کینگروز کا سپن کے جال سے شکار
گرین شرٹس کی ہوم گرائونڈ پر تاریخی فتح:گرین شرٹس نے مسلسل تیسری ون ڈے سیریز اپنے نام کر کے تاریخ رقم کر دی
پاکستانی کرکٹ ٹیم کیلئے حالیہ چند ماہ کسی بھی طور آسان نہیں رہے۔ ماضی قریب میں بنگلہ دیش کے خلاف ہوم گرائونڈ پر ون ڈے اور ٹیسٹ سیریز میں مایوس کن کارکردگی اور پھر ٹی 20 ورلڈ کپ میں ناقص پرفارمنس نے ملک بھر کے کرکٹ شائقین کو مایوسی کیا۔ ٹیم کا مورال ڈائون ہو چکا تھا اور نوجوان سکواڈ دبائو کا شکار تھا۔
ایسے تاریک پس منظر میں مہمان آسٹریلوی ٹیم کا دورہ پاکستان کسی کڑے امتحان سے کم نہ تھا، تاہم گرین شرٹس نے تمام تر تنقید اور دبائو پس پشت ڈالتے ہوئے ہوم گرائونڈ کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور مہمان کینگروز کو ون ڈے سیریز میں شکست دے کر مسلسل تیسری ون ڈے سیریز اپنے نام کر کے ایک تاریخی کامیابی حاصل کی۔ یہ فتح محض ایک سیریز کی جیت نہیں ہے بلکہ یہ پاکستانی کرکٹ ٹیم اور کروڑوں مداحوں کیلئے جشن کا ایک ایسا بڑا موقع لے کر آئی ہے جس کی انہیں طویل عرصے سے تلاش تھی۔یہ کامیابی ٹیم کا مورال بلند کرنے اور کھلاڑیوں کے اعتماد کو بحال کرنے میں ایک اہم ٹانک کا کام کرے گی، جس کی اس نوجوان سکواڈ کو مستقبل کے بڑے اور کٹھن چیلنجز سے نمٹنے کیلئے اشد ضرورت تھی۔
سیریز کا آغاز راولپنڈی کرکٹ سٹیڈیم سے ہوا، جہاں روایتی طور پر بیٹنگ کیلئے سازگار پچ کی توقع کی جا رہی تھی، لیکن انتظامیہ نے ہوم ایڈوانٹیج اٹھاتے ہوئے سپنرز کیلئے مددگار پچ تیار کی۔ پاکستان نے اس پہلے ون ڈے میچ میں شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے آسٹریلیا کو 5 وکٹوں سے شکست دے کر سیریز میں 1-0 کی برتری حاصل کر لی۔ دوسرے میچ کیلئے دونوں ٹیمیں قذافی سٹیڈیم لاہور منتقل ہوئیں، جہاں دوسرے میچ میں آسٹریلوی ٹیم نے زبردست کم بیک کیا اورپاکستان کو 41 رنز سے شکست دے کر سیریز کا پلڑا 1-1 سے برابر کر دیا۔ اب سب کی نظریں قذافی سٹیڈیم لاہور میں ہی کھیلے جانے والے تیسرے اور فیصلہ کن میچ پر ٹکی ہوئی تھیں، اس فائنل معرکے کیلئے پچ کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا گیا اور ایک سپننگ ٹریک تیار کیا گیا۔ آسٹریلوی ٹیم اس پچ کے مزاج کو سمجھنے میں مکمل ناکام رہی اور پوری ٹیم ریت کی دیوار ثابت ہوئی۔ پاکستان نے آسٹریلیا کی جانب سے دیا گیا 158 رنز کا کم ہدف محض6 وکٹوں کے نقصان پر باآسانی حاصل کر لیا، اور یوں سیریز 2-1 سے اپنے نام کر لی۔
اگرچہ سیریز میں فتح نے پاکستانی شائقین کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیر دیں، لیکن کھیل کے حلقوں اور کرکٹ ماہرین کے درمیان ایک نئی اور گرم بحث نے جنم لے لیا ہے۔ پاکستان کا یہ فیصلہ کہ ہوم سیریز کیلئے غیر معمولی طور پر سپنرز کیلئے انتہائی مددگار پچز تیار کی جائیں، خاصا حیران کن اور متنازع قرار دیا جا رہا ہے۔ اس بحث کی سب سے بڑی وجہ اگلے سال یعنی 2027ء میں جنوبی افریقہ، زمبابوے اور نمیبیا میں ہونے والا آئی سی سی ون ڈے ورلڈ کپ ہے۔ کرکٹ کا ہر ماہر جانتا ہے کہ جنوبی افریقہ کی پچز اپنی تیز رفتاری، غیر معمولی بائونس اور سیم موومنٹ کیلئے جانی جاتی ہیں، جہاں سپنرز کا کردار انتہائی محدود ہوتا ہے۔ ایسے میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا جنوبی افریقہ کی تیز اور بائونسی پچز پر ہونے والے ورلڈ کپ کی تیاری کے سلسلے میں ہوم گرائونڈ پر ایسی پچز بنانا درست حکمتِ عملی تھی یا نہیں؟
