مہنگائی کا طوفان، حکومت کیلئے امتحان
پاکستان اس وقت دلچسپ صورتحال سے دوچار ہے۔ اگر بیرونی اور سفارتی محاذ کی بات کی جائے تو دنیا پاکستان کی امن کوششوں کی معترف ہے لیکن اندرونی محاذ کی بات کی جائے تو عوام مسائل کی آگ میں سلگ رہے ہیں۔
مہنگائی اور بے روزگاری نے سب کو ہلکان کر رکھا ہے۔ بجلی، گیس اور پٹرولیم کی قیمتوں نے مہنگائی کا ایسا طوفان برپا کیا ہے جو رکنے کا نام نہیں لے رہا اور یوںمحسوس ہوتا ہے کہ حکمرانوں اور سیاستدانوں نے اس حوالے سے اپنے ہاتھ کھڑے کر دیے ہیں اور عوام کی حالات کے رحکم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوامی سطح پر مایوسی، بے چینی اور ملکی سطح پر بے یقینی کی کیفیت پاکستان کے بڑھتے عالمی کردار پر حاوی ہے۔آئی ایم ایف قرض کی قسط تو جاری کر دیتا ہے اور حکومت اس پر اطمینان کا اظہار کرتی ہے لیکن حکومت کے معاشی بحالی کے اقدامات کے ثمرات عام آدمی تک پہنچتے نظر نہیں آتے۔بجٹ کی آمد آمد ہے اور خلیجی جنگ کے اثرات خصوصاً پٹرولیم اور توانائی کے بحران کے باعث خوف و ہراس طاری ہے تو بڑا سوال یہی ہے کہ بیرونی محاذ پر پذیرائی اور اندرونی محاذ پر مایوسی کا علاج کون کرے گا؟ وزیراعظم شہبازشریف عوام کی بات کرتے ہیں لیکن عملاً دیکھا جائے تو عوام پر معاشی بوجھ بڑھ رہا ہے اور ان کیلئے دو وقت کی روٹی مشکل ہو گئی ہے۔ اپوزیشن جس کا کام عوام کی آواز ہے اس کی سیاست اڈیالہ جیل کے قیدی سے ملاقات اور ریلیف تک محدود ہے۔تاہم اب یہ خبر آئی ہے کہ اپوزیشن اتحاد نے جمعہ کے روز مہنگائی کے خلاف ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی کی صدارت میں ہونے والے ایک اجلاس میں کیا گیا۔ اور کہا گیا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور پٹرولیم کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ سے عوام کی زندگیاں اجیرن بنا دی گئی ہیں لہٰذاجمعہ کے روز ملک بھر کے ضلعی ہیڈ کوارٹرز میں احتجاجی مظاہرے کئے جائیں گے۔دیکھنا ہوگا کہ کل جمعہ کے روز اپوزیشن کا یہ احتجاج عملاً کتنا کامیاب ثابت ہوتا ہے اور پارٹی کے ذمہ داران، قائدین اور اراکین اسمبلی اس میں شریک ہوتے ہیں؟ اس سے قبل جماعت اسلامی بھی پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافہ کے خلاف احتجاجی مظاہرے کر چکی ہے لیکن حکومت پر اس سے کتنا دبائو آیا فی الحال یہ نظر نہیں آ رہا۔
دوسری جانب پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری پنجاب کے پانچ روزہ دورہ کے حوالے سے لاہور آئے تو انہوں نے سابق وزیراعلیٰ میاں منظور احمد وٹو کی رہائش گاہ پر جا کر اُن کے اہل خانہ سے تعزیت کی۔ اطلاعات یہ ہیں کہ بلاول بھٹو زرداری کا یہ دورہ پنجاب میں تنظیمی و سیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے ہے اور پیپلزپارٹی پنجاب میں متحرک اور فعال کردار چاہتی ہے۔ ایک وقت تھا کہ سندھ کے مقابلہ میں پنجاب پیپلزپارٹی کی سیاست کا گڑھ تھا اور اس کی بڑی وجہ پیپلزپارٹی کا سیاسی کردار تھا۔ پیپلزپارٹی اپنی سیاست کو عوام کی طاقت اور ان کے مسائل سے مشروط کرتی تھی لیکن آج یہ کیفیت نہیں بلکہ یہ کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا کہ بڑھتے ہوئے مسائل خصوصاً بڑھتی مہنگائی، بے روزگاری اور غربت کے مسائل سے صرف نظر برتنے کے عمل نے سیاسی جماعتوں کے کردار کو متاثر کیا ہے اور پیپلز پارٹی کی پنجاب میں متاثرہ مقبولیت ایک طویل سیاسی عمل کا نتیجہ ہے۔ ایک وقت تھا کہ پنجاب خصوصاً جنوبی اور وسطحی پنجاب پیپلزپارٹی کا گڑھ سمجھا جاتا تھا مگر وقت کے ساتھ اس کی عوامی طاقت کمزور پڑتی گئی اور اس کی بڑی وجہ پیپلزپارٹی کا مزاحمتی جماعت سے زیادہ مفاہمتی جماعت بننا ہے جس کے باعث نہ صرف اس کی تنظیمیں کمزور ہوتی گئیں بلکہ اس کے نظریاتی کارکن بھی نظر انداز ہوئے۔
