عندلیب شادانی ایک ہمہ گیر ادبی شخصیت

تحریر : ڈاکٹر عرفان احسن پاشا


57ویں برسی:وہ بیک وقت شاعر، افسانہ نگار، نقاد، محقق، مورخ، مدیر اور معلم کی حیثیت سے جلوہ گر ہوئے: شادانی صاحب نے اپنی انفرادیت کو برقرار رکھا‘ شاعری میں ان کا رنگ کسی سے متاثر نہیں‘ ساری زندگی اپنی منزل کے وہ خود ہی رہنما رہے

مختصر سوانح

 پیدائش:وجاہت حسین صدیقی(عندلیب شادانی)یکم مارچ 1904ء کو پیدا ہوئے۔وطن سنبھل ضلع مراد آباد تھا۔

تعلیم:پنجاب یونیورسٹی لاہور سے فارسی ادبیات میں ایم اے کیا اور 1934ء میں لندن یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔

ملازمت: کچھ عرصہ ہندو کالج دہلی میں اردو اور فارسی کے لیکچرر رہے اس کے بعد ڈھاکہ یونیورسٹی میں لیکچرر مقرر ہوگئے۔ ڈھاکہ یونیورسٹی میں اردو اور فارسی شعبے کے صدر بنے ۔ 1965ء میں وہیں سے سبکدوش ہوئے۔

وفات:29 جولائی 1969ء کو ڈھاکہ میں وفات پائی۔

تصانیف:نشاطِ رفتہ، نقشِ بدیع، نوش و نیش،پیام اقبال، رُبع شکست 

اعزازات:حکومت پاکستان نے ڈاکٹر عندلیب شادانی کی خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں ستارہ امتیاز عطا کیا تھا۔

 ڈاکٹرعندلیب شادانی نے اپنی زندگی کا طویل حصہ ڈھاکہ یونیورسٹی میں اردو اور فارسی کے استاد کی حیثیت سے گزارا ۔ وہ بیک وقت شاعر، افسانہ نگار،نقاد، محقق، مورخ، مدیر اور معلم کی حیثیت سے اپنے دور کی قد آور شخصیات میں شمار ہوتے تھے اور ان کی ہمہ گیرشخصیت کے گہرے نقوش آج بھی اردو پڑھنے اور بولنے والے محسوس کرتے ہیں۔ 

اپنے تدبر سے ڈاکٹر شادانی ڈھاکہ یونیورسٹی میں کئی بار فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین مقرر ہوئے۔ پاکستان اور ہندوستان کی بیشتر یونیورسٹیوں کی کمیٹیوں کے ممبران میں ان کا نام سرفہرست رہتا تھا اور ان کمیٹیوں میں ان کی شمولیت باعث ِافتخار سمجھی جاتی تھی۔ اردو اور فارسی کے علاوہ انگریزی زبان پر بھی انہیں غیر معمولی قدرت و استعداد حاصل تھی۔ انہوں نے لندن سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی تھی،ایران کا سفر کیا اور امریکہ میں متبادل اساتذہ کے پروگرام میں مدعو کئے گئے تھے۔ ان کی تصانیف اور تالیفات کی تعداد 16 کے قریب ہے۔ ان کی شاعری کے مجموعہ ’’نشاط رفتہ‘‘ میں آج بھی قارئین کو اپنے دل کی دھڑکن سنائی دیتی ہے۔ جبکہ ’’ پریم پجاری‘‘ کے نام سے سچی کہانیوں سے انہیں غیر معمولی شہرت ملی۔ ان کی تنقیدی کتاب ’’دور ِحاضر اور اردو غزل گوئی‘‘ نے اپنے زمانے میں ادبی دنیا میں تہلکہ مچا دیا تھا اور ان کے تحقیقی مقالے ادب عالیہ میں اہم مقام رکھتے ہیں۔

ڈاکٹر شادانی ان اساتذہ کی صف میں آتے ہیں جنہیں زندگی میں بے پناہ شہرت اور عزت نصیب ہوئی مگر موت کے بعد اہل ادب نے انہیں تقریباً فراموش کر دیا۔ زندگی میں ان کی ادبی حیثیت اس قدر مسلم ہو چکی تھی کہ ان کے عزیز شاگرد ارشد کاکوی نے 1961ء میں ڈھاکہ سے ادبی جریدے ’’ندیم‘‘ کا اجرا کیا تو اس کا خصوصی شمار ’’شادانی نمبر‘‘ نکالا۔ 

