افلاطون:جس کے مکالمات نے سقراط کو زندہ کر دیا

تحریر : طوبیٰ سعید


اگرچہ عام طور پر یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ افلاطون دنیا کا سب سے بڑا فلسفی تھا، لیکن اس نے جو مکالمات لکھے ہیں، ان میں وہ دوسروں کے اقوال نقل کرتا ہے۔

 اس لیے مدت سے یہ بحث چلی آئی ہے کہ اس کے فلسفے میں کتنا حصہ اس کا اپنا ہے اور کتنا سقراط یا دوسرے حکیموں کا ہے، جن کا وہ اکثر ذکر کرتا ہے۔

اس کا پہلا نام ’’ارستو قلیس‘‘ تھا۔ بعد میں افلاطون ہوا۔ یہ غالباًایتھنز میں 427 قبل مسیح کے لگ بھگ پیدا ہوا اور اچھے خاندان کے لڑکوں کی طرح ادبیات، موسیقی اور ریاضیات کی تعلیم حاصل کی۔ وہ شعر بھی کہتا تھا اور پہلوان اور کسرتی بھی بہت اچھا تھا۔

 بیس سال کی عمر میں وہ سقراط کا شاگرد ہوا اور آٹھ سال تک اس سے علم حاصل کرتا رہا، لیکن معلوم ہوتا ہے کہ سقراط سے اس کے وہ گہرے تعلقات نہ تھے، جو دوسرے شاگردوں کے تھے۔ مثلاً سقراط نے خودکشی سے پہلے دوستوں سے جو گفتگو کی اس میں افلاطون موجود نہ تھا۔

استاد کے مرنے کے بعد افلاطون نے سائیرین، مصر، اِٹلی اور سِسلی کے سفر کیے اور میگارا کے مقام پر حکیم اقلیدس کی شاگردی بھی اختیار کی۔ 388 قبل مسیح کے قریب وہ گرفتار ہو گیا اور غلام بنا کر بیچ ڈالا گیا، لیکن بعد میں دوستوں نے زرِ فدیہ ادا کر کے اس کو چھڑا لیا۔ آخر وہ ایتھنز پہنچا اور اس نے اپنی مشہور اکادمی قائم کی، جس کو وہ اپنی زندگی کا مقصد سمجھتا تھا۔ یہاں چالیس برس تک اُس نے تعلیم دی اور طریقہ تعلیم وہی بحث اور مکالمے کا اختیار کیا جو اس نے سقراط سے سیکھا تھا۔

یہ اکادمی پہلی یونیورسٹی تھی جو آٹھ سال تک قائم رہی۔ اس نے بڑے بڑے آدمی پیدا کیے، جن میں سب سے زیادہ مشہور ارسطو تھا۔ افلاطون کے شاگرد ریاضیات کے خاص ماہر تھے، لیکن دوسرے علوم و فنون سے بھی وہ بالکل نا واقف نہ تھے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

چھوٹی سی کوشش

سومی ہرنی اپنی پسندیدہ کتاب تھامے لالی بکری کے ساتھ جیسے ہی گھنے جنگل میں داخل ہوئی تو اسے دور سے مومو چڑا مٹی کھودتا ہوا دکھائی دیا۔

شکرادا کرنا!

اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں کا شکر ادا کرنا انسان کا فرض ہی نہیں انسان کی عبادت میں بھی شامل ہے۔

بچوں کا انسائیکلوپیڈیا

پولیس کاروں پر فلیش لائٹ کیوں ہوتی ہے؟

محنت ہی سے راحت ملتی ہے

محنت ہی سے راحت ملتی ہے،محنت ہی سے عظمت ملتی ہے

سنہری باتیں

٭:اپنے تھوڑے کو دوسرے کے زیادہ سے بہتر جانو، سکون میں رہو گے۔

ذرا مسکرائیے

ماں نے دیکھا کہ بیٹا بلب زور زور سے اپنے سر پر رگڑ رہا ہے۔