مکہ معظمہ :سر زمین مقدس کی عظمت

تحریر : محمد الیاس قادری


’’بے شک سب میں پہلا گھر جو لوگوں کی عبادت کو مقرر ہوا وہ مکہ میں ہے‘‘( آل عمران:96) جو خانہ کعبہ کے قصد سے آیا اور اونٹ پر سوار ہوا تو اُونٹ جو قدم اٹھاتاہے، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس کیلئے نیکی لکھتا ہے، خطا مٹاتا اور درجہ بلند فرماتا ہے(شعب الایمان)

دنیا کے نقشے پر کچھ مقامات ایسے ہیں جنہیں محض جغرافیائی حیثیت نہیں بلکہ روحانی مرکزیت بھی حاصل ہے، اور مکہ معظمہ ان میں سرفہرست ہے۔ یہ وہ مقدس سرزمین ہے جہاں قدم رکھتے ہی دلوں میں عقیدت کی ایک لہر دوڑ جاتی ہے اور روح ایک خاص سکون محسوس کرتی ہے۔ یہی وہ بابرکت شہر ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنا گھر یعنی خانہ کعبہ عطا فرمایا، جس کی طرف رخ کر کے دنیا بھر کے مسلمان دن میں پانچ مرتبہ نماز ادا کرتے ہیں۔

مکہ معظمہ نہ صرف قبلۂ اوّل و آخر ہے بلکہ یہ انبیائے کرام ؑ کی مقدس یادوں کا امین بھی ہے۔ اسی سرزمین پر حضرت ابراہیم ؑ اور حضرت اسماعیل  ؑ نے خانہ کعبہ کی بنیاد رکھی، اور یہی وہ مقام ہے جہاں خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کی ولادت باسعادت ہوئی۔ ہر سال لاکھوں مسلمان یہاں حج و عمرہ کی سعادت حاصل کرنے آتے ہیں اور اس شہر کی عظمت و تقدس کا عملی مشاہدہ کرتے ہیں۔ مکہ معظمہ کی فضیلت صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ یہ امتِ مسلمہ کے اتحاد، اخوت اور روحانی وابستگی کی ایک روشن علامت بھی ہے۔

اللہ تبارک و تعالیٰ کا قرآن کریم کے پارہ 4 سورہ آل عمران کی آیت 96 میں فرمانِ عالیشان ہے، ترجمہ کنزالایمان: ’’بے شک سب میں پہلا گھر جو لوگوں کی عبادت کو مقرر ہوا وہ مکے میں ہے، برکت والا اور سارے جہان کا رہنما‘‘۔

مفتی احمدیار خان ؒ اس آیت کریمہ کے تحت تحریر کرتے ہیں: اے مسلمانوں! یا اے  انسانوں! یقین سے جان لو کہ ساری روئے زمین پر سب سے پہلے اور سب سے افضل گھر جو لوگوں کے دینی اور دُنیوی فائدوں کیلئے پیدا کیا گیا اور بنایا گیا وہی ہے جوکہ مکہ شریف میں واقع ہے، نہ بیت المقدس جو درجے میں بھی کعبے کے بعد ہے اور فضیلت میں بھی۔ حدیث پاک میں ہے: ’’کعبہ معظمہ دیکھنا عبادت، قرآنِ عظیم کو دیکھنا عبادت ہے اور عالم کا چہرہ دیکھنا عبادت ہے‘‘۔ (فردوس الاخبار، حدیث 2791، ج1 ص376)۔ 

حضرت ابن عباس ؓ  بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ جب کعبہ شریف میں داخل ہوئے تو اُس کے گوشوں (کونوں) میں دُعا مانگی اور نماز نہ پڑھی حتیٰ کہ وہاں سے تشریف لے آئے جب نکلے تو دو رکعتیں کعبے کے سامنے پڑھیں اور فرمایا: ’’یہ ہے قبلہ‘‘ (بخاری، ج1، ص 156، حدیث 398)۔

 مفتی احمدیار خان  ؒ ’’یہ ہے قبلہ‘‘ کی وضاحت میں لکھتے ہیں: یعنی تاقیامت کعبہ تمام مسلمانوں کا قبلہ ہو چکا، کبھی منسوخ نہ ہو گا، اس میں لطیف (باریک) اشارہ اس طرف بھی ہو رہا ہے کہ کعبے کا ہر حصہ قبلہ ہے، سارا کعبہ نمازی کے سامنے ہونا ضروری نہیں (مراۃ المناجیح، ج1، ص429)۔