آسٹریلیا کے خلاف ہوم گرائونڈ پر حاصل کی گئی یہ فتح بلاشبہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے چہروں پر رونق واپس لے آئی ہے اور اس سے نوجوان کھلاڑیوں کا کھویا ہوا اعتماد بحال ہوا ہے۔ عرفات منہاس جیسے ٹیلنٹ کا سامنے آنا اور شاہین شاہ آفریدی کا تاریخی ریکارڈ بنانا پاکستان کرکٹ کے مثبت پہلو ہیں۔ لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ اور سلیکٹرز کو اس عارضی جشن کے سحر سے باہر نکل کر حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔صرف ہوم ایڈوانٹیج اٹھانے کیلئے ’’رینک ٹرنرز‘‘بنا کر آسٹریلیا کو ہرا دینا کافی نہیں ہے، کیونکہ 2027ء کا ون ڈے ورلڈ کپ جنوبی افریقہ کی تیز اور بائونسی پچوں پر کھیلا جانا ہے۔ اگر پاکستان نے ابھی سے اپنے بلے بازوں کو فاسٹ بولنگ اور بائونسی ٹریکس پر کھیلنے کی عادت نہ ڈالی، اور ہوم گرائونڈز پر فاسٹ بولرز کیلئے سازگار پچز تیار نہ کیں، تو ورلڈ کپ جیسے بڑے سٹیج پر ٹیم کو دوبارہ بنگلہ دیش اور ٹی 20 ورلڈ کپ جیسی مایوسی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مستقبل کی منصوبہ بندی دور اندیشی اور پچوں کے عالمی معیار کو مدنظر رکھ کر کی جائے۔
بہترین بولرز
سیریز کے بہترین گیند بازوں کی بات کی جائے تو پاکستان کے فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی نے سپن پچز ہونے کے باوجود اپنی کلاس دکھائی اور پوری سیریز میں مجموعی طور پر 85 رنز دے کر 7 اہم وکٹیں حاصل کیں۔ ان کے ساتھ ساتھ نوجوان سپن آل رائونڈر عرفات منہاس نے بھی اپنی جادوئی سپن کا لوہا منوایا اور 86 رنز کے عوض 7 وکٹیں اپنے نام کیں۔ دوسری جانب آسٹریلیا کے نیتن ایلس نے 118 رنز دے کر 7 وکٹیں حاصل کیں، اور یوں یہ تینوں بولرز وکٹوں کی دوڑ میں برابر رہے۔
بہترین بلے باز
بلے بازی کے شعبے میں اگرچہ رنز بنانا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا، لیکن کچھ اننگز انتہائی شاندار رہیں۔ آسٹریلوی مڈل آرڈر بلے باز جوش انگلس پوری سیریز میں مجموعی طور پر 129 رنز بنا کر سب سے کامیاب بلے باز رہے۔ پاکستان کے سٹار بیٹر اور سابق کپتان بابر اعظم نے کٹھن حالات میں بہترین مزاحمت کی اور 125 رنز کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے، جبکہ غازی غوری نے تکنیک کا عمدہ مظاہرہ کرتے ہوئے 110 رنز بنا کر تیسری پوزیشن حاصل کی۔
بہترین انفرادی اننگز
انفرادی اننگز کے لحاظ سے دیکھا جائے تو فیصلہ کن اور مشکل ترین حالات میں کھیلی گئی اننگز زیادہ اہم رہیں۔ پاکستان کے مڈل آرڈر اور تجربہ کار آل رائونڈر شاداب خان نے سیریز کی بہترین انفرادی اننگز کھیلی، انہوں نے3 فلک شگاف چھکے اور ایک چواکا لگاتے ہوئے 71 رنز کی جارحانہ اور قیمتی اننگز کھیلی۔ بابر اعظم نے ایک اور میچ میں مینیجنگ اننگز کھیلتے ہوئے 1 چھکے اور 4 چوکوں کی مدد سے 69 رنز بنائے اور دوسرے نمبر پر رہے۔ نوجوان غازی غوری نے بھی دبائو کی صورتحال میں بہترین بیٹنگ کی اور 8 چوکوں کی مدد سے 65 رنز کی باری کھیل کر تیسری بہترین انفرادی اننگز کا اعزاز پایا۔
کپتان شاہین شاہ آفریدی کا تاریخی اور منفرد اعزاز
پاکستان کے بائیں ہاتھ کے اسٹار فاسٹ بائولر اور موجودہ کپتان شاہین شاہ آفریدی نے آسٹریلیا کے خلاف اس ون ڈے سیریز کے دوران ایک ایسا منفرد اور تاریخی اعزاز اپنے نام کیا جو دنیا کے بڑے بڑے بائولرز اور کپتانوں کے حصے میں نہیں آ سکا۔
