لالچ کا انجام
نعیم نہایت محنتی، دیانت دار اور غریب کسان تھا۔ اس کا کل اثاثہ اس کی نیک سیرت بیوی رابعہ اور فرمانبردار بیٹا شاداب تھا۔ نعیم کی آمدنی اتنی قلیل تھی کہ اکثر گھر میں فاقوں کی نوبت آ جاتی۔ نعیم مزدوری کی تلاش میں شہر گیا ہوا تھا، گھر میں آٹے کا ایک ذرہ تک نہ تھا۔ رابعہ نے چولہے پر خالی ہانڈی میں پانی چڑھا دیا تاکہ بھوکا شاداب یہ سمجھے کہ کھانا پک رہا ہے۔
اسی دوران انتہائی بوڑھا اور تھکا ہوا مسافر ان کے گھر کے سامنے آ رکا۔ شاداب نے غربت کے باوجود ان کو خوش آمدید کہا اور انہیں اپنے صحن میں آرام کیلئے جگہ دی۔ مسافر کو ٹھنڈا پانی پیش کیا۔ بزرگ شاداب کی اس بے لوث خدمت اور نیکی سے بہت متاثر ہوئے۔ رابعہ نے جب ان کو اصل صورتحال سے آگاہ کیا تو وہ حیران ہوئے کہ یہ خاندان خود فاقوں کا شکار ہو کر بھی اجنبی کو سہارا دے رہا ہے۔
بیدار ہونے پر بزرگ نے شاداب کو پاس بلایا اور پرانی لکڑی کی لاٹھی اسے تھماتے ہوئے کہا: بیٹا! یہ تمہاری نیکی کا انعام ہے۔ جب بھی ضرورت ہو، اس لاٹھی سے کھانے کا نام لینا، یہ تمہارے سامنے دسترخوان سجا دے گی مگر اسے صرف ضرورت کے وقت استعمال کرنا اور کبھی غرور نہ کرنا۔
یہ کہہ کر وہ بزرگ نظروں سے اوجھل ہو گئے۔ شاداب نے آزمائش کے طور پر لاٹھی سے چکن بریانی مانگی تو دیکھتے ہی دیکھتے لذیذ کھانوں سے بھرا تھال سامنے آگیا۔ شام کو جب نعیم خالی ہاتھ لوٹا تو گھر میں خوشبوئیں مہک رہی تھیں۔ سارا ماجرا سن کر اس نے سجدہ شکر ادا کیا۔ اب ان کے دن پھر گئے تھے۔ وہ نہ صرف خود پیٹ بھر کر کھاتے بلکہ غریب پڑوسیوں کی بھی مدد کرنے لگے۔
مگر اس خوشی کو پڑوسی کالو کی نظر لگ گئی۔ کالو لالچی اور پیشہ ور چور تھا۔ اس نے چھپ کر لاٹھی کا کرشمہ دیکھ لیا اور اسے چرانے کا منصوبہ بنایا۔ ایک دن جب یہ گھر پر نہیں تھے، کالو نے چپکے سے وہ جادوئی لاٹھی چرائی اور اپنے ساتھی چوروں کے پاس پہنچ گیا۔
کالو نے تکبر سے لاٹھی لہرائی اور حکم دیا: لاٹھی! ہمارے لیے سیخ کباب، مٹن کڑاہی اور شاہی ٹکڑے لے کر آ! مگر کھانا آنے کے بجائے فضا میں گرج پیدا ہوئی اور لاٹھی سے کالی روشنی نکلی۔ لالچ اور چوری کی سزا کے طور پر کالو اور اس کے ساتھیوں کے جسم سکڑ گئے اور وہ بدصورت بندر بن گئے۔ وہ چیختے چلاتے جنگل کی طرف بھاگ کھڑے ہوئے۔ جادوئی لاٹھی خود بخود اڑتی ہوئی دوبارہ شاداب کے پاس پہنچ گئی۔
اس واقعے نے نعیم کو بھی بہت بڑا سبق دیا۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ لاٹھی پر مکمل انحصار کرنے کے بجائے محنت مزدوری جاری رکھے گا کیونکہ برکت اپنے ہاتھ کی کمائی میں ہوتی ہے۔
نیکی کبھی رائیگاں نہیں جاتی اور اللہ اس کا اجر ضرور دیتا ہے، جبکہ لالچ اور چوری کا انجام ہمیشہ ذلت اور رسوائی ہوتا ہے۔ جو دوسروں کا حق چھینتا ہے، وہ اپنی پہچان بھی کھو دیتا ہے۔