غالب کا ما بعد نو آبادیاتی مطالعہ

تحریر : ڈاکٹرمحمد راشد سعیدی


مرزا غالب نے جس عہد میں آنکھیں کھولیں وہ مغلیہ خاندان کی حکومت کے زوال اور انگریزی استعمار کے عروج پکڑنے کا دور تھا۔

 انہوں نے اپنی اوائل عمری میں بے دست و پا بادشاہ کو سسکتے اور مسلم زعما وعمائدین کو اپنے امور کی انجام دہی کے سلسلے میں انگریزوں کے آگے بلکتے دیکھا۔ یہ وہ دور تھا جس میں بر صغیر میں مسلمانوں کی حکومت کا عروج زوال میں بدل رہا تھا۔ قدامت پسند شرفااپنی روایات اور اقدار کا جناز ہ اٹھتے دیکھ رہے تھے۔ جائیدادیں ضبط کر لی گئیں تھی ، حکومتیں چھین لی گئیں جس سے وضع دار اور خود دار مسلمان امرا انگریزوں کے دست نگر ہو کر رہ گئے تھے۔ جاگیریں ضبط ہونے کے بعد خود غالب انگریزوں کے پنشن خوار بن گئے ۔ اسی دوران میں مسلسل ان کا واسطہ انگریز حکام سے رہا جس سے انہیں انگریزی حکومت کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ اس طرح انہوں نے استعماری ہتھکنڈوں اور طبقاتی کشمکش کو بغور دیکھا اور ان کے اثرات کو محسوس کیا۔ بر صغیر میں ثقافتی رنگارنگی، وسیع روایات اور وضع داری کی حامل تہذیب جو انگریزی حکومت کے استعماری جبر کے باعث آخری سانسیں ے رہی تھی غالب اس تہذیب کے نمائندہ شاعر ہیں۔

اُن کی شخصیت کی تشکیل میں وہ تمام عناصر شامل ہیں جو مسلمان شہنشاہوں کی عظمت، مغل سلطنت کی زوال پذیری اور انگریزوں کی استبدادی قوت کے شاہد ہیں۔اس کا احساس غالب کی شخصیت اور شاعری میں بجاطور محسوس کیا جاسکتا ہے۔ بقول ڈاکٹر تبسم کاشمیری: غالب کی شعری شخصیت کی شکست و ریخت، واماندگی، اضمحلال اور ریاست کا تعلق اگرچہ ان کی اپنی ذات سے ہے مگر ذات سے بڑھ کر ان کا تعلق ان کے عہد کے ساتھ بھی ہے یعنی غالب اپنے دور کی علامت ہے اور اس علامت کی شکست ، بے بسی، یاسیت اور انفعالیت اس دور کی ایک علامت بن جاتی ہے گویا ان کی ذات نہیں بلکہ ایک دورِ زوال کی علامت بھی ہے۔

 غالب نے داخلی کیفیات کے ساتھ نو آبادیاتی نظام کو بھی موضوع بنایا تاہم استعماری قوتوں کے معاملے میں انہوں نے تخلیقی سطح اور عمومی طور پر اظہارِ رائے میں فرق رکھا جو ایک طرف تہذیب و تمدن اور روایات کی امین شخصیت کا نوحہ معلوم ہوتے ہیں تو دوسری طرف دور رسی، پیش بینی اور معاملہ فہمی کے ثبوت نظر آتے ہیں۔ مرزا غالب کی تخلیقات و نگارشات کامابعد نو آبادیاتی مطالعہ استعماری قوتوں کے بارے میں نہاں گوشوں کو سامنے لاتا ہے جو نہایت دلچسپ اور معنی خیز ہیں۔ نو آبادیاتی علاقوں میں ہر حقیقت تشکیلی اور ہر مظہر طے شدہ ہوتا ہے۔ نو آباد کار لازمی طور پر محکوم قوم کو ذہنی طور پر احساس ِکمتری میں مبتلا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے وہ ہر طرح کا حربہ استعمال کرتے ہیں جو لوگوں کو مرعوب کرے۔ نو آبادیاتی نظام کی ہولناکیوں کے بارے میں ڈاکٹر ناصر عباس نیریوں رقم طراز ہیں: نو آباد کار نو آبادیاتی دنیا کو دو میں تقسیم ہی نہیں کرتا بلکہ نو آبادیاتی باشندوں کی دنیا کو تشکیل بھی کرتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں نو آبادیاتی باشندوں کی کوئی اپنی دنیا نہیں ہوتی۔ انہیں اپنی دنیا پر کوئی تصرف اور اختیار نہیں ہوتا نہ اس دنیا کے حقیقی عملی معاملات پر نہ اس دنیا کے تصور اور اس کے نظام پر۔ وہ اپنی ہی دنیا میں اجنبی اور اس سے باہر ہوتے ہیں۔

