عشرہ ذوالحجہ:رحمتوں و برکتوں والے دن

تحریر : مولانا محمد الیاس گھمن


اللہ تعالیٰ نے حرمت والے مہینے ذوالحج کے پہلے عشرہ کو برکت و عظمت عطا فرمائی اس عشرہ میں کیے جانے والے نیک اعمال کا اجر باقی ایام کے مقابلے کئی گنا زیادہ ہے(صحیح بخاری) رسول اللہ ﷺ ماہ ذوالحج کے (پہلے) نو دنوں میں روزہ رکھا کرتے تھے ( ابو دائود)

اسلامی کیلنڈر کا بارہواں اور نہایت بابرکت مہینہ ذوالحج اپنے دامن میں عبادت، قربانی، ایثار اور بندگیِ ربّ کی بے شمار سعادتیں سمیٹے ہوئے آتا ہے۔ یہ وہ مقدس مہینہ ہے جس میں دنیا بھر سے لاکھوں فرزندانِ اسلام حج کی عظیم عبادت ادا کرنے کیلئے مکہ مکرمہ کا رخ کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ماہ ذوالحج کو بالخصوص اس کے پہلے عشرہ کو حرمت، برکت، عظمت اور فضیلت عطا فرمائی ہے۔ جن کی فضیلت قرآن و حدیث میں بارہا بیان ہوئی ہے۔ یہ مہینہ مسلمانوں کو نہ صرف عبادات میں اضافہ کرنے بلکہ اخوت، ہمدردی، صلہ رحمی اور ضرورت مندوں کی مدد کا درس بھی دیتا ہے۔

حرمت والا مہینہ

اس مہینے کا شمار ان چار مہینوں (ذوالقعدہ، ذوالحج، محرم اور رجب) میں ہوتا ہے، جن کو حرمت عزت والے مہینے کہا جاتا ہے۔ ان میں خونریری، لڑائی جھگڑا وغیرہ کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔ حضرت ابوبکرہؓ سے روایت ہے، نبی کریمﷺ نے فرمایا ’’زمانہ گھوم کر اسی حالت پر آ گیا جیسے اس دن تھا جب  اللہ رب العزت نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا تھا۔ سال کے بارہ مہینے ہیں اور ان میں سے چار حرمت یعنی عزت و احترام والے ہیں۔ تین تو اکٹھے ترتیب کے ساتھ ہیں یعنی ذوالقعدہ، ذوالحج، محرم اور چوتھا مہینہ رجب ہے۔ (صحیح بخاری: 4662)

عشرہ ذوالحجہ

اس مہینے کے پہلے دس دنوں کی فضیلت یہ ہے کہ اس میں کیے جانے والے نیک اعمال کا ثواب باقی ایام کے مقابلے میں زیادہ عطا کیا جاتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: عشرہ ذو الحج میں کیے جانے والے نیک اعمال دوسرے عام دنوں میں کیے جانے والے نیک اعمال کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کے ہاں زیادہ فضیلت والے ہیں۔ صحابہ کرامؓ نے عرض کی یا رسول اللہﷺ! کیا جہاد (جیسی عظیم عبادت) بھی ان کے برابر نہیں؟ آپﷺ نے فرمایا: ہاں مگر وہ شخص جو جان و مال لے کر جہاد کیلئے نکلے اور پھر ان جان و مال میں سے کچھ بھی واپس نہ آئے(یعنی وہ شہید ہو جائے)۔ (صحیح بخاری: 969)

حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ہاں عشرہ ذوالحج زیادہ عظمت والا ہے اور ان دس دنوں میں کی جانے والی عبادت باقی عام ایام کی بہ نسبت اللہ کو زیادہ محبوب ہے۔ ان دنوں میں کثرت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرو یعنی سبحان اللہ کہو، تہلیل یعنی لا الہ الا اللہ کہو، تکبیر یعنی اللہ اکبر اور تحمید یعنی الحمد للہ کہو۔ (مسند عبد بن حمید، احادیث ابن عمر، الرقم: 805)

حج کا مہینہ

اس مہینے کو یہ فضیلت بھی حاصل ہے کہ یہ دین اسلام کے پانچویں اہم ترین رکن ’’حج‘‘ کی ادائیگی کا مہینہ ہے۔ اس لیے اس مہینے کا نام ہی ذوالحج رکھا گیا ہے یعنی حج والا مہینہ۔

تکبیرات تشریق

اس مہینے کے مخصوص ایام (نویں ذوالحج کی نماز فجر سے تیرہویں ذوالحج کی نماز عصر تک) میں ہر فرض نماز کے بعد تکبیرات تشریق کہی جاتی ہیں۔ تکبیر تشریق یہ ہے:اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ واللہ اکبر اللہ اکبر وللہ الحمد۔ 

