عید کے دن کیسے گزاریں؟
ادیان عالم میں ہر مذہب سے وابستہ ہر قوم اپنا ایک مذہبی تہوار رکھتی ہے۔ جس میں وہ اپنی خوشی کے اظہار کے ساتھ ساتھ اپنے جداگانہ تشخص کا اظہار بھی کرتی ہے۔ مسلمانوں کی عید دیگر مذاہب و اقوام کے تہواروں سے بالکل مختلف حیثیت رکھتی ہے۔یہ دن کیسے گزارا جائے، آئیے شریعت کی رہنمائی میں دیکھتے ہیں۔
عید کے دن کرنے کے کام
(1) بہتر ہے کہ عیدالاضحیٰ والے دن نماز عید کے بعد قربانی کے گوشت سے کھانے پینے کا آغاز کریں (اس سے پہلے کچھ نہ کھائیں پئیں)، (2)غسل کرنا، (3) خوشبو لگانا، (4)مسواک کرنا، (5) عمدہ ، صاف ، پاک اور اچھا لباس پہننا، (6) عید کی نماز کیلئے ایک راستے سے جانا اور دوسرے راستے سے واپس آنا، (7) عید گاہ تک پیدل جانا، (8)بلند آواز سے تکبیر تشریق کہنا۔
عید کی نماز کا وقت
عیدین کی نمازکا وقت سورج کے اچھی طرح نکل آنے سے شروع ہوتا ہے اور سورج ڈھلنے تک رہتا ہے۔عید کے تین دن ہوتے ہیں۔
نمازعید کا طریقہ
عید کی نماز دو رکعت ہے۔ عام نماز اور عید کی نماز میں یہ فرق ہے کہ اس میں چھ تکبیریں زیادہ کہی جاتی ہیں۔تکبیرِ تحریمہ کے بعد ہاتھ باندھ کر ثنا پڑھی جائے گی، پھروقفے وقفے سے دو دفعہ تکبیر کہتے ہوئے ہاتھ کانوں تک اٹھا کر چھوڑ دیے جائیں گے اور پھر تیسری تکبیر پرہاتھ کانوں تک اٹھا کر باندھ لئے جائیں گے۔ پھر امام صاحب بآوازِ بلند سورۃ الفاتحہ اور کوئی اور سورت پڑھیں گے۔پھر رکوع اور سجدہ جیسا کہ باقی نمازوں میں ادا کرتے ہیں اسی طرح کریں گے۔ دوسری رکعت میں قرآت کے بعد، رکوع میں جانے سے پہلے امام صاحب کی پیروی میں وقفے وقفے سے تین دفعہ تکبیر کہتے ہوئے ہاتھ کانوں تک اٹھا کر چھوڑ دیے جائیں گے اور پھر چوتھی دفعہ تکبیر کہتے ہوئے رکوع کیا جائے گا۔ عید کی نماز کے بعد امام صاحب جمعہ کی طرح دوخطبے دیں گے۔
ایامِ تشریق
ایامِ تشریق 9 ذوالحجہ نماز فجر سے لے کر 13 ذوالحجہ نماز عصر تک ہوتا ہے۔ ایامِ تشریق میں ہر فرض نماز کے بعد ایک بار تکبیرِ تشریق کہنا ہر نمازی پر واجب ہے۔تکبیراتِ تشریق کے الفاظ درج ذیل ہیں: ’’اَللہ اَکبَر، اَللہ اَکبَر، لَااِلٰہَ اِلَّا اللہْ وَاللہْ اَکبَر ، اَللہ اَکبَر، ولِلّٰہِ الحَمدْ‘‘،ترجمہ: اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، اوراللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ سب سے بڑا ہے ، اور تمام تعریفیں اللہ ہی کیلئے ہیں۔
قربانی کے جانور
عید الاضحی کی نماز کے بعد صاحب استطاعت لوگ اللہ کی راہ میں گائے، بھینس، بھیڑ، بکری یا اونٹ (نر یا مادہ)خالص اللہ کی رضا کیلئے ذبح کریں گے۔
قربانی کا وقت
قربانی کا وقت 10 ذی الحجہ کو نمازِ عید کے بعد شروع ہوتا ہے اور 12 ذی الحجہ کے غروب آفتاب تک وقت رہتا ہے۔ اگر کسی بھی جگہ عید کی نماز نہیں ہوئی تھی کہ کسی نے قربانی کر دی تو قربانی نہیں ہوگی۔مستحب یہ ہے کہ خطبہ عید کے بعد قربانی کریں۔ پہلا دن قربانی کیلئے سب سے افضل ہے، پھر دوسرے دن کا درجہ ہے، پھر تیسرے دن کا۔کسی ایک جگہ نماز عید کا ہوجانا قربانی کے جانور ذبح کرنے کیلئے کافی ہے۔
رات میں قربانی کرنا
دسویں اور تیرہویں رات کو قربانی کرنا جائز نہیں۔ گیارہویں اور بارہویں رات کو جائز ہے، مگر رات میں رگیں نہ کٹنے، یا ہاتھ کٹنے، یا قربانی کے جانور کے آرام میں خلل کے اندیشہ سے ذبح کرنا مکروہ تنزیہی ہے۔اس حوالے سے ایک اہم بات یاد رکھیں کہ قصاب کا مسلمان ہونا ضروری ہے۔ ان دنوں میں بعض غیر مسلم مثلاً ًمسیحی بھی جانور ذبح کرنے کیلئے قصابوں کا روپ دھار لیتے ہیں۔ اگر ان سے ذبح کرایا تو شرعاً قربانی ادا نہیں ہوگی۔
گوشت کی تقسیم
اس کے بعد مرحلہ پیش آتا ہے گوشت کو تقسیم کرنے کا۔اگر وزن کی مشقت سے بچنا چاہیں تو اس کی آسان تدبیر یہ ہے کہ سری پائے یا کلیجی کے ٹکڑے کرکے ہر حصہ میں ایک ایک ٹکڑا رکھ دیا جائے۔ اس طرح اندازہ سے تقسیم کرنا بھی جائز ہو جائے گا۔ اگر کسی نے پورا جانور اپنے گھر کے افراد کیلئے رکھ لیا تو تقسیم کرنا ضروری نہیں۔
افضل یہ ہے کہ قربانی کا گوشت تین حصے کر کے ایک حصہ اپنے اہل و عیال کیلئے رکھے، ایک حصہ اقارب و احباب میں تقسیم کرے، ایک حصہ فقراء میں تقسیم کرے۔ جس شخص کے اہل و عیال زیادہ ہوں وہ تمام گوشت خود بھی رکھ سکتا ہے۔
آلائشوں کو ٹھکانے لگانا
قربان کئے جانے والے جانوروں کی آلائشوں کو شاہراہوں اور گلیوں میں نہ ڈالیں بلکہ انہیں طے شدہ مقامات تک پہنچائیں تاکہ وہاں سے انہیں آسانی سے اٹھا لیا جائے۔ صفائی کے حوالے سے ا نتظامیہ کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