گرمیوں میں جلد اور بالوں کی تازگی کیسے برقرار رکھیں؟

تحریر : عروج فاطمہ


گرمیوں کا موسم اپنے ساتھ تیز دھوپ، پسینہ، گرد و غبار اور حبس لے کر آتا ہے۔ یہ تمام عوامل نہ صرف ہماری جلد بلکہ بالوں اور جسمانی تازگی پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔

 اگر اس موسم میں اپنی مناسب دیکھ بھال نہ کی جائے تو جلد آئلی ہو جاتی ہے، دانے نکل آتے ہیں، بال بے جان اور چکنے نظر آنے لگتے ہیں اور جسمانی تازگی بھی متاثر ہوتی ہے۔ چند آسان احتیاطی تدابیر سے گرمیوں کے منفی اثرات سے بڑی حد تک بچا جا سکتا ہے۔

بالوں پر خصوصی توجہ

گرمیوں میں پسینہ زیادہ آنے کی وجہ سے بال جلدی گندے اور چکنے ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس موسم میں بالوں کی صفائی معمول سے زیادہ ضروری ہو جاتی ہے۔ بالوں کو باقاعدگی سے دھونا نہ صرف انہیں صاف رکھتا ہے بلکہ سر میں جمع ہونے والی گرد و غبار کو بھی دور کرتا ہے۔اگر بال جلد چکنے ہو جاتے ہوں تو ہلکے کنڈیشنر کا استعمال مفید ثابت ہوتا ہے۔ اسی طرح بھاری سٹائلنگ جیل اور دیگر مصنوعات سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ یہ گرد و غبار کو اپنی طرف زیادہ کھینچتی ہیں۔ اگر بالوں کی سٹائلنگ ضروری ہو تو ہلکے سپرے کا استعمال بہتر انتخاب ہے۔ڈرائی شیمپو بھی گرمیوں میں ایک مفید سہولت ہے۔ یہ بالوں کی اضافی چکنائی جذب کرکے انہیں تازہ اور صاف دکھانے میں مدد دیتا ہے۔ اگر ڈرائی شیمپو دستیاب نہ ہو تو ٹالکم پاؤڈر بھی عارضی طور پر یہی کام انجام دے سکتا ہے۔

جلد کی صفائی اور نمی برقرار رکھنا

گرم موسم کا سب سے زیادہ اثر چہرے پر پڑتا ہے۔ سورج کی تپش، پسینہ اور آلودگی جلد کو متاثر کرتے ہیں جس کے نتیجے میں چہرے پر چکنائی، دانے اور دھبے نمودار ہونے لگتے ہیں۔ اس لیے روزانہ سکن کیئر روٹین اپنانا ناگزیر ہے۔جلد کی صفائی کے لیے ایسا کلینزر استعمال کرنا چاہیے جو جلد کی نوعیت کے مطابق ہو۔ چکنی جلد والے افراد لیکوئڈ صابن یا فیس واش استعمال کر سکتے ہیں جبکہ خشک جلد کے لیے کلینزر کریم زیادہ موزوں ہے۔ جلد کی صفائی کا مقصد صرف میک اپ ہٹانا نہیں بلکہ ڈیڈ سیلز اور اضافی آئل کو بھی دور کرنا ہے۔فیشل ٹونر بھی گرمیوں میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ یہ جلد کو تازگی بخشتا ہے اور اضافی آئل کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ گرمیوں میں موئسچرائزر کی ضرورت نہیں ہوتی حالانکہ یہ ایک غلط تصور ہے۔ جلد کو صحت مند اور نرم رکھنے کے لیے ہلکا موئسچرائزر ضرور استعمال کرنا چاہیے۔

جسمانی تازگی اور خوشبو 

گرمیوں میں جسمانی صفائی اور تازگی پر خصوصی توجہ دینا ضروری ہے۔ روزانہ نہانا صرف صفائی ہی نہیں بلکہ جسم کو تازگی اور سکون بھی فراہم کرتا ہے۔ شاور کے دوران باڈی واش استعمال کرنے سے جلد صاف اور خوشبودار رہتی ہے۔پسینے کی ناگوار بو سے بچنے کے لیے نہانے کے بعد ڈیوڈورنٹ یا اینٹی پرسپیرنٹ کا استعمال مفید ثابت ہوتا ہے۔ تاہم اسے لگانے سے پہلے جلد کا مکمل خشک ہونا ضروری ہے۔ اس کے بعد پسندیدہ باڈی سپرے استعمال کیا جا سکتا ہے تاکہ دن بھر تازگی کا احساس برقرار رہے۔پیروں کی صفائی بھی اہم ہے کیونکہ گرمیوں میں پسینہ زیادہ آنے سے بدبو پیدا ہو سکتی ہے۔ کاٹن کی جرابوں کا استعمال اور پیروں پر ڈیوڈورنٹ سپرے کرنا اس مسئلے کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔

گرمیوں میں میک اپ اور سفر ی احتیاط

گرمیوں میں میک اپ کو دیرپا اور خوبصورت رکھنے کیلئے چند اصولوں پر عمل ضروری ہے۔ فاؤنڈیشن لگانے سے پہلے موئسچرائزر کی زیادہ مقدار استعمال نہ کریں کیونکہ اس سے میک اپ جلد خراب ہو سکتا ہے۔ کریم بیسڈ مصنوعات کے بجائے پاؤڈر بیسڈ کاسمیٹکس کا انتخاب زیادہ مناسب رہتا ہے کیونکہ یہ گرمی اور پسینے میں زیادہ دیر تک قائم رہتے ہیں۔اسی طرح میک اپ لگاتے وقت انگلیوں کے بجائے برش اور اسپنج کا استعمال بہتر نتائج دیتا ہے۔ اگر آپ سفر پر جا رہی ہیں تو اپنے بیگ میں ویٹ وائپس، گیلے ٹشوز اور واٹر ریفریشنگ سپرے ضرور رکھیں۔ یہ اشیا چہرے اور جسم کو فوری تازگی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ گرمی کے اثرات کو کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ گرمیوں میں خوبصورتی کا راز مہنگی مصنوعات میں نہیں بلکہ باقاعدہ صفائی، مناسب دیکھ بھال اور صحت مند عادات میں پوشیدہ ہے۔ اگر روزمرہ زندگی میں چند آسان اصول اپنا لیے جائیں تو شدید گرمی کے باوجود جلد، بال اور جسمانی تازگی کو برقرار رکھا جا سکتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

ڈیجیٹل سیفٹی اورپرائیویسی ۔۔۔ آن لائن اپنا تحفظ کیسے کریں؟

ڈیجیٹل دور نے ہماری زندگیوں کو بے حد آسان بنا دیا ہے۔ آج موبائل فون، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نہ صرف رابطے کا ذریعہ ہیں بلکہ تعلیم، کاروبار، معلومات اور اظہارِ رائے کے لیے بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

آج کا پکوان:حلیم

اجزا:گائے کا گوشت (بغیر ہڈی کے): 1 کلو،گندم: 1 کپ،مونگ کی دال: آدھا کپ،چنے کی دال: چوتھائی کپ، مسور کی دال: چوتھائی کپ،پیاز: 2 عدد (درمیانے سائز کے)

چراغ حسن حسرت :اردو کے جید ادیب اور صحافی

71ویں برسی:انہوں نے اپنے دل نشیں اسلوب نگارش سے صحافتی تحریروں کو بھی ادبی حسن دیا: وہ ایک بلند مرتبہ شاعر بھی تھے ۔ ان کے کئی شعر ضرب المثل کی طرح زبان زد خاص و عام ہیں‘ ان کے متعدد علمی و ادبی کام اور تراجم بھی ایک امتیازی شان رکھتے ہیں:ان کی صحافتی تحریروں اور کاوشوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا‘ان تحریروں میں ایک شان ہے اوریہ ادب کا مستقل حصہ ہیں

فکر ِ فیض و اقبالؒ میں مطابقت کے گوشے

اقبال کوفیض کا پیش رو کہا جاسکتا ہے مگر فیض نے اقبال کی تقلید صرف برائے شعر گفتن نہ کی بلکہ کئی اشعار ایسے بھی سامنے آتے ہیں جن کی توسیع اپنے عہد کے تناظر میں کر کے اقبال کے ساتھ اپنے تعلق کا عملی اظہار بھی کیا ہے۔اقبال کی نظم ’’تصویرِدرد ‘‘کا ایک شعر دیکھیے :

فیفا ورلڈ کپ 2026:کھلاڑیوں کی جاندار پرفارمنس ،شاندار مقابلے

48 ٹیموں کو 12گروپوں میں تقسیم کیا گیا،104 میچ کھیلے جائیں گے

علم کے موتی

پرانے زمانے کی بات ہے، ایک تاجر تجارت کی غرض سے بغداد پہنچا۔ پچھلے وقتوں میں تجارت کا یہ قانون تھا کہ تاجر جس ملک میں تجارت کرنے جاتا، سب سے پہلے وہاں کے بادشاہ سے ملاقات کرتا، اپنا سارا سامان تجارت دکھاتا اور اس کی خوبیوں اور انفرادیت سے آگاہ کرتا تھا۔