بیٹے سے: اگر تم میری طرح محنت کرو گے تو شاندار زندگی پاؤ گے۔ مجھے دیکھو جب میں شہر میں آیا تو سوائے میرے پاس ایک صندوقچی کے کچھ نہ تھا۔
اب دیکھو میرے پاس گاڑی ہے کوٹھی ہے۔ کئی پلازے ہیں۔
بیٹے نے پوچھا: اس صندوقچی میں کیا تھا؟
باپ :چار کروڑ روپے۔
٭٭٭
ایک صاحب گوالے سے تازہ دودھ لے کر گھر پہنچے۔ گھر پہنچ کر دودھ کسی دوسرے برتن میں منتقل کرنے لگے تو دودھ میں سے ایک مینڈک برآمد ہوا۔ وہ صاحب فوراً شکایت لئے گوالے کے ہاں گئے اور کہا: جناب! میں ابھی ابھی جو دودھ لے کر گیا ہو اس میں سے مینڈک نکلا ہے۔
گوالے نے دفاعی انداز میں پوچھا: جناب نے کتنا دودھ لیا تھا؟
وہ صاحب بولے : آدھا کلو۔
گوالے نے کہا۔ جناب! آدھا کلو میں سے مینڈک ہی نکلے گا اور کیا ہاتھی نکلتا؟
٭٭٭
مریض: ڈاکٹر صاحب! میں چشمہ اتار کر دیکھتا ہوں تو مجھے ایک کے دو نظر آتے ہیں۔
ڈاکٹر: شکر کرو تمہیں صرف دو نظر آتے ہیں، میں تو جب بھی چشمہ اتار کر دیکھتا ہوں ایک کے چار نظر آتے ہیں۔
٭٭٭
بچہ: انکل! کیا آپ کو پتہ ہے سانس لینے سے کیا ہوتا ہے؟
انکل: ہاں بیٹا! انسان زندہ رہتا ہے۔
بچہ: آپ کو کچھ پتہ نہیں سانس لینے سے پیٹ اوپر نیچے ہوتا ہے۔
٭٭٭