آزاد کشمیر: انتخابات سے قبل سیاسی کشمکش تیز

تحریر : محمد اسلم میر


آزاد جموں و کشمیر کی موجودہ قانون ساز اسمبلی کی پانچ سالہ مدت اسی سال دو اگست کو مکمل ہو جائے گی۔

 یوں آزاد جموں وکشمیر عبوری آئین ایکٹ 1974 کے مطابق دوجون سے دواگست کے درمیان عام انتخابات ہونے چاہئیں۔ آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن آئندہ چند ایام کے دوران کسی بھی وقت عام انتخابات کے شیڈول کا اعلان کردے گا۔ دوسری جانب آزاد جموں و کشمیر کی بیشتر سیاسی جماعتوں نے انتخابی مہم شروع کر رکھی ہے۔ شمولیتی پروگرامز سے لے کر کارنر میٹنگز اور متعدد مقامات پر سیاسی جماعتوں نے جلسے بھی منعقد کئے۔ مسلم لیگ (ن) امیدواروں کے ٹکٹ بھی فائنل کر چکی ہے اور امیدواروں کو الیکشن لڑنے کیلئے پارٹی ٹکٹ کسی بھی وقت جاری کئے جاسکتے ہیں۔

آزاد جموں و کشمیر میں اس بار عام انتخابات کو مسلم لیگ (ن) نے سنجیدگی سے لیا ہے۔ انتخابات کیلئے ٹکٹ کے خواہشمند امیدواروں کے انٹرویوز اور دیگر انتخابی تیاریوں کیلئے (ن) لیگ نے پارلیمانی بورڈ بھی تشکیل دیا جس کے اب تک دو اجلاس جماعت کے قائد میاں محمد نواز شریف کی صدارت میں ہو چکے ہیں۔ آزاد جموں کشمیر میں انتخابات کی تیاریوں اور ٹکٹ کے خواہش مند امیدواروں کے اجلاس سے قبل میاں محمد نواز شریف نے 8 مئی کو ماڈل ٹاؤن لاہور میں مسلم لیگ( ن) آزاد جموں و کشمیر کے پارلیمانی بورڈ سے خطاب کیا۔ اس کے بعد انہوں نے ٹکٹ کے خواہش مند امیدواروں سے ملاقات کی، الگ الگ تفصیلات پوچھیں اور ان کے انتخابی حلقوں کے متعلق سوالات کئے۔ آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کے سلسلے میں منعقدہ اس اجلاس میں میاں محمد نواز شریف کے علاوہ وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف، وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور صدر مسلم لیگ (ن )آزاد جموں و کشمیر شاہ غلام قادر نے بھی شرکت کی۔اس موقع پر میاں محمد نواز شریف نے ٹکٹ کے امیدواروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات میں نمایاں کامیابی کیلئے ضروری ہے کہ امیدواروں کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ (ن) کے کارکن بھی نکلیں اور گھر گھر پارٹی منشور پہنچایں تاکہ آزاد جموں و کشمیر میں تعمیر و ترقی کا کام شروع کیا جاسکے۔ ماڈل ٹاؤن لاہور میں منعقدہ پارٹی اجلاس کے بعد مسلم لیگ (ن )آزاد جموں و کشمیر کے پارلیمانی بورڈ نے ٹکٹ کے امیدواروں کے نام فائنل کر دیے جن کا اعلان کسی بھی وقت کیا جا سکتا ہے۔

ادھرشنید ہے کہ پیپلزپارٹی آزاد جموں و کشمیر میں مشترکہ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ مل کر الیکشن ملتوی کرانا چاہتی ہے تاکہ مزید ایک سال کیلئے اقتدار پر براجمان رہے۔ اقتدار کو طول دینے کیلئے پیپلزپارٹی اس وقت مشترکہ عوامی ایکشن کمیٹی کی بی ٹیم بن چکی ہے جس کا ثبوت گزشتہ ایک ہفتے کے دوران وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر فیصل ممتاز راٹھور کے وہ دو بیانات ہیں جن میں وہ عوامی ایکشن کمیٹی کا نام لئے بغیر کہتے ہیں اگر کوئی شہری احتجاج کیلئے سڑکوں پر نکلے گا تو اس کے خلاف فورس استعمال نہیں کی جائے گی۔ وزیر اعظم کے اس بیان کو سیاسی تجزیہ کار مشترکہ عوامی ایکشن کمیٹی کی 9جون کی ممکنہ ہڑتال کے ساتھ جوڑتے ہیں۔ وزیر اعظم فیصل ممتاز راٹھور کی طرف سے طاقت کا استعمال نہ کرنے کے اعلان سے ایکشن کمیٹی کو شہہ ملے گی اور وہ سڑکوں پر آئے گی۔ وزیر اعظم فیصل ممتاز راٹھور نے ایک اور بیان میں کہا کہ پیپلزپارٹی اس وقت تک پارلیمانی بورڈ تشکیل نہیں دے گی جب تک مہاجرین کی 12 نشستوں کے مستقبل کا فیصلہ نہ کیا جائے۔ مقبوضہ جموں اور وادی کے مہاجرین مقیم پاکستان کی بارہ نشستوں کو ختم کرنے کا ایجنڈا مشترکہ عوامی ایکشن کمیٹی کا ہے جسے اب پیپلزپارٹی بھی اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے آگے بڑھا رہی ہے۔ پیپلزپارٹی کو معلوم ہے کہ اگر مہاجرین مقبوضہ جموں و کشمیر مقیم پاکستان کی بارہ نشستیں رہ گیں تو ان میں سے دس نشستیں مسلم لیگ( ن) جیت سکتی ہے جبکہ پیپلزپارٹی کو کراچی اور بلوچستان پر مشتمل مقبوضہ وادی کے کشمیریوں کی صرف ایک نشست ملنے کا امکان ہے، وہ بھی جماعتی وابستگی یعنی پیپلزپارٹی کے بجائے کراچی اور بلوچستان سے منتخب رکن قانون ساز اسمبلی عامر عبد الغفار لون کے ذاتی اثر و رسوخ پر جیتیں گے جبکہ خیبر پختونخوا میں آباد مقبوضہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے کشمیریوں کی واحد نشست بھی رکن قانون ساز اسمبلی عبد الماجد خان 2006ء سے 2021ء تک مسلسل چار بار اپنے خاندان کے ذاتی اثر و رسوخ پر جیت رہے ہیں۔

