اہل علم کی اخلاقی ذمہ داریاں

تحریر : مفتی ڈاکٹرمحمدکریم خان


اہل علم کیلئے ضروری ہے کہ تقویٰ اختیار کریں اور ہر خاص وعام کو نصیحت کریں، لوگوں کی توہین نہ کریں، انہیں عزت دیں تاکہ ان کی عزت ہو

اللہ تعالیٰ جل جلالہ نے انسانیت کی تخلیق کے ساتھ ہی اس کی سب سے بڑی شان علم کا اظہار فرشتوں کے سامنے کروایا تاکہ اس کی عظمت کا سب کو پتہ چل جائے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل علم کو جو عزت و شان عطا کی ہے، اس کیلئے اس نے حدود و قیود بھی بیان کی ہیں تاکہ وہ اپنی رفعتِ شان کے مطابق دنیاوی زندگی گزاریں اور عام لوگوں کیلئے نمونہ حیات بنیں۔ ان کا کردار و عمل چونکہ دوسروں کیلئے مشعلِ راہ ہے، اس لیے ان کو روزمرہ کے معاملات میں انتہائی احتیاط اور خصوصی تدابیرکی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے بارے میں قرآن و حدیث کی تعلیمات کے علاوہ مسلم مفکرین نے بہت کچھ لکھا اور بیان کیا ہے۔ اس مضمون میں اختصارکے ساتھ امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ علیہ کی ہدایات و وصایا کو بیان کیا جاتا ہے، جو وہ اپنے شاگردوں اور متعلقین کو کیا کرتے تھے۔ اس حوالے سے ان کی ایک خاص وصیت و نصیحت جو انہوں نے اپنے شاگرد امام ابو یوسفؒ کو کی تھی۔اس وصیت میں امام ابوحنیفہؒ نے امام ابویوسفؒ کو بتایا کہ لوگوں کے ساتھ کس طرح معاملہ کیا جائے۔ یہ وصیت موقف مکی کی ’’مناقب ابی حنیفہ‘‘ میں، صاحب الفتاویٰ بزازیہ کی مناقب میں اور ابن نجیم کی ’’الاشباہ و النظائر ‘‘میں منقول ہے۔ اس میں امام اعظم ؒنے انہیں اچھے انداز اور حکیمانہ اسلوب میں لوگوں کے ساتھ معاملہ کی تلقین کی ہے۔ اس وصیت میں علمی مراکز اور علماء کیلئے ہدایت، توفیق اور تعلیم و تعلم کے راستے ہیں۔ 

بادشاہ، امراء اور وزراء کے ساتھ تعلق

بادشاہوں، امراء اور وزراء سے کس طرح تعلق رکھنا چاہیے اس بارے میں امام ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں،بادشاہ کی قدر ومنزلت کرنا، اس کے سامنے جھوٹ بولنے سے پرہیز کرنا اور علمی ضرورت کے بغیر ہر وقت اور ہر حال میں اس کے پاس مت جایا کرنا۔ اگر تم بار بار جائوگے تو تمہاری قدر اس کی نگاہ میں کم ہو جائے گی۔ اس کے سامنے بہت زیادہ بات کرنے سے پرہیز کرنا ۔ اس کے پاس ایسے وقت مت جائو جب کوئی ایسے اہل علم بیٹھے ہوں جنہیں تم نہیں جانتے۔ اگر تم ان سے کم مرتبہ میں ہو گے تو اس پر بڑا بننے کا خیال پیدا ہو گا، جس سے تمہیں نقصان پہنچے گا اور اگر ان سے زیادہ علم تمہارے پاس ہوگا تو ممکن ہے تمہارے وقار کو ٹھیس پہنچے۔

عوام کے ساتھ رویہ

عام لوگوں سے محتاط رویہ رکھنے سے متعلق امام اعظمؒ فرماتے ہیں، عوام کے پوچھے گئے مسائل کے علاوہ ان سے بلا ضرورت بات چیت نہ کیا کرو، عوام الناس اور تاجروں سے علمی باتوں کے علاوہ دوسری باتیں نہ کیا کرو کہ ان کو تمہاری محبت ورغبت میں مال کالالچ نظر نہ آئے۔عام لوگوں کے سامنے ہنسنے اور زیادہ مسکرانے سے باز رہو ، بازار میں بکثرت نہ جایا کرو ۔ راستے پر نہ بیٹھا کرو اور اگر بیٹھنے کا دل چاہے تو مسجد میں بیٹھا کرو۔ ریشمی کپڑے اورزیورات نہ پہنو۔

