لالچ کا انجام

تحریر : دانیال حسن چغتائی


نعیم نہایت محنتی، دیانت دار اور غریب کسان تھا۔ اس کا کل اثاثہ اس کی نیک سیرت بیوی رابعہ اور فرمانبردار بیٹا شاداب تھا۔ نعیم کی آمدنی اتنی قلیل تھی کہ اکثر گھر میں فاقوں کی نوبت آ جاتی۔ نعیم مزدوری کی تلاش میں شہر گیا ہوا تھا، گھر میں آٹے کا ایک ذرہ تک نہ تھا۔ رابعہ نے چولہے پر خالی ہانڈی میں پانی چڑھا دیا تاکہ بھوکا شاداب یہ سمجھے کہ کھانا پک رہا ہے۔

اسی دوران انتہائی بوڑھا اور تھکا ہوا مسافر ان کے گھر کے سامنے آ رکا۔ شاداب نے غربت کے باوجود ان کو خوش آمدید کہا اور انہیں اپنے صحن میں آرام کیلئے جگہ دی۔ مسافر کو ٹھنڈا پانی پیش کیا۔ بزرگ شاداب کی اس بے لوث خدمت اور نیکی سے بہت متاثر ہوئے۔ رابعہ نے جب ان کو اصل صورتحال سے آگاہ کیا تو وہ حیران ہوئے کہ یہ خاندان خود فاقوں کا شکار ہو کر بھی اجنبی کو سہارا دے رہا ہے۔

بیدار ہونے پر بزرگ نے شاداب کو پاس بلایا اور پرانی لکڑی کی لاٹھی اسے تھماتے ہوئے کہا: بیٹا! یہ تمہاری نیکی کا انعام ہے۔ جب بھی ضرورت ہو، اس لاٹھی سے کھانے کا نام لینا، یہ تمہارے سامنے دسترخوان سجا دے گی مگر اسے صرف ضرورت کے وقت استعمال کرنا اور کبھی غرور نہ کرنا۔

یہ کہہ کر وہ بزرگ نظروں سے اوجھل ہو گئے۔ شاداب نے آزمائش کے طور پر لاٹھی سے چکن بریانی مانگی تو دیکھتے ہی دیکھتے لذیذ کھانوں سے بھرا تھال سامنے آگیا۔ شام کو جب نعیم خالی ہاتھ لوٹا تو گھر میں خوشبوئیں مہک رہی تھیں۔ سارا ماجرا سن کر اس نے سجدہ شکر ادا کیا۔ اب ان کے دن پھر گئے تھے۔ وہ نہ صرف خود پیٹ بھر کر کھاتے بلکہ غریب پڑوسیوں کی بھی مدد کرنے لگے۔

مگر اس خوشی کو پڑوسی کالو کی نظر لگ گئی۔ کالو لالچی اور پیشہ ور چور تھا۔ اس نے چھپ کر لاٹھی کا کرشمہ دیکھ لیا اور اسے چرانے کا منصوبہ بنایا۔ ایک دن جب یہ گھر پر نہیں تھے، کالو نے چپکے سے وہ جادوئی لاٹھی چرائی اور اپنے ساتھی چوروں کے پاس پہنچ گیا۔

کالو نے تکبر سے لاٹھی لہرائی اور حکم دیا: لاٹھی! ہمارے لیے سیخ کباب، مٹن کڑاہی اور شاہی ٹکڑے لے کر آ! مگر کھانا آنے کے بجائے فضا میں گرج پیدا ہوئی اور لاٹھی سے کالی روشنی نکلی۔ لالچ اور چوری کی سزا کے طور پر کالو اور اس کے ساتھیوں کے جسم سکڑ گئے اور وہ بدصورت بندر بن گئے۔ وہ چیختے چلاتے جنگل کی طرف بھاگ کھڑے ہوئے۔ جادوئی لاٹھی خود بخود اڑتی ہوئی دوبارہ شاداب کے پاس پہنچ گئی۔

اس واقعے نے نعیم کو بھی بہت بڑا سبق دیا۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ لاٹھی پر مکمل انحصار کرنے کے بجائے محنت مزدوری جاری رکھے گا کیونکہ برکت اپنے ہاتھ کی کمائی میں ہوتی ہے۔

نیکی کبھی رائیگاں نہیں جاتی اور اللہ اس کا اجر ضرور دیتا ہے، جبکہ لالچ اور چوری کا انجام ہمیشہ ذلت اور رسوائی ہوتا ہے۔ جو دوسروں کا حق چھینتا ہے، وہ اپنی پہچان بھی کھو دیتا ہے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

نفرت

اللہ تبارک و تعالیٰ نے دنیا میں ہر چیز کا جوڑا پیدا کیا ہے۔ انسان کی طرح حیوانات کے بھی جوڑے پیدا کئے۔زندگی کے ساتھ موت، زمین کے ساتھ آسمان، محبت کے ساتھ نفرت کے جذبات بھی انسان میں رکھے۔

خاندانِ مغلیہ کا حقیقی بانی جلال الدین محمد اکبر

شہنشاہ بابر نے ہندوستان کو بزور شمشیر فتح کر کے سلطنت مغلیہ کی بنیاد ڈالی۔ لیکن حقیقی معنوں میں خاندان مغلیہ کی بنیادیں شہنشاہِ اکبر نے استوار کیں۔ اکبر کے والد ہمایوں جب افغانوں کی یورش سے گھبرا کر ایران جا رہے تھے تو 1542ء میں سندھ کے ایک مقام عمر کوٹ میں اکبر پیدا ہوئے۔ پندرہ سال کی جلا وطنی کے بعد ہمایوں دوبارہ تخت دہلی پر قابض ہوئے مگر زندگی نے وفا نہ کی اور جلد ہی سیڑھیوں سے گر کر فوت ہو گئے۔

ذرا مسکرائیے

باپ (بیٹے سے): بتاؤ کن کن ملکوں میں زیادہ سونا پایا جاتا ہے؟ بیٹے نے کہا: جن ملکوں میں راتیں لمبی اور دن چھوٹے ہوتے ہیں۔ ٭٭٭

پہیلیاں

بیٹی جا پہنچے بازار بابا گھر کا چوکیدر (چابی اورتالا)

بچوں کا انسائیکلوپیڈیا

کچھ لوگ گھر میں داخل ہوتے ہوئے جوتے کیوں اتار دیتے ہیں؟ بہت سے بچے یہ سمجھتے ہیں کہ دوسرے ممالک میں رہنے والے بچوں کی عادتیں بھی ان جیسی ہوتی ہیں۔لیکن آپ کو معلوم ہونا چاہیے دوسرے ممالک کی تہذیب اور معاشرتی اقدار مختلف ہو سکتی ہیں۔ مثلاً جاپان اور کوریا میں لوگ گھر میں داخل ہونے سے پہلے جوتے اتار دیتے ہیں۔اس طرح گھر کا فرش یا قالین گندے ہونے سے محفوظ رہتے ہیں۔اس کے برعکس یورپ اور دوسرے بہت سے ممالک میں لوگ گھر کے اندر بھی جوتے پہنتے ہیں۔

گاؤں سے جب آئے گائے

گاؤں سے جب آئے گائے پہلے تو شرمائے گائے شہروں کا جب پی لے پانی پھر خود پر اترائے گائے