سیاست میں وقار اور بصیرت کی مثال
قیادت محض حالات کے دھارے میں بہنے کا نام نہیں بلکہ حالات کا رخ بدلنے اور مشکل حالات میں راستہ نکالنے کی صلاحیت کا نام ہے۔
سیاسی افق پر بے شمار ستارے طلوع ہوتے ہیں، کچھ وقت کی دھند میں گم ہو جاتے ہیں اور کچھ اپنی آب و تاب سے دیر تک منظرنامے کو منور رکھتے ہیں۔ پنجاب کی سیاست میں سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان ایسی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے سیاسی تدبر، تنظیمی مہارت اور مسلسل عوامی رابطے کے ذریعے اپنے لیے ایک منفرد اور مستحکم مقام پیدا کیا ہے۔ وہ سیاستدانوں کی اس صف میں سے ہیں جو محض سیاسی حالات کا حصہ نہیں بنتے بلکہ اپنے کردار اور فیصلوں سے سیاسی حالات پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ضلع قصور کے سیاسی طور پر متحرک علاقے کھڈیاں خاص سے تعلق رکھنے والے ملک محمد احمد خان ایک ایسے خانوادے کے چشم و چراغ ہیں جہاں سیاست اقتدار کے حصول کا ذریعہ نہیں بلکہ خدمت، وقار اور قیادت کی ایک دیرینہ روایت کی حامل ہے۔ ان کے والد، بزرگ سیاستدان اور سابق ڈپٹی چیئرمین سینیٹ‘ ملک محمد علی خان نے قومی سیاست میں شائستگی، بصیرت اور جمہوری اقدار کی ایسی مثال قائم کی جس کا ذکر آج بھی احترام سے کیا جاتا ہے۔ خاندانی سطح پر سیاسی تربیت اور قومی سیاست کے وسیع تجربے نے ملک محمد احمد خان کی شخصیت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا مگر ان کی سیاسی زندگی کا نمایاں پہلو یہ ہے کہ انہوں نے اپنی شناخت صرف وراثت کے سہارے قائم نہیں کی بلکہ اپنی محنت، عوامی وابستگی اور سیاسی فہم کے ذریعے اپنا الگ مقام بنایا۔
سیاستدان کے اصل جوہر آسان حالات میں نہیں بلکہ بحرانوں کے دوران کھلتے ہیں۔ جب پاکستان مسلم لیگ (ن) کو سیاسی دباؤ، مقدمات اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا تھا اور بہت سے رہنما محتاط طرزِ عمل اختیار کر رہے تھے، اس وقت ملک محمد احمد خان ان شخصیات میں شامل تھے جنہوں نے نہ صرف اپنی سیاسی سرگرمیوں کو جاری رکھا بلکہ کارکنوں کے حوصلے بلند رکھے۔ کھڈیاں خاص میں ان کا عظیم الشان افطار اجتماع محض ایک رسمی یا روایتی تقریب نہیں تھا بلکہ ایک ایسا سیاسی پیغام تھا جس نے یہ واضح کیا کہ مضبوط قیادت مشکل وقت میں پس منظر میں جانے کے بجائے زیادہ نمایاں ہو جاتی ہے۔2022ء میں تحریکِ عدم اعتماد کے بعد ملکی سیاست ایک نئے دور میں داخل ہوئی تو اس مرحلے پر میاں شہباز شریف کا کھڈیاں خاص کا دورہ اور ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب ملک محمد احمد خان کی سیاسی اہمیت اور جماعتی قیادت کے ان پر اعتماد کا واضح اظہار تھا۔سیاست میں اعتماد محض تعلقات کی بنیاد پر حاصل نہیں ہوتا بلکہ اس کے پیچھے برسوں کی وابستگی، مستقل مزاجی اور قابلِ بھروسا کردار کارفرما ہوتا ہے۔ ملک محمد احمد خان نے یہ مقام مضبوط سیاسی کیرئیر کے ذریعے حاصل کیا۔ بعد ازاں جب میاں نواز شریف اور مریم نواز شریف کی موجودگی میں کھڈیاں خاص کا تاریخی جلسہ منعقد ہوا تو اس نے سیاسی مبصرین کو یہ باور کرایا کہ ملک محمد احمد خان صرف ایک انتخابی حلقے کے نمائندہ نہیں بلکہ ایک ایسی تنظیمی قوت کے مالک ہیں جو بڑے پیمانے پر عوامی اور سیاسی سرگرمیوں کو کامیابی کے ساتھ منظم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ملک محمد احمد خان کی سیاست کا ایک نمایاں پہلو ان کا ترقیاتی ویژن ہے۔ وہ ان سیاستدانوں میں شمار ہوتے ہیں جو نعروں اور دعوؤں سے زیادہ عملی اقدامات پر یقین رکھتے ہیں۔ اپنے حلقے میں سڑکوں کے جال، بنیادی سہولیات کی فراہمی، تعلیمی اداروں کے قیام اور عوامی فلاح کے متعدد منصوبوں کے ذریعے انہوں نے ترقیاتی سیاست کو اپنی شناخت کا حصہ بنایا ہے۔ کھڈیاں خاص میں گرلز اور بوائز ڈگری کالجز کا قیام، فنی اور تکنیکی تعلیم کے فروغ کے لیے اقدامات اور نوجوانوں کے لیے بہتر تعلیمی مواقع پیدا کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کی سیاست صرف حال کے مسائل تک محدود نہیں بلکہ مستقبل کی تعمیر سے بھی گہرا تعلق رکھتی ہے۔
موجودہ دور کی سیاست میں جہاں تلخ بیانی اور فوری سیاسی فائدے کی دوڑ عام ہوتی جا رہی ہے وہاں ملک محمد احمد خان کا انداز نسبتاً مختلف دکھائی دیتا ہے۔ انہوں نے سیاسی اور ریاستی اداروں کے ساتھ تعلقات میں توازن، تدبر اور حکمتِ عملی کو ہمیشہ اہمیت دی۔ اختلاف کو تصادم میں بدلنے کے بجائے مکالمے اور مفاہمت کے ذریعے آگے بڑھنے کا رجحان ان کی سیاسی شخصیت کا نمایاں وصف ہے۔ یہی خصوصیت انہیں محض ایک فعال سیاستدان نہیں بلکہ ایک سنجیدہ اور مدبر پارلیمانی رہنما کے طور پر نمایاں کرتی ہے۔بطور سپیکر پنجاب اسمبلی انہوں نے ایوان کی کارروائی کو آئینی تقاضوں اور پارلیمانی روایات کے مطابق چلانے کی کوشش کی ہے اور اس میں کامیاب بھی ہیں۔ سپیکر کا منصب صرف انتظامی امور تک محدود نہیں ہوتا بلکہ یہ برداشت، غیر جانبداری، سیاسی فہم اور جمہوری اقدار سے وابستگی کا تقاضا کرتا ہے۔ ملک محمد احمد خان کا طرزِ عمل اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ جمہوری اداروں کے استحکام اور پارلیمانی نظام کے وقار کو سیاسی عمل کی بنیادی ضرورت سمجھتے ہیں۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ملک محمد احمد خان ایک ابھرتے ہوئے پاور سینٹر کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ ان کی شخصیت میں سیاسی تدبر، تنظیمی مہارت، عوامی رابطہ، ترقیاتی ویژن اور جماعتی وفاداری کا ایسا امتزاج ہے جو انہیں اپنے ہم عصروں سے ممتاز کرتا ہے۔