فیفا ورلڈ کپ 2026 سنسنی خیز مرحلےمیں داخل
رائونڈ آف32 اختتام پذیر:پہلے ناک آئوٹ مرحلہ میں میسی ،صلاح اور ڈیاز نمایاں رہے ،رائونڈ آف 16 کا آغاز
سنسنی خیز مقابلوں، غیرمتوقع اپ سیٹ اور آخری لمحات میں کیے گئے فیصلہ کن گولز سے بھرپور پانچ دن جاری رہنے کے بعد فیفا ورلڈ کپ 2026ء کا ’’راؤنڈ آف 32‘‘ اختتام کو پہنچ گیا، جس کے ساتھ ہی دنیا کی بہترین16 ٹیموں نے اگلے مرحلے، یعنی ’’راؤنڈ آف 16‘‘ کیلئے اپنی جگہ پکی کر لی۔ اس مرحلے نے نہ صرف شائقین کو یادگار لمحات سے محظوظ کیا بلکہ یہ بھی ثابت کر دیا کہ جدید فٹ بال میں کسی بھی ٹیم کو معمولی نہیں سمجھا جا سکتا، کیونکہ نسبتاً کمزور سمجھی جانے والی کئی ٹیموں نے عالمی طاقتوں کو سخت مقابلے پر مجبور کر دیا۔
’’راؤنڈ آف 32‘‘ کے دوران کئی دلچسپ اور ڈرامائی مقابلے دیکھنے میں آئے۔ کچھ میچوں کا فیصلہ پنالٹی شوٹ آؤٹ پر ہوا، جبکہ کئی مقابلوں میں آخری لمحوں کے گولز نے نتیجہ بدل دیا۔ ان مقابلوں نے ورلڈ کپ کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے یہ ثابت کیا کہ ناک آؤٹ مرحلے میں معمولی سی غلطی بھی کسی مضبوط ٹیم کے خواب چکناچور کر سکتی ہے۔
دفاعی چیمپئن ارجنٹائن کی نظریں ایک بار پھر اپنے سپر اسٹار لیونل میسی پر مرکوز رہیں، جن سے شائقین کو غیرمعمولی کارکردگی کی توقع تھی۔ میسی ورلڈ کپ کے اب تک کے سب سے زیادہ اسکورر ہیں اور ٹورنامنٹ میں 30 میچ کھیلنے والے پہلے کھلاڑی بن گئے ہیں۔میسی نے ورلڈ کپ 2026ء میں کئی ریکارڈ اپنے نام کئے ہیں۔ وہ ٹورنامنٹ میں لگاتار سات میچوں میں گول کرنے والے پہلے کھلاڑی بن کر فٹ بال کی تاریخ رقم کر چکے ہیں۔
اسی طرح مصر کے محمد صلاح بھی اپنی ٹیم کیلئے امید کی کرن بنے رہے، جبکہ کولمبیا کے لوئس ڈیاز نے اپنی برق رفتار دوڑ، مہارت اور جارحانہ کھیل سے مداحوں کی بھرپور داد سمیٹی۔ ان عالمی شہرت یافتہ کھلاڑیوں کی موجودگی نے ٹورنامنٹ کی کشش میں مزید اضافہ کیا۔
اس مرحلے میں کئی حیران کن نتائج بھی سامنے آئے۔ بعض روایتی مضبوط ٹیمیں توقعات کے مطابق کارکردگی نہ دکھا سکیں، جبکہ نسبتاً کم تجربہ رکھنے والی ٹیموں نے شاندار کھیل پیش کرکے ثابت کیا کہ عالمی فٹ بال کا معیار مسلسل بلند ہو رہا ہے۔ افریقی، ایشیائی اور شمالی امریکی ٹیموں کی بہتر کارکردگی نے بھی اس حقیقت کو اجاگر کیا کہ اب ورلڈ کپ صرف یورپی اور جنوبی امریکی طاقتوں تک محدود نہیں رہا۔
