پاکستان کے عوام کی یہ جان کر جان ہی نکل گئی کہ قومی اسمبلی سے ایک قانون پاس ہو کر سینیٹ میں پہنچ گیاہے‘ جس کے تحت ٹیلی کام سیکٹر کی کمپنیوں کو یہ اختیارات دیے جارہے ہیں کہ وہ کسی کی بھی جائیداد پر اپنا ٹاور کھڑا کر سکتی ہیں‘ وہاں مشینری انسٹال کر سکتی ہیں اور تعمیرات بھی کر سکتی ہیں۔ اگر آپ نے اپنی جائیداد دینے سے انکار کیا تو وہ کمپنی آپ پر پانچ کروڑ جرمانہ کرا سکتی ہے۔ جب آپ یہ تفصیل پڑھ لیں گے تو آپ کو لگے گا کہ شاید ایسٹ انڈیا کمپنی کا دور لوٹ آیا ہے۔ جب لارڈ کلائیو کی قیادت میں ہندوستان پر قبضہ کیا گیا اور یہ کام بنگال سے شروع ہوا اور پورے ہندوستان تک پھیلتا چلا گیا اور ایک دن وہ تاجر کمپنی پورے ہندوستان کی مالک بن بیٹھی۔ جوں جوں اس بل کی تہیں کھلتی جائیں گی توں توں آپ کی آنکھیں بھی کھلتی جائیں گی اور وہی ایاز امیر صاحب والا فقرہ آپ کے ذہن میں آتا ہے کہ سوچتے ہیں اب مزید کیا بُرا ہو گا۔ لیکن پتہ چلتا ہے کہ نہیں ابھی تو بہت کچھ ہونا باقی تھا۔ یہ بل بھی اسی قسم کا ہے جو ابھی ہونا تھا۔ یہ بل جو کئی آئینی اور لیگل فورمز سے بڑے سکون سے پاس آتا ہوا سینیٹ میں آیا ‘ کے تحت ٹیلی کام کمپنیوں کو پاکستان بھر میں پارکس سے لے کر دیگر پبلک مقامات پر اپنے ٹاورز اور مشینری لگانے کی قانونی اجازت ہوگی۔ ملک بھر کی ہاؤسنگ سوسائٹیز کو بھی اس قانون کے تحت پابند کیا جارہا تھا کہ وہ کسی بھی ٹیلی کام کمپنی کے ساتھ تعاون کریں گے اور جس جگہ چاہیں گے وہ ٹاورز لگائیں گی‘ انکار نہیں ہوگا۔
سب سے مزے کی شق یہ ہے جس کے تحت ٹیلی کام کمپنیاں کسی بھی پاکستانی شہری کی کسی بھی جائیداد پرٹاور لگا سکتی ہیں‘ آپ کو کمپنی اپنی مرضی کا رینٹ آفر کرے گی‘ آپ وہ رینٹ نہ مانے تو وہ کمپنی سرکاری ادارے کے پاس جائے گی اور آپ کی شکایت کرے گی کہ آپ اسے زمین نہیں دے رہے۔ وہ سرکاری ادارہ آپ کا فیصلہ کرے گا اور جو فیصلہ کرے گا وہ قبول کرنا ہوگا۔ اگر آپ اس ادارے کے فیصلے کو نہ مانے تو پھر آپ پر پانچ کروڑ روپے جرمانہ ہوگا۔ اس قانون کے تحت آپ کسی عدالت وغیرہ میں بھی نہیں جاسکتے۔ آپ کا فورم صرف وہ ادارہ ہے جس کا چیئرمین بھی حکومت لگائے گی‘ اس کے ممبران بھی سرکاری افسران ہوں گے جن کا تعلق اسی وزارت سے ہے جو یہ بل لائی ہے۔ آپ یا تو کمپنیوں کا دیا ہوا رینٹ قبول کر لیں یا پانچ کروڑ جرمانے کے لیے تیار رہیں۔ اس بل کی تیاری انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت نے کی جس کے سیکرٹری خود ماضی میں مختلف ٹیلی کام کمپنیوں کے ملازم رہے ہیں اور انہیں کنٹریکٹ پر وزارت میں وفاقی سیکرٹری لگا یا گیا ۔ اب ان کمپنیوں کے سابقہ ملازم نے بل تیار کیا اور وزارت قانون سے لیگل رائے لے کر اسے منظور کرا لیا کہ ہاں یہ بل اب کابینہ میں منظوری کے لیے پیش کریں۔ مزے کی بات ہے سیکرٹری لا بھی ٹیکنوکریٹ ہیں اور انہیں بھی کنٹریکٹ پر سیکرٹری قانون لگایا گیا ہے۔ اب دو ٹیکنوکریٹس نے مل کر یہ بل تیار کیا اور کابینہ سیکرٹری کو بھیجا گیا جنہوں نے بغیر سمجھے ‘پڑھے یا اعتراض لگائے اسے کابینہ کے ایجنڈے پر رکھ دیا۔ شہباز شریف اور ان کے وزیروں کی فوج نے بھی بغیر اس بل کو پڑھے اور سمجھے منظور کر دیا کہ اب اسے پارلیمنٹ میں پیش کر دیا جائے۔ وہاں پارلیمانی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے اسے نیشنل اسمبلی کے ایجنڈے پر رکھ کر ہاؤس میں متعارف کرا دیا جس پر قانون کے تحت اس بل کو اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی میں ریفر کر دیا گیا جس کے پندرہ سے زائد ایم این ایز ممبر ہیں کہ وہ اس بل کو دیکھیں۔ اس دوران وہ بل پیپلز پارٹی کے لیجسلیٹو گروپ کو بھی بھیجا گیا جس میں پارٹی کے سینیٹ اور قومی اسمبلی کے دس اراکین ہیں۔ ان کا کام ہے وہ کسی بھی بل کو پڑھ کر اپنی رائے سے پارٹی کو آگاہ کریں کہ آیا اس بل پر ووٹ کرنا ہے یا نہیں۔ نوید قمر اور شیری رحمن بھی اس گروپ کا حصہ ہیں۔ اس پی پی پی گروپ نے اپنے تئیں پی پی پی اراکین کو کہا کہ سب کلیئر ہے آپ اس کی حمایت میں ووٹ کرسکتے ہیں۔ کچھ پی پی پی اراکین نے اعتراض اٹھایاتو انہیں اس گروپ نے یقین دلایا کہ ہم نے تبدیلیاں کرا دی ہیں جو بعد میں جھوٹ نکلا۔ اس اثنامیں وزیر ٹیکنالوجی شزہ فاطمہ خواجہ نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی قائمہ کمیٹی کے اراکین سے بل کلیئر ا کرا کے اسمبلی میں ووٹنگ کے لیے پیش کرا دیا اور ساتھ ہی پورے ہاؤس سے یہ منظور کرا لیا جس کے 340 اراکین ہیں۔ کسی ممبر نے بل کو نہیں پڑھا یا سمجھا یا جان بوجھ کر چپ رہے۔ اب قانون کے تحت بل کو سینیٹ بھیجا گیا جہاں بل پیش ہوا تو اسے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی میں بھیجا گیا جس کی چیئرپرسن پی پی پی کی سینیٹر پلوشہ خان ہیں۔ جب وہاں کمیٹی ممبرز نے بل پڑھنا شروع کیا تو ان کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں کہ یہ کیسا لوگوں کی جائیدادوں پر قبضے کا بل ہے کہ کسی کمپنی کو آپ کی جگہ پسند آگئی تو وہ آپ کو اپنی مرضی کا کرایہ آفر کرے گی۔ آپ نے اعتراض کیا تو وہ حکومتی اتھارٹی کو شکایت کر کے آپ کو پانچ کروڑ جرمانہ بھی کرائے گی اور جائیداد بھی لے گی۔
خیر اس پر سینیٹر پلوشہ خان‘ سینیٹر افنان اللہ خان اورسینیٹر سعدیہ عباسی کی تعریف کرنی چاہیے جنہوں نے اس خطرناک بل کو پڑھا‘ سمجھا اور اس کو فورا ًروکا۔ جو کام وزارتِ قانون کو کرنا تھا‘ سیکرٹری کا بینہ نے کرنا تھا یا پھر شہباز شریف اور ان کی وزیروں کی کابینہ کا تھا کہ وہ اسے پڑھ کر روک دیتے یا پھر اسمبلی کی قائمہ کمیٹی ممبرز کا تھا‘ وہ ان تینوں سینیٹرزنے کیا۔ ذرا اندازہ کریں ہمیں کہا جاتا ہے کہ اگر ٹیکنوکریٹس ملک کو چلائیں تو یہ جنت بن جائے گا۔ سیکرٹری آئی ٹی اور سیکرٹری لا دونوں ٹیکنوکریٹس اور پرائیوٹ سیکٹرز سے کنٹریکٹ پر فیڈرل سیکرٹریز لگے ہیں۔ یہ بل ان دونوں ٹیکنوکریٹس کی مشترکہ کارروائی ہے جو چند کمپنیوں کو پچیس کروڑ لوگوں کی جائیدادوں اور ہزاروں ہاؤسنگ سوسائٹیز پر حق دے رہے تھے کہ وہ اپنی مرضی کی جہاں جگہ دیکھیں کھمبے گاڑ دیں اور کوئی انکار کرے تو پانچ کروڑ جرمانہ بھی لگوا دیں۔
دیکھ لیں اس ملک کے وزیراعظم اور کابینہ سے لے کر اسمبلی اراکین تک کتنی سنجیدگی سے قانون سازی کررہے ہیں۔ میری وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی شزہ فاطمہ خواجہ سے بات ہوئی تو انہوں نے تسلیم کیا کہ ان کی وزارت سے اس بل میں غلطیاں ہوئی ہیں‘ لیکن یہ وہ غلطیاں اس وقت مان رہی ہیں جب میں نے یہ خوفناک سٹوری اپنے ٹی وی شو میں بریک کی جس پر شور مچا ورنہ شزا خواجہ صاحبہ یہ بل تو کابینہ اورقومی اسمبلی سے پاس کرا چکی تھیں۔ اگرسینیٹرز بھی وہی کرتے جو قومی اسمبلی نے کیا تو پچیس کروڑ لوگوں کا باجا بج گیا تھا۔ ویسے میرے خیال میں اگر وزیراعظم‘ درجنوں وزرا‘ وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی شزہ فاطمہ خواجہ‘ سیکرٹری ٹیکنالوجی‘ وزیر قانون اور سیکرٹری لاء سمیت اسمبلی کے 340 ایم این ایز اپنے اپنے گھروں کے سامنے اس بل کی شقوں کے تحت کمپنیوں کو ان کی شرائط پر ٹاورز لگانے کی اجازت دیتے ہیں تو پھر میرے خیال میں کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ وہی بات اگر یہ بل بہت نیک کام ہے جو وزیراعظم‘ ان کے وزیروں اور اسمبلی اراکین نے کیا ہے تو پھر یہ نیک کام وہ اپنے اپنے گھروں‘جائیدادوں پر ٹاور لگوا کرکریں۔ہم سب ساتھ دیں گے۔