شاہین شاہ آفریدی پاکستان کرکٹ کی تاریخ میں ون ڈے انٹرنیشنل کے اندر بطور کپتان میچ یا اننگز کی پہلی ہی گیند پر وکٹ حاصل کرنے والے تیسرے کپتان بن گئے ہیں۔لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ میں شاہین شاہ آفریدی نے روایتی جارحانہ انداز میں بولنگ کا آغاز کیا اور آسٹریلیا کے خطرناک اوپنر الیکس کیری کو پہلی ہی گیند پر آئوٹ کر کے یہ تاریخی کارنامہ انجام دیا۔ الیکس کیری شاہین کی آف سائیڈ سے باہر جاتی ہوئی سوئنگ گیند کو کھیلنے کی کوشش میں دھوکہ کھا گئے اور اپنی وکٹ گنوا بیٹھے۔ اس یادگار کامیابی کے ساتھ ہی شاہین شاہ آفریدی نے پاکستان کے دو عظیم سابق کپتانوں اور دنیا کے لیجنڈری فاسٹ بولرز وسیم اکرم اور وقار یونس کی ایلیٹ فہرست میں اپنی جگہ بنا لی ہے۔
اگر ماضی کے ریکارڈز پر نظر دوڑائی جائے تو اس سے قبل پاکستان کے عظیم کپتان وسیم اکرم نے 1993ء میں کراچی کے نیشنل سٹیڈیم میں زمبابوے کے خلاف میچ کی پہلی گیند پر ان کے مایہ ناز بلے باز اینڈی فلاور کو آئوٹ کر کے یہ اعزاز پایا تھا۔ اس کے بعد 2001 میں لیڈز کے میدان پر انگلینڈ کے خلاف میچ میں ’بورے والا ایکسپریس‘وقار یونس نے بطور کپتان انگلش اوپنر مارکس ٹریسکوتھک کو پہلی ہی گیند پر پویلین کی راہ دکھا کر یہ کارنامہ دہرایا تھا۔
عرفات منہاس کا ریکارڈ ساز ڈیبیو
اس پوری سیریز کی سب سے بڑی اور خوبصورت دریافت پاکستان کے نوجوان آل رائونڈر عرفات منہاس ثابت ہوئے۔ عرفات منہاس نے آسٹریلیا کے خلاف اسی حالیہ سیریز میں پاکستان کی جانب سے اپنا ون ڈے انٹرنیشنل ڈیبیو کیا۔ کسی بھی نوجوان کھلاڑی کیلئے آسٹریلیا جیسی مضبوط ٹیم کے خلاف ڈیبیو کرنا اعصاب شکن ہوتا ہے، لیکن عرفات نے اپنے اعصاب پر قابو رکھا اور پہلی ہی سیریز کے تین میچوں میں نہ صرف 7 اہم وکٹیں حاصل کیں بلکہ لوئر آرڈر میں مفید 60 رنز بھی بنائے۔ ان کی اس شاندار آل رائونڈ کارکردگی کے سبب انہیں ’پلیئر آف دی سیریز‘کا معتبر ٹائٹل دیا گیا۔سیریز کے بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ جیتنے پر نوجوان آل رانڈر عرفات منہاس کا کہنا تھا کہ وہ اپنی اس پرفارمنس سے بے حد خوش ہیں، اور ان کیلئے سب سے بڑی خوشی یہ ہے کہ ان کی کارکردگی سے ٹیم کو فتح حاصل ہوئی اور فائدہ پہنچا۔ سیریز کیلئے انہوں نے کیمپ میں بھرپور تیاری کی تھی، جس کا انہیں میدان میں فائدہ ہوا، اور ان کی کوشش ہوگی کہ وہ مستقبل کے میچز میں اپنی اس پرفارمنس میں مزید بہتری لائیں تاکہ پاکستان کا نام روشن کر سکیں۔
عرفات منہاس کا جادو صرف ڈیبیو تک محدود نہیں رہا بلکہ انہوں نے اپنے پہلے ہی ون ڈے میچ میں کینگرواوں کا ٹاپ آرڈر اپنی گھومتی ہوئی گیندوں سے تباہ کر کے 42 سال پرانا قومی ریکارڈ بھی پاش پاش کر دیا۔ کینگروز بلے باز ان کی سپن کو سمجھنے میں مکمل طور پر ناکام رہے۔ عرفات منہاس نے آسٹریلیا کے خلاف اپنے پہلے ہی ون ڈے میں 5 وکٹیں حاصل کیں اور وہ پاکستان کرکٹ کی تاریخ میں ڈیبیو میچ پر 5 وکٹیں لینے والے پہلے پاکستانی سپنر اور بولر بن گئے۔ اس سے قبل یہ ریکارڈ 1984 ء میں ذاکر خان نے قائم کیا تھا جنہوں نے نیوزی لینڈ کے خلاف اپنے ڈیبیو پر 19 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کی تھیں۔ عرفات نے ذاکر خان کا یہ 42 سال پرانا ریکارڈ توڑ کر پاکستان کرکٹ میں ایک نئے باب کا آغاز کیا ہے۔