آزاد کشمیر انتخابات، سیاسی سرگرمیاں عروج پر

تحریر : محمد اسلم میر


آزاد جموں و کشمیر میں 27 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات کے لیے مسلم لیگ(ن)نے 45 میں سے دو خواتین سمیت 37 انتخابی حلقوں کے امیدواروں کو ٹکٹ جاری کردیئے ہیں جبکہ پیپلزپارٹی آئندہ چند روز میں اپنے امیدواروں کو ٹکٹ دے گی۔

پیپلزپارٹی تحریک انصاف کے فارورڈ بلاک کے اہم رکن قانون ساز اسمبلی و چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی عبد الماجد خان کو اپنے ساتھ ملانے میں کامیاب ہو گئی ہے۔ عبد الماجد خان مہاجرین مقبوضہ جموں و کشمیر کے حلقہ ویلی 6 خیبر پختونخواسے آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کا انتخاب مسلسل چار مرتبہ جیت چکے ہیں۔ 2021ء میں عبد الماجد خان پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ پر رکن قانون ساز اسمبلی منتخب ہو ئے تھے اور محکمہ ان لینڈ ریونیو کے ساتھ ساتھ وزیر خزانہ بھی رہے۔وہ 2006ء سے 2021ء تک آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس ، پیپلزپارٹی اور دو بار پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ پر منتخب ہو چکے ہیں۔ عبد الماجد خان کی شمولیت کے بعد پیپلزپارٹی مہاجرین مقبوضہ جموں و کشمیر مقیم پاکستان کی بارہ نشستوں میں سے کراچی اور خیبر پختونخوا کی دو نشستوں سے کامیابی حاصل کرسکتی ہے۔

دوسری جانب آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن میں مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے 1200 سے زائد امیدواروں نے گوشوارے جمع کرا دئیے ہیں۔ امیدواروں کی طرف سے کاغذات نامزدگی جمع کروانے کا سلسلہ بھی مکمل ہو چکا ہے۔ کل 1241 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے جن میں مہاجرین مقبوضہ جموں و کشمیر مقیم پاکستان کے بارہ انتخابی حلقوں سے 205 امیدوار بھی شامل ہیں۔ آزاد جموں و کشمیر کے میرپور ڈویژن سے 406 ، مظفر آباد ڈویژن سے 337 اور راولاکوٹ ڈویژن سے 294 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے۔ امیدواروں کی حتمی فہرست چار جولائی کو آویزاں کی جائے گی جبکہ پانچ جولائی کو الیکشن کمیشن آف آزاد جموں و کشمیر امیدواروں کو انتخابی نشانات جاری کرے گا۔ ان انتخابات میں مسلم لیگ (ن) ، پیپلزپارٹی ، آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس اور جماعت اسلامی سمیت کل 24 سیاسی و مذہبی جماعتیں حصہ لے رہی ہیں۔ کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے مختلف مراحل میں پیپلزپارٹی، مسلم لیگ( ن )، آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس اور جماعت اسلامی کے امیدوار زیادہ متحرک دکھائی دئیے ۔ کاغذات نامزدگی جمع کروانے کی تاریخ میں چار روزکی توسیع کے بعد 23 جون شام 5 بجے ختم ہوچکی ہے۔ مسلم لیگ (ن )کے صدر شاہ غلام قادر نے وادی نیلم کے دو انتخابی حلقوں، سابق وزیر اعظم تنویر الیاس نے اپر نیلم ، باغ اور راولاکوٹ کے حلقہ 5، مشتاق احمد منہاس نے باغ ، جماعت اسلامی کے امیر ڈاکٹر مشتاق احمد خان نے چکاراور جہلم ویلی، چوہدری محمد یاسین نے چڑہوئی اور کوٹلی شہر ، خواجہ فاروق نے مظفرآباد شہر ، وزیر اعظم فیصل ممتاز راٹھور نے حویلی، سابق وزیر اعظم چوہدری انوار الحق اور چوہدری طارق فاروق نے بھمبر سے کاغذات نامزدگی جمع کروا ئے۔

