فکر ِ فیض و اقبالؒ میں مطابقت کے گوشے
اقبال کوفیض کا پیش رو کہا جاسکتا ہے مگر فیض نے اقبال کی تقلید صرف برائے شعر گفتن نہ کی بلکہ کئی اشعار ایسے بھی سامنے آتے ہیں جن کی توسیع اپنے عہد کے تناظر میں کر کے اقبال کے ساتھ اپنے تعلق کا عملی اظہار بھی کیا ہے۔اقبال کی نظم ’’تصویرِدرد ‘‘کا ایک شعر دیکھیے :
یہ خاموشی کہاں تک ؟ لذت ِ فریاد پیدا کر
زمیں پر تو ہو اور تری صدا ہو آسمانوں میں
اب فیض کا ایک شعر دیکھیے:
ہاں کج کرو کلاہ کہ سب کچھ لٹا کے ہم
اب بے نیازِ گردشِ دوراں ہوئے تو ہیں
ان اشعار میں طرزِ فکر اور اظہاری صورت یکساں دکھائی دیتی ہے۔گو زمانے کا فرق ہے مگر حالات کی ہلکی سی جھلک نگاہوں کے سامنے ضرور آ جاتی ہے۔اقبال کا شعر نظم ’’تصویرِ درد ‘‘ سے ہے جو آزادی سے پہلے کی نظم ہے اور فیض کا شعر نظم ’’ اگست 1952ء‘ ‘سے ہے جو آزادی کے بعد کی نظم ہے۔ہم کہہ سکتے ہیں کہ فیض نے اقبال سے بہت کچھ اکتساب کیا ۔ اقبال اور فیض کے مابین جو ذہنی مطابقت دکھائی دیتی ہے وہ ایک بڑے فکری دائرے کے ساتھ وابستگی کی وجہ سے ہے۔فیض کی ابتدائی شاعری میں پیار اور محبت کا روایتی رنگ نظر سے گزرتا ہے۔مگر برِ صغیر کی تقسیم کے بعد کی شاعری میں بہت کچھ تبدیلی دیکھنے کو ملتی ہے۔یہاں پیار اور محبت کا رنگ مختلف ہے۔اقبال کا عشق ملتِ اسلامیہ کا درد لیے ہوئے تھا۔فیض نے اپنے درد کو ملتِ اسلامیہ کی حدود سے بھی آگے کر دیا۔فیض کا عشق اور اس کے عشق کا درد عالمِ انسانیت کی حدود کو چھو گیا۔عصری سیاسی شعور نے فیض کی شاعری کا رنگ بھی بدل دیامگر اقبال اور فیض کی شاعری میں محبت کرنے والا دل ہے جو ابنائے وطن کی تمناؤں پر ملول دکھائی دیتا ہے۔دونوں کا دکھ غمِ جاناں سے نکل کر غمِ دوراں میں بدل جاتا ہے۔اس طرح اقبال اور فیض دو ایسے شاعر کہلاتے ہیں جن کی آواز برِصغیر کی جغرافیائی حدود کو پار کر گئی۔اس طرح انسانیت پر ڈھائے جانے والے ظلم و ستم کی پکار پوری دنیا میں سنائی دی جانے لگی۔
فیض نے کسی ایک ملک،خطہ یا قوم کا دکھ اجاگر نہیں کیا بلکہ سب کے مسائل ،درد،دکھ،خوشی،غم اور فکر کو اجاگر کیاہے۔دونوں کی فکر تو مختلف تھی مگر اقبال اور فیض کی شاعری میں پوری دنیا کے انسانوں کے دھڑ کتے ہوئے دل کی پکار،تڑپ اور دھڑکن سنی جا سکتی ہے۔اقبال اور فیض کا پیغام تو پوری انسانیت کے لیے تھا۔اقبال اور فیض دونوں کی عظمت کا راز اسی میں پوشیدہ ہے کہ ان کے ہاں کسی بھی قسم کا تعصب اور تنگ نظری کسی بھی حیثیت میں اور کسی بھی رنگ میں راہ نہ پا سکی۔ترقی پسند تحریک کے زیرِ اثر فیض نے مارکسزم کو پسند ضرور کیا مگر انتہا پسند اور جارحانہ سیاسی رجحانات کی ہمیشہ نفی کرتے تھے۔یہی وجہ ہے کہ فیض کی شاعری میں دھیما پن ہے اور یہ انداز زندگی کو تپش بھی عطا کرتا ہے۔یہی انداز انسان کو عملِ پیہم کی راہوں پر گامزن بھی کرتا ہے۔الیگزنڈرسرکوف نے فیض کے اس پہلو سے بہت متاثر ہو کر لکھا تھا کہ فیض ضبط و تحمل اور اعتماد،اذیت کوشی اور موت سے نبرد آزمائی کی بدولت پیدا ہوا ہے۔ایک ایسی موت جو جد و جہد کے لیے خود کو وقف کر دینے والوں کے لیے ناگزیر ہوتی ہے ۔ فیض کے لیے اس کا محبوب اس کا وطن تھا۔نظم ’’ آخری خط ‘‘ میں اپنے محبوب ،اپنے وطن کے لیے کہتے ہیں :
وہ وقت مری جان بہت دور نہیں ہے
جب درد سے رُک جائیں گی سب زیست کی راہیں
اور حد سے گزر جائے گا اندوہِ نہانی
تھک جائیں گی ترسی ہوئی ناکام نگاہیں
چھن جائیں گے مجھ سے مرے آنسو مری آہیں
چھن جائے گی مجھ سے مری بے کار جوانی