آج کا پکوان:بیف نہاری

تحریر : منیرا کرن


اجزا:بیٖف:دو کلو، گرم مصالحہ پاؤڈر: دو چمچ، سرخ مرچ پاؤڈر: تین چمچ، دھنیا پاؤڈر: دو کھانے کے چمچ،ادرک ڈیڑھ کھانے کا چمچ،لہسن :ڈیڑھ کھانے کا چمچ،

 ہلدی پاؤڈر: ڈیڑھ چمچ،آٹا :چھ کھانے کے چمچ،پیاز:دوعدد درمیانی سائز کے کٹے ہوئے، نہاری مصالحہ: (ان اجزا کو باریک پیس لیں) ،پپلی :دو عدد،ثابت دھنیا:ڈھائی کھانے کے چمچ ،جاوتری پاؤڈر:آدھا چائے کا چمچ ،تیز پات: دو عدد، دارچینی: دو ٹکڑے،بڑی الائچی :چار عدد،لونگ: 10 عدد،چھوٹی الائچی: 10عدد، زیرہ:ایک چمچ،کالی مرچ:ایک کھانے کا چمچ، سونف: چار چمچ،بادیان کے پھول: دو عدد، تیل:ایک کپ،نمک: حسب ذائقہ۔ گارنش کیلئے:تازہ دھنیا، تازہ ہری مرچ، ادرک، لیموں، تلی ہوئی پیاز۔

ترکیب:تیل گرم کریں اور چند منٹ تک تیزآنچ پر گوشت کی بھنائی کریں۔گوشت میں نہاری مصالحہ کے علاوہ مصالحہ کے سبھی اجزا شامل کریں اور گوشت میں صحیح طریقے سے جذب ہونے تک تیز آنچ پر پکائیں۔گوشت میں 10 گلاس پانی شامل کریں،چار گلاس پانی میں آٹا حل کریں اور گوشت میں شامل کریں اور تیز آنچ پر پکائیں۔ابلتے ہوئے اجزا میں نہاری مصالحہ شامل کریں اور نہاری کو تین سے چار گھنٹے تک دھیمی آنچ پر پکنے دیں۔کٹی ہوئی پیاز کو سنہری ہونے تک فرائی کریں، نہاری میں شامل کریں اور مزید 15 سے 20 منٹ تک پکائیں،دھنیا، لیموں، ہری مرچ، ادرک چھڑک کر گرما گرم نان کے ساتھ پیش کریں۔

بریڈ حلوہ

اجزا:بریڈ سلائس: چار عدد، دودھ: آدھا کپ، بادام، پستہ، اخروٹ، کشمش حسب ضرورت، چینی حسب ذائقہ، انڈے: دو عدد، گھی:آدھا کپ۔

ترکیب:بریڈ سلائس کے کنارے الگ کرکے ہاتھ سے چورا کر لیں۔ایک پین میں گھی گرم کرکے سلائس کے چورے کو گولڈن براؤن ہونے تک فرائی کریں۔پھر اس میں دودھ اور چینی شامل کرلیں جب دودھ خشک ہو جائے تو بالائی شامل کریں۔گھی نظر آنے پر انڈوں کو الگ کسی برتن میں پھینٹ کر تھوڑے سے گھی میں فرائی کرکے حلوے میں شامل کر دیں ساتھ خشک میوے ڈال کر اچھی طرح بھون لیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

بچوں کی تربیت میں ماں کا کردار: جدید دور کے چیلنجز

بچوں کی شخصیت سازی اور تربیت میں ماں کا کردار بنیادی اور فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے۔

چٹنی …ذائقے اور صحت کا خزانہ

چٹنی ہمارے کھانوں کا ایک اہم جزو ہے جو کھانے کے ذائقے، خوشبو اور غذائی افادیت میں اضافہ کرتی ہے۔

ڈاکٹر انور سجاد: رجحان ساز ادیب کی ساتویں برسی

وہ جدید اردو افسانے کے بانیوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے براہ راست ابلاغ کے افسانے تحریر نہیں کئے:ان سے پوچھا گیا کہ’ ادب برائے ادب‘ اور’ ادب برائے زندگی‘ کے بارے میں وہ کیا کہتے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ وہ’ ادب برائے انسان‘ کے قائل ہیں، انور سجاد نے 1950ء میں لکھنا شروع کیا‘ وہ کئی ادیبوں سے متاثر تھے لیکن سب سے زیادہ سعادت حسن منٹو نے انہیں متاثرکیا‘ انہوں نے جس شعبے میں بھی ہاتھ ڈالا پوری محنت سے کام کیا

غالب کا ما بعد نو آبادیاتی مطالعہ

مرزا غالب نے جس عہد میں آنکھیں کھولیں وہ مغلیہ خاندان کی حکومت کے زوال اور انگریزی استعمار کے عروج پکڑنے کا دور تھا۔

قذافی سٹیڈیم کینگروز کی میزبانی کیلئے تیار

پاکستان نے اس تاریخی میدان پر 140 سے زائد بین الاقوامی میچ کھیلے ہیں

ویمن اِن گرین کابڑاامتحان

سہ ملکی سیریز اور ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ2026ء