امن، ترقی اور عوامی اعتماد کے تقاضے
جمہوریت کا حسن صرف انتخابات کے انعقاد میں نہیں بلکہ عوام کے اعتماد، انصاف کی فراہمی اور ترقی کے ثمرات کی منصفانہ تقسیم میں ہے۔
بلوچستان میں ایک ہفتے کے دوران سامنے آنے والے مختلف واقعات اور پیش رفتوں نے صوبے کی موجودہ تصویر کو کئی زاویوں سے واضح کردیا ہے۔ ایک طرف بلدیاتی ضمنی انتخابات کی تیاریاں جمہوری عمل کے تسلسل کی نوید دے رہی ہیں، دوسری جانب صوبائی اسمبلی میں بجٹ پر ہونے والی بحث وسائل، محرومیوں اور ترقیاتی ترجیحات کے حوالے سے سوالات اٹھا رہی ہے۔ اسی دوران جمعیت علمائے اسلام کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع، جنرل سیکرٹری مولانا آغا محمود شاہ اور جماعت اسلامی بلوچستان کے امیر مولانا ہدایت الرحمن بلوچ سمیت مختلف سیاسی رہنماؤں کی جانب سے بدامنی، بے روزگاری، احساسِ محرومی اور عوامی اعتماد کے بحران پر اٹھائی جانے والی آوازیں یاد دہانی ہیں کہ بلوچستان کا اصل مسئلہ صرف وسائل کی کمی نہیں بلکہ اعتماد، شمولیت اور مو ٔثر حکمرانی کا فقدان ہے۔ یہی متضاد حقائق آج بلوچستان کے مستقبل کا سب سے بڑا سوال بن کر سامنے کھڑے ہیں۔بلوچستان میں بلدیاتی ضمنی انتخابات کے انعقاد کی تیاریاں خوش آئند ہیں۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے 20 اضلاع میں ضمنی انتخابات کے انعقاد کیلئے انتظامات اور ریٹرننگ افسران کی حلف برداری اس بات کا ثبوت ہے کہ جمہوری عمل تسلسل کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے، تاہم صوبے میں انتخابات کی اصل کامیابی صرف پولنگ کے انعقاد میں نہیں بلکہ اس بات میں ہے کہ عوام نتائج پر اعتماد کریں۔ دوسری جانب بلوچستان اسمبلی میں مالی سال 2026-27 ء کے بجٹ پر ہونے والی بحث نے صوبے کے مسائل کو ایک مرتبہ پھر اجاگر کردیا ہے۔ رکن اسمبلی فضل قادر مندوخیل نے وفاقی وسائل کی کمی اور نامکمل ترقیاتی منصوبوں کا مسئلہ اٹھایا جبکہ ام کلثوم نیاز بلوچ نے وفاقی بجٹ میں بلوچستان کو نظر انداز کیے جانے پر تشویش ظاہر کی۔ اصغر علی ترین نے وفاقی حکومت کی جانب سے فنڈز میں کمی اور روزگار کے مواقع محدود ہونے کو صوبے کی پسماندگی کی بڑی وجہ قرار دیا۔ دوسری جانب صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں پیش کیے جانے والے بجٹ کا دفاع کرتے ہوئے اسے مشاورت اور گڈ گورننس کی بنیاد پر مرتب شدہ بجٹ قرار دیا۔وزیر اعلیٰ نے بجٹ کو عوامی فلاح و بہبود سے جوڑتے ہوئے صحت، تعلیم، صاف پانی، بہتر انفراسٹرکچر اور روزگار کے مواقع کو ترجیحی شعبے قرار دیا۔ یہ وہ بنیادی مسائل ہیں جن کا بلوچستان کے عوام طویل عرصے سے سامنا کر رہے ہیں۔ اگر بجٹ میں مختص وسائل شفافیت اور بہتر منصوبہ بندی کے ساتھ خرچ کیے جائیں تو عام شہری کی زندگی میں مثبت تبدیلی آئے گی۔ خاص طور پر نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا صوبے کے مستقبل کے لیے نہایت اہم ہے۔
