چراغ حسن حسرت :اردو کے جید ادیب اور صحافی
71ویں برسی:انہوں نے اپنے دل نشیں اسلوب نگارش سے صحافتی تحریروں کو بھی ادبی حسن دیا: وہ ایک بلند مرتبہ شاعر بھی تھے ۔ ان کے کئی شعر ضرب المثل کی طرح زبان زد خاص و عام ہیں‘ ان کے متعدد علمی و ادبی کام اور تراجم بھی ایک امتیازی شان رکھتے ہیں:ان کی صحافتی تحریروں اور کاوشوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا‘ان تحریروں میں ایک شان ہے اوریہ ادب کا مستقل حصہ ہیں
چراغ حسن حسرت بیسویں صدی کے اُن جید ادیبوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی بھرپور علمی و ادبی شخصیت سے اپنے دور کے ادب و صحافت پر دیر پا نقوش ثبت کئے۔ نثر میں ایسے لطیف اندازِ نگارش کو متعارف کرایا جس کے اثرات آج بھی دیکھے اور محسوس کئے جا سکتے ہیں۔ حسرت کی نثری کاوشیں کئی پہلوئوں پر محیط ہیں۔ مطائبات و فکاہات اُن کا خاص میدان تھا۔ بچوں کیلئے بھی کئی نثری اور شعری تحریریں یادگار چھوڑیں۔ بے عیب نثر لکھنے میں وہ اپنے معاصرین کی صف اول میں جگہ پاتے ہیں۔
چراغ حسن حسرت نے دل نشیں اسلوبِ نگارش سے صحافتی تحریروں کو بھی ادبی حسن دیا اور دوسری طرف ادیبوں اور صحافیوں کی دو نسلوں کی ذہنی تربیت کا فریضہ انجام دیا، جس کے مثبت اثرات ہم آج بھی اپنے ادب و صحافت پر دیکھ سکتے ہیں۔ حسرت شاعر ہی نہیں شاعر گر بھی تھے۔ اُس دور کے کئی نوجوان ادیب حسرت کے فیضِ صحبت سے اپنی ادبی منزل کا تعین کرتے اور بعد میں ناموری حاصل کرتے نظر آتے ہیں۔ ان کی غزل کے پس منظر میں کلاسیکی اردو ادب کی روایت کے بہترین عناصر نمایاں اور یک جا دکھائی دیتے ہیں۔حسرت ’’سیلف میڈ‘‘ انسان تھے۔ والد کی وفات کے بعد خاندان میں بڑا ہونے کے بنا پر ساری ذمہ داریوں کا بوجھ انہی کو اٹھانا پڑا۔ معاشی فکر و فشار نے عمر بھر انہیں کئی دیارو امصار کیلئے آمادۂ سفر رکھا۔ وہ ہر کہیں اپنے معجز نما قلم سے سامانِ زیست کرتے رہے۔
آ ئیں ذرا حسرت کی زندگی کے بارے میں جانتے ہیں۔ محمددین فوق تاریخِ اقوامِ پونچھ میں لکھتے ہیں،چراغ حسن جاگیر کٹھائی(کشمیر) کے ایک موضع بمیار میں1904ء میں پیدا ہوئے، جو بارہ مولہ سے چند میل مغرب کی جانب ہے۔ والد کا نام بدرالدین تھا اور یہ ان کی پہلی اولاد تھے۔ چراغ حسن حسرت اپنی جائے پیدائش اور تاریخ پیدائش کے بارے میں ایک خط میں لکھتے ہیں:
’’وطنِ مالوف کشمیر ہے۔ میں کشمیر کے ایک چھوٹے سے گائوں میں جو بارہ مولہ سے تقریباً دس میل کے فاصلے پر مغرب کی طرف واقع ہے، پیدا ہوا۔ حالات و واقعات کے پیش نظر حسرت مختلف شہروں میں رہے۔شاعری کا باقاعدہ آ غاز کلکتہ سے کیا۔ اپنے ادبی رسالے ’’ آ فتاب‘‘ میں اپنی شعری تخلیقات بھی شائع کرتے رہے۔اس کے ساتھ تنقید شعر پر بھی مضامین لکھے۔انہی اثرات اور ایک وسیع علمی و ادبی پس منظر کے ساتھ1929ء میں کلکتہ سے لاہور آ گئے۔ جب چراغ حسن حسرت کا نام آتا ہے تو لاہور میں ان کی مجلسوں اور محفلوں کیلئے ٹھکانے کے طور پر عرب ہوٹل کا نام ضرور آتا ہے۔ عرب ہوٹل کے ساتھ کچھ اور مقامات کا تذکرہ بھی ملتا ہے لیکن عرب ہوٹل ان سب میں معروف بھی تھا اور قدیم بھی۔ چراغ حسن حسرت کے ادبی و شعری نظریات اگرچہ کہیں یک جا صورت میں نہیں ملتے پھر بھی ان کی تنقیدات، تقریظات، خطبات، مضامین اور ان کی شخصیت کے مختلف رنگوں سے ان کے ادبی نظریات کا ایک خاکہ تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ چراغ حسن حسرت کی شخصیت کا تار پود جن عناصر سے ظہور پذیر ہوا اس کے اثرات ان کے فن اور ادبی نظریات کی تشکیل و تعمیر میں معاون ثابت ہوئے۔
وہ ہر کسی سے برابری کی سطح پر ملتے۔ مزاج میں فطری رکھ رکھائو تھا، کبھی کسی کی چاپلوسی نہیں کی۔ خوشامد سے ہمیشہ نفور رہے۔ ساری زندگی ملازمت کی مگر نازک مزاجی کی جو روایتیں درد اور میر سے منسوب ہیں ان کی ذات میں بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔ جو بات ناگوار گزرتی اس کا برملا اظہار کر دیتے۔حاضر جواب اور نڈر شخصیت کے مالک تھے اور بڑے بڑے صاحبِ حیثیت لوگ ان کی باتیں سن کر انگشت بدنداں رہ جاتے تھے۔ ان کی شخصیت کا یہ بانکپن اور نازک مزاجی ان کی تحریروں اور خیالات و نظریات میں بھی دکھائی دیتا ہے۔ معاصر ادیبوں اور ہم جلیسوں نے جہاں ان کی شخصیت، شب و روز کے علمی و ادبی مشاغل اور مجالس کا ذکر کیا ہے وہاں خاص طور پر ان کی آراء، لطائف و ظرائف اور نکتہ طرازیوں کا بھی حوالہ دیا ہے جن سے ان کے ادبی نظریات پر بھی روشنی پڑتی ہے۔ادب میں جدید و قدیم کے بارے میں حسرت کا رویہ، نئی ادبی تحریکوں کے بارے میں ان کی سوچ، نئی نسل کے شاعروں کے سلسلے میں ان کے محسوسات، نئے لکھنے والوں کے سطحی علم کے بارے میں ان کے خدشات اور ان کی اپنی قدامت پسندی کا اظہار بھی ان کی ذاتی تحریروں سے بخوبی ہو جاتا ہے۔نثر کی بات کی جائے توجن لوگوں کی مادری زبان اردو نہیں ان میں سے حسرت سے بڑا بامحاورہ اور دل آویز اور باغ و بہار اردو لکھنے والاشاید ہی کوئی ملے۔
علم و فضل اور وسعتِ معلومات کے اعتبار سے ہمارے ادیبوں اور انشا پردازوں میں بہت ہی کم لوگ حسرت کا مقابلہ کر سکتے تھے۔ بلاخوف تردید کہا جا سکتا ہے کہ ان سے بڑا مزاحیہ کالم نویس اور طنز نگار بھی آج تک پیدا نہیں ہوا۔ ان کا نثری سرمایہ شعری سرمائے کی نسبت کہیں زیادہ ہے اس کے باوجود کہ ان کی بہت سی نثری تحریریں ضائع ہو گئیں اور کلکتہ میں وہ صاحبِ طرزانشا پرداز کی حیثیت سے شہرت حاصل کر چکے تھے اور لاہور تک ان کا شہرہ تھا۔ روزنامہ نئی دنیا، جمہور، استقلال وغیرہ میں جو کچھ انہوں نے لکھا وہ زمانے کی دست برد کی نذر ہو گیا، لاہور کے قیام میں احسان، انصاف وغیرہ کی بیشتر تحریریں بھی محفوظ نہ رکھی جاسکیں۔حسرت زمیندار ،انصاف اوراحسان جیسے اہم اخبارات سے وابستہ رہے۔دوسری عالمی جنگ کے دوران فوجی اخبار کے مدیر بھی رہے۔ روزنامہ امروز میں سند باد جہازی کے نام سے مزاحیہ کالم لکھے جو اس وقت بہت مقبول ہوئے اور بہت دلچسپی کے ساتھ پڑھے گئے۔ وہ زندگی بھر متنوع علمی اور تحقیقی کاموں میں لگے رہے انہوں نے مسلمانوں کے عروج و زوال کی تاریخ ’’سرگزشت اسلام‘ ‘کے نام سے کئی جلدوں میں لکھی۔ اسی کے ساتھ قائد اعظم محمد علی جناح اور اقبال پر ان کی کتابیں اپنے علمی اور فکری مباحث کی وجہ سے آج بھی اہمیت کی حامل تصور کی جاتی ہیں۔
حسرت کی مطبوعہ نثری کتب کی تعداد 20 سے زائد ہے۔ جن میں سوانح، تاریخ، افسانہ، مضامین اور مطائبات جیسے موضوعات پر ہیں اور کچھ کتابیں نصابی ضروریات کے تحت لکھی گئی ہیں۔اخباری کالموں کے دو مجموعے’’مطائبات‘‘ اور ’’ حرف و حکایت‘‘ جن کی ضخامت ایک ہزار صفحات سے زائد ہے، بھی اپنی مختلف النوع علمی و ادبی، سیاسی و سماجی جہتوں اور نادر اسلوب کی وجہ سے بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔حسرت کا بیشتر نثری سرمایہ ان کی روزانہ یاہفت روزہ صحافت کی دین ہے۔ صحافتی سرگرمیوں میں بھی انہوں نے ادبی معیار کو قائم رکھا اس لئے ان تحریروں کی حیثیت اور اہمیت مستقل قرار پاتی ہے۔
چراغ حسن حسرت ذہنی اور جبلی طور پر ادیب تھے۔ معاشی ضروریات کے فکر و فشار نے ان کو صحافت کی دنیا میں لا بٹھایا ۔ وہ روزانہ کی صحافت سے پیچھا چھڑانا اور ادب کی دنیا میں آنا چاہتے ہیں لیکن معاشی مسائل ان کو ایسا کرنے سے باز رکھتے ہیں۔ کلکتہ میں آفتاب کا اجرا کیا اور لاہور آکر بڑی آب و تاب سے شیرازہ نکالا۔ یہ سب کچھ علمی و ادبی دل و دماغ کی خواہشات اور مطالبات تھے۔ ان کی صحافتی تحریروں اور کاوشوں کو یہ کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ وہ صحافت سے تعلق رکھتی ہیں۔ان تحریروں میں ایک شان ہے اوریہ ادب کا مستقل حصہ ہیں۔ چراغ حسن حسرت کا انتقال 26 جون 1955 کو لاہور میں انتقال ہوا اور یہیں پیوند خاک ہوئے۔اردو ادب و صحافت ان کے احسانات کا بدلہ کبھی نہ جھکا پائیں گے۔
مطائبات حسرت
