مجوزہ 28ویں ترمیم اوراپوزیشن کی سیاست
ملک کے سیاسی حلقوں میں سرگوشیاں ہیں کہ حکومت آنے والے دنوں میں قومی اسمبلی اور سینیٹ سے 28 ویں ترمیم کی منظوری کو یقینی بنانا چاہتی ہے۔
اسی بنیاد پر حکومت اور اس کی اتحادی جماعتوں کے درمیان بات چیت جاری ہے۔28ویں ترمیم پر پیپلز پارٹی کے تحفظات ہیں اور پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ ایسی کوئی ترمیم نہ ہو جس سے صوبائی خود مختاری متاثر ہو۔ پیپلز پارٹی قومی مالیاتی ایوارڈ کے حوالے سے بھی وفاق کے مؤقف کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔رانا ثنا اللہ کہتے ہیں کہ یہ بات بجا ہے کہ 28ویں ترمیم پر حکومت اور اس کے اتحادیوں میں بات چیت چل رہی ہے لیکن یہ کام باہمی مشاورت اور اتفاق رائے کی بنیاد پر ہوگا۔پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ( ن) ایک دوسرے کی اتحادی جماعتیں ہیں اور ایک دوسرے کی مدد کے علاوہ ان کے پاس کوئی سیاسی آپشن نہیں۔ اس حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف اور صدر آصف علی زرداری کے درمیان ہونے والی ملاقات بھی اہم ہے ۔ اس ملاقات میں بھی 28ویں ترمیم کی بنیاد پر گفتگو ہوئی اور یہ اتفاق کیا گیا کہ دونوں جماعتیں مل کر آگے بڑھیں گی۔دوسری طرف اپوزیشن کی سیاست ایک بار پھر سرگرم نظر آرہی ہے۔اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس نے حکومت کو پیغام دیا ہے کہ اگر اپوزیشن کی سیاست کے لیے سیاسی راستہ نہ نکالا گیا تو اس کے پاس احتجاج کے سوا کوئی آپشن نہیں بچے گا۔پی ٹی آئی کی قیادت مسلسل مطالبہ کر رہی ہے کہ پارٹی کا بانی پی ٹی آئی سے رابطہ ممکن بنایا جائے اور اُن کا فوری علاج ان کے ڈاکٹروں سے کروانے کی منظوری دی جائے۔حکومت نے ایک بار پھر اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دی ہے اور اپوزیشن نے اس ملاقات کی حامی بھری ہے اور کہا ہے کہ یہ ملاقات رانا ثنا اللہ کے گھر ہو سکتی ہے۔
لگتا ہے کہ حکومت اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دے کر ان میں احتجاج کی سیاست کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہے کیونکہ حکومت یہی چاہے گی کہ پی ٹی آئی کو مذاکرات کے ساتھ جڑجائے اور سڑکوں پر آنے کی سیاست سے رک جا ئے۔ بانی پی ٹی آئی کی بہنیں اور پارٹی کے اندر ایک بڑا دھڑا بار بار پارٹی کو پیغام دے رہا ہے کہ عمران خان کے لیے جب تک سڑکوں پر نہیں آیا جائے گا پی ٹی آئی اور عمران خان کو ریلیف نہیں مل سکتا۔بانی پی ٹی آئی کی بہنیں بار بار پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ عمران خان کے حق میں تحریک چلائیں اور سڑکوں پر آنے کا واضح اعلان کریں لیکن پی ٹی آئی قیادت اس وقت کسی احتجاجی موڈمیں نہیں۔ وہ حکومت اور مقتدرہ کے ساتھ بات چیت سے کوئی راستہ نکالنے کی کوشش کرنا چاہتے ہیں۔اسی طرح پی ٹی آئی کے درمیان جو اندرونی لڑائی چل رہی ہے اس نے بھی پی ٹی آئی کو نقصان پہنچایا ہے۔پی ٹی آئی کی سندھ میں لڑائی کافائدہ حکومت کو ہو رہا ہے۔ پی ٹی آئی کا ووٹر سمجھتا ہے کہ اس کی موجودہ قیادت کو بانی پی ٹی آئی کی رہائی میں کوئی دلچسپی نہیں اور نہ ہی بڑی تحریک چلانا ان کے ایجنڈے کا حصہ ہے حالانکہ اس وقت کے جو سیاسی حالات ہیں وہ حکومت کے حق میں نہیں خاص طور پر حالیہ دنوں جو پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اس پر لوگ حکومت سے سخت ناخوش نظر آتے ہیں۔جماعت اسلامی نے اس حوالے سے اسلام آباد میں احتجاج کی کال بھی دے رکھی ہے۔