امورِ زندگی کی ترتیب

زندگی کے معمولات کے بارے میں امام اعظمؒ فرماتے ہیں،پہلے علم حاصل کرو، پھر حلال دولت کمائو پھر شادی کرو۔ اگر تعلیم حاصل کرنے کے زمانے میں مال کے پیچھے پڑوگے تو علم کی سعادت سے محروم ہو جائو گے۔ علم حاصل کرنے سے پہلے شادی کرنے سے بچنا،اس سے تمہارا وقت برباد ہو گا، بچوں کی بھیڑ لگ جائے گی پھر تم ان کی ضرورت پوری کرنے میں لگ جائو گے اور علم سیکھنا چھوڑ دو گے۔

سیرت وکردارکے آداب

ایک کامیاب انسان وہ کہا جائے گا جس کی سیرت میں شفافیت، کردار واخلاق میں عمدگی ہو گی۔ حلم و برد باری اور زہد و تقویٰ کا پیکر ہو گا، سیرت و کردارکے بارے میں فرماتے ہیں، تمہارے لیے یہ ضروری ہے کہ تقویٰ اختیار کرو اور ہر خاص وعام کو نصیحت کرو۔ لوگوں کی توہین نہ کرو، انہیں عزت دو تاکہ وہ تمہاری عزت کریں۔ جب ان کے ساتھ رہوتو دینی مسائل کاتذکرہ کرو، کیوں کہ اگر تمہارا ہمنشیں علم دوست ہوگا تو اس میں دلچسپی لے گا اور اگر علم دوست نہیں ہوگا ،تو آئندہ تمہارے ساتھ بیٹھنے سے اجتناب کرے گا۔اگر کوئی عام اور بازاری شخص بحث کرے تو اس سے بحث مت کرو ،کیوں کہ اس سے تمہاری عزت چلی جائے گی۔حق بیان کرنے سے کبھی اور کسی کے سامنے پیچھے نہ ہٹو ، اگرچہ وہ سلطان ہی کیوں نہ ہو۔ دوسرے لوگوں سے زیادہ عبادت کرو۔

آدابِ زندگی

زندگی کے دوسرے آداب سے متعلق امام ابویوسفؒ کو تلقین کرتے ہوئے فرماتے ہیں، اگربادشاہ تمہیں کوئی ایسی ذمہ داری دینا چاہے جو تمہارے لیے مناسب ہو تو اسے اس وقت تک قبول نہ کرو، جب تک کہ تمہیں یہ معلوم نہ ہوجائے کہ اس نے تمہارے علم کی وجہ سے یہ ذمہ داری تمہیں سونپی ہے۔چلنے کے دوران سکون اور اطمینان سے چلو اور امورِ زندگی کی ادائیگی میں زیادہ جلدبازی مت کرو۔گفتگو کے وقت چیخ و پکارسے اجتناب کرو،زیادہ ہنسنے سے پرہیز کرو،ہرمعاملہ میں سنجیدگی اوروقارکامظاہرہ کرو تاکہ لوگوں کے دلوں میں تمہاری جگہ بن جائے۔ اپنے لیے نماز کے بعد کچھ وظائف مقرر کرلو، جس میں قرآن کی تلاوت کرو، اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو، اس کی بخشی ہوئی نعمتوں کا شکریہ ادا کرو اور صبر ورضا کا اظہار کرو۔ ہر مہینے میں کچھ دن روزوں کیلئے خاص کر لو، لوگوں کے درمیان جب رہو تو اللہ تعالیٰ کا ذکر کثرت سے کرو ،تاکہ لوگ تم سے اس خوبی کو حاصل کرلیں۔اپنے نفس کا محاسبہ کرتے رہو ،اور اپنے علم کی حفاظت کرتے رہو ،تاکہ تمہاری دنیا و آخرت سنورسکے۔ 