ماضی میں ترقیاتی فنڈز کے غیر مو ٔثر استعمال اور منصوبوں میں تاخیر جیسے مسائل ترقی کی رفتار کو متاثر کرتے رہے ہیں۔ حکومت کا یہ عزم کہ وسائل کا شفاف اور مؤثر استعمال یقینی بنایا جائے گا، ترقیاتی منصوبوں کے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ بلوچستان پاکستان کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے جہاں ترقیاتی ضروریات دیگر صوبوں کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔ ایسے میں ایک ایسا بجٹ جو ترقی، عوامی فلاح اور معاشی استحکام کے تقاضوں کو پورا کرے مثبت پیش رفت ہے۔ حکومت نے نہ صرف موجودہ چیلنجز کو مدنظر رکھا ہے بلکہ مستقبل کی ضروریات کے لیے بھی جامع حکمت عملی اختیار کی ہے۔مجموعی طور پر یہ بجٹ عوامی توقعات، معاشی حقائق اور ترقیاتی ضروریات کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش نظر آتا ہے۔ اگر اس پرعملدرآمد کیا گیا تو یہ صوبے کی معیشت کو مستحکم کرے گا اور عوام کے معیارِ زندگی میں بہتری لائے گا۔ صوبائی سیاست میں بجٹ ہمیشہ محض مالی دستاویز نہیں رہا بلکہ یہ عوامی توقعات، علاقائی محرومیوں اور ترقیاتی ترجیحات کی عکاسی کرتا ہے۔ آج بھی بلوچستان کے اکثر اضلاع بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ پینے کا صاف پانی، صحت کی معیاری سہولیات، تعلیم، سڑکیں، زراعت، آبپاشی اور روزگار کے مواقع عوام کے بنیادی مطالبات ہیں۔ حکومت بجٹ کو عوام دوست قرار دیتی ہے لیکن اصل امتحان اس کے نفاذ کا ہے۔سیاسی منظرنامے میں جمعیت علمائے اسلام بلوچستان کے امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع اور جنرل سیکرٹری مولانا آغا محمود شاہ کے بیانات بھی غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے صوبے میں بدامنی، بے روزگاری،سیاسی انجینئرنگ اور عوامی مینڈیٹ سے متعلق خدشات کا اظہار کیا۔
اگرچہ حکومت ان الزامات سے اتفاق نہیں کرتی لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ عوامی اعتماد کی بحالی کیلئے تمام سیاسی قوتوں کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔جماعت اسلامی بلوچستان کے امیر مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے بھی مذاکرات، جرگوں اور سیاسی مکالمے کو مسائل کے حل کا راستہ قرار دیا ہے۔ ان کا مؤ قف ہے کہ سخت گیر پالیسیوں نے مسائل کو کم کرنے کے بجائے مزید پیچیدہ کیا ہے جبکہ پائیدار امن سیاسی مفاہمت، انصاف اور عوامی شمولیت کے ذریعے قائم ہوسکتا ہے۔بلوچستان جن چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے ان کا حل محض سیاسی نعروں، وقتی اعلانات یا ترقیاتی منصوبوں میں نہیں بلکہ ایک جامع حکمت عملی میں پوشیدہ ہے۔ صوبے کو ایسے سیاسی ماحول کی ضرورت ہے جہاں انتخابات پر اعتماد ہو، وسائل کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائی جائے، نوجوانوں کو روزگار اور تعلیم کے مواقع ملیں، سرمایہ کاری کے فوائد عوام تک پہنچیں اور قانون کی حکمرانی ہر سطح پر قائم ہو۔وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت، اپوزیشن، سیاسی جماعتیں، وفاق اور ریاستی ادارے بلوچستان کو صرف ایک انتظامی اکائی کے طور پر نہیں بلکہ پاکستان کے مستقبل کے ایک اہم ستون کے طور پر دیکھیں۔ اگر دستیاب مواقع سے دانشمندی کے ساتھ فائدہ اٹھایا گیا تو بلوچستان ترقی، امن اور خوشحالی کی مثال بن سکتا ہے لیکن اگر عوامی خدشات، سیاسی تحفظات اور معاشی محرومیوں کو نظر انداز کیا گیا تو یہ مواقع ضائع ہونے کا خطرہ ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے سمجھنا اور تسلیم کرنا جملہ سٹیک ہولڈرز کی ذمہ داری ہے۔