حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی خلافت

تحریر : ڈاکٹر مفتی سید اطہر علی


آپ ؓ کا شمار جلیل القدر صحابہ کرام ؓ میں ہوتا ہے

اسلامی تاریخ کا دور خلافت راشدہ اُمت مسلمہ کیلئے اتحاد، عدل اور شوریٰ کا روشن نمونہ ہے۔ تاہم حضرت عثمان بن عفان ؓ کی شہادت کے بعد رونما ہونے والے اختلافات نے اسلامی ریاست کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا۔ انہی حالات کے تسلسل میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان ؓ کے بعد یزید بن معاویہ کی خلافت کا مسئلہ سامنے آیا، جس پر اکابر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان مختلف آراء پائی گئیں۔ حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ ان جلیل القدر صحابہ کرام ؓ میں شامل تھے جنہوں نے یزید کی بیعت نہیں کی۔ بعدازاں حالات کے بدلنے پر حجاز اور متعدد اسلامی علاقوں کے اہل حل و عقد نے ان کے ہاتھ پر بیعت کی، جس کے نتیجے میں آپ ؓ کی خلافت قائم ہوئی۔

تعارف

 حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ کا شمار جلیل القدر صحابہ کرام ؓ میں ہوتا ہے۔ آپ ؓ کے والد حضرت زبیر بن عوام ؓ عشرہ مبشرہ میں شامل تھے، جبکہ والدہ حضرت اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہا تھیں، جو حضرت ابوبکر صدیق  ؓ کی صاحبزادی تھیں۔ اس اعتبار سے آپ ؓ حضرت صدیق اکبر ؓکے نواسے اور اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بھانجے تھے۔ آپؓ ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں پیدا ہونے والے پہلے مہاجر بچے تھے۔ اس موقع پر اللہ کے رسولﷺ نے آپ ؓ کو اپنی گود میں لیا، کھجور چبا کر آپ ؓ کے منہ میں رکھی۔ آپ ؓ بچپن ہی سے عبادت، شجاعت، سخاوت، صبر اور حق گوئی میں ممتاز تھے۔ نبی کریم ﷺ کے وصال کے بعد آپؓ نے خلفائے راشدین کے ادوار میں اہم خدمات انجام دیں اور مختلف اسلامی فتوحات میں بھی شریک رہے۔ زہد و عبادت کی وجہ سے آپؓ کو اپنے زمانے کے عابد ترین افراد میں شمار کیا جاتا تھا۔

یزید کی نامزدگی اور

 صحابہ کرامؓ کا موقف

حضرت معاویہؓ نے اپنی زندگی کے آخری دور میں یزید بن معاویہ کو اپنا جانشین نامزد کیا اور مختلف علاقوں سے اس کیلئے بیعت لی۔ بعض اکابر صحابہ کرامؓ نے اس معاملے میں توقف یا اختلافِ رائے کا اظہار کیا۔ ان میں حضرت حسین بن علی، حضرت عبداللہ بن زبیر، حضرت عبدالرحمن بن ابو بکر اور بعض دیگر جلیل القدر صحابہ رضی اللہ عنہم شامل تھے۔ حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ کا رجحان اس جانب تھا کہ خلیفہ کے انتخاب میں اہلِ شوریٰ کی رائے کو بنیادی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔ اہل سنت کے محققین نے اس اختلاف کو صحابہ کرامؓ کے باہمی اجتہادات میں شمار کیا ہے۔

یزید کی بیعت سے انکار

60 ہجری میں حضرت معاویہ ؓ کی وفات کے بعد یزید بن معاویہ نے مدینہ کے گورنر حضرت ولید بن عتبہ کو ہدایت کی کہ ممتاز شخصیات سے بیعت لی جائے۔ حضرت عبداللہ بن زبیرؓ نے بیعت کرنے کے بجائے خاموشی سے مکہ مکرمہ کا رخ کیا۔ آپؓ نے وہاں قیام اختیار کیا اور حالات کے واضح ہونے کا انتظار کیا۔ 

واقعہ کربلا کے بعد اسلامی 

دنیا کے حالات

61 ہجری میں حضرت حسین بن علیؓ کی شہادت اسلامی تاریخ کا نہایت المناک واقعہ ہے۔ اس سانحے کے بعد اسلامی دنیا میں شدید اضطراب پیدا ہوا۔ مختلف علاقوں میں سیاسی حالات بدلنے لگے اور بہت سے لوگوں کی توجہ حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کی طرف ہوئی، جو اس وقت مکہ مکرمہ میں مقیم تھے۔ آپؓ نے  مسلمانوں کے اتحاد کو پیش نظر رکھا اور اپنے موقف کو تحمل اور وقار کے ساتھ پیش کیا۔