آدابِ وعظ ونصیحت

دین کی تبلیغ واشاعت اور وعظ وتذکیر بھی بہت ساری احتیاطی تدابیر کا متقاضی ہے کہ ان کے بغیر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا اہم کام کامیابی سے ہمکنار نہ ہوگا،بہ صورت دیگراس کا نتیجہ اُلٹا برآمد ہوگا، اس بارے میں امام اعظم ابو حنیفہؒ فرماتے ہیں:غلطیوں میں لوگوں کی پیروی مت کرو، ہاں اچھائیوں میں ان کی پیروی ضرور کرو۔اگرکسی شخص کی برائی کاتمہیں علم ہوجائے تو اس کاذکر نہ کرو ،بلکہ اسے اچھی بات بتاؤ، اگر تم بادشاہِ وقت میں خلاف ِعلم یا خلافِ دین کوئی بات دیکھو تو اس کی فرمانبرداری کے اندر رہتے ہوئے آگاہ کردو۔کسی بدعتی کی صحبت اختیار نہ کرو، ہاں دعوت وتبلیغ کی محفل میں ضرور شریک رہا کرو۔ لعن طعن اور گالی گلوج سے پرہیز کرو۔ موذن اذان دے تو عوام سے قبل مسجد آنے کی تیاری کرو تاکہ عام لوگ تم سے پہلے مسجدنہ پہنچ سکیں۔

اخلاق حسنہ سے متعلق وصیت

اخلاق حسنہ سے متعلق  اہم اور بے حد ضروری امور کی طرف اشارہ کرتے ہوئے امام اعظم فرماتے ہیں: کنجوسی(بخل) سے بچنے کی کوشش کرو ، لالچی اوردروغ گو نہ بنو، اپنی شرافت اورمروت کاخیال کرو،ہروقت سفیدلباس استعمال کیا کرو۔حوصلہ مندرہاکرو کیوں کہ جس کا حوصلہ پست ہوجاتا ہے، اس کی منزل بھی کم ہوجاتی ہے۔راستے پرچلتے وقت دائیں بائیں توجہ نہ کرو بلکہ ہمیشہ زمین کی جانب نظر رکھو۔

اپنی نیک دعاؤں میں مجھے مت بھولنا،میری ان نصیحتوں کو یاد رکھنامیں نے صرف اس لیے تمہیں یہ نصحیت اوروصیت کی ہے کہ اس میں تمہارافائدہ ہے اور تمام مسلمانوں کافائدہ ہے۔(الاشباہ والنظائر،  ج1، ص367-372)

امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ علیہ کی مذکورہ وصیت و نصیحت میں تمام اہل علم کیلئے زندگی گزارنے کے سنہری اصول بیان ہوئے ہیں۔ عصر حاضر کے علماء وعوام کوان پرعمل کرناچاہیے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

بھوکوں کو کھانا کھلانا، عظیم اسلامی فریضہ

نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ’’بہترین صدقہ یہ ہے کہ تو کسی بھوکے کوپیٹ بھر کھانا کھلائے‘‘(حدیث مبارکہ) ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے سوال کیا کہ سب سے افضل اسلام کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایاکھانا کھلانا، ہر شخص کو سلام کرنا خواہ تم اسے پہچانتے ہو یا نہ پہچانتے ہو (بخاری، مسلم) ’’ بیوہ اور مسکین کی مدد کیلئے دوڑ دھوپ کرنے والا ایسا ہے جیسے جہاد فی سبیل اللہ میں دوڑ دھوپ کرنے والا‘‘(حدیث)

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی خلافت

آپ ؓ کا شمار جلیل القدر صحابہ کرام ؓ میں ہوتا ہے

مسائل اور ان کا حل

کاسٹک سوڈا کا استعمال سوال :کیاصفائی کرنے والی اشیا میں کاسٹک سوڈا کا استعمال جائز ہے؟(سرفرازحمید کراچی)

سندھ طاس معاہدہ اسلام آباد میں بڑی بیٹھک

بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل کرکے پاکستان کے حصے کے دریاؤں پر آبی جارحیت کرنا چاہ رہا ہے اور چناب سمیت دیگر دریاؤں پر نئے آبی منصوبوں کو تیز کر رہا ہے ۔

سنگین جرائم کے خلاف مجوزہ بل، سپیکر کے تحفظات یا اختلافات؟

گزشتہ دنوں پنجاب میں عادی مجرموں اور سماج مخالف رویوں کی روک تھام کے لیے مجوزہ قانون سازی اہم ایشو بن گئی۔

اختلاف رہے مگر جمہوریت کمزور نہ ہو

کراچی میں رینجرز کیمپ پر حملے نے سب کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ واقعے میں شہادتیں بھی ہوئی ہیں، کچھ دہشت گرد جہنم واصل ہوئے اور ایک دہشت گرد زخمی حالت میں پکڑا گیاجس نے نہ صرف اپنے جرم کا اعتراف کیا بلکہ یہ بھی بتایا کہ اس کا تعلق افغانستان سے ہے۔