ادھر منگل کو محکمہ اطلاعات مظفر آباد میں چیف سیکرٹری آزاد جموں و کشمیر اور آئی جی پولیس نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ عوامی ایکشن کمیٹی راولاکوٹ دھرنے میں عورتوں اور بچوں کو ڈھال بنا کر بیٹھی ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے لیڈر خوفزدہ ہیں۔ عوامی ایکشن کمیٹی کے بیرون ملک کارکن پاکستان مخالف نعرے لگا رہے ہیں اور بھارت سے مدد مانگ رہے ہیں۔ آزاد جموں و کشمیر کی حکومت عوام کے حقوق کا تحفظ پہلے بھی کرتی رہی ہے اور آئندہ بھی امن و امان کے لیے تمام آئینی و قانونی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھائے گی اورکسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ عوامی ایکشن کمیٹی کے شرپسند عناصر عوام کو گمراہ کر کے اپنے مذموم مقاصد کیلئے استعمال کر رہے ہیں اور ان کے بعض رہنما ملک دشمن قوتوں کے ایجنڈے پر کارفرما ہیں۔قانون نافذ کرنے والے ادارے ان عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رکھیں گے۔

 چیف سیکرٹری نے حکومت پاکستان کی طرف سے آزاد جموں و کشمیر کو دی گئی سہولیات کے حوالے سے کہا کہ بجلی کا نرخ پونے تین روپے فی یونٹ ہونے سے قومی خزانے کو سالانہ 10 ارب روپے نقصان ہو رہا ہے۔ آٹے اور بجلی پر بھاری سبسڈی کے باعث حکومتی اخراجات اور مالی دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جبکہ سبسڈی پالیسی کے نتیجے میں حکومتی وسائل پر اضافی دباؤ ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزاد جموں وکشمیر میں آٹے کی قیمت علاقے میں کم رکھنے پر بازاروں میں منفی رجحانات سامنے آنے لگے اور سرکاری خزانے سے تقریباً 20 سے 25 ارب روپے حکومت پاکستان اور حکومت آزاد جموں و کشمیر کو اس پر خرچ کرنے پڑے۔ 

وفاقی حکومت آزاد جموں و کشمیر میں تعمیر و ترقی کیلئے اربوں روپے کے منصوبے دے رہی ہے اور ترقیاتی بجٹ پر کوئی کٹ نہیں لگایا گیا۔ وفاقی حکومت کی مالی مدد سے دو ارب 32 کروڑ روپے سے زائد لاگت سے تعمیر کی گئی آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کی عمارت اگلے چند ماہ میں مکمل ہوجائے گی۔ آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کی نئی عمارت قومی یکجہتی کی علامت کے طور پر ایک یاد گار ہو گی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

پاکستانی ثالثی کی فتح

اس سال فروری کے آخر میں شروع ہونے والی بڑی جنگ اپنے عروج پر تھی، ایک طرف امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر تباہ کن فضائی جاری تھے تو دوسری طرف اسرائیل پر ایران کے بیلسٹک میزائلوں کی بارش برس رہی تھی۔

چارٹر آف اکانومی پر پیش رفت کیوں نہیں ؟

سیاسی محاذ پر ڈائیلاگ کا عمل کیسے ممکن ہو گا؟

سیاست میں وقار اور بصیرت کی مثال

قیادت محض حالات کے دھارے میں بہنے کا نام نہیں بلکہ حالات کا رخ بدلنے اور مشکل حالات میں راستہ نکالنے کی صلاحیت کا نام ہے۔

کے پی کے بجٹ ناراض اراکین کی ایک نہ چلی

بجٹ منظور نہ کرنے کی دھمکی،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پر سہولت کاری کے الزامات اوربانی پی ٹی آئی کی رہائی تک بجٹ کے بائیکاٹ کے اعلانات ،پی ٹی آئی کے ناراض ارکین کے تمام دعوے دھرے رہ گئے اور بجٹ نہ صرف منظور کرلیاگیا بلکہ اس پر بحث بھی محض برائے نام ہی ہوئی ۔

امن، ترقی اور عوامی اعتماد کے تقاضے

جمہوریت کا حسن صرف انتخابات کے انعقاد میں نہیں بلکہ عوام کے اعتماد، انصاف کی فراہمی اور ترقی کے ثمرات کی منصفانہ تقسیم میں ہے۔

ڈیجیٹل سیفٹی اورپرائیویسی ۔۔۔ آن لائن اپنا تحفظ کیسے کریں؟

ڈیجیٹل دور نے ہماری زندگیوں کو بے حد آسان بنا دیا ہے۔ آج موبائل فون، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نہ صرف رابطے کا ذریعہ ہیں بلکہ تعلیم، کاروبار، معلومات اور اظہارِ رائے کے لیے بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