بہار شریعت جلداوّل صفحہ 487 پر مسئلہ نمبر 50 ہے: کعبہ معظمہ کے اندر نماز پڑھی، تو جس رُخ چاہے پڑھے، کعبے کی چھت پر بھی نماز ہو جائے گی مگر اس کی چھت پر چڑھنا ممنوع ہے۔ (غنیہ ص616، وغیرہا)

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا’’ 3 مسجدوں کے سوا اور کسی طرف کجاوے نہ باندھے جائیں (یعنی سفر نہ کیا جائے)۔ مسجد حرام، مسجد نبوی، مسجد اقصیٰ‘‘ (صحیح بخاری، ج1، ص401، حدیث 1189)

  قرآن پاک میں رب عزوجل فرماتا ہے، ترجمہ کنزالایمان: ’’تم فرما دو، زمین میں سیر کرو پھر دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیسا انجام ہوا‘‘ (سورۃ الانعام:11) ۔

’’مرقاۃ‘‘ نے اسی جگہ اور ’’شامی‘‘ نے (باب) ’’زیارتِ قبور‘‘ میں فرمایا کہ ’’چونکہ ان3 مساجد کے سوا تمام مسجدیں ثواب میں برابر ہیں اس لیے اور مسجدوں کی طرف (زیادہ ثواب حاصل کرنے کی نیت سے) سفر ممنوع ہے۔ 

حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ’’جو خانہ کعبہ کے قصد سے آیا اور اونٹ پر سوار ہوا تو اُونٹ جو قدم اٹھاتا اور رکھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس کیلئے نیکی لکھتا ہے اور خطا مٹاتا ہے اور درجہ بلند فرماتا ہے ، یہاں تک کہ جب کعبہ معظمہ کے پاس پہنچا اور طواف کیا اور صفاو مروہ کے درمیان سعی کی، پھر سر منڈایا یا بال کتروائے تو گناہوں سے ایسا نکل گیا جیسے اُس دن کہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا‘‘ (شعب الایمان، ج3، ص 478، حدیث 4115) ۔

حضرت آدم علیہ السلام جب جنت سے اس دُنیا میں تشریف لائے تو اللہ عزوجل کی بارگاہ میں وحشت و تنہائی کی فریاد کی، پس اللہ عزوجل نے آپ ؑکو کعبے کی تعمیر اور اس کے طواف کا حکم دیا۔ حضرت نوح علیہ السلام کے زمانے تک یہی کعبہ برقرار رہا (تفسیر کبیر، ج3، ص296) ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

سفرِ حج: تیاری سے تکمیل تک

’’ اور لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا اللہ کا حق ہے جو شخص اس تک پہنچنے کی طاقت رکھتا ہو‘‘(آل عمران:97) ’’ایک عمرہ سے دوسرا عمرہ اپنے درمیان گناہوں کا کفارہ ہے اور حج مبرور کا بدلہ جنت کے سوا کچھ نہیں‘‘(صحیح بخاری)حج انسان کو ایسے گناہوں سے پاک کر دیتا ہے جیسے وہ دوبارہ اپنے نامہ اعمال کا آغاز کرتا ہے، نیت صالح اور مال حلال شرط ہے

زُہد کے ثمرات وبرکات

زُہد اختیار کیجئے اللہ بھی محبت کرے گا لوگ بھی محبت کرینگے

مسائل اور ان کا حل

نکاح کے وقت دلہا سے کلمہ پڑھوانا سوال :کیا نکاح کے وقت دلہا سے کلمہ پڑھوانا ضروری ہے؟ کلمہ نہ پڑھوایا جائے تو نکاح درست ہو جائے گا یا نہیں؟ (احمد علی، قصور)

7 مئی 2026ء کا پاکستان

گزشتہ ایک برس کے دوران دنیا کا پاکستان کو دیکھنے کا انداز نمایاں طور پر تبدیل ہوا ہے۔ مئی 2025ء سے قبل جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن سے متعلق عالمی تاثر کچھ اور تھا۔

معرکۂ حق قومی سیاست پر غالب، سیاسی جماعتوں اور عوام میں فاصلے کیوں؟

پاکستان کے خلاف بھارت کی جارحیت کا منہ توڑ جواب‘آپریشن معرکۂ حق کو ایک سال مکمل ہونے پر ملک بھر میں یادگاری تقریبات کا سلسلہ جاری ہے۔

کراچی میں معرکۂ حق کی یاد!

مئی کا مہینہ پاکستان کے عوام کے لیے بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ اس مہینے میں جہاں آم پک پک کر زمین پر گرتے ہیں وہیں پاکستان نے بھارتی جہازوں کو بھی پکے ہوئے آموں کی طرح مار گرایا۔