فیفا ورلڈ کپ 2026:کھلاڑیوں کی جاندار پرفارمنس ،شاندار مقابلے
48 ٹیموں کو 12گروپوں میں تقسیم کیا گیا،104 میچ کھیلے جائیں گے
فٹ بال دنیا کا مقبول ترین کھیل ہے اور فیفا ورلڈ کپ اس کھیل کا سب سے بڑا اور باوقار عالمی مقابلہ تصور کیا جاتا ہے۔ ہر چار سال بعد منعقد ہونے والا یہ میگا ایونٹ دنیا بھر کے کروڑوں شائقین کو اپنے سحر میں جکڑ لیتا ہے۔ فیفا ورلڈ کپ 2026 ء کئی حوالوں سے منفرد اور تاریخی اہمیت کا حامل ہے، پہلی بار یہ ٹورنامنٹ تین ممالک امریکہ، کینیڈا اورمیکسیکوکی مشترکہ میزبانی میں منعقد ہو رہا ہے۔ مزید برآں اس عالمی مقابلے میں پہلی مرتبہ 48 قومی ٹیمیں شرکت کر رہی ہیں، جس کے باعث مقابلوں کی تعداد اور جوش و خروش میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔
فیفا ورلڈ کپ ایک پروفیشنل ایسوسی ایشن فٹ بال ٹورنامنٹ ہے جو قومی فٹ بال ٹیموں کے درمیان منعقد ہوتا ہے۔فیفا کے زیر اہتمام، ہر چار سال بعد ہونے والا یہ ٹورنامنٹ پہلی بار 1930 ء میں یوراگوئے میں کھیلا گیا تھا اور 1998ء کے ایونٹ کے بعد سے 32 ٹیموں کے درمیان ٹرافی کیلئے مقابلہ ہوتاتھا۔ ٹورنامنٹ کا مقابلہ آٹھ گروپوں کے ساتھ کیا جاتا تھا جس کے بعد 16 ٹیموں کیلئے ناک آئوٹ رائونڈ ہوتا تھا۔
فٹ بال کا 23 واں ورلڈ کپ 11 جون سے شروع ہو چکا ہے اور یہ مقابلے 19 جولائی تک جاری رہیں گے۔ ٹورنامنٹ میں مجموعی طور پر 104 میچ کھیلے جائیں گے ،جو امریکہ کے 11، میکسیکو کے تین اور کینیڈا کے دو شہروں میں منعقد ہوں گے۔
فیفا ورلڈ کپ 2026ء کا پہلا میچ ہی جتنا دھماکے دار ہوا اس نے دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب کھینچ لی۔ پہلے میچ میں ہی تین ریڈ کارڈز نے کھلاڑیوں کی کھیل سے جذباتی وابستگی بھی عیاں کردی۔ امباپے نے جہاں دو گولوں سے اپنی فٹ بال کمپین کا آغاز کیا ہے وہیں لیونل میسی نے پہلے ہی میچ میں ہیٹ ٹرک اسکور کرکے ورلڈکپ میں سب سے زیادہ گول کرنے کا اعزاز اپنے نام کیا۔ پرتگال اور فٹ بال کی دنیابھر میں پہچان کرسٹیانو رونالڈو نے البتہ اپنی ورلڈ کپ مہم جوئی کا قدرے مایوس کن آغاز کیا ہے۔ 52 سال بعد ورلڈکپ مقابلوں میں اپنا پہلا میچ کھیلنے والی ٹیم کانگو کے ساتھ اسٹارز پر مشتمل پرتگالی ٹیم کا میچ برابری پر ختم ہوا ۔
میچوں کی بڑی سکرینز پر لائیو نشریات کے ساتھ ساتھ برائن ایڈمز، نورا فتحی اور پٹ بل جیسے عالمی فنکاروں کے کنسرٹس اور مختلف ثقافتی رنگ شائقین کی توجہ کا خاص مرکز بنے ہوئے ہیں۔ 19 جولائی تک جاری رہنے والے اس عالمی فٹ بال میلے کے اگلے مراحل میں لوداکریس اور دی چین اسموکرز سمیت مزید نامور بینڈز اور گلوکاروں کی پرفارمنسز بھی شیڈول ہیں، جس سے آنے والے دنوں میں شائقین کا جوش و خروش مزید بڑھنے کی امید ہے۔
