حلقہ ارباب ذوق کے افسانے
ترقی پسند ادبی تحریک کو شروع ہوئے ابھی تین سال ہی ہوئے تھے کہ بزم ’داستان گویاں‘کے نام سے29 اپریل1939ء کو ایک نئے ادبی رجحان(جو آگے چل کرحلقہ ارباب ِذوق کے نام سے مشہور ہوا) کا وجود عمل میں آیا۔
ترقی پسند ادبی تحریک کی موجودگی میں حلقہ اربابِ ذوق کا قیام یہ بتاتا ہے کی حلقہ کے اراکین ترقی پسند ادبی رویے سے خوش نہ تھے۔ حلقہ ارباب ذوق کے ادبی نظریات کا اندازہ حلقے کی کاروائیوں سے لگایا جاسکتاہے۔ حلقے کی کارروائیاں یہ بتاتی ہیں کہ حلقہ اربابِ ذوق فنی قدروں کو افضل سمجھتا ہے۔ ان کے نزدیک وہی ادب صالح ہے جس میں خیال افروزی ہو۔ اسی لیے حلقہ کے افسانہ نگار خواہ وہ شیرمحمد اخترہوں یا محمد حسن عسکری، ممتاز شیریں ہوں یا ممتاز مفتی ، رحمان مذنب ہوں یا انتظارحسین وغیرہ ان تمام حضرات کے افسانے ترقی پسند افسانوں سے بالکل مختلف ہیں۔ مذکورہ افسانہ نگاروں کے علاوہ حلقہ اربابِ ذوق کے جلسوں میں راجندرسنگھ بیدی، کرشن چندر، اوپندرناتھ اشک اورسعادت حسن منٹو جیسے قدآور حقیقت پسندیا ترقی پسندافسانہ نگاربھی شامل ہواکرتے تھے مگران کی شناخت حلقہ اربابِ ذوق سے مختلف ہے۔ اس لیے حلقہ ارباب ِذوق کے افسانوں پر بات کرنے کے لیے ہمیں ممتاز مفتی، ممتاز شیریں، شیرمحمد اختر، رحمان مذنب، محمد حسن عسکری، انتظارحسین اورانور سجاد تک ہی اپنی بات محدود رکھنی ہوگی۔
حلقہ ارباب ذوق کے پہلے نام ’بزم داستان گویاں‘ سے ہی یہ سمجھ میں آتا ہے کہ یہ انجمن فکشن سے خاص تعلق رکھتی ہے مگر اس انجمن کی کارگزاریوں پرشاعری کا غلبہ ہوتا گیا اور اسے جتنے بھی بڑے نام میسرآئے ان میں زیادہ ترشاعر ہی ہیں۔ اس کے باوجود اس انجمن سے وابستہ جو بھی افسانہ نگار ہیں ان کے افسانے بھی حلقہ ارباب ذوق کے نظریات کی بھرپور نمائندگی کرتے ہیں۔حلقہ ارباب ذوق کے جلسوں میں جو قابل ذکرافسانے پیش ہوئے ہیں اورجن سے حلقہ ارباب ذوق کے افسانوں کا مزاج طے ہوتا ہے ان میں محمدحسن عسکری کا افسانہ ’پھسلن‘ اورعذرا شیریں کا افسانہ (نام ندارد) قابلِ ذکر ہیں۔ ان دونوں افسانوں کے بارے میں پڑھ کر اور ان افسانوں کے متعلق حلقے کے اراکین کی آرا کو جان کر حلقہ اربابِ ذوق کے مزاج کا پتہ لگایاجاسکتا ہے۔یہ افسانہ آزادی ہنداور قیام پاکستان کے بعد منعقد ہونے والے پہلے جلسے میں پیش کیا گیا تھا ۔ ایک ایسے وقت میں جبکہ فسادات کی آگ ٹھنڈی بھی نہیں پڑی تھی اس قسم کے افسانے کی پیش کش حلقہ ارباب ذوق کے لگائو کا پتہ دیتی ہے۔ اسی طرح محمدحسن عسکری کا افسانہ ’پھسلن‘ بھی ۔حلقہ ارباب ذوق سے قبل ترقی پسند تحریک کے زیراثرجوافسانے لکھے جارہے تھے ان افسانوں پر مقصدیت غالب تھی۔ مزدوروں، کسانوں اور پچھڑے ہوئے طبقے سے متعلق مسائل وموضوعات پیش کیے جارہے تھے۔ ترقی پسندافسانہ نگار اشتراکی نظام کے خواہاں تھے اور اپنی اس خواہش کی تکمیل کے لیے انہوں نے اپنے افسانوں کو ذریعہ بنایا۔ ترقی پسندافسانہ نگار اپنے مقصد کی حصولیابی میں اس قدرمگن تھے کہ انہیں انسانی نفسیات، داخلی کشمکش یا فرد کے اندرون میں جھانکنے کا موقع ہی نہ ملا یا پھر انہوں نے اسے انحطاط پسندی قراردے کر خود کو اس سے دور رکھا۔
وجہ خواہ کچھ بھی ہو نتیجہ یہ نکلا کہ افسانے سے فرد کہیں غائب ہوگیا۔ ترقی پسند تحریک نے جس فرد کو نظر انداز کیا تھااسے حلقہ اربابِ ذوق نے اپنے افسانوں میں پیش کیا، اس کے اندرون میں جھانکا اور اس کی نفسیات کا مطالعہ ومشاہدہ کیا۔ حلقہ اربابِ ذوق کے کسی بھی افسانہ نگار کا مطالعہ کرلیں ان میں آپ کو یہ قدر مشترک ملے گی کہ حلقہ اربابِ ذوق کے افسانے سماج کے بجائے فرد سے معاملہ رکھتے ہیں اور ذات کے حوالے سے کائنات کا مطالعہ کرتے ہیں۔ حلقہ اربابِ ذوق کے افسانوں کی یہ خصوصیت شیرمحمد اختر، ممتاز مفتی، ممتاز شیریں، محمد حسن عسکری، رحمان مذنب، انتظارحسین اور انورسجاد کے یہاں مشترکہ طور پر ملتی ہے۔شیرمحمداخترافسانہ نگار بھی تھے اور حلقہ ارباب ذوق کے بانی بھی۔ انہوں نے نصیراحمد جامعی کے ساتھ مل کر حلقہ اربابِ ذوق کی بنیاد ڈالی تھی۔ شیرمحمداخترکے افسانے ترقی پسندافسانوں کی طرح سماجی اصلاح یا اقتصادی انقلاب کے بجائے فرد کی نفسیات سے تعلق رکھتے ہیں۔حلقہ ارباب ذوق کے افسانہ نگاروں میں ممتاز مفتی ایک اہم نام ہے۔ ’ان کہی‘، ’گہماگہمی‘، ’چپ‘، ’اسمارائیں، اور ’گڑیاگھر‘ ان کے مشہورافسانوی مجموعے ہیں۔ ممتاز مفتی کے افسانے انسانی نفسیات کے گردگھومتے ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments