آج کا پکوان:حلیم

تحریر : منیرا کرن


اجزا:گائے کا گوشت (بغیر ہڈی کے): 1 کلو،گندم: 1 کپ،مونگ کی دال: آدھا کپ،چنے کی دال: چوتھائی کپ، مسور کی دال: چوتھائی کپ،پیاز: 2 عدد (درمیانے سائز کے)

ادرک لہسن کا پیسٹ: 2 چمچ،ہلدی: 1 چائے کا چمچ،لال مرچ پاؤڈر: 1 چمچ،دھنیا پاؤڈر: 1 چائے کا چمچ،گرم مصالحہ: 1 چائے کا چمچ،نمک: حسبِ ذائقہ،تیل: حسبِ ضرورت،پودینہ، ہرا دھنیا، ادرک اور لیموں (گارنش کیلئے)۔

ترکیب:گوشت کو ادرک لہسن کے پیسٹ، ہلدی، لال مرچ، دھنیا پاؤڈر، گرم مصالحہ اور نمک کے ساتھ پانی میں ڈال کر گلنے تک  ابال لیں۔گندم اور دالوں کو الگ الگ برتنوں میں پانی ڈال کر نرم ہونے تک ابال لیں۔ابلے ہوئے گوشت کو دالوں اور گندم کے ساتھ مکس کر لیں۔اس مکسچر کو اچھی طرح گھوٹ لیں جب تک کہ یہ یکجان نہ ہو جائے اور ایک گاڑھا پیسٹ نہ بن جائے۔پیاز کو تیل میں اچھی طرح براؤن کر کے حلیم پر ڈال دیں۔تیار حلیم کو پودینہ، ہرا دھنیا، ادرک اور لیموں سے گارنش کریں۔

متنجن

اجزا:سیلہ چاول: آدھا کلو (دو گھنٹے بھیگے ہوئے)،چینی: آدھا کلو یا حسبِ ذائقہ ،گھی: ایک کپ ،اشرفی مربے: حسبِ ضرورت، الائچی: چارسے پانچ عدد ،فوڈ کلر: زردہ، سرخ اور ہرا رنگ (چائے کا ایک چوتھائی چمچ)،خشک میوہ جات: بادام، پستہ،ناریل، کشمش ۔

ترکیب: کھلے برتن میں پانی ابالیں اور اس میں چاول ڈال کر ایک کنی (80 فیصد تک) ابال لیں۔ پانی نچوڑ کر الگ رکھ دیں۔ایک پین میں گھی گرم کر کے الائچی کا تڑکا لگائیں۔ پھر اس میں چینی اور آدھا کپ پانی ڈال کر شیرہ تیار کریں۔ ابلے ہوئے چاول شیرے میں شامل کریں اور پانی خشک ہونے تک پکائیں۔ جب پانی بالکل تھوڑا رہ جائے تو الگ الگ رنگوں کو تھوڑے سے پانی یا دودھ میں گھول کر چاولوں پر ڈالیں۔ ساتھ ہی تمام خشک میوہ جات بھی شامل کر دیں۔ہلکی آنچ پر 15 سے 20 منٹ کے لیے دم پر رکھ دیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

ڈیجیٹل سیفٹی اورپرائیویسی ۔۔۔ آن لائن اپنا تحفظ کیسے کریں؟

ڈیجیٹل دور نے ہماری زندگیوں کو بے حد آسان بنا دیا ہے۔ آج موبائل فون، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نہ صرف رابطے کا ذریعہ ہیں بلکہ تعلیم، کاروبار، معلومات اور اظہارِ رائے کے لیے بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

گرمیوں میں جلد اور بالوں کی تازگی کیسے برقرار رکھیں؟

گرمیوں کا موسم اپنے ساتھ تیز دھوپ، پسینہ، گرد و غبار اور حبس لے کر آتا ہے۔ یہ تمام عوامل نہ صرف ہماری جلد بلکہ بالوں اور جسمانی تازگی پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔

چراغ حسن حسرت :اردو کے جید ادیب اور صحافی

71ویں برسی:انہوں نے اپنے دل نشیں اسلوب نگارش سے صحافتی تحریروں کو بھی ادبی حسن دیا: وہ ایک بلند مرتبہ شاعر بھی تھے ۔ ان کے کئی شعر ضرب المثل کی طرح زبان زد خاص و عام ہیں‘ ان کے متعدد علمی و ادبی کام اور تراجم بھی ایک امتیازی شان رکھتے ہیں:ان کی صحافتی تحریروں اور کاوشوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا‘ان تحریروں میں ایک شان ہے اوریہ ادب کا مستقل حصہ ہیں

فکر ِ فیض و اقبالؒ میں مطابقت کے گوشے

اقبال کوفیض کا پیش رو کہا جاسکتا ہے مگر فیض نے اقبال کی تقلید صرف برائے شعر گفتن نہ کی بلکہ کئی اشعار ایسے بھی سامنے آتے ہیں جن کی توسیع اپنے عہد کے تناظر میں کر کے اقبال کے ساتھ اپنے تعلق کا عملی اظہار بھی کیا ہے۔اقبال کی نظم ’’تصویرِدرد ‘‘کا ایک شعر دیکھیے :

فیفا ورلڈ کپ 2026:کھلاڑیوں کی جاندار پرفارمنس ،شاندار مقابلے

48 ٹیموں کو 12گروپوں میں تقسیم کیا گیا،104 میچ کھیلے جائیں گے

علم کے موتی

پرانے زمانے کی بات ہے، ایک تاجر تجارت کی غرض سے بغداد پہنچا۔ پچھلے وقتوں میں تجارت کا یہ قانون تھا کہ تاجر جس ملک میں تجارت کرنے جاتا، سب سے پہلے وہاں کے بادشاہ سے ملاقات کرتا، اپنا سارا سامان تجارت دکھاتا اور اس کی خوبیوں اور انفرادیت سے آگاہ کرتا تھا۔