سید ضمیر جعفری بیان کرتے ہیں کہ حسرت صاحب اور میں ایک مرتبہ تاریخ کے مسلم الثبوت استاد پروفیسر سید عبدالقادر کے مکان پر گئے۔ گرمیوں کے دن اور سہ پہر کا وقت تھا۔ حسرت صاحب کو سخت پیاس لگ رہی تھی۔ سید عبدالقادر اس وقت ایم اے کے دو طالب علموں کے ساتھ مغلوں کی تہذیب و ثقافت پر بات کر رہے تھے۔مغلوں کا فنِ تعمیر، مغلوں کا رہن سہن، مغلوں کی ادب دوستی، مغلوں کا دستر خوان، پروفیسر صاحب مسلسل بولتے جا رہے تھے۔ درمیان میں تھوڑا سا وقفہ ملا تو حسرت صاحب بولے: ’’مگر سید صاحب یہ تو فرمایئے کہ کوئی شریف آدمی جب مغلوں سے ملنے آتا تھا تو وہ اسے پانی بھی پلواتے تھے یا نہیں‘‘؟۔
٭ ٭ ٭ ٭ ٭
حسرت صاحب کے پاس ملازمت کا متلاشی ایک نوجوان آیا اور مترجم کی آسامی کیلئے درخواست پیش کی۔ درخواست میں زیادہ زور اپنے شجرہ نسب کی نجابت پر دے رکھا تھا۔ حسرت صاحب نے کہا: مولانا اخبار کو ایک اچھا ترجمہ کرنے والے کی ضرورت ہے نسل کشی کیلئے کسی کو نہیں بلایا گیا۔
چند منتخب غزلیں
یہ مایوسی کہیں وجۂ سکونِ دل نہ بن جائے
غم بے حاصلی ہی عشق کا حاصل نہ بن جائے
مدد اے جذبِ دل راہِ محبت سخت مشکل ہے
خیالِ دوریٔ منزل کہیں منزل نہ بن جائے
نہیں ہے دل تو کیا پہلو میں ہلکی سی خلش تو ہے
یہ ہلکی سی خلش ہی رفتہ رفتہ دل نہ بن جائے
ہجومِِ شوق اور راہِ محبت کی بلا خیزی
کہیں پہلا قدم ہی آخری منزل نہ بن جائے
٭ ٭ ٭ ٭ ٭
یارب غم ہجراں میں اتنا تو کیا ہوتا
جو ہاتھ جگر پر ہے وہ دستِ دعا ہوتا
اک عشق کا غم آفت اور اس پہ یہ دل آفت
یا غم نہ دیا ہوتا یا دل نہ دیا ہوتا
ناکامِ تمنا دل اس سوچ میں رہتا ہے
یوں ہوتا تو کیا ہوتا یوں ہوتا تو کیا ہوتا
امید تو بندھ جاتی تسکین تو ہو جاتی
وعدہ نہ وفا کرتے وعدہ تو کیا ہوتا
غیروں سے کہا تم نے غیروں سے سنا تم نے
کچھ ہم سے کہا ہوتا کچھ ہم سے سنا ہوتا
٭ ٭ ٭ ٭ ٭
آؤ حسنِ یار کی باتیں کریں
زلف کی رخسار کی باتیں کریں
زلفِ عنبر بار کے قصے سنائیں
طرۂ طرار کی باتیں کریں
پھول برسائیں بساط عیش پر
روزِ وصلِ یار کی باتیں کریں
نقدِ جاں لے کر چلیں اس بزم میں
مصر کے بازار کی باتیں کریں
ان کے کوچے میں جو گزری ہے کہیں
سایۂ دیوار کی باتیں کریں
آخری ساعتِ شب رخصت کی ہے
آؤ اب تو پیار کی باتیں کریں
٭ ٭ ٭ ٭ ٭
دشمن جوانیوں کی یہ آشنائیاں ہیں
ان آشنائیوں میں کیا کیا برائیاں ہیں
حسرت کہو کہ کس سے آنکھیں لڑائیاں ہیں
ہونٹوں پہ سرد آہیں منہ پہ ہوائیاں ہیں
یا دل ستانیاں تھیں اور مہربانیاں تھیں
یا کج ادائیاں ہیں یا بے وفائیاں ہیں
قسمت کی کیا شکایت تقدیر کا گلا کیا
جتنی برائیاں ہیں دل کی برائیاں ہیں
٭ ٭ ٭ ٭ ٭
کچھ شعر…
رات کی بات کا مذکور ہی کیا
چھوڑیئے رات گئی بات گئی
٭ ٭ ٭ ٭ ٭
قبول اس بارگہہ میں التجا کوئی نہیں ہوتی
الٰہی یا مجھی کو التجا کرنا نہیں آتا
٭ ٭ ٭ ٭ ٭
اس طرح کر گیا دل کو مرے ویراں کوئی
نہ تمنا کوئی باقی ہے نہ ارماں کوئی
٭ ٭ ٭ ٭ ٭
امید وصل نے دھوکے دئیے ہیں اس قدر حسرت
کہ اس کافر کی ہاں بھی اب نہیں معلوم ہوتی ہے
٭ ٭ ٭ ٭ ٭