 خلافت

64 ہجری میں یزید بن معاویہ کی موت کے بعد اموی حکومت عارضی طور پر کمزور ہو گئی۔ اس دوران حجاز، یمن، عراق، خراسان اور بعض دیگر علاقوں کے اہل حل و عقد نے حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ اس طرح آپؓ کی خلافت قائم ہوئی، جسے اسلامی دنیا کے ایک بڑے حصے میں عملاً تسلیم کیا گیا۔ آپؓ نے مکہ مکرمہ کو دارالخلافہ بنایا اور قرآن و سنت کے مطابق حکومت چلانے کی کوشش کی۔ بیت المال، عدل، قضاء اور نظم حکومت میں سادگی اور دیانت آپؓ کی نمایاں خصوصیات تھیں۔

 طرزِ حکومت

آپ کی راتوں کا بیشتر حصہ نماز میں گزرتا، قرآن کریم کی تلاوت آپؓ کا معمول تھی اور عوام کے حقوق کی ادائیگی میں انتہائی محتاط تھے۔ آپؓ عدل و انصاف کو حکومت کی بنیاد سمجھتے تھے۔ گورنروں کو تقویٰ اور دیانت کی تلقین کرتے اور بیت المال کو مسلمانوں کی امانت قرار دیتے تھے۔ سیاسی معاملات میں بھی آپ ؓ نے شوریٰ کو اہمیت دی اور اہلِ علم و فضل سے مشورہ لینے کا اہتمام فرمایا۔

شہادت

جب عبدالملک بن مروان کی حکومت مستحکم ہوئی تو اس نے حجاج بن یوسف کو حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کے مقابلے کیلئے روانہ کیا۔ مکہ مکرمہ کا محاصرہ کئی ماہ جاری رہا۔ حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ نے ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا اور اپنی والدہ حضرت اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہا سے مشورہ کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ اگر تم حق پر ہو تو ثابت قدم رہو۔آخرکار 73 ہجری میں آپ  ؓ میدانِ جنگ میں شہید ہو گئے۔ 

خلاصہ کلام

حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ کی زندگی صبر، استقامت، عبادت، شجاعت اور اصول پسندی کا روشن نمونہ ہے۔ آپ ؓ نے ہر مرحلے پر دین، تقویٰ اور اپنی اجتہادی ذمہ داری کو مقدم رکھا۔ آپ ؓ کی سیرت یہ درس دیتی ہے کہ اختلافِ اجتہاد کے باوجود مسلمانوں کے اکابر کا احترام برقرار رکھنا چاہیے اور تاریخی واقعات کا مطالعہ تعصب کے بجائے تحقیق اور انصاف کے ساتھ کرنا چاہیے۔آپ ؓ کی خلافت اسلامی تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

بھوکوں کو کھانا کھلانا، عظیم اسلامی فریضہ

نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ’’بہترین صدقہ یہ ہے کہ تو کسی بھوکے کوپیٹ بھر کھانا کھلائے‘‘(حدیث مبارکہ) ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے سوال کیا کہ سب سے افضل اسلام کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایاکھانا کھلانا، ہر شخص کو سلام کرنا خواہ تم اسے پہچانتے ہو یا نہ پہچانتے ہو (بخاری، مسلم) ’’ بیوہ اور مسکین کی مدد کیلئے دوڑ دھوپ کرنے والا ایسا ہے جیسے جہاد فی سبیل اللہ میں دوڑ دھوپ کرنے والا‘‘(حدیث)

اہل علم کی اخلاقی ذمہ داریاں

اہل علم کیلئے ضروری ہے کہ تقویٰ اختیار کریں اور ہر خاص وعام کو نصیحت کریں، لوگوں کی توہین نہ کریں، انہیں عزت دیں تاکہ ان کی عزت ہو

مسائل اور ان کا حل

کاسٹک سوڈا کا استعمال سوال :کیاصفائی کرنے والی اشیا میں کاسٹک سوڈا کا استعمال جائز ہے؟(سرفرازحمید کراچی)

سندھ طاس معاہدہ اسلام آباد میں بڑی بیٹھک

بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل کرکے پاکستان کے حصے کے دریاؤں پر آبی جارحیت کرنا چاہ رہا ہے اور چناب سمیت دیگر دریاؤں پر نئے آبی منصوبوں کو تیز کر رہا ہے ۔

سنگین جرائم کے خلاف مجوزہ بل، سپیکر کے تحفظات یا اختلافات؟

گزشتہ دنوں پنجاب میں عادی مجرموں اور سماج مخالف رویوں کی روک تھام کے لیے مجوزہ قانون سازی اہم ایشو بن گئی۔

اختلاف رہے مگر جمہوریت کمزور نہ ہو

کراچی میں رینجرز کیمپ پر حملے نے سب کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ واقعے میں شہادتیں بھی ہوئی ہیں، کچھ دہشت گرد جہنم واصل ہوئے اور ایک دہشت گرد زخمی حالت میں پکڑا گیاجس نے نہ صرف اپنے جرم کا اعتراف کیا بلکہ یہ بھی بتایا کہ اس کا تعلق افغانستان سے ہے۔