غالب نے جب شعور کی سطح پر قدم رکھا تو انہیں طاقت کا مرکز انگریز ہی نظر آئے جس سے کام نکلوانے کے لیے بادشاہ  کو بھی سفارشیں کرانا پڑتی تھیں۔ غالب کے متاثر ہونے کے لیے اسی قسم کی وجوہ ہی کافی تھیں، مستزاد یہ کہ غالب کے چچا کی وفات کے بعد کمپنی بہادر نے جائیداد اپنی تحویل میں لے لی اور تمام رشتہ داروں سمیت غالب کا بھی وظیفہ مقرر کر دیا۔ پنشن کے حصول اور حصہ داری میں مسائل آنے کی وجہ غالب کو بار بار انگریز افسران کے حضور پیش ہوناپڑتا جن کی شان و شوکت  متاثر کن تھی۔ مغربی تہذیب و ترقی کاسب سے بڑا مظاہر ہ غالب نے کلکتہ میں دیکھا جہاں ٹیلی گراف اور دخانی جہاز نے انہیں ششدر کر دیا۔ غالب کو انگریزوں کی عسکری قابلیت، ڈاک کا نظام اور آئین و قانون بہت پسند تھے جن کا اظہار انہوں نے بار ہا اپنے فارسی اور اردو خطوط میں کیا ہے۔ مرزا غالب کی ذات کو ان کی فارسی تصنیف ’’دستنبو‘‘ کی وجہ سے طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ 1857ء کے ہنگاموں کے دوران میں لکھی گئی اس مختصر کتاب کا ما بعد نو آبادیاتی مطالعہ حیرت انگیز نتائج سامنے لاتا ہے، جبکہ بعض نقاد جنگ آزادی کے ذکر اور غالب کے طرز عمل کے معاملے میں شدت پسندانہ رویہ اختیار کر لیتے ہیں۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

ڈاکٹر انور سجاد: رجحان ساز ادیب کی ساتویں برسی

وہ جدید اردو افسانے کے بانیوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے براہ راست ابلاغ کے افسانے تحریر نہیں کئے:ان سے پوچھا گیا کہ’ ادب برائے ادب‘ اور’ ادب برائے زندگی‘ کے بارے میں وہ کیا کہتے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ وہ’ ادب برائے انسان‘ کے قائل ہیں، انور سجاد نے 1950ء میں لکھنا شروع کیا‘ وہ کئی ادیبوں سے متاثر تھے لیکن سب سے زیادہ سعادت حسن منٹو نے انہیں متاثرکیا‘ انہوں نے جس شعبے میں بھی ہاتھ ڈالا پوری محنت سے کام کیا

قذافی سٹیڈیم کینگروز کی میزبانی کیلئے تیار

پاکستان نے اس تاریخی میدان پر 140 سے زائد بین الاقوامی میچ کھیلے ہیں

ویمن اِن گرین کابڑاامتحان

سہ ملکی سیریز اور ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ2026ء

فاطمہ ثناء:برق رفتار پاکستانی بلے بازوکپتان

پاکستانی خواتین کرکٹ ٹیم کی قیادت فاطمہ ثناء کر رہی ہیں، جن کا شمار تیز ترین خواتین بلے بازوں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے اپنی تیز ترین بلے بازی کا مظاہرہ گزشتہ ماہ پاکستان کے دورے پر آنے والی زمبابوے کی ٹیم کے خلاف کیا تھا۔

لالچ کا انجام

نعیم نہایت محنتی، دیانت دار اور غریب کسان تھا۔ اس کا کل اثاثہ اس کی نیک سیرت بیوی رابعہ اور فرمانبردار بیٹا شاداب تھا۔ نعیم کی آمدنی اتنی قلیل تھی کہ اکثر گھر میں فاقوں کی نوبت آ جاتی۔ نعیم مزدوری کی تلاش میں شہر گیا ہوا تھا، گھر میں آٹے کا ایک ذرہ تک نہ تھا۔ رابعہ نے چولہے پر خالی ہانڈی میں پانی چڑھا دیا تاکہ بھوکا شاداب یہ سمجھے کہ کھانا پک رہا ہے۔

نفرت

اللہ تبارک و تعالیٰ نے دنیا میں ہر چیز کا جوڑا پیدا کیا ہے۔ انسان کی طرح حیوانات کے بھی جوڑے پیدا کئے۔زندگی کے ساتھ موت، زمین کے ساتھ آسمان، محبت کے ساتھ نفرت کے جذبات بھی انسان میں رکھے۔