پنجاب کی سیاست میں مسلسل زمینی رابطہ ضروری ہوتا ہے مگر پیپلزپارٹی یہ تسلسل برقرار نہ رکھ سکی۔ پیپلزپارٹی کی لیڈر شپ کو پنجاب کی سیاسی اور پارلیمنٹ اہمیت کا تو احساس ہے مگر عملاً وہ اپنی مقبولیت کی بحالی کیلئے پیش رفت نہیں کر پارہی۔ گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر نے اپنے اس منصب پر آکر پیپلزپارٹی میں جان ڈالنے کی کوشش کی، پنجاب کے تنظیمی عہدے داران اور کارکنوں سے روابط بھی بحال کئے لیکن اس کے خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آئے کیونکہ پیپلزپارٹی کی لیڈر شپ اگر اپنی ترجیحات میں سندھ سر فہرست رکھے گی اور پنجاب کو نظر انداز کرے گی تو پھر مقبولیت کی بحالی پر تو سوالیہ نشان ہی نظر آئے گا۔ ایک وقت تھا کہ پنجاب کی صدارت قاسم ضیا کے پاس تھی اور اُن کی لیڈر شپ میں پنجاب اسمبلی میں تقریباً سو کے قریب پی پی اراکین تھے۔ پیپلزپارٹی کی سرگرمیاں بھی نظر آتی تھیں اور عوام الناس سے رابطہ بھی تھا لیکن نہ جانے کیوں قاسم ضیا کو نظر انداز ہوئے اور پھر پیپلزپارٹی کے ووٹ بینک پر آہستہ آہستہ تحریک انصاف نے قبضہ کر لیا۔ مگر عوام، حکومت اور سیاسی جماعتوں کے درمیان فاصلے سے عوام سمجھتے ہیں کہ سیاسی جماعتوں کے پاس انہیں دینے کیلئے کچھ نہیں اور سیاسی جماعتیں یہ سمجھتی ہیں کہ اقتدار میں آنے کیلئے صرف مقبولیت نہیں قبولیت بھی درکار ہے۔
افسوسناک امر یہ ہے کہ سیاسی قوتوں کا اب مقبولیت سے زیادہ قبولیت پر زور ہے ، یہی وجہ ہے کہ سیاسی جماعتوں کی اہمیت ختم ہو رہی ہے۔ البتہ یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اگر کوئی جماعت مسائل زدہ عوام کی آواز بنے تو لوگوں کی توجہ حاصل کر سکتی ہے۔ ایک عام تاثر یہ بھی ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے درمیان ایک غیر اعلانیہ اتفاق ہے کہ پیپلزپارٹی پنجاب کو ٹارگٹ نہیں کرے گی اور مسلم لیگ (ن) سندھ کے محاذ پر دلچسپی ظاہر نہیں کرے گی ۔ عملاً نظر بھی ایسا ہی آ رہا ہے۔ بلاشبہ (ن)لیگ کی مقبولیت بھی پنجاب میں متاثر ہوئی ہے، اس کا ووٹ بینک متاثر ہوا ہے لیکن پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز اور ان کے وزرا اپنی مقبولیت کی بحالی کیلئے ترقیاتی سیاست کو ترجیح دے رہے ہیں۔ لیکن ان کا بھی بڑا مسئلہ یہی نظر آتا ہے کہ وزیراعلیٰ مریم نواز کی حکومت تو مضبوط نظر آتی ہے اور وہ اپنی کارکردگی بنانے اور صوبہ چلانے میں بھاگ دوڑ کرتی نظر آتی ہیں لیکن سیاسی اور تنظیمی محاذ پر (ن) لیگ عدم توجہی کا شکار ہے۔ جب تک سیاسی جماعتیں اپنی سیاست کو عام آدمی کے مسائل سے منسلک نہیں کرتیں اور ان کے مسائل پر توجہ نہیں دیتیں ان کی مقبولیت کی بحالی خواب ہی رہے گی۔ پیپلزپارٹی کو بھی پنجاب کے محاذ پر اپنے وجود کو برقرار رکھنے اور مقبولیت کی بحالی کیلئے بہت کچھ کرنا ہوگا، لیکن کیا وہ ایسا چاہتے ہیں؟ اس حوالے سے حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