روزوں کی فضیلت

اس مہینے کے پہلے عشرہ(مراد پہلے نو دن ہیں)کے روزوں کا ثواب بہت زیادہ ہے یہاں تک کہ اس کے ایک دن کا روزہ سال بھر کے روزوں کے برابر ہے اور اس کی ایک رات کی عبادت کا بھی بے پناہ اجر ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ کے ہاں عام دنوں کے مقابلے میں عشرہ ذوالحج کی عبادت زیادہ محبوب ہے، اس ایک دن کا روزہ (عام  دنوں کے) ایک سال کے روزوں کے برابر ہے اور (عشرہ ذو الحج کی) ایک رات کی عبادت لیلۃ القدر کی عبادت کے برابر ہے۔ (جامع ترمذی: 689)۔ یہ فضیلت یکم سے نو ذوالحج تک کے روزوں کی ہے دسویں تاریخ کو روزہ رکھنا جائز نہیں ہے۔ نبی کریم ﷺ کی زوجہ محترمہؓ فرماتی ہیں: رسول اللہ ﷺ ذوالحج کے (پہلے) نو دنوں میں روزہ رکھا کرتے تھے (ابو دائود: 2081) ۔

اسلام کی تکمیل

اس میں اللہ تعالیٰ نے اسلام کو مکمل فرمایا اور اپنی نعمت کو پورا فرمایا۔ حضرت عمر بن خطابؓ سے مروی ہے کہ ایک یہودی نے ان سے کہا اے امیر المومنینؓ! آپؓ کی کتاب(قرآن کریم) میں ایک آیت ایسی ہے اگر وہ ہمارے اوپر نازل کی جاتی تو ہم اس دن عید مناتے۔ حضرت عمرؓ نے اس سے پوچھا کہ کونسی آیت؟ یہودی نے کہا: ’’آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لئے اسلام کو بحیثیت دین پسند کر لیا۔ حضرت عمرؓ نے اس سے فرمایا: ہم اس دن کو خوب جانتے ہیں اور اس جگہ کو بھی اچھی طرح سے جہاں یہ آیت نبی کریم ﷺ پر نازل ہوئی۔یوم عرفہ (نویں ذوالحج) بروز جمعہ میدان عرفات میں۔ (صحیح بخاری: 45)

یوم عرفہ

اس مہینے کی نویں تاریخ یعنی ’’یوم عرفہ‘‘ کا روزہ ہے۔ جس کا احادیث مبارکہ میں بہت زیادہ اجر ذکر کیا گیا ہے۔ اُم المُومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عرفہ (نویں ذوالحج) کے دن کے روزہ (کا ثواب) ایک ہزار دن کے روزوں کے برابر ہے (شعب الایمان: 3486)۔ حضرت فضل بن ؓسے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے  فرمایا جو شخص عرفہ کے دن اپنی زبان کی، اپنے کانوں کی اور اپنی آنکھوں کی حفاظت کرتا ہے تو اس دن سے لے کر دوسرے سال عرفہ کے دن تک کے اس کے گناہوں کو اللہ تعالیٰ معاف فرما دیتے ہیں۔ (شعب الایمان :3490)، حضرت انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ حج کے دس دنوں میں سے ہر دن کو ہزار دنوں کے برابر جبکہ عرفہ کے دن کو دس ہزار دنوں کے برابر سمجھا جاتا تھا۔ (شعب الایمان:  3488)، حضرت ابوقتادہ انصاریؓ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: میں اللہ تعالیٰ سے امید رکھتا ہوں کہ یوم عرفہ کا روزہ اپنے سے پہلے اور بعد والے سال کے گناہوں کا کفارہ بن جا ئے گا (صحیح مسلم: 2716)۔

پہلے عرض کیا جا چکا ہے یہ عظیم الشان فضیلت ان لوگوں کیلئے ہے جو حج ادا نہ کر رہے ہوں، حجاج کرام کو روزہ کی وجہ سے وقوف عرفہ جیسی عبادت میں سستی پیدا ہونے کا اندیشہ ہو تو بہتر یہ ہے کہ وہ روزہ نہ رکھیں۔

عیدکی رات و دن

اس مہینے کی نویں تاریخ یعنی یوم عرفہ میں اللہ رب العزت لوگوں کو جہنم سے کثرت کے ساتھ آزاد فرماتے ہیں۔ حضرت ابن المسیبؓ سے مروی ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ رب العزت باقی ایام کی بہ نسبت یوم عرفہ(نویں ذوالحج) والے دن لوگوں کو کثرت کے ساتھ جہنم سے آزاد فرماتے ہیں۔ (صحیح مسلم: 2402)

