کے پی کے بجٹ ناراض اراکین کی ایک نہ چلی
بجٹ منظور نہ کرنے کی دھمکی،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پر سہولت کاری کے الزامات اوربانی پی ٹی آئی کی رہائی تک بجٹ کے بائیکاٹ کے اعلانات ،پی ٹی آئی کے ناراض ارکین کے تمام دعوے دھرے رہ گئے اور بجٹ نہ صرف منظور کرلیاگیا بلکہ اس پر بحث بھی محض برائے نام ہی ہوئی ۔
جس طریقے سے اپوزیشن نے اس بجٹ میں اپنا کردار ادا کیا ہے اس کی مثال نہیں ملتی ۔اس سے زیادہ فرینڈلی اپوزیشن شاید ہی پی ٹی آئی کی کسی حکومت کو ملی ہو۔دلچسپ بات یہ ہے کہ جس وقت بجٹ پیش ہورہاتھا، صرف اپوزیشن سے تعلق رکھنے والی خواتین ایم پی ایز ہی احتجاج کرتی نظر آئیں ۔اپوزیشن لیڈر کا کردار ان تمام مراحل کے دوران بہت محدود رہا۔ انہوں نے محض اسمبلی میں ایک تقریر کی اور روایت کے مطابق بجٹ پیش کئے جانے کے بعد روایتی پریس کانفرنس سے گریز کیا۔وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور پارٹی قیادت کو زیادہ خوف ناراض اراکین کی جانب سے تھا جنہوں نے بجٹ اجلاس سے قبل چائے کی پیالی میں طوفان اٹھایاہواتھا،کبھی کہاجارہاتھا کہ ناراض ارکین کی تعداد65ہے تو کبھی کہاجارہاتھا کہ یہ تعداد 40 ہے ۔کچھ ناراض ارکین سامنے بھی آئے اور انہوں نے بجٹ کی منظوری کو بانی پی ٹی آئی کی رہائی سے مشروط کرنے کی کوشش کی مگر اس میں انہیں کامیابی نہیں ملی ۔ اس تمام مرحلے میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اگرچہ مشکل میں نظرآئے لیکن وہ کسی نہ کسی طرح اس گرداب سے نکل ہی آئے ۔کہاجارہاتھا کہ وہ کمزور وزیراعلیٰ ہیں جن کی پارٹی اور حکومتی اراکین پر گرفت کمزور ہے، یہ کسی حد تک صحیح بھی ہے لیکن اس کے باوجود وہ بجٹ کی منظوری کے ساتھ بعض ناراض اراکین کو بھی اپنے ساتھ کھڑا کرنے اور تصاویر بنوانے میں کامیاب رہے۔
بعض ناراض اراکین کی جانب سے بلند بانگ دعوے کئے گئے۔ پشاور سے تعلق رکھنے والے چند ایم پی ایز اس میں پیش پیش تھے۔ ان میں سے کچھ نے تو وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے سامنے سرینڈر کردیااور کچھ اسمبلی میں تقاریر کے دوران اپنے مؤقف بدلتے نظرآئے ۔ان کے لہجے کی تبدیلی سے بھی یہ بات عیاں ہوگئی کہ انہیں وہ سپورٹ نہیں مل سکی جس کے وہ خواہاں تھے ۔اگرچہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی مشکل کی اس گھڑی سے نکل آئے ہیں لیکن یقینا اس کی کچھ نہ کچھ قیمت انہیں چکانی پڑی ہوگی ۔ناراض اراکین اپنے مقصد میں تو کامیاب نہیں ہوسکے لیکن ان میں سے کچھ کیلئے یہ صورتحال زیادہ فائدہ مند رہی جو بانی پی ٹی آئی کی رہائی کیلئے بجٹ کی منظوری تو مؤخر نہیں کرواسکے لیکن اپنے حلقوں کیلئے مختلف ترقیاتی سکیمیں ضرور اے ڈی پی میں ڈلوانے میں کامیاب رہے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اس سے قبل اس طرف اشارہ بھی کرچکے تھے کہ ناراض اراکین کچھ لوکچھ دو کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں اور ان کی یہ بات درست ثابت ہوئی ۔
بجٹ کے حوالے سے بات کی جائے تو وفاقی بجٹ ہو یا صوبائی یہ محض الفاظ کا گورکھ دھندا ہوتا ہے۔ اس بجٹ میں بھی ہندسوں کا جادو دکھایاگیا ہے اور عوام کیلئے ریلیف برائے نام ہی ہے ۔اس بجٹ کو خسارے کا بجٹ کہاگیا ہے لیکن اپوزیشن کے مطابق یہ بھی سرپلس بجٹ ہی ہے۔اپوزیشن کے جانب سے یہ اعتراض بھی اٹھایاجارہا ہے کہ جس وقت ضلعی حکومتیں موجود تھیں تو اس وقت بجٹ میں ان کیلئے فنڈز نہیں رکھے جاتے تھے، اب جب ضلعی حکومتیں ختم ہوگئی ہیں تو 50 ارب روپے مختص کردیئے گئے ہیں ۔پرانے منصوبے تو مکمل نہیں ہوئے لیکن اے ڈی پی میں نئے منصوبے شامل کردیئے گئے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اربوں روپے کے بعض منصو بوں کیلئے بجٹ میں کروڑوں نہیں بلکہ لاکھوں میں رقوم مختص کی گئی ہیں۔ اپوزیشن کی جانب سے ان منصوبوں کی نشاندہی کی گئی ہے اور کہاگیا ہے کہ جس مقدار میں رقم مختص کی گئی ہے اس حساب سے یہ منصوبے کئی دہائیوں میں بھی مکمل نہیں ہوسکتے ۔یہی اعتراض حکومتی بنچوں کی جانب سے بھی اٹھایا گیا ۔یوں لگ رہاہے کہ بعض اراکین اسمبلی کو خوش کرنے کیلئے یہ منصوبے اے ڈی پی میں شامل کئے گئے ہیں تاکہ ان کا منہ بند کیاجاسکے ۔ماضی میں بھی ایسا ہوتا رہاہے لیکن اس بار اپوزیشن کے ساتھ ناراض اراکین نے اس کی نشاندہی کی ہے ۔حکومتی اراکین کایہ بھی کہنا ہے کہ بجٹ میں پارٹی کے طاقت رہنماؤں کو نوازا گیا ہے جس کی ایک مثال ہزارہ ڈویژن کی ہے جس کیلئے 200 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جبکہ صوبائی دارالحکومت پشاور کیلئے 120 ارب روپے ۔
پی ٹی آئی کے رہنما عمر ایوب اور سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی کا تعلق ہزارہ سے ہے ۔پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ خزانہ پر ہزارہ سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں کا دباؤ تھا،ویسے بھی سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی کی جانب سے ناراض اراکین اسمبلی کو رام کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی مگرجنوبی اضلاع کو ایک بارپھر نظرانداز کردیاگیا۔ قبائلی اضلاع کے عوام تو ہر بار ہی محروم رہ جاتے ہیں ،جہاں زندگی کی بنیادی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ بجٹ اجلاس کے دوران قبائلی اضلاع سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی کی جانب سے یہ شکوہ بھی سامنے آیا کہ وزیراعلیٰ ان کا فون اٹھانے کی زحمت نہیں کرتے حالانکہ خود اُن کا تعلق بھی قبائلی ضلع سے ہے ۔سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور بھی بجٹ سیشن کے دوران متحرک نظر آئے ان کی تقریر پر سب کی نظر تھی۔ کہاجارہاتھا کہ شاید ان کی جانب سے کچھ بڑے اعلانات کئے جائیں۔ ان کی تقریر میں اشارتاً صوبائی حکومت بالخصوص وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پر تنقید تو تھی لیکن زیادہ تر ان کی تقریر کا محور بانی پی ٹی آئی کی رہائی سے متعلق ہی رہا۔بجٹ پیش کرنے سے قبل جو تاثر دیاجارہاتھا کہ شاید ناراض اراکین کچھ بڑا کرنے جارہے ہیں تو ایسا کچھ نہیں ہوسکا۔ان سطور میں پہلے بھی کہاگیاتھا کہ پی ٹی آئی کے اراکین بلاشبہ ناراض ہیں لیکن وہ پارٹی کی گائیڈ لائین کے خلاف جائیں گے تو انہیں اپنے حلقے میں مشکل کا سامنا کرناپڑسکتا ہے ۔
بجٹ کی منظوری کے باوجود وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی مشکلات آسان نہیں ہوئی ہیں ۔ابھی مشکل مراحل باقی ہیں وفاق کو صوبائی حکومت کی جانب سے سو ارب روپے سے زائد دینے کاجووعدہ کیاگیا ہے وہ بھی پورا کیاجانا ہے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے یہ گرانٹ اگرچہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات سے مشروط کی ہے لیکن بجٹ کی منظوری کی طرح انہیں یہ گرانٹ بھی چاہتے ہوئے یا نہ چاہتے ہوئے بھی دینا پڑے گی۔ اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو اس سے ان کی پارٹی کے اندر مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اگر بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرلیتے ہیں تو یہ نہ صرف ان کی بڑی کامیابی ہوگی بلکہ اس بات کا بھی امکان ہے کہ وہ ان کو کسی نہ کسی طرح قائل کرلیں گے۔ اگرایسا ہوجاتا ہے تو ان کی مشکلات کافی کم ہوسکتی ہیں اور پارٹی کے اندر ان کے مخالف گروہ کو پسپائی اختیارکرنی پڑ سکتی ہے۔