ڈاکٹر عندلیب شادانی کا  اصل نام وجاہت حسین صدیقی تھا اور عندلیب تخلص کرتے تھے۔آبائی وطن سنبھل، ضلع مراد آباد(یوپی) ہندوستان تھا جہاں یکم مارچ 1904ء کو پیدا ہوئے۔ عندلیب شادانی فطرت کی طرف سے شعر کہنے کی صلاحیت لے کر آئے تھے۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں، اردو شاعری میں یدطولیٰ حاصل کرنے کیلئے فنِ شاعری کے دستور کے مطابق، ہر شاعر کسی نہ کسی بڑے شاعر کے سامنے زانوئے تلمذتہہ کرتا ہے، یہ سلسلہ قدیم سے جاری ہے، مگر اپنی خدادادصلاحیتوں کی بنا پر شادانی صاحب نے اس میدان میں اپنی انفرادیت کو برقرار رکھا۔ شاعری میں ان کا رنگ کسی خاص شاعر سے متاثر نہیں۔ ساری زندگی اپنی منزل کے وہ خود ہی رہنما رہے ۔یہ بھی عجیب اتفاق ہے کہ ان کا محبوب شاعر بھی کوئی نہ تھا، جس کسی کے کلام سے وہ متاثر ہوئے اس کی مدح کرنے میں پیچھے نہ رہے  مگر شاعری میں انہوں نے کبھی کسی شاعر کی تقلید نہ کی۔ جو کچھ کہا وہ اُن کے دل کی آواز تھی۔ رام پور میں تحصیلِ تعلیم کے وقت وہ اپنے استاد شاداں بلگرامی سے حد درجہ متاثر تھے۔ اُن سے عقیدت مندانہ وابستگی اور والہانہ محبت کی بنا پر اپنے نام کے ساتھ انہوں نے شادانی کا لاحقہ منسلک کیا۔ بعض لوگوں کو غلط فہمی پیدا ہو سکتی ہے کہ فن شاعری میں وہ شاداں بلگرامی کے شاگرد ہوں گے۔ دراصل وہ ان کے شاگرد ضرور تھے مگر شاعری میں نہیں۔ خدا نے بچپن سے ہی انہیں موزونی طبع کے انمول خزانے سے نوازا تھا۔

یہی موزوں طبیعت اور آمدِ سخن ان کی شاعری میں حقیقت کا رنگ بھرتی ہیں۔ اپنی اس جبلی و فطری دویعت کے بارے میں لکھتے ہیں: ’’میری عمر کوئی دس گیارہ برس کی تھی کہ ہمارے شہر میں ایک بڑا مشاعرہ ہوا۔  بعض ہم عمر اور ہم سبق لوگوں کی دیکھا دیکھی میں نے بھی چند شعر کہے اور اس دن مجھے معلوم ہوا کہ مبداء فیاض نے مجھے طبع موزوں عطا فرمائی ہے اور اس کے بعد تو قریب قریب ہر روز دورانِ گفتگو میں درجنوں مصرعے بے ساختہ موزوں ہو جایا کرتے تھے لیکن باقاعدہ شعر کہنے اور کسی کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کرنے کا اتفاق کبھی نہیں ہوا کیونکہ حالات ساز گار نہ تھے۔ دوسری جگہ ایک انٹرویو میں اپنے ذوقِ شاعری کا بیان کرتے ہیں: ’’شاعری سے ذوق چھوٹی عمر میں پیدا ہو گیا تھا، جس میں اپنے وطن کے ماحول کو بڑا دخل تھا۔ اس زمانے میں سنبھل ضلع مراد آباد میں اکثر طرحی مشاعرے ہوا کرتے تھے میں بھی ان مشاعروں میں شرکت کرتا تھا۔ کم عمر ی میں اس طرح کے ایک طرحی مشاعرے میں چند اشعار بھی کہتے تھے جو محفوظ نہ رہ سکے۔ پھر ریاست رام پور کے زمانہ طلب علمی میں بھی یہ شغل جاری رہا۔ اس وقت باقاعدہ شاعری تو نہ  کرتا تھا مگر اس زمانے کے اشعار سے اتنا اندازہ ضرور ہو گیا کہ شاعری کیلئے طبیعت موزوں پائی ہے‘‘۔غرض بچپن سے ان کی طبیعت شعر و شاعری کی طرف مائل تھی۔ مگر ان کی شاعری کی ابتدا 1924ء سے ہوئی جب وہ لاہور میں زیر تعلیم تھے۔