 پیپلزپارٹی کی میزبانی میں وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان امیر مقام نے 11مئی کو مظفرآباد میں مشترکہ عوامی ایکشن کمیٹی کے نمائندگان کے ساتھ تفصیلی میٹنگ کی اور عوامی ایکشن کمیٹی نے اس میٹنگ کے باوجود 9 جون کو دی گئی ہڑتال کی کال واپس نہیں لی جو پیپلزپارٹی کی حکومت کی بظاہرناکامی ہے اور سیاسی تجزیہ نگار مشترکہ عوامی ایکشن کمیٹی اور پیپلزپارٹی کی حکومت کے درمیان معاملات کو چوہے اور بلی کا کھیل قرار دے رہے ہیں تاکہ مشترکہ عوامی ایکشن کمیٹی 9 جون کو سڑکوں پر آئے، تھوڑی بہت افراتفری کے بعد الیکشن ملتوی ہوجائیں اور آزاد جموں و کشمیر میں پیپلزپارٹی کو حکومت جاری رکھنے کا موقع ملے۔ پیپلزپارٹی کیلئے بر وقت الیکشن کا انعقاد سیاسی مشکلات کا موجب ہے۔ اسی لئے پیپلزپارٹی کی حکومت مشترکہ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کے بجائے آزاد جموں و کشمیر میں ایسا ماحول چاہتی ہیں کہ عام انتخابات تاخیر کا شکا ر ہوں اور اس کی حکومت جاری رہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

سفارتی کامیابیاں مگر معاشی محاذ پر مشکلات

پاکستان نے حالیہ مہینوں میں سفارتی محاذ پر غیر معمولی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ خطے میں بڑھتی کشیدگی خصوصاً امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تناؤ کے دوران پاکستان نے نہ صرف متوازن سفارتکاری کا مظاہرہ کیا بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان اپنے کردار کو بھی نمایاں کیا۔

مجوزہ 28ویں ترمیم اوراپوزیشن کی سیاست

ملک کے سیاسی حلقوں میں سرگوشیاں ہیں کہ حکومت آنے والے دنوں میں قومی اسمبلی اور سینیٹ سے 28 ویں ترمیم کی منظوری کو یقینی بنانا چاہتی ہے۔

منشیات مافیا اور طاقت کے سائے

یونانی فلسفی اناکارسس نے کیا خوب کہا تھا کہ قانون مکڑی کاوہ جالا ہے جس کو طاقتور؍امیر توڑتے ہوئے نکل جاتا ہے جبکہ کمزور؍غریب اس میں پھنس جاتا ہے۔

خیبر پختوا کے جنوبی اضلاع غیر محفوظ کیوں؟

خیبرپختونخوامیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پردہشت گردانہ حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔

بلوچستان: چیلنجز کے باوجود استحکام کی نئی امید

بلوچستان میں ایک طرف دہشت گردی، بیرونی مداخلت، سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں اور خصوصاً خواتین کو گمراہ کرنے کی منظم سازشیں ہیں تو دوسری جانب ریاست، سکیورٹی ادارے، سیاسی قیادت اور صوبائی حکومت ایک مربوط حکمت عملی کے ذریعے امن، ترقی اور قومی وحدت کے لیے سرگرم عمل ہیں۔

خوداعتماد خواتین کامیاب اور مضبوط معاشرے کی بنیاد

خوداعتمادی انسان کی شخصیت کا وہ جوہر ہے جو اسے زندگی کے ہر میدان میں آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتا ہے۔