قربانی کی برکت

اس مہینے کی دسویں تاریخ کو نماز عید ادا کی جاتی ہے، عید کا دن بھی فضیلت والا ہوتا ہے اور اس کی رات بھی۔ عیدین کی راتیں ایسی مبارک راتیں ہیں اگر کوئی شخص ان میں اللہ کی عبادت کرے تو اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کی ہولناکیوں سے محفوظ فرماتے ہیں۔ حضرت ابو امامہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول  اللہﷺ نے فرمایا: جو شخص دونوں عیدوں (عید الفطر اور عید الا ضحیٰ) کی راتوں میں ثواب کا یقین رکھتے ہوئے عبادت میں مشغول رہا تو اس کا دل اس دن نہ مرے گا جس دن لوگوں کے دل مردہ ہو جائیں گے۔( ابن ماجہ:  1782)

اس مہینے کی دسویں، گیارہویں اور بارہویں تاریخ کو اللہ کے نام پر متعین جانور کو ذبح کیا جاتا ہے یعنی قربانی کے مبارک عمل کی ادائیگی کی جاتی ہے اس دن اس عمل سے زیادہ کوئی اور عمل زیادہ اجر و ثواب والا نہیں۔ حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ہاں کسی خرچ کی فضیلت اس خرچ سے ہرگز زیادہ نہیں جو عید قربان والے دن قربانی پر کیا جا ئے۔ (الدارقطنی: 4815)

اُم المُومنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عید الاضحی کے دن کوئی نیک عمل اللہ تعالیٰ کے نزدیک قربانی کا خون بہانے سے محبوب اور پسندیدہ نہیں اور قیامت کے دن قربانی کا جانور اپنے بالوں، سینگوں اور کھروں سمیت آئے گا اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے ہاں شرفِ قبولیت حاصل کر لیتا ہے لہٰذا تم خوش دلی سے قربانی کیا کرو  (جامع ترمذی: 1413)۔

حضرت زید بن ارقمؓ سے روایت ہے، صحابہ کرامؓ نے سوال کیا: یارسول اللہﷺ! یہ قربانی کیا ہے؟ (یعنی قربانی کی حیثیت کیا ہے؟)۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تمہارے (روحانی) باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔ صحابہ کرام ؓؓنے عرض کیا کہ ہمیں قربانی کے کرنے سے کیا ملے گا؟ فرمایا ہر بال کے بدلے میں ایک نیکی۔ صحابہ کرامؓ نے (پھر سوال کیا) یارسول اللہﷺ! اون (کے بدلے کیا ملے گا) فرمایا: اون کے ہر بال کے بدلے میں نیکی ملے گی۔ (سنن ابن ماجہ:  3127)

جس شخص نے قربانی کرنی ہوتو اسے چاہیے کہ ذوالحج کا چاند نظر آنے سے قربانی کرنے تک ناخن اور بال وغیرہ نہ کاٹے۔حضرت اُم سلمہ ؓ بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب ذوالحج کا پہلا عشرہ شروع ہو جائے (یعنی ذو الحج کا چاند نظر آ جائے) اور تم میں سے کسی کا ارادہ ہو قربانی کا تو اس کو چاہیے (قربانی کرنے تک) اپنے بال اور ناخن نہ تراشے (صحیح مسلم:5233)۔اللہ کریم ہمیں ان مبارک ایام کی قدر توفیق نصیب فرمائے، امین۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام:جلیل القدر پیغمبر

حج و عمرہ کی اکثر عبادات کا تعلق سنت ابراہیمی سے ہے

جانوروں کے حقوق اور ہماری ذمہ داریاں

’’جانور کو کھلانا پلانا باعث اجر ہے‘‘(ابن ماجہ)

مسائل اور ان کا حل

حالت احرام میں مختلف ذائقوں والے خوشبودار مشروبات پینا سوال: کیاحالت احرام میں مختلف ذائقوں والے خوشبو دار مشروبات پینا جائز ہے،کیا اس کے پینے سے دم لازم ہوگا؟(تنویر خان، بہاولپور)

سفارتی کامیابیاں مگر معاشی محاذ پر مشکلات

پاکستان نے حالیہ مہینوں میں سفارتی محاذ پر غیر معمولی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ خطے میں بڑھتی کشیدگی خصوصاً امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تناؤ کے دوران پاکستان نے نہ صرف متوازن سفارتکاری کا مظاہرہ کیا بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان اپنے کردار کو بھی نمایاں کیا۔

مجوزہ 28ویں ترمیم اوراپوزیشن کی سیاست

ملک کے سیاسی حلقوں میں سرگوشیاں ہیں کہ حکومت آنے والے دنوں میں قومی اسمبلی اور سینیٹ سے 28 ویں ترمیم کی منظوری کو یقینی بنانا چاہتی ہے۔

منشیات مافیا اور طاقت کے سائے

یونانی فلسفی اناکارسس نے کیا خوب کہا تھا کہ قانون مکڑی کاوہ جالا ہے جس کو طاقتور؍امیر توڑتے ہوئے نکل جاتا ہے جبکہ کمزور؍غریب اس میں پھنس جاتا ہے۔