فیفا ورلڈ کپ 2026 نہ صرف کھیلوں کا ایک عظیم الشان میلہ ہے بلکہ مختلف اقوام، ثقافتوں اور زبانوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔ اس ایونٹ نے دنیا بھر کے نوجوانوں میں فٹ بال کے شوق کو نئی توانائی بخشی ہے اور بین الاقوامی سطح پر کھیلوں کے فروغ، سیاحت اور معاشی سرگرمیوں کے لیے نئے مواقع پیدا کیے ہیں۔ شائقینِ فٹ بال کی نظریں اس وقت عالمی شہرت یافتہ کھلاڑیوں اور ابھرتے ہوئے نئے ستاروں پر مرکوز ہیں جو اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھانے کیلئے میدان میں اتر رہے ہیں۔
گروپ مرحلے کا پہلا رائونڈ
٭…گروپ مرحلے کے پہلے راؤنڈ کے اختتام تک مجموعی طور پر 75 گول اسکور کیے گئے۔24 میں سے 9 میچ ڈرا پر ختم ہوئے۔
٭…فی میچ گولز کی اوسط 3.1 رہی،جو1958ء کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ ورلڈ کپ کے ابتدائی مرحلے میں فی میچ گولز کی اوسط تین سے زائد رہی ہو۔
٭…پہلے 24 میچز میں 600 شاٹس لیے گئے جن میں سے 200 ہدف پر رہے۔
٭…پاسنگ میں سپین سب سے آگے ہے، جس نے ایک میچ میں 811 پاسز کیے۔
٭…مجموعی طور پر22520 پاسز اور 19264 کامیاب پاسز ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔
٭…جرمنی نے ایک میچ میں 7 گول اسکور کرکے اب تک کی سب سے بڑی فتح اپنے نام کی۔
٭…یوروگوئے 42 کراسز اور 14 کارنرز کے ساتھ ٹورنامنٹ کی نمایاں ٹیم رہی۔
٭… ترکیہ نے ایک میچ میں 30 شاٹس لگا کر سب سے جارحانہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
٭… 205 کارنرز، 72 آف سائیڈز، 52 ییلو کارڈز اور صرف 3 ریڈ کارڈز ریکارڈ کیے گئے۔
٭…ارجنٹینا کے لیونل میسی 3 گولز کے ساتھ ابتدائی مرحلے کے ٹاپ اسکورر ہیں۔
٭…ترکیے کے آردا گولر 8 شاٹس کے ساتھ سب سے زیادہ شاٹس لینے والے کھلاڑی رہے۔
٭…آئیوری کوسٹ کے اماد دیالو کامیاب ڈریبلز میں سرفہرست ہیں۔
٭…16 جون کو میگا ایونٹ کے 4 میچز میں مجموعی طور پر 2 لاکھ 81 ہزار 223 شائقین اسٹیڈیم پہنچے۔یہ حاضری فٹ بال ورلڈ کپ کی تاریخ میں 1 دن میں سب سے زیادہ تماشائیوں کی آمد کا نیا ریکارڈ ہے، اس سے قبل 1994ء ورلڈ کپ میں 2 لاکھ 77 ہزار 70 شائقین کی آمد کا ریکارڈ تھا۔
٭… جرمنی کے جوشوا کِمِش دو اسسٹس کے ساتھ ابتدائی مرحلے کے نمایاں پلے میکر رہے۔
امریکہ بمقابلہ ایران
جی ہاں آپ نے بالکل درست پڑھا اگر امریکی فٹ بال ٹیم اپنے گروپ ڈی میں دوسرے نمبر پر آتی ہے اور ایران بھی اپنے گروپ جی میں دوسرے نمبر پر آتا ہے تو اگلے راؤنڈ میں دنیا کو ایک ایسا انوکھا مقابلہ دیکھنے کو ملے گا جس پر بظاہر شاید کوئی ابھی یقین نہ کرے۔ وہ دو ممالک جو تقریباً گزشتہ چار ماہ سے حالت جنگ میں ہیں وہ فٹ بال گراؤنڈ پر بھی آمنے سامنے آتے ہیں تو یقیناً کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ شائقین فٹ بال کا جذبہ بھی ناقابل کنٹرول ہوگا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا واقعی دونوں ٹیمیں اپنے گروپس میں مقررہ پوزیشنز پر آئیں گی اور کیا دنیا کو ایک بہترین فٹ بال مقابلہ دیکھنے کو ملے گا؟۔ یہ تو آنے والے اگلے مقابلوں پر منحصر ہے۔ مگر یہ یقین ہے کہ مقابلہ بیشک امریکہ میں ہوگا مگر دنیا بھر میں زیادہ شائقین ایران کو ہی سپورٹ کررہے ہوں گے۔