’’رائونڈ آف 32‘‘ میں 32 ٹیمیں مد مقابل تھیں جن میں سے 16 ٹیموں نے ’’رائونڈ آف 16‘‘ کیلئے کوالیفائی کیا ہے۔رائونڈ آف 32کے پہلے میچ میں کینیڈا نے جنوبی افریقہ کو شکست دی۔ دوسرے میچ میں جاپان برازیل سے ہارنے کے بعد ٹورنامنٹ سے باہر ہوا۔ تیسرا میچ جرمنی اور پیرا گوئے کامقررہ وقت میں ایک ایک گول سے برابر رہا، فیصلہ پنالٹی شوٹ آئوٹ پر ہوا،اور پیراگوئے نے جرمنی کو ہرا کر اگلے مرحلے کیلئے کوالیفائی کیا۔چوتھے میچ میں مراکش نے نیدرلینڈ کو شکست دی۔ پانچویں میچ میں ناروے فاتح رہا۔ چھٹے میچ میں فرانس نے سویڈن کو، ساتویں میچ میں میکسیکو نے ایکواڈور کو، آٹھویں میچ میں انگلینڈ نے کانگو کوشکست دی۔نویں میچ میں سینیگال بیلجیئم سے ہار کر ٹورنامنٹ سے باہر ہو گیا۔ دسویں میچ میں امریکہ نے بوسنیا کو شکست دے کر ورلڈکپ سے باہر کر دیا۔گیارہویں میچ میں سپین فاتح رہا، اس نے آسٹریا کو شکست دی، بارہویں میچ میں کروشیا کے مقابلے پر پرتگال فاتح رہا۔تیرہویں میچ میں سوئٹزرلینڈنے الجیریا کو شکست دی۔ چودہویں میچ میں آسٹریلیا مصر سے ہارنے کے بعد ٹورنامنٹ سے باہر ہو گیا۔ پندرہویں میچ میں ارجنٹائن جبکہ سولہویں میچ میں کولمبو فاتح رہا۔
ر اؤنڈ آف 32 کے اختتام کے ساتھ ہی اب راؤنڈ آف 16 کے مقابلوں کا آغاز ہو گا، جہاں ہر میچ ایک فائنل کی حیثیت اختیار کر جائے گا۔ اس مرحلے میں شکست کا مطلب ٹورنامنٹ سے فوری اخراج ہوگا، لہٰذا تمام ٹیمیں اپنی بہترین حکمت عملی اور مضبوط ترین لائن اپ کے ساتھ میدان میں اتریں گی۔ شائقین کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا بڑے نام اپنی برتری برقرار رکھ پائیں گے یا پھر کوئی نئی ٹیم تاریخ رقم کرتے ہوئے عالمی فٹ بال میں اپنی شناخت مضبوط کرے گی۔
فیفا ورلڈ کپ 2026ء اب اپنے فیصلہ کن مراحل میں داخل ہو چکا ہے، جہاں ہر گول، ہر بچاؤ اور ہر لمحہ تاریخ کا حصہ بن سکتا ہے۔ یہی غیر یقینی کیفیت، غیرمعمولی مقابلہ آرائی اور دنیا کے بہترین کھلاڑیوں کی موجودگی اس عالمی ایونٹ کو دنیا کا سب سے مقبول اور سنسنی خیز کھیلوں کا میلہ بناتی ہے۔ آنے والے دنوں میں مقابلے مزیددلچسپ اور اعصاب شکن ہونے کی توقع ہے، اور دنیا بھر کے کروڑوں شائقین ایک نئے عالمی چیمپئن کی تاج پوشی کا بے چینی سے منتظر ہیں۔
’’رائونڈ آف 16‘‘
1986ء سے 2022ء تک ہونے والے ہر فیفا ورلڈ کپ میں ’’راؤنڈ آف 16‘‘ ناک آؤٹ مرحلے کا پہلا دور ہوتا تھا۔ گروپ مرحلے سے 16 ٹیمیں آگے بڑھتی تھیں اور اپنا پہلا ناک آؤٹ میچ کھیلتی تھیں۔ تاہم 2026ء کے ورلڈ کپ میں یہ روایت بدل گئی ہے۔ اب ’’راؤنڈ آف 32‘‘ کو ناک آؤٹ مرحلے کے آغاز کے طور پر شامل کیا گیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ’’راؤنڈ آف 16‘‘ تک پہنچنے والی ہر ٹیم پہلے ہی ایک ناک آؤٹ مقابلہ جیت چکی ہوگی۔