یہ احتجاج کس حد تک نتیجہ خیز ہو گا دیکھنا ہو گا۔حکومت کی خوش قسمتی یہ ہے کہ اس وقت اپوزیشن تقسیم ہے اور سڑکوں پر آنے کی صلاحیت سے محروم نظر آتی ہیں لیکن حکومت کو یہ بات سمجھنا ہوگی کہ اگر اسی طرح سے مہنگائی کا طوفان برقرار رہتا ہے اور آگے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو اس سے حکومت کی مشکلات میں اور زیادہ اضافہ ہو سکتا ہے۔اس لیے حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ پٹرول ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کرے تا کہ لوگوں کے اندر جو حکومت کے بارے میں غصہ بڑھ رہا ہے اس کو کم کیا جا سکے۔
اس حکومت کی خوش قسمتی ہے کہ اسے کمزور اپوزیشن ملی اور پارلیمنٹ سمیت سڑکوں کی سیاست پر پی ٹی آئی کمزور پوزیشن پر کھڑی نظر آتی ہے۔دوسری طرف مولانا فضل الرحمن بھی فی الحال حکومت کے خلاف کوئی بڑی تحریک چلانے کی پوزیشن میں نہیں اور نہ ہی انہوں نے یہ اعلان کیا ہے کہ اس حکومت کے خلاف سڑکوں پر آنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ حکومت اپوزیشن جماعتوں سے مطمئن نظر آتی ہے اور اسے فوری طور پر اپنی مخالف جماعتوں سے کوئی خطرہ نظر نہیں آرہا، لیکن عوام پریشان ہیں اور ان کے معاشی حالات روزانہ کی بنیاد پر خراب ہو رہے ہیں ،اس لیے حکومت کو چین کی نیند سونے کے بجائے یہ احساس کرنا چاہیے کہ ہر صورت لوگوں کے مسائل حل ہوں ، اسی بنیاد پر حکومت کا نظام آگے بڑھ سکتا ہے۔
دوسری طرف پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کا معاملہ کافی عرصے سے تعطل کا شکار ہے۔ملک کے دیگر صوبوں میں بلدیاتی ادارے کام کر رہے ہیں لیکن پنجاب میں 2015ء کے بعد بلدیاتی الیکشن نہیں ہو سکے۔اس وقت پنجاب میں الیکشن کمیشن کی جانب سے حلقہ بندیوں کا کام جاری ہے اور الیکشن کمیشن نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ صوبے میں بلدیاتی الیکشن کو ہر صورت کروانے کا ارادہ رکھتا ہے۔تاہم پنجاب میں اپوزیشن جماعت پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی نے لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 کو عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے اور بلدیاتی الیکشن جماعتی بنیادوں پر کروانے اور یونین کونسل کی سطح پر چیئرمین اور وائس چیئرمین کا انتخاب براہ راست کروائے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔بدقسمتی یہ ہے کہ جو بھی پارٹی اقتدار میں آتی ہے ، بلدیاتی انتخابات کروانے سے انکار کر دیتی ہے ۔جب وہی جماعتیں اپوزیشن میں ہوتی ہیں تو بلدیاتی انتخابات کا مطالبہ کرتی رہتی ہیں۔2016 ء سے اب تک پنجاب میں مقامی حکومتوں کے سات قوانین بن چکے ہیں لیکن کسی پر بھی عمل درآمد نہیں ہو سکا اور نہ ہی الیکشن کا انعقاد کیا جا سکاہے۔لیکن پنجاب کے وزیر بلدیات نے حال ہی میں ایک خطاب میں یہ دعویٰ کیا کہ ان کی حکومت اسی برس بلدیاتی الیکشن کروائے گی۔بقول ان کے، الیکشن کمیشن جیسے ہی حلقہ بندیاں مکمل کرتا ہے حکومت الیکشن کرانے میں تاخیر نہیں کرے گی۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ اس وقت صوبے میں الیکشن نہیں ہوئے ہیں لیکن اس کے باوجود ہماری پنجاب میں نچلی سطح پر عوامی منصوبوں پر کام جاری ہے۔