اس سلسلے میں وہ رقمطراز ہیں: ’’1923ء میں تعلیم کی غرض سے مجھے لاہور جانا پڑا۔ یہاں وہ سب سامان موجود تھا جس کی بدولت انسان کی شاعرانہ صلاحیتیں پوری قوت کے ساتھ ابھر آتی تھیں۔ ایک طرف مولانا تاجور جیسے شاعر کا پڑوس۔ انہی کے اصرار سے لاہور کی ادبی صحبتوں میں شرکت کی۔ دوسری طرف یکایک دل کی گہرائیوں میں اس لطیفہ ازلی کا ظہور جس کے طفیل زندگی بنتی ہے بلکہ سچ پوچھئے تو حیات کا نقطہ آغاز وہی ہے۔

عشق سے ہوتا ہے آغازِ حیات

اس سے پہلے زندگی الزام ہے

میری شاعری کی ابتدا نظم سے ہوئی اور ’’تصویرِ بہار‘‘ میری پہلی نظم ہے جو دیال سنگھ کالج لاہور کی بزمِ ادب کے ایک جلسے میں 29جون 1924ء کو پڑھی گئی۔ سامعین کی بے اختیار دادو تحسین نے دل بڑھایا اور میری دوسری نظم ’’شالامار‘‘ وجود میں آئی۔ اس نظم نے ایک نووارد کو لاہور کے ادبی حلقوں میں اچھی طرح روشناس کرا دیا‘‘۔

 ڈاکٹر مشفق خواجہ اُن کی شاعری کے بارے میں لکھتے ہیں: ’’ شادانی صاحب کی ادبی زندگی کا آغاز شاعری سے ہوا۔ انہوں نے بقول خود یہ کام دوسروں کی دیکھا دیکھی شروع کیا۔(دیباچہ ’ نشاطِ رفتہ‘) اس میں شک نہیں کہ انہوں نے کم از کم ایک درجن شعر ایسے ضرور کہے جو ہمارے بہترین ادب کا حصہ ہیں۔ شادانی صاحب نے 1924ء میں باقاعدہ شاعری شروع کی۔ اُس زمانے کے لاہور کے ادبی ہنگاموں میں انہوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ بے شمار مشاعرے لوٹے اور نام پیدا کیا۔ اس’ لوٹ مار‘ میں شاعری سے زیادہ پڑھنے کے انداز نے حصہ لیا‘‘۔

ڈاکٹر شادانی نے بذات خود اپنی شاعری کو دو ادوار میں تقسیم کیا ہے، وہ لکھتے ہیں: ’’میری شاعری کو دو ادوارمیں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ پہلا دور جنوری 1924ء سے لے کر اگست 1925ء تک اور دوسرا دور جولائی 1934ء سے لے کر آج (1952ء)’ نشاطِ رفتہ‘ کی اشاعت تک۔دونوں ادوار کے درمیان تقریباً پانچ برس کا زمانہ بالکل خاموشی میں گزرا۔ ہاں، دسمبر 1931ء میں ایک خاص واقعے سے متاثر ہو کر ایک نظم ’’سی نوری تا ‘‘ لندن میں کہی تھی ۔ اس کے بعد پھر مکمل خاموشی،1934ء میں یکایک احساس نے انگڑائی لی اور یہ غزل وجود میں آئی۔

گزاری تھیں خوشی کی چند گھڑیاں

انہیں کی یاد میری زندگی ہے

ڈاکٹر عندلیب شادانی29 جولائی 1969ء کو وفات پاگئے۔ حکومتِ پاکستان نے اُن کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں ستارہ ٔامتیاز عطا کیا تھا۔

دیر لگی آنے میں تم کو شکر ہے پھر بھی آئے تو

آس نے دل کا ساتھ نہ چھوڑا ویسے ہم گھبرائے تو

عندلیب شادانی کا کلام

صحنِ چمن ہے گوشۂ زنداں ترے بغیر

معمورہ حیات ہے ویراں ترے بغیر

چھپ چھپ کے جس کو دیکھنے آتا تھا ماہتاب

ظلمت کدہ ہے اب وہ شبستاں ترے بغیر

جلتا ہے چارہ ساز کی نادانیوں پہ جی

میں اور میرے درد کا درماں ترے بغیر

سوتی ہیں اس میں کتنی امیدیں فنا کی نیند

سینہ ہے ایک شہر خموشاں ترے بغیر

میری ہنسی کہ تھی ترا سرمایۂ نشاط

آ دیکھ اب ہے خندہ گریاں ترے بغیر

مہتاب کے ہجوم میں گم ہو گئی تھی رات

پھر قہر بن گیا غم دوراں ترے بغیر

جلتا ہے تیز تیز تڑپتا ہے پے بہ پے

دل ہے کہ ایک شعلہ لرزاں ترے بغیر

میں ہیچ ہوں مگر مجھے اتنا سبک نہ کر

میں اور نشاط زیست کا ارماں ترے بغیر

جس زندگی کو تو نے بنایا تھا زندگی

وہ زندگی ہے خواب پریشاں ترے بغیر

…………

کیا کہیے روئے حسن پہ عالم نقاب کا

منہ پر لیا ہے مہر نے دامن سحاب کا

تصویر میں نے مانگی تھی شوخی تو دیکھیے

اک پھول اس نے بھیج دیا ہے گلاب کا

اب کیا سنائیں ٹوٹے ہوئے دل کی داستاں

آہنگ بے مزہ ہے شکستہ رباب کا

اتنے فریب کھائے ہیں دل نے کہ اب مجھے

ہوتا ہے جوئے آب پہ دھوکا سراب کا

تم چاندنی ہو پھول ہو نغمہ ہو شعر ہو

اللہ رے حسن ذوق مرے انتخاب کا

اللہ! بولتے نہیں تو مسکرا ہی دو

میں کب سے منتظر ہوں تمہارے جواب کا

سب واقعات ہیں مگر اللہ رے انقلاب

آج ان پہ ہے گماں کسی رنگین خواب کا

…………

مجھے الزام نہ دے ترک شکیبائی کا

مجھ سے پوشیدہ ہے عالم تری رعنائی کا

مانع جلوہ گری خوف ہے رسوائی کا

بس اسی پر تمہیں دعویٰ ہے زلیخائی کا

کیا کہوں گر اسے اعجاز محبت نہ کہوں

حسن خود محو تماشا ہے تماشائی کا

اشک جو آنکھ سے باہر نہیں آنے پاتا

آئینہ ہے مرے جذبات کی گہرائی کا

تیرے آغوش میں کیا جانیے کیا عالم ہو

دل دھڑکتا ہے تصور سے تمنائی کا

شکن بستر و نمناکی بارش ہیں گواہ

پوچھ لو ان سے فسانہ شب تنہائی کا

کششِ بدر سے چڑھتا ہوا دریا دیکھا

اللہ اللہ وہ عالم تری انگڑائی کا

منتخب اشعار

نہ جانے کس کے لئے وقف ہے جہانِ جمال

ہم اک نظر کو ترستے ہیں اور نصیب نہیں

…………

جانتے ہو تم سب کچھ، وجہ غم بتائیں کیا

حال پوچھنا پیارے، اور دل دکھانا ہے

…………

بے نیازانہ برابر سے گزرنے والے

تیز کچھ قلب کی رفتار ہوئی تھی کہ نہیں

…………

لاکھ سعیِ ضبط کی میں نے مگر بے اختیار

شب سرِمژگاں محبت کا فسانہ آ گیا

مجھ کو بھی اے دوست تیری بے نیازی کے طفیل

زندگی کی تلخیوں پر مسکرانا آ گیا

…………

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

حلقہ ارباب ذوق کے افسانے

ترقی پسند ادبی تحریک کو شروع ہوئے ابھی تین سال ہی ہوئے تھے کہ بزم ’داستان گویاں‘کے نام سے29 اپریل1939ء کو ایک نئے ادبی رجحان(جو آگے چل کرحلقہ ارباب ِذوق کے نام سے مشہور ہوا) کا وجود عمل میں آیا۔

کامن ویلتھ گیمز 2026:گلاسکو کے میدانوں میں عالمی چیمپئنز کا امتحان

دنیا بھر سے 3ہزار کھلاڑی 10 مختلف کھیلوں کی 215 کیٹیگریز میں میڈلز کیلئے مد مقابل

بادل لوٹ آئے

پہاڑی وادی شیرانوالا میں سردیوں کا موسم اپنے عروج پر تھا، اس بار بادل جیسے اس خوبصورت زمین کو بھول چکے تھے۔

شعرکہانی

ایک چھوٹے سے گائوں میں ایک لڑکا رہتا تھا، اس کا نام ابرار تھا۔ وہ غریب کسان کا بیٹا تھا، مگر دل میں بڑے خواب رکھتا تھا۔ اس کی آنکھوں میں چمک تھی، جیسے اس کے اندر کوئی روشنی بھڑک رہی ہو۔

طرزِ گفتار

زمیں کے تارو! ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں اس میں بے شمار اچھائیوں کے ساتھ لاتعداد برائیاں بھی موجود ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے زمین پر ہر چیز کو جوڑا پیدا فرمایا ہے۔

آڑو: صحت بخش اور لذیذ پھل

گرمیوں کا موسم اپنے ساتھ بہت سے مزیدار پھل لاتا ہے، جن میں آڑو ایک نہایت مقبول اور خوش ذائقہ پھل ہے۔