اس نئے فارمیٹ کا واضح مطلب یہ ہے کہ ’’راؤنڈ آف 16‘‘ میں نظر آنے والی ہر ٹیم حقیقی معنوں میں سخت مقابلوں سے گزر کر یہاں پہنچی ہے۔ اس مرحلے تک رسائی حاصل کرنے والی ہر ٹیم کم از کم ایک ناک آؤٹ میچ میں فتح حاصل کر کے اپنی اہلیت ثابت کر چکی ہے، اس لیے گروپ مرحلے کی نسبت یہاں کسی بھی ٹیم کیلئے آسان راستہ باقی نہیں رہے گا۔
راؤنڈ آف 16 کے بعد ٹورنامنٹ کا ڈھانچہ وہی ہوگا جس سے فٹ بال کے مداح واقف ہیں، یعنی آٹھ میچ کھیلے جائیں گے، جن کے آٹھ فاتح کوارٹر فائنل میں جگہ بنائیں گے۔
ایمباپے کے نئے ریکارڈ اور ہالینڈ کی گول اسکورنگ کا طوفان
فیفا ورلڈ کپ 2026ء کے ناک آؤٹ مرحلے میں کئی یادگار مقابلوں کے ساتھ ساتھ انفرادی کارکردگیوں نے بھی شائقین کو متاثر کیا ہے۔ خاص طور پر فرانس کے سپر اسٹار کیلیان ایمباپے ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ راؤنڈ آف 32 میں شاندار کھیل پیش کرتے ہوئے انہوں نے نہ صرف اپنی ٹیم کو اگلے مرحلے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا بلکہ عالمی کپ کی تاریخ میں ایک اور سنگ میل بھی عبور کر لیا۔
ایمباپے نے اس ایونٹ کے دوران اپنے مجموعی ورلڈ کپ گولز کی تعداد کے اعتبار سے ارجنٹائن کے عظیم فٹ بالر لیونل میسی کو پیچھے چھوڑ دیا، جبکہ ایک اور اہم اعزاز اپنے نام کرتے ہوئے پرتگال کے سپر اسٹار کرسٹیانو رونالڈو کا ریکارڈ بھی توڑ دیا۔مسلسل عالمی سطح پر عمدہ کارکردگی نے انہیں موجودہ دور کے کامیاب ترین فٹ بالرز میں شامل کر دیا ہے، اور ماہرین کا خیال ہے کہ اگر ان کی یہی فارم برقرار رہی تو وہ ورلڈ کپ کے کئی مزید تاریخی ریکارڈ بھی اپنے نام کر سکتے ہیں۔
فرانس کے مائیکل اولیزے بھی ٹورنامنٹ کی نمایاں شخصیات میں شامل ہو گئے ہیں۔ ان کی مؤثر کارکردگی کے باعث وہ برازیل کے عظیم لیجنڈ پیلے کے ایک اہم ورلڈ کپ ریکارڈ سے صرف ایک قدم کے فاصلے پر پہنچ چکے ہیں۔ اگر اولیزے آئندہ میچ میں بھی اپنی کارکردگی کا یہی تسلسل برقرار رکھتے ہیں تو وہ فٹ بال کی تاریخ کے عظیم ترین ناموں میں شمار ہونے والے پیلے کے اس تاریخی سنگ میل کی برابری یا اسے عبور کر سکتے ہیں۔
دوسری جانب ناروے کے اسٹار اسٹرائیکر ارلنگ ہالینڈ نے اپنی غیرمعمولی گول اسکورنگ صلاحیت کا ایک اور ثبوت پیش کیا ہے۔ انہوں نے صرف 13 بین الاقوامی میچوں میں 25 گول کر کے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ موجودہ دور کے سب سے خطرناک فارورڈز میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے ناروے کو ٹورنامنٹ میں ایک مضبوط حریف بنا دیا ہے۔